نامور امریکی پروفیسر ڈاکٹر شیر علی ترین کی یہ تحریر حال ہی میں معروف برطانوی جریدہ Critical Muslim Studies میں شایع ہوئی ہے۔ دانش کے قارئین کے لئے مذکورہ مضمون کا اردو ترجمہ پیش کیا جارہا ہے۔
صورتِ حال: The Situation
پاکستان میں ایک طرح سے مارشل لا نافذ ہے۔ حکمرانوں نے ملک کی لگ بھگ ستر فی صد آبادی کے حامل صوبوں پنجاب اور خیبر پختون خوا میں آئین کے مطابق انتخابات نہ کروا کر عوام کی رائے کو ارادتاً رد کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی حکم دیا تھا کہ انتخابات کا انعقاد 14 مئی کو لازماً کیا جائے لیکن اس حکم پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ اسی دوران میں عسکری اشرافیہ نےچاپلوس سیاسی کٹھ پتلیوں کے اشتراک و تعاون سے ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت عمران خان کی پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں، منتخب ارکان اور اس کے عام معاونین کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ گزشتہ برس پولیس نے پی ٹی آئی کے بیس سے زیادہ کارکنان کو ہلاک کر دیا، آٹزم کی بیماری کے شکار ایک نوجوان کو پولیس کی حراست میں تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا، راہ نماؤں کو تشدد اور ہراسانی کے ذریعے مجبور کیا گیا کہ وہ پی ٹی آئی یا سیاست ہی چھوڑ دیں، دس ہزار سے زیادہ سیاسی کارکنان (جن میں متعدد خواتین بھی شامل ہیں) مبہم الزامات کے تحت جیلوں میں ڈال دیے گئے ہیں، جبراً غائب کیے جانے کی خبریں روز آرہی ہیں اور خود عمران خان، جو گزشتہ نومبر میں ایک قاتلانہ حملے میں بال بال بچے تھے اور 8 مئی کو ریاست کی جانب سے اغوا کیے جانے سے بچے تھے، ملک کے ذرائع ابلاغ میں ان کا نام تک لیے جانے پر پابندی عاید کی جا چکی ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ریاست ان پر قتل کے ایک لا یعنی الزام کے تحت ملٹری کورٹ میں مقدمہ چلانے کے لیے پر تول رہی ہے۔ بلوچستان اور قبائلی علاقہ جات جیسے مرکز سے دور واقع علاقوں میں ڈیپ سٹیٹ کی طرف سے استعمال کیے جانے والے تشدد اور جبر کے حربے اضطراب انگیز وحشیانہ پن سے ملک کے مرکزی حصوں میں بھی آزمائے جانے لگے ہیں۔
محبت کرنے والوں کے مابین معمولی جھگڑے سے آگے کی سوچ: Thinking Beyond a Spat between Lovers
بایں ہمہ موجودہ صورتِ حال کا استبعاد یہ ہے کہ ریاست تشدد کے ذریعے طاقت کو جتنا وسعت دے رہی ہے، اتنا ہی وہ اپنا اخلاقی ضعف عیاں کر رہی ہے، اور اتنا ہی وہ عمران خان کی اس اخلاقی دلیل کو تقویت دے رہی ہے جس کا محور و مرکز اس سیاسی مقصد کا حصول ہے جسے وہ حقیقی آزادی قرار دیتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی بحران پر انگلش میں کیے جانے والے تبصرے یا تو اس صورتِ حال کو عدیم المثال قرار دینے کے احمقانہ سوال پر مبنی سطحی تجزیے ہیں یا اس گم راہ کُن استدلال پر استوار ہیں کہ فوج کے ساتھ خان کا ملاکھڑا "محبت کرنے والوں کے آپس کے معمولی سے جھگڑے” کے سوا کچھ نہیں جو سیاسی اعتبار سے غیر اہم ہے۔ محبت کا اختتام یا "محبت کرنے والوں کا معمولی جھگڑا” پر مبنی بیانیہ، جس کی جگالی ناول نویس صحافی محمد حنیف نے حال ہی میں شروع کی ہے، عمران خان کے بد خواہوں کے لیے سب سے تسلی بخش ثابت ہوا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ محب اور محبوب کا تعلق بگڑ جانے کی توضیح عمران خان کی سیاست کو پیداواری معانی یا استعداد سے محروم کر رہی ہے۔ یہ ان کی سیاست کو طاقت کے حصول کی ڈراما بازی تک محدود کرتے ہوئے عمران خان کے اس مسخ شدہ تصور کو مزید پختہ بناتی ہے کہ وہ اپنی ذات میں مگن طاقت کے حریص ایک ایسے سابق کرکٹر کے سوا کچھ نہیں جنھیں بعض لوگ دیوانہ وار چاہتے ہیں۔ جیسا کہ دانشور سلمان سید کہتے ہیں، "یہ پاکستانی سیاست کا مستشرقین والا تجزیہ دہرایا جانا ہے کہ پاکستان کی سیاست افراد کی کرشمہ کاری کے سوا کچھ نہیں جس میں نظام یا نظریات کی کوئی جگہ نہیں۔ پاکستان جناح سے عمران تک ایک شخصیت کا اَفسُوں ہے۔”
مزید براں یہ نہ صرف عمران خان اور عسکری ہیئتِ حاکمہ کے مابین زیادہ گُنجلک اور پیچیدہ تعلق کو حد سے زیادہ سادہ بنا کر پیش کیا جانا ہے بلکہ اس مخصوص توضیح کا بڑا نظری مسئلہ یہ ہے کہ اس میں محبت کرنے والوں کے مابین برابر کے رشتہ ہائے طاقت فرض کر لیے گئے ہیں۔ اس طرح یہ توضیح عوامی ابھار کے ذریعے ان رشتہ ہائے طاقت کی نا برابری ختم کرنے کا امکان تک مٹا دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک زیادہ منصفانہ مستقبل کے راستے کشادہ ہو سکتے ہیں۔
خود مختاری کی طاقت: The Power of Sovereignty
ایک سوال جسے تجزیہ کاروں نے وہ اہمیت نہیں دی جس کا یہ حق دار ہے، یہ ہے کہ پاکستانیوں کی کثیر تعداد عمران خان کے حقیقی آزادی کے نعرے کی طرف مائل کیوں ہوئی؟ جس ملک میں غالب تاثر یہ ہو کہ سیاست کے فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں خواہ یہ کہیں اور بد عنوان سیاسی اشرافیہ ہو، نو آبادیاتی ذہنیت والی فوج ہو یا سلطنتِ امریکا ہو، اس ملک میں عمران خان خود مختارانہ اقتدار کی بھرپور علامت بن کر ابھرے۔ انھوں نے اپنی حالیہ تقاریر میں یہ مذہبی استدلال تواتر سے پیش کیا ہے کہ اسلام کے اساسی ستون "لا الٰہ الا اللہ” پر ایمان لاتے ہوئے اللہ کی حاکمیت تسلیم کر کے انسان طاقت ور دکھائی دینے والی دنیاوی ہستیوں کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔ اس غیر لبرل استدلال کے مطابق اللہ کی مطلق اطاعت انسان کو مطلق آزادی اور اختیار عطا کرتی ہے۔ الوہی خود مختاری کے ذریعے عوامی خود مختاری پیدا کرنا اسلامی جدیدیت کو مرغوب رہا ہے، جس کی زیادہ پیچیدہ تفصیلات محمد اقبال جیسے مفکرین کے افکار میں پائی جاتی ہیں۔ یاد رہے عمران خان نے محمد اقبال سے بھرپور کسبِ فیض کیا ہے۔ اگرچہ عوامی خود مختاری کی یہ سیاسی الٰہیات نئی نہیں، تاہم یہ اپنے مستقبل پر خود مختارانہ اختیار کی جھلک کو ترستے پاکستانی عوام کی کثیر تعداد کو بھاتی ہے۔ یہی عمران خان کی سیاست کی کلیدی خصوصیات کی اساس ہے، جیسے کہ وار آن ٹیرر پر ان کی تنقید، ان کا یہ عمومی امن پرستانہ مؤقف کہ عسکری حل تنازعات کو بڑھاتے ہیں، امریکا کی فوج کو پاکستان میں عسکری اڈے قایم کرنے کی اجازت دینے سے ان کا انکار جو اُن کے معروف و مقبول الفاظ "ایبسلیوٹلی ناٹ” سے عیاں ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بارے میں سوچنے تک سے ان کا انکار، کشمیر میں ہندو نیشنلسٹ تشدد پر کاٹ دار الفاظ میں ان کی تنقید، توہینِ رسالت پر مسلمانوں کے غم و اندوہ سے مغربی معاشروں کی بے توجہی کی مؤثر و بلیغ انداز میں ان کی نشان دہی اور سب سے بڑھ کر سیاسی اشرافیہ کی اخلاقی اور مالی بد عنوانی کے خلاف طویل عرصے سے، اور عسکری اشرافیہ کے خلاف عدم تواتر سے، جاری ان کی مہم۔
یقیناً ان میں سے ہر نکتے کی حدود اور تضادات دکھائے جا سکتے ہیں۔ یہاں عمران خان کی سیاست کے خالص پن کا مقدمہ پیش کرنا یا اس کی ستائش مقصود نہیں بلکہ بیانیے کا وہ اختلاف نمایاں کیا جانا مقصود ہے جو عمران خان جیسی شخصیت کے خود مختاری بچانے اور بحال کرنے کے وعدے پر مبنی بیانیے اور لبرل سیکولر ترقی کی عالم گیر ترغیب اور شدید دباؤ کے آگے سرِ تسلیم خم کر دینے کے زہرِ مغرب کا جام نوشِ جاں کرنے والی سیاسی و عسکری اشرافیہ کے عوامی تاثر کے مابین موجود ہے۔ بیانیے کا تضاد اس سے سِوا نہیں ہو سکتا۔ پاکستان، مقبوضہ کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں میں عمران خان کی مقبولیت کے سنجیدہ تجزیے کی کلید اس میں مضمر ہے۔ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان سرتاپا جدیدیت پسند ہیں جو قانون کی حکمرانی، نیشنل ازم، آزاد منڈی کی معیشت اور ایک طاقت ور فوج جیسے جدیدیت پسندانہ تصورات پر ان کے یقین سے عیاں ہے لیکن وہ جدیدیت پسند ہونے کے باوجود ایسے سیکولرسٹ نہیں ہیں جو مذہب کو نجی دائرے تک محدود رکھنے یا مسلمان راہ نماؤں کے سیاسی عزائم کو قابو کرنے اور معتدل بنانے کے مشتاق مغربی دانشوروں اور ریاستوں کی اسلاموفوبیائی تشویش کم کرنے والے اچھے/ اعتدال پسندانہ اسلام کو فروغ دینا چاہتا ہو۔
اصل خطا: The Original Sin
مثال کے طور سے عمران خان کی پہچان بن جانے والا نعرہ لیجیے، جس کے تحت وہ ایک ایسی فلاحی ریاست بنانا چاہتے ہیں جو معاشی اعتبار سے پس ماندہ افراد اور مذہبی اقلیتوں کے لیے انصاف اور مہمان نوازی کے اصولوں پر استوار ہو، جس کی مثال حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ریاستِ مدینہ ہے۔ عمران خان اکثر کہتے ہیں، "حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ریاستِ مدینہ ایک جدید ریاست تھی۔” یہ بات کہتے ہوئے وہ سکینڈے نیویا کی ریاستوں کی مثال پیش کرتے ہیں جو اُن کے خیال میں معاشی و معاشرتی انصاف کے پیغمبرانہ اصولوں پر عمل کر رہی ہیں۔ کوئی چاہے تو ان سے بحث و تمحیص کر سکتا ہے لیکن غور کیجیے کہ اس انداز سے مدینہ کا ذکر ایک ایسی سیاست کا تصور پیش کرتا ہے جو انصاف کی جدید اقدار کو تو اپناتی ہے لیکن جس کی جڑیں مغرب میں پیوست نہیں اور اس طرح یہ تصور مغرب کی اپنی جدیدیت پر اس کی اجارہ داری ختم کر دیتا ہے۔ اس نوع کے سیاسی تصور کی تفہیم اعتدال پسند/ بنیاد پرست کی سیکولر تفریق کے ذریعے نہیں ہو سکتی۔ ایک مسلمان سیاسی شخصیت کی حیثیت سے یہ ان کی اصل خطا ہے، جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے اندر اور باہر بہت سوں کے لیے، بالخصوص عسکری اشرافیہ کے لیے کہ جس کے نزدیک سلطنت کا اثباتی اشارہ بے حد اہمیت رکھتا ہے، نا قابلِ قبول بن چکے ہیں، جن کے مطابق سیکولر طاقت پر یقین اور اس یقین سے حاصل ہونے والے عالم گیر فائدے سیاست کی اساس ہیں۔ اس سے عسکری اشرافیہ کا تازہ منصوبہ کھل کر سامنے آ جاتا ہے کہ وہ بلاول بھٹو کو اگلے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے مسلط کرنا چاہتی ہے، جو عوامی حمایت سے بالکل محروم ہیں لیکن جن پر انکل سام کو پورا بھروسا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ ناقدین یہ اعتراض کریں کہ یہ سارا مباحثہ تجریدی نوعیت کا ہے جو عمران کی سیاست کے ٹھوس نتائج سے مطابقت نہیں رکھتا لیکن یہ اعتراض اس حقیقت کو نظر انداز کر دے گا کہ یہ مباحثہ طاقت میں مضمر ہوتا ہے؛ طاقت مباحثے سے پہلے نہیں ہوتی۔ میں اس مختصر تجزیے میں کچھ اور نہیں تو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جاری معرکے کو اقتدار کا غیر نظریاتی بے مہار جوڑ توڑ، سابق محبت کرنے والوں کا سیاسی اعتبار سے بے معنی جھگڑا، اقتصادی بے اطمینانی قرار دیے جانے والا اشتعال اور مایوسی کا ڈراما یا ایک کَلٹ لیڈر اور اس کے ماننے والوں کی طرف سے کھیلے جانے والے کھیل سمجھنے کی بجائے اسے خود مختار رعایا اور قوم سے متعلق متقابل نظریات کی جنگ سمجھا جانا چاہیے۔ خود مختاری کے لیے عمران خان کی جنگ کی قوت، وعدے اور کشش پر تھوڑا بہت غور کرنے کے لیے اس کی سیاست کو بِلا نقد و نظر قبول کرنا یا اس کے سارے پہلووں کو ماننا ضروری نہیں۔
