تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علمیکالممذہبی

عُمرِمنفی، حیاتِ جاوداں اور چشمِ بینا — مجیب الحق حقّی

by دانش ڈیسک 22/06/2023
written by دانش ڈیسک 22/06/2023
304

آئیں غور کرتے ہیں کہ انسان کیا ہے، اس کی عمر کیوں ہے اور ہمیشہ رہنے والی زندگی کیا ہوسکتی ہے؟
زندگی یاحیات ایک مظہر ہے جس کا اختتام موت ہے۔
جب منکرین یہ دعویٰ کریں گے کہ کائنات خود بنی اور انسان ایک سیل سے ارتقا ء پذیر ہوا تو سوچنے وا لے اس ضمن میں منطقی سوال کریں گے اور ہر سوال اُسی نظریہ کی روشنی میں ہوگا کہ ایک لا شئے یا نیست سے ابھرنے والی کائنات اپنے اندر کسی بھی مظہر یا چیز کے موجود ہونے کے کتنے منطقی امکانات رکھتی ہوگی۔ جدید مادّی نظریات میں ایک بڑی خامی یہ بھی ہے کہ ان کے پاس انسان کی موت کے بعد کے حالات کا کوئی نظریہ نہیں ہے۔ عقل کا مادّی رخ ان کو موت پر انسان کا اختتام بتاتا ہے، یعنی انسان کے اندر عجائبات کا بحرِ بے کراں ایک بلبلے کی طرح ظاہر ہوتا ہے اور بلبلے کی طرح ختم ہوجاتا ہے اور بس!
ہمارا مشاہدہ یہی ہے کہ ہر چیز ایک سرشت، جبلّت اور بنیادی خو پر پیدا ہوتی اور ترقّی کرتی ہے اور اس سے بننے والی یا اس کے اشتراک سے بننے والی کسی بھی چیز میں اس کی بنیادی خصلت اپنا رنگ دکھاتی ہے، مثلاً نمک ایک ایسا عنصر ہے جو نمکین سرشت رکھتا ہے تو یہ جس چیز میں شامل ہوگا اپنی نمکین سرشت کے ساتھ اثر انداز ہوگا۔ اسی طرح ہمارے سامنے ایک مظہر کائنات کاہے جو ایک نقطے سے ظاہر ہوکر ہر لحظہ پھیل رہی ہے تو منطقی طور پر اس کی جبلّت بحیثیت مجموعی فنا نہیں بلکہ ارتقاء ہوئی۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا عین عقلی ہوگا کہ کائنات کے اندر ہر چیزکائنات کی جبلّت پر ہی پیدا ہوگی لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر کائنات کا خود بننا مشکوک ہوگا۔

اسی طرح کائنات کا باسی انسان ہے۔منکرین اپنے موقف کے تئیںاس پرتو غور ہی نہیں کرپاتے کہ انسان کہاں سے آتا ہے اور کیوںآتا ہے؟اور یہ کہ انسان مرنے کے بعد بھی کوئی شکل رکھ سکتا ہے یا نہیں؟ لیکن یہ واضح ہے کہ انسان اپنی پیدائش اور عمر کا تعیّن نہیں کرسکتا جو ثابت کرتا ہے کہ انسان آزاد اور لازوال نہیں بلکہ ایک پراڈکٹ ہے جس کی عمر لامحدود نہیں بلکہ معیّن ہے جس میں فراز اور نشیب ہے۔ انسان عموماً بچّے سے جوان اور پھر بوڑھا ہوکر موت سے ہم کنار ہوتا ہے۔۔ مگراس ضمن میںمنکرین کے پاس انسان کے بوڑھا ہونے کا کوئی معقول جواز نہیں بلکہ اسے ایک فطری عمل سمجھتے ہیں۔ اگر فطرت اور سرشت پر ہی دلیل قائم کرنی ہے تو بنیادی سوال تو یہ ہے کہ:
جو کائنات ایک نقطے سے ظاہر ہوکر کھربوں نوری سال پر محیط ہوکر بھی ابھی پھیل رہی ہے یعنی وہ ابھی بوڑھی نہیں بلکہ جوان ہورہی ہو تو اس میں بڑھاپا، موت یا فنا کا مظہر کیوں وارد ہوا؟
جب کائنات کو موت نہیں تو حیات کو موت کیوں؟
کیا ایک زندہ کائنات میں حیات کا زوال پذیر اور بار بار عیاں، پیدا اور فنا ہوناغیر فطری، غیر منطقی نہیں؟
کیا مظہر ِحیات کائنات کی جبلّت سے جدا جبلّت رکھتا ہے؟
سوال یہ ہے کہ ایک اکائی سے تخلیق پانے والی کائنات اپنے اندر حیات و موت کی جہت اور اس سے متعلّق کوئی مختلف جبلّت کیوں رکھتی ہے؟
کیا منکرین کے پاس اس کا جواب ہے؟

اس ضمن میں مذہب ایک الگ مگر منطقی و عقلی نظریہ لیکر آتا ہے اور انسان کے حوالے سے اس کی ابتدا اس کی انتہا اورا ٓئندہ کی ایک اورلازوال زندگی کا تصوّر پیش کرتا ہے۔ ہمیشہ رہنے والی لازوال زندگی ایک حیران کردینے والانظریہ ہے۔ یہ ہمیشہ ہمیشہ کیاہے؟ یہ حال ِمستقل کیا ہے؟
آئیں ہم انسان، حیات و موت اور حیات ِ بعدالموت کو ایک دوسرے زاویئے سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہر زندگی یاحیات کا ایک مخصوص دورانیے کے ساتھ زندہ رہنا ہمیں ایک مظہر سے آشنا کرتا ہے جو عمر ہے۔ عمر کا تعیّن وقت سے منسلک ہے مگر وقت کیا ہے؟
وقت ایک پہیلی ہے،
وقت سمندر اور ہم تیراک۔
وقت ہمارے روز مرّہ معمولات کو سموئے ایک پُر اسرار بھنور۔
وقت کا گزرنا ہمارا ایک تاثر ہے جو ہمارے بدلتے ماحول خاص طور پر دن اور رات کی دین ہے۔ لیکن ایک پہلو پر ہم غور نہیں کرتے کہ اگر ماحول کو قید کرکے وقت کی گرفت سے آزاد کردیا جائے تو انسان کے لیے وقت تھم جائے گا اور وہ ایک مستقل حال میں قیام پذیر ہوجائے گا۔ یہ بات شاید عجیب لگے لیکن اس کو ہم ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ہم خود اپنے آپ کو ایک زیر زمین جگہ میں کچھ ہفتوں کے لیے وافر توانائی، غذا اور ضروریات زندگی کے ساتھ مقیّد کرلیں اور باہر کی دنیا سے ہر رابطہ منقطع کرلیں یہاں تک کہ وقت کے تعیّن کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہو۔اس ماحول میںجب ہمیں بھوک لگے تو کھانا کھالیں نیند آئے تو سو جائیں، تو ایک عرصے کے بعد ہمیں نہیں یاد رہے گا کہ باہر کیا وقت ہے۔ ہمارے لیے واقعتاً دن رات صبح و شام سب مفقود ہوجائیں گے۔ وہاں کیفیتِ ماحول ایک مستقل حال permanent-present کی ہوگی جس میں کوئی کل نہیںہوگی۔ اب اس بات کو کائنات کے کینوس پر رکھ کر دیکھیں تو انسان ظاہری طور پر توماضی حال اور مستقبل کے پیرائے میں رہ تو رہا ہے لیکن حقیقت میں ایک مستقل حالـ میں مقیم ہے جس میں دن رات ہی وقت کے پیمانے اور ماضی، حال و مستقبل متعیّن کرتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں اگر زمین کی گردش رک جائے تو یہ وہ حقیقی مظہر ہوگا جس کے ہم باسی ہیں۔ اس بحث کا مقصد یہ یاد دہانی ہے کہ ہماری آئندہ زندگی جو موت کے بعد ہوگی وہ ایک حقیقی اور خالص ماحول میں ہوگی جو اس دنیا سے مختلف ہوگا۔وہاں ہمیشہ ہمیشہ کا ایک تصوّر ہوگا جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہمیشگی ایک پہیلی ہے جو وقت کی تناب سے بندھی ہے اور وقت ایک اور پہیلی ہے جس کے بارے میں حدیث قدسی ہے کہ۔۔
ـ”انسان جب وقت کو کوستا ہے تو مجھے کوستا ہے کیونکہ میں وقت ہوں۔”
سوال یہ ہے کہ اگر انسان اس دنیا میں ایک عمر گزار کر یہاں سے چلا جاتا ہے تو پھر وہ کس طرح ایک ایسی زندگی جیئے گا جو ہمیشہ رہے گی یا جس کو زوال نہیں ہوگا کیونکہ انسان جوان اور بوڑھا ہوکر مرکر زندگی تو پوری کرچکا؟
یہاں سمجھنے کا نکتہ یہ ہے کہ درحقیقت انسان اپنے حقیقی مستقر یا ازل کے تناظر میں اس دنیا میںوقتِ منفی میں رہائش پذیر ہوتا ہے۔
وقت منفی کیا ہے؟
وقت ِمثبت یاوقت ِ حقیقی سے باہر کی دنیا۔
اس کو یوں سمجھیں کہ کائناتی وقت وقتِ منفی ہے اور ازل کے پیرائے وقت ِمثبت۔ انسان اپنے حقیقی مستقر یعنی ازل کے کسی پیراسائنسی ماحول سے اِس وقت ِمنفی میں ایک معیّن عمر لیکر آتا ہے جو اس دنیا کے نصاب کے مطابق صفر سے شروع ہوتی ہے جبکہ حقیقی دنیا کی نسبت اِس دنیا میں اُس عمر کا کائونٹ ڈائون ہوتا ہے۔ یعنی ایک ساٹھ سال کی عمر کا حامل نوزائیدہ منفی ساٹھ سال کا ہوگا اور اس کی عمر کی گھڑی منفی ساٹھ سے صفر کی طرف چلے گی۔گویا ہمارا یہ کہنا کہ عمر بڑھ رہی ہے بظاہر درست لیکن پیرا سائنسی ماحول کی نسبت سے ایک معکوس ہے۔ اُس حقیقی مستقر کے حوالے سے ایک معیّن وقت تک ہمیں زندہ رہنا ہے اور جیسے ہی عمر کی گھڑی صفر پر آئے گی انسانی روح انسانی اعمال کا ریکارڈ لیکر واپس اس حقیقی مستقر پر وقت جاوداں کے کارواں میں جا پہنچتی ہے جہاں ایک مستقل حال ہوگا نہ کہ دن رات کی شکل میں گزرتا وقت!

ایک جدید اسکالر انسان کے مرنے کے بعد اس کو معدوم قرار دیتا ہے کیونکہ اس کا علم یہی بتاتا ہے لیکن اسلام جس ہمیشہ رہنے والی زندگی کی بات کرتا ہے تو وہ ایک عقلی بیانیہ ہے جو اپنے اندر پیچیدگیاں لیے ہوئے تو ہے لیکن انسان کو آسان زبان میں بتا دیا گیا ہے کہ اس زندگی کے بعد ایک ہمیشہ رہنے والی زندگی ہے جہاں موت نہیں۔ یہاں یہ واضح ہوا کہ موت درحقیقت وقت ِمنفی سے وقت ِ مثبت کے درمیان ایک بیریئر ہے۔

عقل ایک روشنی ہے جو انسانی شعور کے منشور سے گزر کر کئی رنگ میں ڈھلتی ہے۔ بنیادی طور پر ہم اسے طبعی اور غیر طبعی خانوں میں بانٹ سکتے ہیں۔ اسلام کے مطابق اصل ہستی انسان کی روح ہے جو جسم پر تصرّف رکھتی ہے۔ جسم فنا ہوکر پھر ظاہر ہوسکتا ہے لیکن روح کو فنا نہیں اسے ہمیشہ رہنا ہے۔ روح ایک پراسرار مظہر، روح جو سنتی بھی ہے اور بولتی بھی ہے۔۔۔دلیل اس کی یہ ہے کہ الستُ بربّکم کو سنا اور پھر جواب دیا۔۔بلیٰ! تو روح دیکھتی بھی ہوگی اور اسی آنکھ کو چشمِ بینا کہا گیا۔ وہ چشم جو ہر ذی نفس کی موت کے بعد کھلنی ہے ہاں مگر جسے اللہ اپنا دوست بنا لے!

روح کائنات سے پرے ہمیشگی کے اُس ماحول کی باسی ہے جہاں وقت ساکت ہے یا ہے ہی نہیں۔ ہم اپنے سمجھنے کے لیے اسے وقت ِمثبت کہیں گے کیونکہ وہ ایک دائمی اور غیر تغیّر پزیر مظہر ہے۔ وہاں وقت کی گردش نہیں اس لیے وہاں عمر بھی نہیں بڑُھاپا بھی نہیں۔ یہاں یہ واضح ہو کہ بوڑھا ہونا ایک ایسا پیرا سائنسی بلٹ اِن مظہر ہے جس میں کوئی بھی سیل جب ٹوٹ کر نیا بنتا ہے تو اس کے ڈیٹا میں ایک مخصوص تبدیلی ہوتی جاتی ہے جو جاندار کو بوڑھا کرتی ہے جبکہ ازل کے پیرائے میں ایسا کچھ نہیں ہونا! پورا منظر نامہ یہ بنتا ہے کہ روح کو جسم دیکر انسان بنایا گیا اور اسے ایک مانوس ماحول میں اتارا گیا تاکہ اس کا امتحان لیا جائے۔ہر انسان ایک معیّن وقت کے لیے آتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ مگر وہ جہاں واپس جاتا ہے وہ ایک ایسی انوکھی جگہ ہے جس کا تصوّر ہمیں نہیںاور دلیل اس کی یہ ہے کہ کچھ ایسا کہا گیا ہے کہ۔۔
جنّت میں وہ ہوگاجو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی کے خیال میںبھی آیا۔۔۔۔
تو ہمیں جان لینا چاہیے کہ جس طرح نیند میں کوئی خواب ہمیں حقیقت لگتا ہے یہاں تک کہ آنکھ کھل جائے اور ہم یقین کرلیتے ہیں کہ وہ خواب تھا۔ بالکل اسی طرح موت کے بعد ہماری روح کی بند آنکھ کھلے گی اور ہم کہہ اٹھیں گے کہ۔۔
اوہ! دنیا تو ایک خواب تھی جہاں چند روز گزار آئے، اصل حقیقت تو یہ ہے۔۔۔

اللہ تعالیٰ نے عقل دی اور اشارے دیے ہیں ان ذہنوں کے لیے جو سوچتے ہیں اور ان آنکھوں اور کانوں کے لیے جو دیکھتے اور سنتے ہیں۔
اسی لیے منکرین کے لیے کہہ دیا گیا کہ۔۔۔۔
آنکھ ہے لیکن دیکھتے نہیں اور کان ہیں لیکن سنتے نہیں!
اندھے بہرے اور گونگے ہیں، یہ نہیں سمجھیں گے۔۔۔۔۔
کیوں ؟ اس لیے کہ روح اور اس کے خالق سے لاتعلّق ہیں۔
وہ خالق کو نہیں مانتے جبکہ حقیقت آشنائی ایک خالق اور مخلوق کے فطری تعلق کی روشنی میں روح کے منشور سے سوچنے اور روح کی آنکھ اور کان سے دیکھنے سننے سے آتی ہے،
تو سوچیں !
میں بیدار ہوں یا خوابیدہ؟
مجھے اپنے رب کی پہچان ہے یا نہیں؟
میں کون ہوں؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ، ، ،
جس نے اپنے آپ کو پہچانا اس نے اپنے رب کو پہچانا!

Facebook Comments Box
حیات جاوداںروح کائنات
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
خود مختاری کے لیے عمران خان کی معرکہ آرائی: ڈاکٹر شیر علی ترین
next post
ترجمہ کیسے کیا جائے؟ —— ڈاکٹر محمد زوہیب حنیف

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.