تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

امریکہ میں رمضان المبارک اور عید — انوار احمد

by دانش ڈیسک 05/05/2023
written by دانش ڈیسک 05/05/2023
635

پچھلے کئی برسوں سے امریکہ آنا جانا لگا ہی رہتا ہے لیکن رمضان میں پہلی مرتبہ آیا ہوں۔ ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد میں اور بیگم اکیس مارچ کو بڑے بیٹے سعد کے پاس نیو جرسی پہنچے۔ دوسرے ہی روز رمضان شروع ہوگیا۔ چند دن بعد صاحبزادے نماز اور افطار کے لئیے یہاں کے الزہرا اسلامک سینٹر لے گئے۔ کئی سو مرد۔ خواتین اور بچے تھے جنکا تعلق برصغیر۔ ترکی۔ دیگر عرب ممالک اور سنٹرل ایشین ممالک سے تھا۔
نماز مغرب وہیں باجماعت ادا کی۔ امام صاحب کا تعلق البانیہ سے تھا کلین شیو تھے اور سب سے نہایت خوش اخلاقی سے مل رہے تھے۔ سب نے باجماعت نماز مغرب ادا کی کوئی رفع یدین کررہا تھا۔ کسی نے سینے پر ہاتھ باندھے۔ کوئی ناف کے اوپر لیکن سب اسی امام کی تقلید میں اللہ کے سامنے سر بسجود تھے۔ اس یک جہتی کو دیکھ کر بہت مسرت ہوئی شاید یہی دین کی اصل روح ہے۔

نماز کے بعد مسجد ( جو کبھی چرچ تھا) کے بیسمنٹ میں کئی سو افراد کے لئیے نہاہت شاندار افطار و ڈنر تھا جو بلا قیمت تھا۔ مرد و خواتین نے ایک ساتھ افطار کیا اور کھانا کھایا۔ نوجوان بچے اور بچیاں رضاکارانہ طور پر ہر ٹیبل پر پانی کی بوتل۔ کھجوریں اور کھانا سرو کررہے تھے۔ کوئی بد انتظامی یا بھگدڑ نہیں ہوئی لوگ اپنے سے زیادہ دوسروں کا خیال کررہے تھے۔ میری ٹیبل پر امام صاحب کی بیگم۔ بچیاں اور کچھ دوسری خواتین تھیں۔ سب نے مل جل کر افطار اور ڈنر کیا۔ اکثر خواتین نے ہیڈ کور کئیے ہوئے تھے لیکن کسی کے چہرہ پر نقاب نہیں دیکھا۔ مرد بھی کسی خاص وضع کے نہیں تھے زیادہ تر مغربی لباس میں نظر آئے کچھ اپنے روایتی لباس میں بھی تھے۔
کھانے کے بعد بچی ہوئی اور غیر استعمال اشیا بہت سلیقے سے اٹھائی گئیں اسکے بعد چائے اور کافی کا دور ہو۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد عشا کی اذان دی گئی وہیں نماز عشااور اسکے بعد آٹھ رکعت تراویح ہوئی۔۔۔ کچھ لوگ کھانے کے بعد چلے گئے اکثریت تراویح کے بعد ہی گئی۔۔۔

اسلامی اخوت اور بھائی چارے کا بہترین مظاہرہ دیکھنے میں آیا۔ یہاں لوگ مسجد کو صرف عبادتگاہ ہی کے لئیے نہیں بلکہ کمیونٹی کے اجتماع کے لئیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ مختلف قومیتوں کے افراد مل جل کر بیٹھتے ہیں۔ یہاں تک کہ شادی کے خواہشمند جوڑے اپنے والدین کے ہمراہ یا اکیلے بھی میچنگ کے لئیے آتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں تبادلہ خیالات کرتے ہیں اکثر میچ ہو بھی جاتے ہیں۔ اسی اسلامک سینٹر میں بچوں کی قرآن کلاس بھی ہوتی ہیں اسکے علاوہ تقریری اور معلوماتی مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ کمیونٹی کے افراد اسی سینٹر میں عیدین بھی مل کر مناتے ہیں۔ یہ سنٹر نہ صرف مسجد بلکہ اسکول۔ تفریح۔ ایک دوسرے سے ملنے اور جاننے کی جگہ بھی ہے۔۔۔ کچھ لوگ اپنے گھروں سے اپنے اپنے ممالک کے کھانے بھی لاتے ہیں اور سب مل جل کر کھاتے ہیں۔
کیا ہی اچھا ہو کہ ہم بھی اپنے ملک میں اسی رواداری کو فروغ دیں اور مساجد کو صرف عبادتگاہ ہی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے کمیونٹی کے اجتماع کے طور ہر استعمال کریں۔۔۔۔
کیا ایسا کبھی ممکن ہوگا۔

اٹھارہ رمضان کو میں اور بیگم ورجینیا چھوٹی ہمشیرہ کے گھر آئے یہاں مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد آباد ہے جو رمضان بڑے جذبے کے ساتھ مناتے ہیں مساجد / اسلامک سینئرز میں افطار۔ تراویح کے اجتماعات ہوتے ہیں۔ قیام اللیل اور سحری کا شاندار اہتمام کیا جاتا ہے لیکن ہر کام بڑے سلیقے سے کبھی کوئی بد نظمی یا بھگدڑ دیکھنے میں نہیں آئی۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں آنے والوں کا والہانہ استقبال کرتے نظر آئے۔ نمازیوں کے ساتھ آنے والے بچوں کو رضاکار بچیاں ایک دوسرے کمرے میں لیجاتی ہیں جہاں انکے لئیے کھلونے اور کھیلنے کا سامان میسر ہے یوں والدین دل جمعی سے عبادت کرلیتے ہیں۔

چند دن بعد جمہ تھا میرے نوجوان بھانجے جو آئی ٹی کے شعبے سے متعلق ہیں لیکن اپنے دینی رجحان کے باعث جمہ کا خطبہ اور امامت بھی کیا کرتے ہیں۔ ماشاءاللہ بہت صالح بچہ ہے وہ ہمیں مسجد لے گیا انکا خطبہ سنا جو انگریزی میں تھا۔ عام مولویانہ بیان سے ہٹ کر نہایت عملی باتیں جو عصر حاضر کے مطابق بھی تھیں اور پر اٹر بھی۔
ورجیننیا میں قیام کے دوران تقریبا روز ہی کہیں افطار کی دعوتوں میں جانا ہوا ہر گھر میں رمضان کے مطابق سجاوٹ اور ڈیکوریشن نظر آئی جھلملاتی روشنیوں۔ خوبصورت قمقموں اور جگالروں سے گھروں کے آرائش اور پھر پر تکلف افطار اسکے بعد باجماعت نماز مغرب۔ یہ سب دیکھ کر بہت اچھا لگا۔

ورجینیا میں آٹھ دن قیام رہا
تیئسویں رمضان کو میرے بھانجے کے گھر دعوت افطار تھی میرے صاحبزادے خرم میاں چھے گھنٹے کی ڈرائیو کرکے ہمیں لینے آئے۔ افطار اور ڈنر میں شرکت کے بعد تقریبا دس بجے رات ہم نے ویسٹ ورجینیا کے شہر ہیننگٹن کے لئیے سفر شروع کیا۔ موسم خاصا خوشگوار تھا کچھ ہی دیر بعد ہم یائی وے پر تھے۔ راستہ تیز رفتاری سے گزرتا رہا۔ ہم ہیگرز ٹائون سے گزرے جہاں خرم میاں تین سال رہے ہماری بھی خوشگوار یادیں اس چھوٹے سے خوبصورت ٹائون سے وابستہ ہیں۔ دو گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہمارا پہلا اسٹاپ کمبر لینڈ تھا۔ اس شہر کے ایک ہسپتال میں خرم میاں نے تین سال گزارے وہ روز صبح ہیگرز ٹائون سے یہاں آتے اور پھر شام کو ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کرکے واپس گھر پہنچتے۔ امریکہ میں جاب پر روزآنہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی مسافت پر جانا کوئی غیر معمولی بات نہیں۔
کمبر لینڈ میں گاڑی میں پٹروم بھروایا۔ یہاں پٹروم کو گیس کہتے ہیں۔ وہیں گرما گرم کافی پی۔ کچھ ہارھ پائوں سیدھے کئیے اور اگلے سفر پر نکل پڑے رات آدھی سے ذیادہ گزرچکی تھی۔ راستہ پہاڑی اور پرخطر تھا اور اب چڑھائی شروع ہوچکی تھی۔ کافی پینے کے بعد کچھ تازگی محسوس ہوتی بیٹے نے عابدہ پروین اور پٹھانے خان کے گیت لگا دئیے۔ بیگم پچھلے سیٹ پر سفری کمبل میں آرام سے نیم دراز ہوگئیں میں بیٹے سے باتیں کرتا رہا حالانکہ انکے خواہش تھی کہ میں بھی آرام کرلوں لیکن میں نے اسے باتوں میں مصروف رکھا کیونکہ سفر مشکل تر ہوتا جارہا تھا۔ پیچدار پہاڑی سڑکیں اور اب دھند بھی شروع ہوچکی تھی کہیں کہیں بادل بہت نیچے آجاتے اور سامنے کچھ دکھائی نہیں دیتا ایسے میں ڈرائیور کا چاق و چوببد ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ورجینیا سے چلتے وقت ہمشیرہ نے اس خطرے کی نشاندہی کردی تھی اور چاہتی تھیں کہ ہم صبح سویرے سفر کا آغاز کرتے لیکن خرم میاں صبح سے پہلے گھر پہنچنا چاہتے تھے کیونکہ اگلی صبح انکی بیگم کو ہسپتال جان تھا وہ بھی ڈاکٹر ہیں اور یہاں کام کا مطلب کام ہوتا ہے۔۔۔۔ اور پھر نشیب میں سفر شروع ہوگیا سڑک دو رویہ اور ہموار ضرور تھی لیکن اب زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت تھی۔ دھند بھی بڑھتی جا رہی تھی میں نے دل ہی دل میں دعائیں پڑھنے لگا۔ اسی طرح کے پیچ و خم کے بعد ہم تقریبا چار بجے صبح خرم میاں کے گھر پہنچ گئے۔ تھکن۔ نیند اور بھوک شدت سے محسوس ہو رہی تھی۔ کچھ فریش ہوئے تو بہو بیگم نے سحری لگادی۔ سحری کھانے کے بعد بمشکل نماز فجر پڑھی اور پھر جو سوئے تو دوپہر ظہر کے وقت آنکھ کھلی۔ تیز گرم پانی سے غسل کے بعد طبیعت بحال ہوئی۔
شام کو بیٹا قریبی اسٹور ” کروگر” لے گیا جہاں فارم سے لائے تازہ پھل۔ سبزیاں اور خوردو نوش کی معیاری اشیا وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہیں۔ کچھ دیر شہر کی مختلف سڑکوں پر بلامقصد ڈرائیو کرتے رہے۔ خرم نے اپنا اور اپنی بیگم کا ہسپتال بھی دکھایا۔
ہننگٹنگ ایک یونیورسٹی ٹائون ہے جو مارشل کینسر یونیورسٹی کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس شہر میں بسنے والے اکثر لوگ یا تو اسی درسگاہ میں شعبہ تدریس سے منسلک ہیں یا اسی یونیورسٹی میں کینسر ریسرچ کررہے ہیں۔ پاکستانی اور بھارتیوں کی اکثریت بھی ڈاکٹرز ہیں۔
چند دنوں بعد عید آگئی۔ ہیننگٹن میں بھی ایک چھوٹی سی مسجد میں نماز عید تھی لیکن وہ صبح سات بجے تھی جبکہ قریبی شہر چارلسٹن میں عید کا بڑا اجتماع ہوتا ہے وہاں مختلف قوم و نسل کی مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد آباد ہے۔ پہلی نماز آٹھ بجے ہوچکی تھی دوسری نماز کا وقت ساڑھے دس بجے تھا ہم کچھ جلدی پہنچ گئے تھے۔ صاف ستھری مسجد اور بہت سلیقہ سے صفیں بچھی تھیں۔پورا ماحول معطر تھا جابجا رضاکار آنے والوں کا استقبال کررہے تھے۔ سارے ماحول پر ایک تقدس کا سماں تھا۔ لوگ باآواز بلند تکبیر پڑھ رہے تھے اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد۔۔ بے شک ساری بڑائی اللہ ہی کے لئیے ہیں۔
خواتین کی صفین پیچھے تھیں۔ مختلف قوم و نسل کے مسلمان مرد و خواتین اپنی ثقافت اور پہچان کے مطابق رنگ برنگے ملبوسات اور زیورات سے آراستہ تھیں سب خوش تھے اور مل جل کو اپنا مذہبی تہوار منارہے تھے۔ سنٹرل ایشین اور عرب خواتین بھی بڑی تعداد میں تھیں ان میں سے اکثر کے لباس ہمارے معیار کے مطابق ” نامناسب” تھے۔ ہمارے ملک میں جنہیں پہن کر نماز ادا کرنا تو دور کی بات انہیں مسجد میں داخل ہی نہیں ہونے دیا جاتا۔ ویسے بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خواتین کا مسجد میں جانا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ شاید ہم دوسروں سے زیادہ مسلمان ہیں۔
وقت مقررہ پر دوسری جماعت شروع ہوئی جو ایک سیاہ فام امریکی مسلمان نے پڑھائی جماعت سے پہلے خطبہ ایک ترک مسلمان نے پڑھا۔ نمازیوں میں ہر رنگ و نسل کے لوگ شامل تھے۔ سیاہ فام افریقی اور امریکی بھی تھے۔ بھارتی اور پاکستانی کے علاوہ سنٹرل ایشین۔ عرب اور زرد رنگ کے چینی نژاد بھی تھے۔ ہر مسلک و فرقے کے لوگ اپنے طریقہ سے ایک امام کے پیچھے ایک ہی اللہ کے سامنے رکوع و سجود کررہے تھے کوئی کسی پر معترض نہیں تھا۔
نماز کے بعد سب گرمجوشی سے عید مل رہے تھے۔ کوئی بغلگیر ہورہا تھا کوئی مصافحہ کررہا تھا اور کوئی پیشانی کو چوم رہا تھا۔ اسلام کی آفاقیت کا بہتری نمونہ سامنے تھا۔ رنگ و نسل کا فرق کہیں پیچھے رہ گیا اور صرف اخوت و محبت ک اظہار ہد تہا تھا۔ سب مل کر اپنے مشترکہ مذہبی تہوار پورے جوش و جذبے سے منارہے تھے۔
نماز ختم ہونے اور عید ملنے کا سلسلہ ختم ہوا تو ایک ہال میں میز کرسیاں لگی تھیں۔ لوگ داخلی دروازے سے قطار بناکر اندر آتے اور دوسرے نسبتا” چھوٹے ہال میں جہاں مختلف قسم کے عربی اور میڈیٹرینین کھانے اور مختلف سلاد سلیقے سے چنے ہوئے تھے لوگ اپنی پسند اور ضرورت کے مطابق ڈسپوزایبل پلیٹ میں کھانا نکالتے چمچے اور فورک لیکر بڑے ہال میں چلے جاتے اور ٹیبل منتخب کرکے بیٹھ جاتے۔ سب خوش تھے ایک دوسرے کی تواضع کررہے تھے یہی حال خواتین کی طرف تھا جسکا جی چاہتا وہ اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ ایک ہی میز پر کھارہی تھیں۔ کھانے کے بعد چائے اور کافی۔ بچوں کے لئیے آئسکریم موجود تھی۔ بچے بڑے سب کے چہروں سے خوشی پھوٹی پڑرہی تھی۔۔ اسلام کی بین الاقوامی تشخص کی صحیح تصویر میرے سامنے تھی۔
عید کے دن ہمارے بیٹے بہو نے اپنی گھر میں اوپن ہائوس رکھا جو شام چھے بجے سے نو بجے تک تھا۔ تقریبا چالیس مہمان مدعو تھے جن میں اکثریت پاکستانی اور بھارتی ڈاکٹرز کی تھی۔ دو ہندو فیملی بھی مدعو تھیں وہ بڑی محبت سے سب سے مل رہے تھے اور عید کی مبارکباد دے رہے تھے۔ یہاں مہمان وقت کی پابندی کرتے ہیں اور رات گئے تک محفلیں نہیں سجا ئی جاتیں۔ وقت کی قدر کی جاتی ہے۔ میز پر مختلف اشیائے خورد و نوش سلیقے سے چنے گئے تھے چند کھانے بیگم اور کچھ بہو بیگم نے بنائے تھے اور کئی چیزیں باہر سے بنوائی گئی تھیں۔ لوگ آپنی سہولت کے مطابق آتے رہے اور اپنی پسند کے کھانوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ دس بجے رات تک یہی سلسلہ جاری رہا۔ اور اسطرح عید کا دن ہنسی خوشی گزر گیا۔
دوسرے دن خرم کے دوست اور ہسپتال کے ساتھی ڈاکٹر جے کمار جن کا تعلق امر کوٹ سندھ سے ہے انہوں نے دعوت پر بلایا۔ انکی بیگم پدما نے بہت عمدہ وجیٹیرین کھانے بنائے ہوئے تھے دونوں میاں بیوی نے خوب تواضع کی۔ انکے بچے جیا اور پرتیک ہمارے پوتوں کے دوست بھی ہیں اور اسکول کے ساتھی بھی۔ جے کمار اور پدما ہمیں اپنے والدین کی طرح عزت دیتے ہیں۔اللہ انہیں خوش و آباد رکھے۔

عید کے تیسرے دن ایک پاکستانی ڈاکٹر نے اپنے کئی ایکڑ پر بنے محل نما گھر پر عید ڈنر کا اہتمام کیا جس میں شریک اکثریت پاکستانی ڈاکٹرز کی تھی۔ سر شام ہی سردی میں اضافہ ہوگیا۔ ہوا کے تیز جھکڑ چل رہے تھے۔ صاحب خانہ نے ماحول گرم رکھنے کا پور بندوبست کیا ہواتھا۔گھر میں تو خیر ہیٹنگ سسٹم تھا ہی باہر بھی جگہ جگہ ہیٹرز لگے تھے اور بون فائر بھی خوب تھا مہمان الائو کے گرد بیٹھے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میز پر انواع و اقسام کے کھانے نہایت سلیقے سے مہمانوں کے صبر کا امتحان لے رہے تھے کہ میزبان نے کھانا شروع کرنے کی خوشخبری دی اور لوگ بڑے تحمل کے ساتھ لائن میں لگ کر اپنی اپنی پلیٹوں میں اپنی من پسند چیزیں لے کر الائو کے قریب بیٹھ کر لذیذ کھانے سے انصاف کرنے میں مصروف ہوگئے۔ کھانے کے بعد کافی اور مکس دودھ پتی چائے کا بھی دور چلتا رہا۔ تقریب کا اختتام فائر ورک سے ہوا جسے بے حد پسند کیا گیا بچوں نے خاص طور پر آتشبازی کے اس حسین منظر سے لطف اٹھایا۔ اندھیری رات میں خوبصورت رنگ برنگی جھلملاتی قوس و قزح کے نارنجی رنگ نے تقریب کا لطف دوبالا کردیا اور ان لمحات کو اپنے ذہن میں سمیٹے ایک ایک کرکے رخصت ہوئے۔۔

میں سوچتا رہا عید جو میں نے یہاں دیکھی اور جس جوش و خروش اور رواداری سے یہاں وطن سے دور لوگ اپنا مذہبی تہوار جس طرح منارہے تھے اسکا عشر عشیر بھی وطن عزیز میں دیکھنے کو نہیں ملتا شاید اسکی ایک بڑی وجہ یہاں آباد افراد کا معاشی استحکام اور فارغ البالی بھی ہو جو ہمارے یہاں کم ہی میسر ہے۔
دعا ہے کہ ایسی ہی خوشیاں۔ رواداری۔ برداشت اور استحکام میرے وطن میں بھی ہو اور لوگ کھلے دل سے اپنی خوشیاں منائیں اور دوسروں سے بھی شئیر کریں۔۔۔
انوار احمد
ہیننگٹن۔ ویسٹ ورجینیا

Facebook Comments Box
American EidAmerican MuslimsEid in AmericaEid in USARamadan in USARamzan in Americaامریکہ میں پاکستانیامریکہ میں رمضانامریکہ میں عیدامریکہ میں مسلمانوں کی آبادیانوار احمد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی
next post
خود مختاری کے لیے عمران خان کی معرکہ آرائی: ڈاکٹر شیر علی ترین

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.