علم کی ابتدا تجسس اور انتہا حیرت ہے۔ اسلم انصاری صاحب کو میں نے ہمیشہ تجسس اور حیرت ہی میں مبتلا پایا۔ وہ دم آخر تک علم کی سچی لگن اور کھوج ہی میں رہے۔ نطشے نے ٹھیک کہا تھا کہ خودی کا آخری درجہ معصومیت ہے۔ انھوں نے علم کے بحر ذخار کو پار کیا تو ان کے ہاتھوں میں معصومیت کے بہت سے گہر ہائے آبدار ہی تو تھے۔ وہ معصومیت جو عالم کو وقار بخشتی ہے۔ وجود اور شعور دونوں ان کے نزدیک ہم معنی الم تھے اور یہ نکتہ انھوں نے وجود اور شعور کی وحدت کو تلاشتے اپنے نفس کی گہرائیوں میں پایا تھا۔ بصیرت افروز رومان کی بڑی بڑی لہروں کے سنگلاخ حقیقت کے ساحلوں سے سر ٹکرانے سے جو المیہ اور باہم متناقض حقیقتوں کے تصادم سے جو رزمیہ پیدا ہوتا ہے، اسلم انصاری صاحب کا فن اسی وارداتِ قلبی کی بازیافت کا حسین مظہر تھا۔
حسن اور حزن کو بیک آن دیکھنا کمال نہیں بلکہ انھیں ایک بالائے ابدی آن میں ڈھال دینا اور مظہریاتی شعور سے بالا تر ہو کر اسے ایک وجودیاتی حقیقت بنا دینا اصل کمالِ فن ہے جو اسلم انصاری صاحب کو عطا ہوا تھا۔ چناں چہ ان کی ساری زندگی حسین و حزیں تصورات تراشتے گزری۔ جب تک وہ زندہ تھے ایک تہذیب سانسیں لیتی تھی اور ان کے آنکھیں موندتے ہی وہ تہذیب اور تاریخ بھی دم توڑ گئی۔
تخلیق، تحقیق اور تنقید ان تینوں شعبوں میں یکساں طور پہ جن شخصیات نے ہمارے عہد میں وقیع ترین کام کیا اور نام کمایا وہ شمس الرحمن فاروقی صاحب ہیں یا اسلم انصاری صاحب۔ ڈاکٹر صاحب سے میری پہلی ملاقات استاد مہربان ڈاکٹر وحیدالرحمان خان کے توسط سے ہوئی۔ ان کی شخصیت کے جس وصف نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا وہ ان کا اندازِ تخاطب تھا جو مخاطب پہ علمی برتری جتانے کا نہیں بلکہ اس سے کچھ سیکھنے کا ہوتا تھا۔ وہ سوال اٹھاتے، سوال کی دعوت دیتے اور پھر جواب کی کھوج میں لگے رہتے۔ ان کی تشفی جلد نہیں ہوتی تھی۔ تلاش و تفتیش کا مستقل سلسلہ تھا جو لگا رہتا۔ مجھے بھی انھوں نے اقبال پہ ایک مباحثے کی دعوت دی، میرے سوالات کی تعریف فرمائی اور تسلی بخش جوابات سے نوازا اور انھیں دیگر کچھ احباب کے ساتھ ہونے والے مباحثوں سمیت ایک کتاب بعنوان “مکالمات” میں شائع کروایا۔
ان کی شخصیت میں ایک خاص قسم کی جاذبیت تھی جو علمی ریاضتوں کی دین تھی۔ وہ ہمیشہ فنا فی الادب ہی نظر آئے۔ انھیں اندازہ تھا کہ ان کی زندگی تھوڑی رہ گئی ہے اور ابھی بہت کام باقی ہے۔ انھوں نے آخری دم تک بہت کام کیا۔ ان کے ہونہار فرزند آصف انصاری نے بتایا کہ آخری دس سالوں میں انھوں نے بے تحاشہ لکھا اور ان کے بہت سے مسودات ابھی تشنہ اشاعت ہیں، جن کی وہ جلد اشاعت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ انھیں یہ توفیق ارزانی فرمائے اور ان کے عظیم والد محترم کے درجات بلند فرمائے آمین۔
