تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

ماڈل ٹاؤن سانحہ: چنگاری سے بھڑکتا الاؤ کیسے بنا؟ محمود فیاض

by محمود فیاض 17/01/2018
written by محمود فیاض 17/01/2018
71

ماڈل ٹاؤن شہادتوں کے فوراً بعد میں نے لکھا تھا کہ نون لیگ کی نون سینس noonsense اس قابل ہے کہ کسی بھی معمولی سے معمولی تنازعے کو ایک بڑا سانحہ بنا سکیں۔

آج چار سال کے بعد طاہر القادری کو پوری اپوزیشن کی طاقت کے ساتھ نون لیگ کے طاقتور ترین گڑھ میں حکومت کو للکارتے دیکھ کر یہ بات سچ ثابت ہو گئی۔ طاہر القادری کی سیاست تقریباً ختم ہو چکی تھی اور وہ بین الاقوامی فورمز پر ایک مذہبی اسکالرکی حیثیت میں تقاریر کرنے تک محدود ہو چکے تھے۔ پاکستانی عوامی تحریک کا سیاسی اسٹیک بہت کم رہ گیا تھا۔ مگر شہباز شریف کو خیال آیا کہ کیوں نہ اس کو پوری قوت سے مسل کر ختم کر دیا جائے۔ اسی لیے ماڈل ٹاؤن میں تجاوزات کا بہانہ بنا کر پولیس کو فری ہینڈ دیا گیا۔

پنجاب پولیس جو نون لیگ کی من پسند بھرتیوں کی وجہ سے نونی پولیس بن چکی ہے۔ شہباز شریف کا حکم ان کا مورال آسمان سے لگانے کے لیے کافی تھا۔ جس وزیر اعلیٰ کی شہرت یہ ہو کہ پولیس کو انکاؤنٹر کرنے پر بھی نہ پوچھا جائے ، اس وزیر اعلیٰ کے حکم پر اور انکے وزیروں کے ہدایات پر پولیس نے وہی کیا جو کوئی بھی ایسی فورس کرتی ہے جو آئین و قانون کی بجائے کسی فرد واحد کی غلامی میں کیا کرتی ہے۔ بے گناہ لوگوں کو سیدھی گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔

کسی بڑے سے بڑے مجمع کو جو بے قابو ہو جائے ، قابو میں کرنے کے لیے ہمیشہ پہلے ہوائی فائرنگ کی جاتی ہے۔ پھر بھی لوگ کنٹرول میں نہ آئیں تو سامنے والے اکا دکا لوگوں کی ٹانگوں کا نشانہ لیا جاتا ہے۔ اور بالفرض آپ آخری حد تک مجبور ہو جائیں اور پولیس والوں کی اپنی جان خطرے میں پڑنے لگے تو سامنے فائرنگ کرنے میں بھی صرف ایک دو بندے گرانا ہی کافی ہوتا ہے۔ ایک یا دو سے زیادہ لاشین صرف اس صورت میں گرتی ہیں جب کوئی معجمہ مسلح ہو اور دو طرفہ فائرنگ ہو رہی ہو۔

مگر ماڈل ٹاؤن سانحے میں تمام حالات ایک ریاستی طاقت کو ذاتی دشمنی نکالنے کے لیے بے مہابا استعمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک نیم مذہبی نیم سیاسی تنظیم کے ایسے دفتر پر پولیس گردی کی گئی جو عدالت کے حکم نامے ہاتھ میں لیے پولیس کو دکھا رہے تھے۔ اس کے بعد نہتے لوگوں پر اس طرح فائرنگ کی گئی جو کہ وہ عورتیں جن کے دوپٹے ہی انکی ڈھال تھی، انکو منہ اور پیٹ پر گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا۔ پھر ان لاشوں بے گلو بٹ جیسے کریہہ کرداروں کا مکروہ رقص کروایا گیا۔ اور یہ سب دن کی روشنی میں کھلے ننگے آسمان کے نیچے کیا گیا۔

صاف ظاہر تھا کہ ایسا صرف اور صرف اپنی جاگیر پر موجود جڑی بوٹیاں تلف کرنے کا عمل تھا۔ نون لیگ جو اپنی مقبولیت کے زعم میں ہمیشہ ایسے اقدامات کرتی آئی ہے، اس سارے واقعے میں اسکی نون سینس مزید واضح ہو گئی۔ اور اسکے بعد ہر گذرتے دن نون لیگ نے اس جلائی ہوئی آگ میں مزید پھونکیں ماریں اور اس کا ایک ایسے بھڑکتے الاؤ میں بدل دیا جسکی لپٹیں آج انکے جاتی امرا کے درودیوار تک پہنچ رہی ہیں۔

جے آئی ٹی بنانا، اسکی رپورٹ شائع نہ کرنا، تفتیش پر اثرانداز ہونا اور من پسند کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرنا، یہ سب وہ خبریں ہیں جو ہم تک میڈیا کے توسط سے پہنچیں۔ جو ظاہر کرتی ہیں کہ اس پورے سانحے میں قصور وار کوئی ایک نہیں ہے۔ اور کامن سینس یہی کہتی ہے کہ جب کسی واقعے کا قصور وار کوئی ایک نہیں ہوتا تو سب کچھ نہ کچھ قصوروار ہوتے ہیں۔

آج کا دھرنا کوئی نتیجہ خیز ہو نا ہو، یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ نون لیگ نے ہر غلطی کو اپنے بچوں کی طرح پالا ہے اور اب ماڈل ٹاؤن سانحے سمیت باقی تمام غلطیاں بڑھتے بڑھتے اتنی بڑی ہو چکی ہیں کہ وہ انکو تنگ کرتی رہیں گی۔ طاہر القادری ماڈل ٹاؤن سانحے کی رپورٹ لے کر انکا پیچھا کرتا رہیں گے، تو سانحہ قصور اور اسکے پیچھے چھپے مافیا بھی چلینج بنیں گے۔ نیب، حدیبیہ، اور پانامہ پر جے آئی ٹی کی ہدایات پر قائم مقدمات انکا پیچھا کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments Box
پاکستانی سیاستسانحہ ماڈل ٹاونسیاستطاہر القادری
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمود فیاض

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

previous post
سیکس ایجوکیشن: حفاظتی تعلیم یا کچھ اور؟ لالہ صحرائی
next post
ڈاکٹر حسن عارف کی وفات کے حقائق: بیٹی کی زبانی ۔ مترجم سیدہ صبیح گل

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.