تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تنقیدعلم و ادب

خیال، تخیل اور تخلیقی عمل —-  محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 03/07/2021
written by محمد حمید شاہد 03/07/2021
114

کہتے ہیں کہ ۲۰۱۲ میں جب نوبل انعام کا پچاس سالہ پرانا ریکارڈعام کیا گیا تو کھلا تھا کہ اس انعام کے لیے ایک ایسے برطانوی ناول نگار کا نام بھی زیر غور رہا تھا جو ۱۹۱۲ میں جالندھر میں پیدا ہوئے تھے۔ جالندھر میں پیدا ہونا اس ناول نگار کی وجہ شہرت نہیں ہے۔ اُن کی پہچان اُن کے چار ناولوں کا گچھا ’’The Alexandria Quartetـ‘‘ بنا ہے۔ جی یقینا آپ جان چکے ہوں گے کہ میںLawrence George Durrell کی بات کر رہا ہوں۔ لارنس ڈوریل نے اپنی ناول نگاری کا آغاز Pied Piper of Lovers سے کیا تھا۔ جن چار ناولوں کے ایک سلسلے کا میں نے ذکر کیا ہے، وہ ۱۹۵۷ سے ۱۹۶۰ کے برسوں میں شائع ہوئے تھے۔ ان میں پہلا ناول Justine نے سب سے زیادہ توجہ پائی۔ بعد کے دونوں ناولوں Balthazar اور Mountolive میں لگ بھگ کہانی اور واقعات کا سلسلہ وہی رہتا ہے جو پہلے ناول میں ہم پڑھ چکے ہوتے ہیں مگر کرداروں کا تناظر بدل لیا جاتا ہے تاہم خود کو دہراتی کہانی چوتھے ناول Clea میں آگے بڑھتی ہے۔ یہ ایسی تیکنیک تھی جس نے ادبی دنیا کو چونکایا تھا کہ اچھا یوں بھی لکھا جا سکتا ہے۔ مجھے بات خیال، تخیل اور تخلیقی عمل پر کرنی ہے اورلارنس ڈوریل کا ذکر یوں کرنے بیٹھ گیا ہوں کہ ایک تخلیق کار کی حیثیت سے اُن کے اس تخلیقی تجربے اور اُن کے اس بابت خیالات نے بھی میری توجہ کھینچ رکھی ہے۔ جن خیالات کی بات میں کر رہا ہوں اس کا ایک حوالہ محمد ہادی حسین کی کتاب ’’شاعری اور تخیل‘‘ میں بھی ہے۔ لیجئے وہیں سے یہاں عین مین نقل کیے دیتا ہوں :

’’فن کار کے لیے فلسفیانہ، صوفیانہ اور مذہبی خیالات کی ساری دنیا محض ایک حرم سرا ہوتی ہے، جس میں وہ کبھی ایک حسینہ اور کبھی کسی دوسری حسینہ کو انتخاب کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ فنکار افکار کی اقلیم میں پہنچ کر ایک رند اوباش بن جاتا ہے۔ افکار کی صداقت سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا، اس کی دلچسپی ہوتی ہے تو صرف ان کے حسن سے اور اس بات سے کہ اُس کے مذاق کو کہاں تک سازگار ہیں۔ ‘‘

خیر، یہ بات گرہ میں باندھنے کی ہے کہ یہاں ذکر ان خیالات کا ہو ہی نہیں رہا جو کسی فن کار کے لہو کا حصہ ہو کر اس کی زندگی گزارنے کا آہنگ بنا رہے ہوتے ہیں۔ بات اس خیال کی ہورہی ہے جو کچھ لکھنے سے پہلے نیت باندھ کر ایک لے پالک بچے کی طرح اپنایا جاتا ہے۔ اب جب کہ ہم لارنس جارج ڈوریل کے ایک اقتباس سے خیال کی طرف راغب ہو گئے ہیں تو پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ آخر یہ خیال ہے کیا؟

خیال کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں کہا جاسکتا ہے؛ ایک تصور۔ کسی شے کو دیکھتے ہی ہمارے ذہن میں جو کچھ گھومتے ہوئے ایک ہیولا سا بناتا ہے کچھ سمجھانے کے لیے، اُس کا اسم خیال ہے۔ گویا خیال بھی ایک گمان اور واہمہ ہے اور کچھ نہیں۔ خواجہ عزیزالحسن مجذوب نے کیا خوب کہہ رکھا ہے:
علم کیا علم کی حقیقت کیا
جیسی جس کے گما ن میں آئی

یہ گمان ہی ہے جو رائے بنانے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ تو کہہ لیجئے خیال کسی بھی فرد کے ہاں بن جانے والی رائے ہے۔ یہ رائے ذرا منضبط ہو جائے تو نظریہ ہوگیا اور آج کل، جب کہ نظریہ کا لفظ کچھ کچھ متروک ہو چلا ہے تو آج کی مقبول اصطلاح میں تھیوری بھی۔ یہ جو موخر الذکر صورتیں ہیں یہ دیکھے جانے والی اشیاء اور محسوس کی جانے والی صورت حال کے گزر جانے کے بعد بھی ذہن کے اندر بننے والی ساخت کو برقرار رکھتی ہیں۔ یہی ساخت دراصل خیال ہے۔ لہٰذا یقین کیجئے کہ خیال بلا سبب نہیں ہوتااپنی علت کے ساتھ جڑا ہوا ہوتا ہے اور اس کی بنیاد میں معلومات اور محسوسات کا ایک ذخیرہ ہوتا ہے۔

کسی تخلیق کار کے ہاںمعلومات کے ذخیرے کا وسیلہ محض اکتسابی نہیں ہوتا۔ اس باب میں سامعہ، لامسہ، ذائقہ، شامہ اور باصرہ جیسے حواس کی کارکردگی اپنی جگہ مگریہ ایک تخلیق کار کے ہاں پہلے درجے کی معلومات فراہم کرنے والے ذرائع ہیں اور وہ جنہیں امام غزالی نے قوائے مدرکہ کہا ہے وہ اس کی عطا کے محتاج ہو اکرتے ہیں۔

معلومات کے ان ایک سے زائد سطحوں پر ذخیرے کے بڑے یا چھوٹے ہونے یا اس کے سادہ اور تہہ دار ہونے کا انحصار ہر تخلیق کار کے اپنے وجود کی مختلف سطوح کے تجربات پر ہوتا ہے۔ کہہ لیجئے کسی بھی فرد کے ہاں کسی خیال کی تشکیل میں کئی عوامل کام کر رہے ہوتے ہیں کچھ کا ذکر میں نے کر دیا ہے ان میں سماج کے تہذیبی اور ثقافتی ڈھانچے کو بھی ڈال لیجئے اور ملکی قوانین اور ان تعصبات کو بھی جو کسی قوم کے مزاج کا حصہ ہو جاتے ہیں۔

اور اب مجھے صاف صاف کہہ لینے دیجئے کہ ایک سچا تخلیق کار اپنے تخلیقی عمل میں خیالات سے کہیں زیادہ تخیل کا محتاج ہوتا ہے۔ اس کا تخیل جتنا زرخیز ہوگا اتنا ہی اس کا تخلیقی عمل کامیاب رہے گا۔ دیکھیے باتوں باتوں میں، میں نے خیال اور تخیل کو الگ کرکے دونوں کے درمیان ایک لکیر کھینچ دِی ہے۔ یہاں آپ معترض ہو سکتے ہیں کہ تخیل کی ترکیب بھی تو انہی اجزا سے ہے جو خیال کے اجزائے ترکیبی ہیں؟ آپ نے درست گرفت کی۔ تخیل ہو یا خیال، دونوں کے ہر حال میں اجزائے ترکیبی ایک سے ہیں۔ بس فرق ہے تو اتنا کہ جن اجزا سے ایک خیال متشکل ہو کر مربوط ہوتا ہے تخیل میں وہ اُدھڑتا اور بکھرتا ہے اور پھر سے ایک نئی صورت میں ڈھل جاتا ہے۔ اگر آپ نے گلی گلی پھرنے والے اس روئی دھننے والے کو دیکھا ہوا ہے تو آپ نے یہ بھی دیکھا ہوگا کہ دُھنیا استعمال شدہ لحاف میں لگ بھگ ایک تہہ کی صورت جم جانے والی روئی کو اپنے پینجے سے دُھنتا ہے تو وہ ریشہ ریشہ ہو کر بکھرتی ہے، اس سے میل نکلتی ہے، وہ خالص ہوتی ہے اور ایک نئی صورت میں بہم ہوجاتی ہے۔ نرم، پہلے سے زیادہ صاف، گداز اور زیادہ جگہ گھیرنے والی۔ خیالات بھی ایک خاص سماجی صورت حال میں استعمال شدہ لحاف کی جمی ہوئی روئی جیسے ہو جاتے ہیں۔ تخلیق کار انہیں دُھن دُھن کر ریشہ ریشہ کر دِیتا ہے، ایک جیسے استعمال کے سبب ان میں رچ بس جانے والی بوسیدگی کو جھاڑتا جھٹکتا ہے اور اس کا تخیل اسے نئی صورت میںبہم کر دیتا ہے۔

تخیل میں پہلی صورت تو اسی خیال کی ہے جو ایک لکھنے والے کے لیے اس مقام کا تعین کرتی ہے جہاں قدم جماکر اس کے تخیل کوجست لگانا ہوتی ہے۔ دیکھیے، لارنس جارج ڈوریل کے چار ناول جنگ کے زمانے میں اسکندریہ میں موجود ایک ایسے گروہ کی کہانی کو بنیاد کرتے ہیں جو کسی ایک واقعے میں اپنا اپنا تناظر ڈال کر اسے مختلف کر لیتے ہیں۔ جی یہ تخیل کی عطا ہی ہے جو ایک کہانی کو الگ تناظر فراہم کرکے سے مختلف کر دیا کرتی ہے۔ کہہ لیجئے تخیل کا پہلا علاقہ فکریات کی چہل پہل کا علاقہ ہے۔ یہاں نظریات کا ہنگامہ ہے، سائنسی حقیقتوں کا جبر ہے، سماج کی اخلاقی بندشیں ہیں، قوانین اور ضابطے ہیں اور وہ انسان ہے جو ان سب کے ساتھ سمجھوتے پر مجبور ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ زبان کی وہ سطحیں ہیں جن سے بوسیدگی کی دھول اڑ رہی ہوتی ہے۔ تخلیقی عمل کے دوران لکھنے والے کے ہاں قلب ماہیت ہوتی ہے۔ تخیل، جذبے سے بہم ہو کر سمجھوتے کی چادر کو تار تار کرتا ہے اور خیال اور حقیقت کے سارے اجزا کو ایک نئی ترکیب میں لاکراپنی اخلاقیات مرتب کرتا ہے۔ اس عمل میں زبان کی ساخت میں گنجائشیں پیدا ہوتی ہیں، معنی کی طرفین کھلتی ہیں جو متن کی جمالیات کا وسیلہ ہو کر تخلیقی عمل کو تکمیل دیتی ہیں۔ یہیں مجھے یہ اضافہ بھی کرنے دیجئے کہ زبان کی جمالیاتی قدر کے قیام کے بغیر ادبی قدر پیدا نہیں ہو سکتی۔ جی، جمالیاتی قدر، جو خیال سے کہیں زیادہ کمک ایک تخلیق کار کے ہرے بھرے تخیل سے پارہی ہوتی ہے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
موسمی آفتیں: ہم بجلی کیسے پیدا کرتے ہیں؟ (چوتھا باب) — بل گیٹس
next post
بیلنس — حسن غزالی کا افسانہ

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.