تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

کیا یہی نیا پاکستان ہے؟ : حسام درانی

by Daanish Editor 31/12/2017
written by Daanish Editor 31/12/2017
84

“ہماری روزمرہ زندگی میں ایک محاورہ بہت بولا جاتا ہے “آٹا گھندی ہلدی کیوں ایں
اسی کے مصداق ہم لوگ ہر بات پر، لڑائی کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ایسی ہی ایک بات پچھلے  چند دن سے ملک کے طول عرض پر پھیلی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا پر اک گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے، بات محض اتنی سی ہے کہ ایک سیاسی لیڈر کا بیٹا اپنے باپ کی جگہ لینے کے لیے الیکشن لڑنے جا رہا ہے۔
اب خود سوچیۓ کہ اگر بیٹا باپ کی جگہ نہیں لے گا تو کون لے گا؟ اس پر اتنا شور و غوغا کس بات کا؟

اوہ یاد آیا وجہ تو اس وراثت کی قبیح رسم کو ختم کرنے پر ہے کیونکہ چند سال پہلے پاکستان کی سیاست کے افق پر ایک سورج اس وطن عزیز میں کئی دہایوں سے قابض چور لٹیروں اور ڈاکووں کے خلاف علم جہاد لے کر طلوع ہوا ۔

کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے
رن کانپ رہا ہے کہ چرخ کہن کانپ رہا ہے

اسی طور سے ان سیاستدانوں کی صفوں میں ایک کھلبلی سی مچ گئی اور ہمیں اس بات کا ادراک ہوا کہ ملک عزیز میں ان سیاسی خاندانوں کی بادشاہت ہے جو جمہوریت پر نہیں بلکہ ملوکیت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نسل در نسل حکمران اور ہم نسل در نسل غلام۔ جیسے زلفی بھٹو کے بعد اسکی بیٹی بے نظیر اسکے بعد داماد اور اب نواسا بلاول وزیر اعظم بننے کے لیے پر تول رہا ہے۔ ساتھ ہی دونوں بہنوں نے بھی سیاست کے میدان میں آنے کے لیے نیٹ پریکٹس شروع کر دی ہے۔ دوسری طرف دیکھتے ہیں تو پنجاب سے شریف فیملی کم از کم پچھلی دو دہائیوں سے کسی نا کسی طرح اقتدار سے جڑی ہوئی ہیں اور اس باری میں تو خاندان کو نوازنے میں کافی کھلے دل سے کام کیا گیا۔ بڑا بھائی وزیر اعظم چھوٹا بھائی ایک صوبے کا وزیر اعلی، بھتیجا قومی اسمبلی کا ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ ڈپٹی وزیر اعلی، سمدھی ملک کا وزیر خزانہ بیوی کا بھانجا اور بھتیجا قومی و صوبائی وزراء اور بیٹی کو اربوں روپوں کے پراجیکٹ کی سربراہ بنا دیا گیا۔

ملک عزیز میں ان سیاسی خاندانوں کی بادشاہت ہے جو جمہوریت پر نہیں بلکہ ملوکیت پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ نسل در نسل حکمران اور ہم نسل در نسل غلام۔

اگر اسی طرح دوسری جماعتوں میں دیکھیں تو یہ ہی چلن تمام جماعتوں میں نظر آتا ہے۔ اس نظام کے خلاف عمران خان  نے آواز اٹھائی تاکہ پاکستانی سیاست میں سے اس ملوکیت کو جڑ سے نکال پھینکے۔ اس سلسلے میں ان کے تند و تیز بیانات اور تقاریر ریکارڈ کا حصہ ہیں جو کہ مجھ جیسے کم فہم کو بھی سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں، کہ اس نظام کے خلاف نہ صرف آواز اٹھائی جائے بلکہ عملی اقدام بھی کرنے چاہیۓ۔ اس سلسلے میں عمران خان نے 2013 کے جنرل الیکشن سے پہلے انٹرا پارٹی الیکشن کا اعلامیہ جاری کیا اور اس الیکشن میں پاکستان بھر سے حصہ لینے والے ان کی جماعت کے کارکنوں کو دیکھ کر دلی مسرت ہوئی، کیونکہ وہ سب نچلی سطح سے آنے والے مڈل اور لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تھے ۔ جو خان صاحب نے اعلان کیا بالکل اسکے مطابق کام ہو رہا تھا اور وہ کچھ کر دکھانے کے موڈ میں تھے، لیکن جنرل الیکشن کے اعلان کے ساتھ ہی دھچکا ٹکٹوں کی تقسیم دیکھ کر لگا، کیونکہ پارٹی الیکشن جیت کر آگے آنے والے مخلص ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور ان کی جگہ وہی پرانے مختلف جماعتوں سے آے ہوۓ ملوکیت کے علمبردار جیت گئے۔ اب ذرا پی ٹی آئی میں دیکھتے ہیں کے کیسے اپنے رشتہ داروں کو نوازا گیا۔

 پرویز خٹک وزیر اعلی، عمران خٹک داماد ممبر قومی اسمبلی، عرفان خٹک کزن ممبر قومی اسمبلی، نفیسہ خٹک چچا کی بیٹی ممبر قومی اسمبلی، مسرت احمد زیب بھائی کی بیوی ممبر قومی اسمبلی اور ساجدہ بیگم بیوی کی بھابھی ممبر قومی اسمبلی بننے میں کامیاب ہو سکیں۔

اب آتے ہیں اسد قیصر صاحب کی طرف؛ اسد قیصر اسپیکر صوبائی اسمبلی،عاقب اللہ بھائی ممبر قومی اسمبلی۔ بھانجا رجسٹرار صوابی یونیورسٹی بغیر میرٹ کے بھرتی کیا گیا اور  معراج ہمایوں خان چچا کی بیٹی رکن صوبائی اسمبلی بنیں۔

اسی طرح یوسف ایوب پی ٹی آئی کی ٹکٹ سے صوبائی اسمبلی کا ممبر بنا لیکن جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل ہو گیا ہونا تو چاہے تھا کے کسی اور کو ٹکٹ دیا جاتا لیکن پارٹی سربراہ نے، ٹکٹ اس کے بھائی اکبر ایوب کو دیا جو کہ اب کے پی کے صوبائی اسمبلی کا رکن ہے۔

ابھی چند روز پہلے ہی ٹی آئی کے جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین ایک عدالتی فیصلے کے باعث نااہل ہو گئے اور سیاست پر پابندی کے باعث ان کی این اے 154 سے سیٹ خالی ہوگئی اور جیسے ہی ٹکٹ کے لیے قرعہ ان کے بیٹے علی خان ترین کے نام نکلا، ہر طرف شور مچ گیا ناقدین تو ناقدین چند ایسے دوستوں نے بھی چوں چراں شروع کی جو کہ شروع دن سے سوشل میڈیا پر جماعت کی کمپین چلاتے ہیں، بلکہ یار لوگوں نے تو عمران صاحب کے بارے میں نازیبا زبان بھی استعمال کرنی شروع کر دی، لیکن آفرین ہے ہمارے ان بھائیوں پر جو کہ مختلف طریقوں سے اس ملوکیت کو حلال ثابت کرنے پر دن رات ایک کیے کھڑے ہیں جو پہلے دن رات اس وراثتی نظام کی برائیاں کرتے تھے بشمول عمران خان کے۔

ہم لوگ ہر بات پر، لڑائی کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے اور ایسی ہی ایک بات پچھلے  چند دن سے ملک کے طول عرض پر پھیلی ہوئی ہے اور سوشل میڈیا پر اک گھمسان کا رن پڑا ہوا ہے

لیکن یہاں میرا ایک سوال ان دوستوں سے بنتا ہے جو کہ علی ترین کو ٹکٹ دینے کے حوالے سے کافی گرم ہیں اور سوشل میڈیا پر کافی گرما گرم احتجاجی پوسٹیں بھی کر چکے ہیں کہ کیا پچھلے ساڑھے چار سالوں میں آپ نے وزیر اعلی اور اسپیکر کے خلاف کتنا احتجاج ریکارڈ کروایا اور اسکا کیا نتیجہ نکلا؟

کیونکہ ہمارے بھائی اس بات پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں کے وہ پارٹی سربراہ سے اس سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی بات منوا لیتے ہیں جیسے کہ بقول ان کے حالیہ دنوں میں ایک سوئمنگ پول کی تعمیر انہوں نے سوشل میڈیا پر احتجاج کے ذریعہ رکوائی ہے۔ اپنے ہر بیان و علان و تقریر کے بعد پھر جانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور یہ وصف رب کسی کسی کو ہی دیتا ہے بقول کسے

 باسمتی چول تے شورہ ککڑ دا
ممدو کھاوندا جائے نالے مکردا

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
نکلے اپنی تلاش میں – آخری حصہ : سحرش عثمان
next post
دن جو بھلائے نہ جائیں گے : عبدالغفار چھینہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.