تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

خواہش کو احمقوں نے پرستش دیا قرار — معراج رعنا

by دانش ڈیسک 02/07/2024
written by دانش ڈیسک 02/07/2024
246

مرزا عبدالقادر بیدل کے بارے میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ سبکِ ہندی کے ایک عظیم المرتبت شاعر تھے جن کے شعری شعور کے ظہور میں سترہویں صدی کے ہندوستان کی علمی اور ادبی فضا نے نمایاں کردار کیا تھا۔ یہاں یہ بات بھی دہرانے کی ضرورت نہیں کہ غالب اُن کی شاعری کے بڑے شیفتہ و فریفتہ تھے۔ غالب کی اسی شیفتگی اور فریفتگی کو ہماری اردو تنقید نے جھٹ پٹ “اثر” کا نام دے کر ایک ایسی بحث کی ابتدا کردی تھی جس کی انتہا غالب تنقید میں درجن بھر مضامین، ایک آدھ کتاب اور کچھ مکتوبی تبویب کی شکل میں دیکھی جاسکتی ہے۔ اب یہ تو نہیں کہا جاسکتا کہ اُن مضامین، کتابوں اور کتابی تبویب سے غالب کی بیدل پرستی ثابت ہوتی ہے کہ نہیں لیکن اتنی سی بات ضرور عرض کی جاسکتی ہے کہ یہاں الفاظ کے استعمال کی یکسانیت اور ترجموں کے تعامل کو “اثر” کا نام دے کر ہم جیسے کم فہم قاری کو گمراہ ضرور کیا گیا ہے۔ اس گمراہی کو فروغ دینے میں اردو تنقید نے غالب کے اُن شعروں کو بنیادی حوالے کے طور پر استعمال کیا جن میں بیدل کا مذکورِ محض نمایاں ہے۔ اس گمراہی کو پھیلانے سے قبل حامیانِ اثر کو یہ دو باتیں ضرور معلوم ہونی چاہئیے تھیں۔ اول یہ کہ کسی شاعر کا اپنے پیش رو یا معاصر شاعر کا شعر میں ذکر کرنا فارسی اور اردو کی شعری تہذیب میں ایک تعظیمی رویے کے طور پر روزِ اول سے شامل رہا ہے۔ میر نے بھی ولی دکنی کا شعری اعتراف کیا ہے:

خوگر نہیں ہم یوں ہی کچھ ریختہ گوئی کے
معشوق تھا جو اپنا باشندہ دکن کا تھا

لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ میر کی شاعری ولی سے متاثر ہے۔ یہی بات غالب پر بھی صادق آتی ہے۔ اُنھوں نے صرف بیدل ہی نہیں بلکہ انوری، ظہوری، میر، ناسخ، تجمل حسین خاں، نواب مصطفٰی خاں شیفتہ، ولیم فریزر، اور فضلِ حق خیر آبادی کے والدِ ماجد فضلِ امام خیر آبادی وغیرہ کا اپنے فارسی اور اردو کلام میں ذکر کیا ہے۔ ان اذکار سے غالب کی شاعری پر یہ حکم لگایا ہی نہیں جاسکتا کہ وہ مذکورہ اشخاص کے کلام و افکار سے متاثر تھے۔ نواب مصطفٰی خاں شیفتہ کی علمیت اور غالب سے اُن کے مراسم کی نوعیت سب جانتے ہیں۔ نواب صاحب نے “گلشنِ بے خار” میں غالب کے بارے میں سب سے مناسب رائے دی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

“بتقاضائے طبع دشوار پسند بطرزِ مرزا عبدالقادر بیدل سخن می گفت و وقت آفرین ہا می کرد آخرالامر ازاں طریقئہ اعراض کردہ اندازے مگر مطبوع ابدا نمودہ دیوانش” (ص۔ 139)

شیفتہ کے مطابق غالب، ابتدائی زمانے میں اپنی دشوار پسند طبیعت کی بنا پر مرزا عبدالقادر بیدل کے طرز میں سخن گوئی کی اور خوب کی لیکن بعد میں اس طرز سے گریز کیا۔ ممکن ہے کہ غالب طرزِ بیدل سے متاثر رہے ہوں لیکن نواب صاحب نے اس ضمن میں کسی نوع کے شعری شواہد بہم نہیں پہنچائے ہیں۔ پھر یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر غالب کے لیے طرزِ بیدل اتنا پر کشش تھا تو وہ فوراََ اس اسلوب سے تایب کیوں ہوگئے؟ ہم جانتے ہیں کہ غالب کو اپنے ابتدائی زمانے میں اپنی ناقدری کا شدید احساس تھا جس کا ایک مضبوط سرا اُن کی مشکل پسند طبیعت سے مربوط تھا۔ اب آپ اسے تعلقِ بیدل کا منفی پہلو سمجھیں یا پھر غالب کا شعری اجتہاد۔ دوم یہ کہ غالب اپنی نثری تصنیف “پنج آہنگ” (1849) جو کہ فارسی نثر کے پانچ آہنگوں پر مشتمل ہے، کے کسی آہنگ میں بھی بیدل کی شاعری پراُن کی کوئی تقریظ یا مقدمہ موجود نہیں۔ جب کہ حافظ، ناسخ اور شیفتہ کی شاعری پر لکھی گئی غالب کی تقریظیں اس کتاب کا بیش بہا حصہ ہیں۔ تاہم کہا جاسکتا ہے کہ غالب طرزِ بیدل سے متاثر نہیں تھے اور اگر تھے بھی تواُس کا ثبوت ہنوز معرضِ التوا میں معلوم ہوتا ہے۔ در اصل یہ ساری گمراہی اردو تنقید کی تن آسانی سے پیدا ہوئی تھی جس نے شعر کے لفظی ترجمے کو اثر سمجھ لیا تھا۔ جب کہ اثر اور ترجمے میں بہت فرق ہوتا ہے۔ آئیے پہلے اس مسئلے کو اس جملے سے حل کرتے ہیں “مرزا عبدالقادر القادر بیدل وہ عظیم شاعر ہے کہ غالب اور اقبال دونوں اس کے طلسم میں گرفتار رہے ہیں” یہاں ترجمے اور اثر کے فرق کو سمجھے بغیر مصنف نے دونوں شاعروں کو بیدل کا اسیر بنا دیا۔ اب میں آپ کو اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہوں:

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبانِ عقل
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

 اقبال کے شعر کے بعد اب بیدل کا شعر دیکھئیے:

چہ لازم با خرد ہم خانہ بودن
دو روزے میں تواں دیوانہ بودن

بیدل کے پس منظر میں یہ بات کوئی موٹی عقل والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ اقبال نے بیدل کے شعر کا ایک ہلکی سی تحریف کے ساتھ ترجمہ کر دیا ہے۔ اس ترجمے کو کسی صورت اثر کا نام نہیں دیا جاسکتا۔ غالب کے فارسی اور اردو دیوان میں ایسے اشعار ضرور موجود ہیں جو بیدل کے شعروں کے ترجمے ہیں۔ اور جن سے یہ قطعی ثابت نہیں ہوتا کہ اُن کی شاعری بیدل سے متاثر تھی۔ غالب اور اقبال بڑے شاعر ہیں تو اس لیے نہیں کہ اُنھوں نے بیدل کے کچھ شعروں کے ترجمے کر دیے تھے بلکہ آج دونوں شعرا کی شعری عظمتیں اُن کے فکری اجتہاد اور انفرادی اسالیب کے سبب قائم و دائم ہیں۔ جس طرح نظیر اکبر آبادی اپنے شعری اسلوب کے موجد اور خاتم دونوں تھے ٹھیک اسی طرح اقبال اپنے شعری افکار اور فنی اظہار کے اعتبار سے ایک شعری روایت کے خود ہی مبتدی اور خود ہی منتہی دونوں ہیں۔ لیکن جب یہ بات کہی جاتی ہے تو اس سے یہ مراد ہرگز نہیں لی جاسکتی کہ غالب فارسی کے کسی بھی شاعر سے متاثر نہیں تھے۔ غالب کے فارسی اور اردو کلام کے غائر مطالعے سے یہ بات نمایاں ہوجاتی ہے کہ غالب فارسی کے متعدد شعرا سے متاثر تھے۔ اس نکتے کو مثال کے حوالے سے سمجھنے سے قبل یہاں پہلے اثر پذیری کے عمل کو سمجھنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ہیرالڈ بلوم نے اپنی کتاب “اینگزایٹی آف انفلیونس” میں “کلینمین” کی اصطلاح استعمال کی ہے جس کی رو سے بلوم یہ وضاحت کرتا ہے کہ ایک شاعر اپنے پیش رو شاعر کے کلام سے انحراف یا بھٹکاو کا راستہ اختیار کرتا ہے جس سے ایک نیا اور انفرادی شعری اسلوب معرضِ ظہور میں آتا ہے۔ بلوم کے اس نظریے کو ہم اس طرح بھی سمجھ سکتے کہ جب کوئی شاعر اپنے کسی پیش رو شاعر کے کلام سے متاثر ہوتا ہے تو وہ اُس کے کلام یا شعری متن میں کچھ حیرت انگیز تبدیلیاں کرتا ہے، اور اس فنی مہارت سے کرتا ہے کہ سابقہ کلام کے برعکس کلامِ موجودہ میں ایک یا کئی نئے اور حیرت انگیز معنی پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس تناظر میں حافظ اور غالب کے شعر ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں:

ما در پیالہ رخِ یار دیدہ ایم
ای بے خبر ز لذتِ شربِ مدام ما
(حافظ)

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
(غالب)

حافظ کے مذکوہ شعر میں شاعر کے جام بہ کف ہونے کا متواتر عمل یعنی لذتِ شراب سے مسلسل محظوظ ہونے کی توجیہ نہ تو جامِ جمشید کی تلمیح سے برآمد ہوتی ہے اور نہ ہی کششِ بادہ سے بلکہ شاعر کے ساغر بہ کف ہونے کی اصل وجہ اُس میں “رخِ محبوب” کی عکس نمائی ہے۔ یعنی یی کہ شاعر ہر وقت اس لیے اپنے ہاتھوں میں جامِ شراب لیے رہتا کہ اُس میں محبوب کا چہرہ نظر آتا ہے۔ شعر کی متعدد قرات سے بھی یہ کہیں ثابت یا ظاہر نہیں ہوتا کہ وہ شراب پی رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کیفیت (ٓجلوۂ معشوق) شاعر کو مطلوب تھی وہ شراب پیے بغیر ہی اُس کے حواس پر طاری ہو رہی ہے۔ تاہم یہاں شراب کا استعارہ محبوبِ فانی اور معشوقِ روحانی دونوں ہی معنی کو ایک ساتھ خلق کرتا ہے۔ جب کہ غالب کے شعر میں ساغر و مینا عشقِ راسخ کا استعارہ ہے۔ یہ عشقِ راسخ شراب سے بھی منسلک ہوسکتا ہے اور محبوب سے بھی۔ کیوں کہ محبوب اور شراب میں نشے کی صفت مشترک ہوتی ہے۔ یہاں آنکھ سے شراب پینا محض شاعر کے ہاتھ کی ناتوانی بیان نہیں کرتا بلکہ آنکھ اور نشے کے ربط سے ایک نئے پیکر کو خلق کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ غالب کے شعر میں ہاتھ، شراب اور آنکھ کے مشترکہ ارتباط سے متعدد پیکر خلق ہوتے ہیں۔ لہذا کہا جاسکتا سکتا ہے کہ حافظ کے شعر میں جو معدوم کیفیت (عکسِ رخِ یار) موجود کی صفت سے ہم آہنگ ہے وہ کیفیتِ موجود (مینا) غالب کے شعر میں صفتِ معدوم سے ہمکنار ہوتی نظر آتی ہے جس وہ پیکر معرضِ ظہور میں آتا ہے جو حافظ کے شعر میں موجود نہیں۔

Facebook Comments Box
Bedilبیدلؒمرزا عبدالقادر بیدل
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
مصنوعی ذہانت اور نیا سماج —- قاسم یعقوب
next post
سماجی انصاف (سوشل جسٹس): اسلام اور سوشلزم کا تناظر — ڈاکٹر غلام شبیر

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.