تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
صنف/ جینڈر

پاکستانی سماج اورعورت گھریلو ذمہ داریاں اور رشتوں کا بار — نجیبہ عارف

by ڈاکٹر نجیبہ عارف 02/03/2017
written by ڈاکٹر نجیبہ عارف 02/03/2017
139

(۲)

پاکستانی سماج میں عورت کے حقوق و فرائض کی فہرست نئے سرے سے مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ قدیم جنوب ایشیائی تمدن کے زیر اثرعورت کو بلا معاوضہ تمام گھریلو امور کی ذمہ داری سونپ دینا اور اسے  عورت کا مذہبی اور اخلاقی فریضہ قرار دینا؛ خاص طور پر عورت کو سسرالی کنبے کی غلامی اختیار کرنے پر مجبور کرناہمارے معاشرے میں باہمی انسانی رشتوں میں زہر بھر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کہیں بھی عورت پر یہ لازمی قرار نہیں دیتیں کہ شوہر اور اس کے پورے خاندان کی خدمت کرے ۔ اسلام میں تو عورت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ چاہے تو اپنے گھر کے، یعنی شوہر کا وہ گھر جس میں وہ خود، اس کا شوہر اور بچے رہتےہوں، تمام امور کی انجام دہی ،یہاں تک کہ بچے کو دودھ پلانے کا  بھی، معاوضہ طلب کر سکتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ  وہ حسن اخلاق اور مہربانی کے جذبے سے مغلوب ہو کر اپنے شوہر کی مالی حیثیت کا خیال رکھتے ہوئے ،برضا اس کے گھریلو امور سرانجام دیتی رہے۔ ایسی صورت میں  یہ اس کا حسنِ عمل شمار ہوگا اور بیوی کی حیثیت سے مستحسن اور افضل عمل قرار پائے گا لیکن اسی عمل میں اگر جبر و اکراہ کا عنصر شامل ہو جائے تو گھریلو زندگی ایک عذاب بن جانے کا اندیشہ ہے۔ بیوی کی مالی کفالت شوہر کی ذمہ داری ہے لیکن یہ کفالت صرف حقوقِ زوجیت کے صلے کے طور پر عورت کو حاصل ہوتی ہے۔ اس مالی کفالت کے بدلے عورت پر صرف یہ ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی اور کو اپنی خواب گاہ تک رسائی نہ دے۔ مگر ہمارے معاشرے میں بیویانہ فرائض کی مفصل فہرست دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے عورت نکاح کے دو بول اور مہر کے وعدے کے عوض ہمیشہ کے لیے شوہر کی زرخرید غلام بن  جاتی ہے۔

خدمت ہی نہیں، بلکہ شوہر کے دل میں اپنے لیے جذبۂ محبت کو قائم رکھنا بھی عورت ہی کا فریضہ سمجھا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر کی پسند کا رنگ پہنے، اس کی پسند کی وضع قطع اختیار کرے، اس کی پسند کے مطابق بول  چال اور اٹھنا بیٹھنا اختیار کرے تاکہ شوہر کا دل اس سے بھر نہ جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان کوئی بھی رشتہ ہو، اسے دیرپا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا  احترام کریں اور اگر ہو سکے تو ایثار سے کام لیتے ہوئے اپنی مرضی کو دوسرے کی مرضی پر قربان کر دیں۔ لیکن یہ عمل دو طرفہ بنیاد پر ہو تو دونوں کے لیے خوش گوار اور مسرت انگیز ہو سکتا ہے۔ اگر صرف ایک فریق کو جبراً اس کا پابند بنایا جائے اور دوسرا فریق اسے اپنا حق سمجھتے ہوئے اس کا تقاضا کرے تو یہ ایک سزا بن جاتا ہے۔ ہم اگر میاں بیوی کے درمیان موافقت اور ہم آہنگی بڑھانا چاہتے ہیں تو دونوں کو ایک دوسرے کی پسند ناپسند کا  احترام کرنے کا پابند ہونا چاہیے۔یا پھر دونوں کے دل میں اتنی وسعت ہوکہ دونوں ایک دوسرے کو بحیثیت آزاد فرد ارتقا پانے کے مواقع فراہم کر سکیں۔ مگر اس دوسری بات کے لیے غالباً ابھی ہمارے سماج کو طویل مدت تک انتظار کرنے پڑے گا۔

سسرالی کنبے سے تعاون، مہر و محبت اور ان کی عزت کرنا ایک خوش گوار دوطرفہ رشتے کو قائم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ جس طرح ہمسایوں کے حقوق ہیں، اسی طرح رشتے داروں کے بھی حقوق ہیں اور ان میں اپنے اور شوہر کے تمام رشتے دار شامل ہیں۔ لیکن  صرف عورت کو اس امر پر مجبور کرناکہ وہ ہر حال میں اپنے سسرال کی اطاعت اور خدمت کو اپنا شعار بنائے، اور مرد کا اپنے سسرالی رشتے داروں سے لا تعلقی پر اترانا،نہ صرف اسلامی تعلیمات بلکہ اخلاق و انسانیت  کے بھی  منافی ہے۔ مشترکہ خاندانی نظام میں بہت سی خوبیاں اور فائدے ہیں لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ یہ نظام دونوں فریقوں کے درمیان باہمی رضامندی اور دونوں کے مفادات کے تحفظ کی بنیاد پر قائم ہو۔ صرف ایک فریق پر اس نظام کو قائم رکھنے کا بوجھ ڈال دینا مناسب نہیں، خواہ وہ بہو ہو یا سسرال۔ مشترکہ خاندانی نظام کے فوائد و برکات حاصل کرنے کے لیے فریقین کو کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر متفق ہونا پڑتا ہے ورنہ یہ معاشرے کے لیے ایک ناسور بن سکتا ہے جس کی ایک انتہائی صورت ان دنوں ہمارے کم و بیش تمام ٹیلی ویژن چینل مسلسل اور بڑے اہتمام سے دکھا رہے ہیں ۔ والدین کی خدمت اولاد کے لیے سعادت کی بات ہے لیکن اس معاملے میں بھی ہمارے ہاں عجیب رویہ ہے۔ یعنی مرد کے ذمے اپنے والدین کی خدمت اور عورت کے ذمے شوہر کے والدین کی خدمت۔یہ طرز عمل اسلام اور انسانیت دونوں کے منافی ہے۔  مثالی رویہ تو یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں مل کر دونوں کے والدین کی دیکھ بھال میں شریک ہوں لیکن اگر ایسا نہ کر سکیں تو پھر عورت کو بھی اپنے والدین کی دیکھ بھال اور خدمت کا ویسا ہی موقع ملنا چاہیے، جیسا مرد کو ملتا ہے۔  البتہ اس کی قبیح ترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے اپنے والدین سے غافل ہو جائیں۔  

اس سلسلے کی پہلی تحریر کا لنکد

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ڈاکٹر نجیبہ عارف

Prof. Dr Najeeba Arif has been appointed as Chair person Academy of Lettres, Islamabad. She was Dean of the Faculty of Languages and Literature (FLL) at International Islamic University Islamabad (IIUI). Dr. Najeeba is a Professor at the Department of Urdu in International Islamic University, Islamabad and is the founder-editor of the Index of Urdu Journals. She is a creative writer, poet and critic. She has authored and edited thirteen books and published more than 50 research papers in national and international journals and volumes like Annual of Urdu Studies (US), The Journal of Indology and South Asian Studies (Germany) and the Encyclopedia of the World of Islam. Her collection of poetry Ma’āni se Ziyāda won the Oxford University Press Award for Urdu Literature, 2015. She has also published her short stories, travel narratives and memoirs. In research, her field of interest is socio-political study of South Asian literature, Sufism and its literary manifestations and Occidentalism. She studied the impact of 9/11 on Urdu fiction and poetry in 2010 and presented it in a conference at the University of Wisconsin, Madison. Her post-doc research at SOAS focused on the Study of travel narratives of the South Asian Muslims who visited Europe in the colonial period and compiled their views about the West. She discovered and edited a few rare manuscripts of the travelogues and biographies of South Asian Muslims, penned in the eighteenth and nineteenth century. She also studied and wrote about classical Punjabi Sufi poets including Bullhe Shah, Mian Muhammad Bakhsh, Ali Hayder Multani and Ghulam Rasul Alampuri. She has presented papers in several International and national conferences and seminars in and out of Pakistan. Translation is one of her recent passions and she has translated multiple writings from English to Urdu, including a voluminous book on Mysticism, Philosophy and Science. She edited the renowned research journals Meyār (2009-2010) and Bunyād, (2013-2016) in the past.

previous post
پنجاب کے عوام سے ایک شکوہ — ظہیر طریر
next post
پاکستان میں شناخت کا بحران: چند گذارشات، ایک نتیجہ — خالد بلغاری

Related Posts

خواتین اور پدر سری سماج : کچھ مثبت...

07/03/2024

لڑکیوں کی تعلیمی برتری اور Boy Crisis —–...

21/07/2023

طوائف کا ادارہ ———– قاسم یعقوب

08/03/2022

تانیثیت کے بنیادی مباحث اور ” ہوا سے...

02/02/2022

فیمنسٹ لکھاریوں کا اصل مقدمہ کیا ہونا چاہیے...

26/01/2022

کیا خواتین گھریلو کام کے معاوضے کی مستحق...

10/12/2021

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.