تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

پاکستان میں بدعنوان مقتدرہ کا تسلسل —- سید مظفر الحق

by دانش ڈیسک 24/03/2018
written by دانش ڈیسک 24/03/2018
78

ہمارے سیاست دان یا مروجہ سیاسی نظام کے کل پرزے اپنی تمام برایئوں، ناکامیوں، اور بدکاریوں کے جواز میں ایک ہی راگ بڑے دھڑلے، ڈھٹائی اور بے شرمی سے الاپتے رہتے ہیں کہ جمہوری نظام کا تسلسل نہ رہنا اس کی واحد وجہ ہے جس کے ذمّہ دار فوجی حکمران اور آمر ہیں۔ گو کہ یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کیا آمریت صرف وردی پوش ہوتی ہے یا بے داغ جدید تراش خراش کے سوٹ میں ملبوس۔

ہنگامی حالات کے زور پہ حکومت کرتے غیر فوجی بھی آمر ہو سکتے ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ ملک میں جمہوری نظام جاری و ساری نہیں رہا اور نہ ہی فوجی آمریت کو دوام رہا جو ایک متعین سمت میں ترقی کا سفر طے ہو سکتا، ایک بات پورے وثوق سے بلا خوف تردید کہی جا سکتی ہے کہ حکومت کی بساط پہ بادشاہ کی شکل میں کوئی بھی ہو مہرے ہمیشہ وہی رہے ہیں۔اور یہ نوٹنکی آج سے نہیں سالہا سال سے چل رہی ہے۔

بدقسمتی کہیں، تاریخ کا جبر قرار دیں یا سوئے اتفاق کہ پاکستان مسلم اکثریت کی بنیاد پہ بر صغیرکےان علاقوں پہ مشتمل ہے، جہاں سیاسی شعور کی تربیت اور آبیاری نہ ہوسکی۔ اس کی بڑی وجہ اس خطّے کا جغرافیایی محل وقوع رہا ہے۔

جو سکندر اعظم سے لے کر احمد شاہ ابدالی تک حملہ آوروں اور طالع آزماؤں کی گزرگاہ بنتا رہا ہے۔ بعد ازاں مغلوں اور برطانوی سامراجی حکومتوں نے اپنے اپنے مفادات کے طابع سیاسی طور پہ اسے پسماندہ اور محرومیوں کا شکار بنائے رکھا۔ سکھوں نے اپنی پچاس سالہ حکمرانی کے عہد میں اس کی مسلمان آبادی کی عزت نفس اور جذبۂ حریت کو کچلا تو برطانوی حکومت نے اپنے ایک صدی کے اقتدار میں یہاں کی زرخیز زمین سے اپنے چنیدہ کاسہ لیس اور پسندیدہ ذہنی غلام کاشت کیئے جو ان کے کتوں کو نہلانا اپنی زندگی کا حاصل سمجھتے اور اپنے ہموطنوں کو ان کتوں کے آگے بھنبھوڑنے کو چھوڑ کر خوشی کے شادیانے بجاتے اور انعام و اکرام سے نوازے جاتے۔

مسلم لیگ اور کانگریس دونوں کی بنیاد سیاسی طور پہ بیدارمغز اورحساس صوبہ بنگال میں رکھی گئی، اور تحریک پاکستان کا معرکہ اقلیتی صوبوں میں لڑا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت سندھ اور بنگال کے وزیراعلیٰ مسلم لیگ کے تھے جب کہ صوبہ سرحد میں کانگریس اور پنجاب میں یونینسٹ حکومت تھی اور بلوچستان میں سرداری نظام قائم تھا۔اور یہ سردار وہ تھے جو خود قبائیلیوں کے کاندھوں پہ سواری کرتے لیکن وائسرائے کی بگھی کو کھینچنا اپنا اعزاز سمجھتے تھے۔
بیشتر مقامی مسلم لیگی لیڈر ہوا کا رخ دیکھ کر 1944 سے 1946 کے دوران اس میں شامل ہوئے تھے جن کی وفا اور نظریہ حصول اقتدار کے سوا کچھ اور نہ تھا۔ پاکستان کے لئے ایک اسلامی فلاحی اور جمہوری نظام حکومت کے قائد اعظم کے اعلان نے برطانوی سامراج کی پروردہ اور تشکیل شدہ اشرفیہ میں ایک کھلبلی مچا دی۔ہموطنوں سے غداری اور وطن فروشی کے عیوض انگریز کی عطا کردہ وسيع و عریض زمینوں پہ قابض جاگیرداروں، وڈیروں اور سرداروں کے لئے یہ صدمہ سوہان روح اور جانکاہ تھا کیوں کہ نئے وطن میں انہیں غریب عوام پہ سواری گانٹھنے اور قومی وسائل پہ وہ تصرف حاصل نہیں ہو سکتا تھا جو گورے آقاؤں نے تفویض کیا تھا۔

اقتدار کی اس چنڈال چوکڑی کے کسی بھی رکن کا شجرہ نکال لیں قیام پاکستان سے آج تک اس کے خانوادے کا کوئی نا کوئی فرد اقتدار کے باجے برات میں شامل ملے گا۔

قائد اعظم کی وفات کے بعد ہی سے ہمارے حکمرانوں نے حکومت اور مملکت کی مخالفت کو گڈ مڈ کرکے ہر اختلاف رائے کو غدّاری سے تعبیر کیا اور اس کا نشانہ سب سے پہلے سندھ اور مشرقی پاکستان بنے جس میں کچھ قصور لیاقت علی خان کا بھی تھا۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد اس سازشی ٹولے نے اپنے پنجے گاڑنے کے لئے تحریک پاکستان اور مسلم لیگ کے گڑھ یعنی بنگال کو تضحیک اور ناانصافی کا نشانہ بنایا۔ اس کی اکثریت کا توڑ کرنے کے لئے ون یونٹ تخلیق کیا گیا،انہیں اپنی 56 فیصد اکثریت سے دسبردار ہو کر اسسمبلی میں 50 فیصد سیٹیں لینے پہ مجبور کیا گیا کیونکہ ملک کے اس بازو میں جاگیردار، وڈیرے اور صنعت کار نہیں بلکہ غریب اور درمیانے طبقے کے لوگ تھے جو ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اور اپنی عدوی اکثریت کی وجہ سے ان نام و نہاد پشتینی استحصال پسندوں کے اعصاب پہ سوار تھے اور جن کو بالآخر دھکیل کر پاکستان سے دیس نکالا دے دیا گیا۔ پاکستان کی یہ لٹیری اور بدعنوان مقتدرہ ملک غلام محمّد سے آج تک کسی نہ کسی شکل میں پیر تسمہ پا کی طرح غریب پاکستانیوں پہ سوار ہے اور ہم اپنی کم عقلی یا ذہنی افلاس کے سبب ان کے مذموم مقاصد کے لئے استعمال ہو رہے ہیں۔ جب بھی عوام کی بیچینی حد سے تجاوز کر کے شورش اور انقلاب میں ڈھلنے لگتی ہے یہ مکّار بہروپئے کبھی فوجی وردی اور کبھی جمہوری پوشاک میں نئے چہرے اور بدلے ہوئے نعروں کے ساتھ پھر مسلّط ہو جاتے ہیں۔ ہر فوجی آمر کے ساتھ یہ اقتدار میں اپنا حصہ بٹاتے اور اس کے خلاف عوامی غیض و غضب دیکھ کر سب ملبہ اس پہ گرا کے اپنا دامن جھاڑ کر معصوم بن جاتے ہیں۔ دور جانے کی ضرورت نہیں سابق وزیر اعظم جو جنرل ضیاء الحق کو مطعون کرنے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے اسی کی تخلیق اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں وزیر اعظم گیلانی اس کی مجلس شوریٰ کے رکن تھے، پرویز مشرّف کو ہر بدی کا مورد ٹہرانے والے اپنے جلو میں چودھری برادران، حنا ربّانی کھر، عبد الحفیظ شیخ، فیصل صالح حیات، فردوس عاشق اعوان جیسے اس کے نو رتنوں کو لئے ہوئے ہیں۔اور متحدہ قومی موومنٹ تو ہے ہی پرویز مشرّف کا ورثہ اور سیاسی قبیلہ۔

اقتدار کی اس چنڈال چوکڑی کے کسی بھی رکن کا شجرہ نکال لیں قیام پاکستان سے آج تک اس کے خانوادے کا کوئی نا کوئی فرد اقتدار کے باجے برات میں شامل ملے گا۔ اس ريوڑ میں جس کی دم اٹھاؤ مادہ ہی ہوگی۔ اور اگر کوئی مستثنیات میں سے ہوا بھی تو اس کی حثیت آٹے میں نمک کی طرح ہوگی، مرزا غالب کے الفاظ میں

بنا ہے عیش تجمل حسین خان کے لئے
ملا ہے اوروں کو بھی تا اسے نظر نہ لگے

قانون سازی کے لئے منتخب پارلیمان کے ممبروں کو سرکاری خزانے سے کروڑوں روپئے دے کر گڑھے بھروانے، سڑکیں بنوانے اور گندی نالیاں صاف کرنے کے دھندے سے لگا کر غریب عوام کی دولت کو شیر مادر کی طرح ہضم کرنے کی آزادی عطا کرکے خود اپنی ہوس کی تسکین میں بے خوف و خطر لگے رہتے ہیں۔ اسی لئے آج تک کسی سویلین منتخب حکومت نے اس ملک میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہونے دئے چاہے وہ بھٹو ہوں، نواز شریف یا پھر زرداری اور گیلانی۔جتنے بلدیاتی انتخابات ہوئے وہ فوجی حکومتوں کے دور میں اور اسی لئے ترقیاتی کام بھی ان ہی کے ادوار حکمرانی میں ہوئے۔حالیہ دنوں میں اس کی سب سے بیّن مثال کراچی کی ہے۔

Facebook Comments Box
اہل اقتداربدعنوان مقتدرہسیاستکرپٹ سیاستدانکرپشن
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
“بابو” ——- ایک غیر سیاسی کہانی : نبیلہ کامرانی
next post
عورت ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد عمیر

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.