عفت ہر صبح ٹھٹھرتی سردی میں اٹھتی ہے اور پھر اپنے سات سالہ بیٹے کو نرم اور ممتا بھری آوازیں دیتے ہوئے اٹھاتی ہے۔ بچہ اپنے ہم عمر ہمجولیوں کے سے انداز میں کسمساتے ہوئے رضائی سے سر نکالتا ہے اور پھر دوبارہ سر اندر سِر کا لیتا ہے۔ عفت بالآخر چند منٹ کی محنت کے بعد اسے بستر سے اٹھانے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔
عفت بیٹے کو سکول جانے کے لیے تیار کرتی ہے اور پھر خود بھی تیار ہوتی ہے۔ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ناشتہ کرتی اور پھر رکشے والے کے آنے پر رکشے میں بیٹھ کر گھر سے چل دیتی ہے۔ پچھلے دو سال سے یہی اسکا معمول ہے۔
آج اسکی طبعیت ناساز ہے پھر بھی وہ ا ٹھی ہے۔ چار و ناچار معمول کے مراحل سے گزری ہے۔ اس وقت اکتاہٹ اور بے چینی کے سبب اسکے دل میں ایک خیال سا گزرتا ہے کہ کاش وہ زندہ ہی نہ ہوتی۔ یہ خیال آتے ہی اس نے جھرجھری لی ہے اور سر جھٹک دیا ہے۔ اپنے بیٹے کے ہوتے ہوئے وہ اس خیال کو اپنے دل میں ہرگز جگہ نہیں دے سکتی، چاہے اسکی زندگی کیسی ہی مشکل کیوں نہ ہو جائے۔
دو سال برس پہلے اس کا نوجوان شوہر چند دن کی بیماری کے بعد اچانک ناگہانی طور پر وفات پا گیا تو اسے یہ ملازمت جو اسنے شادی سے پہلے کچھ عرصے کے لیے کی تھی، دوبارہ کرنی پڑی تھی۔ ایک اچھی طالبہ ہونے کے سبب اسکے پاس ایک اچھی ڈگری تھی، مگر گھر سے باہر جاکر ملازمت کرنے کا اسکو کبھی شوق نہیں رہا تھا۔ شوہر کی آمدن اچھی تھی۔ اس نے شادی کے بعد سکون کا سانس لیا کہ اسے گھر سے باہر جاکر ملازمت کرنے کا جھنجھٹ نہیں پالنا پڑا۔ مگر شوہر کے فوت ہونے پر اسے وہ سب دوبارہ کرنا پڑ رہا تھا جو وہ نہیں کرنا چاہتی تھی۔
’’صبح سے شام تک کی ایک مشینی زندگی‘‘۔۔۔ اس نے تھکے تھکے افسردہ سے انداز میں سوچا اور بیٹے کے ساتھ رکشے میں بیٹھ کر چل دی۔
چند گلیاں گزرنے پر رکشہ ایک گھر کے سامنے سے گذرا توعفت نے سامنے بہت اونچے تختوں کا مچان (scaffolding) باندھے اوپر چڑھے مزدوروں کو دیکھا تھا۔ یہاں کچھ عرصے سے کوئی گھر تعمیر ہو رہا تھا اور وہ سب مزدور روز صبح صبح وہاں آ موجود ہوتے تھے۔ آج وہ تیسری منزل پہ کچھ بنا رہے تھے۔ وہ ان کو ایک لمحے کو دیکھتی ہے اور جُھرجھری لیتی ہے۔
’’اگر ان مزدوروں میں سے کوئی اس اونچائی سے گر جائے تو اسکا کیا بنے گا؟‘‘اس نے سوچا اور دل ہی دل میں کلمہ شکر ادا کیا تھا کہ وہ ایک عورت تھی اور ایک محفوظ جگہ پہ ملازمت کر رہی تھی۔ اس نے چند لمحے پہلے والی ان شکایتی سوچوں کو جھٹک دیا جو وہ اکثر اپنی قسمت اور کاتبِ تقدیر سے کرتی رہتی تھی۔
مگر اُن اونچے خطرناک تختوں پہ چڑھے وہ مزدور اپنا کام معمول کے مطابق بغیر کسی شکایت کے انجام دیتے چلے جاتے ہیں۔ اگر ان کے دل میں شکایت پیدا ہوتو بھی کوئی کیا کر سکتاہے؟ معاشرہ ان کے کام کو معمول کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنا یہ کام ہر حال میں جاری رکھیں۔
دنیا بھر میں لوگوں کے پیشوں کو مختلف درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ محض چند فیصد خوش قسمت لوگ ہی اعلیٰ اور پُرآسائش وائٹ کالر ملازمتیں کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ باقی کی اکثریت معمولی بلیو کالر اور نچلے درجے کی دیگر نوکریاں کرتے ہوئے عمر گزار دیتی ہے۔
گزشتہ صدی تک اچھی اور بری ہر طرح کی ملازمتوں سے منسلک زیاہ تر مرد ہی تھے۔ جدید صدی نے جہاں عورتوں کی زندگی میں بہت سے تبدیلیاں پیدا کی ہیں وہیں انہیں ملازمتوں کے مواقع بھی پہلے کی نسبت کہیں زیادہ فراہم کیے ہیں۔ آج دنیا بھرمیں بہت سی عورتیں شوق یا ضرورت کے تحت ملازمتیں کر رہی ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ملازمتوں کے حصول نے واقعی عورتوں کو مکمل طور پر آزاد اور خود مختار کر کے انکی زندگی کو آسان کر دیا ہے؟
ہمارے ہاں ہر سال دنیا بھر کے دیگر ممالک کی طرح مارچ کے مہینے میں عورتوں کا دن منایا جاتا ہے۔ اس دوران معاشرہ دو دھڑوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ایک طبقہ پدرسری معاشرے کو ہر برائی کی جڑ قرار دیتے ہوئے زمین و آسمان کے قلابے ملاتا ہے جبکہ دوسرا خواتین کی کسی بھی طرح کی آزادیوں کے سخت مخالف ہے۔ خواتین کے حقوق کی بابت کوئی بھی بات ان کے نزدیک بے حیائی کے زمرے میں آتی ہے۔
ان دونوں طبقات اور انکے تعصبات سے قطع نظر اگر انسان کی ارتقائی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو صورتحال ذرا مختلف ہے۔
بہت ابتدائی زمانے کے انسان نے شکار کر کے اپنا رزق حاصل کرتے ہوئے جب تھوڑی ترقی کی اور ابتدائی معاشرے کا قیام عمل میں آیا تو خاندان کا یونٹ تشکیل پایا۔ تہذیبی عمل سرکتے ہوئے آگے بڑھا۔ عورت اور مرد کے درمیان پہلا عمرانی معاہدہ social contract طے پایا۔ اسکے مطابق عورت کو اسکی حیاتیاتی ناتوانی اور جسمانی ساخت کے سبب گھر سے متعلق کاموں سے منسلک کیا گیا تھا۔ عورت بچہ پیدا کرتی اور اسکی دیکھ بھال کرتی تھی۔ اسوقت کے حالات کی سختیوں کے سبب اپنی نسل بڑھانے کے لیے بچے کو چھوٹے سے بڑا کرنے میں بہت سی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ بہت سے پیدا ہونے والے بچوں میں محض چند ہی شیر خوارگی کی عمر سے آگے بڑھنے میں کامیاب ہو پاتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ عورت کے لیے بچے پر توجہ دینا بہت اہمیت کا حامل تھا۔ ایسے میں ہم دیکھتے ہیں کہ عورت گھر کا انتظام سنبھالتی ہے اور مرد باہر کی ذمہ داریاں اپنے سر لے لیتا ہے۔ عورت اور بچہ نسبتاََ محفوظ حالات میں رہتے ہیں اور مرد موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے اپنی عورت اوراپنے بچے کے لیے شکار یا رزق کا دیگر سامان گھر لاتا ہے۔ وہ گرمی اور سردی کی شدتوں اور مخالف قبائل سے لڑائی کے دوران اپنی جان جوکھوں میں ڈال دیتا ہے۔
یووال حراری نے اپنی کتاب میں ایک جگہ لکھا ہے کہ :
’’انسان کی ارتقائی تاریخ کے مطابق ابتدائی تہذیب کے تشکیل پانے کے دوران تقریباََ تمام معاشرے ہی پدرسری بن چکے تھے۔ اگرچہ مختلف برّاعظموں اور دور دراز کے معاشروں کے درمیان زمینی رابطے نہ ہونے کے برابر تھے مگر پھر بھی یہ تمام کے تمام معاشرے پدرسری ہی تھے۔ ‘‘
اسکا تنہا سبب یقینی طور پر عورت کی حیاتیاتی ساخت ہے۔ جدید دور کے متعصب پراپیگنڈا کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے تو اس حقیقت سے مفُر نہیں کہ مرد اور عورت دونوں مختلف طرح کی جسمانی ساخت رکھتے ہیں۔ عورت جسمانی مشقت کے کام اسطرح سے نہیں کر پاتی جس طرح سے ایک مرد کرسکتا ہے۔ اسی طرح مرد بھی اپنی حیاتیاتی ساخت کے سبب بچے کو جنم دینے والے تخلیقی عمل سے نہیں گزر سکتا۔ اگرچہ جدید سائنسی intervention کے تحت نئے سے نئے عجوبے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ایسے میں اگر مرد بچے کو جنم دینا شروع کردے تو شاید معاشرہ ابتدائی حیرت کے بعد اسے بھی قبول کر لے گا مگر اس سب کے باوجود انسانی تاریخ کو صرف جدید سائینس کے کمالات کے تحت جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ تمام معلوم انسانی تاریخ میں فطرت نے تخلیقی عمل کے لیے عورت کو ہی چنا ہے اور وہی خدا کی تخلیقی صفت کی امین رہی ہے۔
اگر بلا تعصب دیکھا جائے تو پدرسری معاشرے کے صرف منفی پہلو ہی نظر نہیں آئیں گے بلکہ عورت اور بچوں کی حفاظت کے لیے ابتدائی انسانی تاریخ سے غالباََ یہی طریقہ کار زیادہ قابلِ عمل تھا۔ مختلف معاشروں، تہذیبوں، ثقافتوں اور مذاہب نے خاندان کی حفاظت کا یہ بندوبست مسلسل کیے رکھا۔ مرد کو قطع نظر موسموں کے تغیرات، قبائلی تنازعات اور جنگ و امن کی حالتوں کے اس بات کا پابند کیے رکھا کہ وہ گھر چلانے کے لیے معاشی بندوبست کرتا رہے اورمشقت والی ذمہ داریاں اپنے سر لیتا رہے۔
جنگوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ کثرت سے مرد مارے جاتے تھے۔ باہر کے سخت معاش میں، برّی و بحری سفر کے دوران، صحرائی طوفانوں، برفانی پہاڑوں اور ہر طرح کے دیگر سخت حالات میں مرد نے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں اور اپنے خاندان کو موسموں، مخالف قبائل اور دیگر مردوں سے حفاظت کے لیے ہر ممکن تدابیر اختیار کیں۔ چند استثنات ہرجگہ موجود رہتی ہیں اور اس عمل بھی دیکھی جاسکتی ہیں مگران چند مثالوں کو اکثریت کے عمل پہ محمول نہیں کیا جا سکتا۔
بقول نظریہ ارتقاء کے حامیوں کے انسان نے اپنے ارتقائی عمل کے دوران زمین پر جانوروں کی مختلف اقسام کو تباہ کرکے انہیں صفحہ ہستی سے مکمل طور پر مٹا دیا لیکن اپنی نسل کی بقا کا بندوبست کرتا رہا۔ یہی سبب ہے کہ تمام انسانی تاریخ میں مرد اور عورت ہمیشہ ہی تقریباََ برابر تعداد میں پیدا ہوتے رہے۔ غالباََ خدائی اسکیم کے تحت بھی تسلسلِ نسلِ انسانی کے لیے یہی طریقہ کار زیادہ کارآمد تھا جس میں مرد اور عورت کو مختلف کردار سونپے گئے تھے۔
اگر پدرسری معاشرہ واقعتاََ انتہائی ظالمانہ تھا تو عورت بھی دیگر کمزور و ناتواں مخلوقات کی طرح اس زمین سے معدوم ہو جاتی اور یوں انسانی نسل سِرے سے ہی ختم ہو جاتی، مگر دونوں کے باہمی تعاون نے ایک دوسرے کی حفاظت کی۔ مرد جانتا ہے کہ وہ اور عورت دونوں ایک دوسرے کے بغیر زندگی قائم نہیں رکھ سکتے۔
یوں صدیوں تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔ ابتدائی سادہ معاشرہ پیچیدہ تہذیبوں میں ڈھلتا گیا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ وقت کے ساتھ ساتھ دیگر مسائل تو سر اٹھاتے رہے مگر مرد اور عورت کی باہمی مخاصمت کا مسئلہ ہمیں کبھی بھی معروف معنوں میں انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتا۔ ایک قوم، قبیلے، مذہب اور معاشرے کے لوگ دوسرے قوم، قبیلے، مذہب اور معاشرے کے افراد سے توحالتِ جنگ میں اکثر نظر آتے ہیں مگر مرد کی جنس اور عورت کی جنس کا نمایاں جھگڑا ہمیں کہیں دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہ مخالفت اسی صدی کا نمایاں شاخسانہ ہے۔
اب اگرچہ یہ بات تو مانی جا سکتی ہے کہ یہ مخالفت حالیہ زمانے کی ہی پیداوار ہے مگراس مخالفت کے تمام کے تمام محرکات فریبی یا غیر حقیقی نہیں ہیں۔
جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ پدرسری روایتی نظام نے تسلسلِ نسلِ انسا نی کی حفاظت کے لیے بہت سے ضوابط بنائے اور اقدامات کیے وہیں عورتوں کو وقت کے ساتھ ساتھ ذاتی ملکیت سمجھ لینے جیسے تصورات نے بھی جنم لیا۔ خصوصاََ کم عمری اور نوجوانی کے ایام تک عورت کی حیثیت کچھ معاشروں میں ایک ذاتی ملکیت کی سی ہی ہے۔ البتہ عمر گزرنے کے ساتھ عورت کا یہی کردار ہمارے اردگرد کے کچھ معاشروں میں ایک بہت مضبوط (Matriarch) کے کردار میں بھی ڈھلتا نظر آتا ہے۔ یہی عورت ہمیشہ مظلوم نہیں بلکہ اکثر ظالم ہونے کا کردار بھی بخوبی نبھاتی ہے۔
مگر پدرسری معاشرے کا سب سے منفی پہلو عورت کو علمی اور عقلی مباحث اور معاملات سے بالکل خارج کر دینا تھا۔ جب ہی بنظرِ غائر دیکھنے پر بھی بڑی تمام تہذیبوں میں چند استثنات کے علاوہ عورت کا مقام ان معاملے میں کہیں بھی نمایاں طور پر نظر نہیں آتا۔ پرانے دانشوروں، حکیموں اور فلسفیوں میں سے، جن کی تعلیمات نے بعد کی بہت سی تہذیبوں پہ نمایاں اثرات مرتب کیے، کوئی بھی قابلِ ذکر انسان ایسا نظر نہیں آئے گا جس کی رائے عورت کے متعلق غیر معتصبانہ، منصفانہ یا مثبت ہو۔
آج اگرچہ مغرب میں عورت کی آزادی کا بڑا زوردار نعرہ گونجتا نظر آتا ہے مگر اسکی تہہ میں جائیں تو یہ آزادی کا نعرہ بھی محض فریبِ نظر ہی ہے۔ گھروں سے باہر جاکر صبح سے شام تک ملازمتیں کرنا اور شام کو گھر آکر کاموں کے تقسیم کرنے کے عمل سے یہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ عورت کو کامل آزادی مل گئی ہے یا اسے تمام حقوق حاصل ہو گئے ہیں۔ اسی طرح بعض معاشروں میں عورت کو بالکل ایک object بنا دیا گیا ہے اور اسکی ساری اہمیت اسکے جسم سے منسلک کر دی گئی ہے، جتنی زیادہ عورت بے لباس ہے اتنی ہی آزاد تصور کی جاتی ہے۔ یہ سمجھنا دشوار ہے کہ بڑے بڑے کارپوریٹ دفتروں کے استقبالیہ پر نک سک سے تیار عورت یا ٹیلی ویژن میں کھاد کے اشتہار میں کسان کے ساتھ ناچتی عورت کیا واقعی ایک عام عورت سے بہت بہتر زندگی گزارنے میں کامیاب ہو گئی ہے؟
ان سوالوں کے جواب فی الحال کسی بھی انسان کو تذبذب میں مبتلا کر دینے کے لے کافی ہیں۔
ہمارے اردگرد بھی ایک وہ طبقہ پیدا ہو رہا ہے جس کا مطمع نظر عورت کی آزادی کی آڑ میں اسے بالکل جنسی symbol بنا دینا ہے۔ دوسرا وہ طبقہ ہے، خصوصاََ ہمارا مذہبی طبقہ، جسکے نزدیک عورت کی رائے آج بھی بالکل غیر اہم اور بیکار ہے۔ انکے نزدیک عورت محض ایک فتنہ ہے یا ان لوگوں کے ذومعنی لطیفوں کا موضوع جن سے حظ اٹھانا کوئی بھی باریش و با جبہ فرد اپنا حق سمجھتا ہے۔
ان سب کے بیچ کا راستہ ابھی دھندلا ہی ہے۔
عورت جو خدا کے جمالی اسماء کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ نرمی، رحم دلی اور خوبصورتی جیسی صفات کا اظہار کرتی، خدا کی صفتِ تخلیق کی دنیا میں سب سے بڑی امین، اسے محض شاپنگ سنٹروں، میک اپ کے انبار اور برینڈڈ کپڑوں کی ملائمت میں گم کر دینا آج کے جدید زمانے کا تحفہ ہے۔ اس ترقی یافتہ زندگی نے جہاں لوگوں کو بہت سی سہولیات مہیا کی ہیں وہیں خواتین کے کاموں کو بھی بہت سی مشینوں نے آسان کر دیا ہے۔ نئی تعلیم اور ترقی نے اگرچہ عورت کو بہت بدل دیا ہے مگر فراغت کے بہت سے مواقع میسّر آجانے کے باوجو بھی ان کی نگاہ میں وسعت نظر نہیں آتی۔ انکی دلچسپیاں اب بھی زیادہ سطحی ہی ہیں۔ اسمیں بہت حد تک قصور اس سماج کا ہی ہے جس نے متواتر کئی صدیوں تک خواتین کومحض چند چیزوں تک محدود رکھا اور انہیں کسی بھی طرح کے عقلی، تعمیری یا انسانی بہبود کے کاموں میں شامل کرنے سے گریز برتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عورت نے اپنی حیثیت ایک صنف کے طور پر تو قبول کی اور اسے خوب نمایاں بھی کیا مگر اپنی حیثیت بطور انسان شناخت کرنا اور اس سے باخبر ہونا اسکے لیے بہت دشوار رہا ہے۔
بیسویں صدی کے معروف برطانوی فلسفی برٹرینڈ رسل نے اپنی کتاب ’’غیر معروف مضامین‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ
’’مردوں کی اجارہ داری نے بہت سے منفی اثرات مرتب کیے۔ اس نے انسانی رشتوں میں سب سے قریبی رشتہ، شادی کا، اسے بجائے برابر کے ساتھیوں ( equal partners ( کے رشتے کے، آقا اور غلام کے رشتے میں بدل دیا۔ عورتوں کو بالکل الگ کر دینے سے اس نے عزّت دار خواتین کو بالکل غیر دلچسپ بنا دیا۔ اور ان معزز خواتین کے بوریت آمیز ہونے کی وجہ سے وہ خواتین دلچسپی کا باعث بن گئیں جو مہم جو (adventurous) تھیں یا جنہیں سماجی طور پر دیس نکالا دیا گیا ہو۔ ( یعنی مردوں کا رحجان غلط شہرت رکھنے والی خواتین کی طرف بڑھ گیا)۔ ــان عزت دار خواتین کے غبی اور سادہ لوح ہونے کی وجہ سے ہر سماج کے سب سے معزز (civilised) آدمی ہم جنس پرست بن گئے۔‘‘
مغرب میں چونکہ پچھلی صدی تک ہر چیز کو بہ نگاہِ جنس دیکھنے کی عادت راسخ ہو چکی تھی اسی لیے گمان ہے کہَ رسل کو ہم جنس پرستی کی طرف کچھ مبالغہ آمیز اشارہ کرنا پڑا۔ اور غالباَ ایسے ہی دانشوروں کی آراء سے متاثر ہو کر مغرب نے اپنی غیر دلچسپ خواتین کو دلچسپ بنانے کے لیے جو اقدامات کیے ان سے آج کا کوئی بھی انسان نا شناسا نہیں رہا۔
لیکن چند باتوں کے علاوہ رسل کی رائے کو بالکل لغو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مگر اس سب کے باوجود ہم یقینی طور پر اپنے معاشرے کو اس رنگ میں نہیں رنگنا چاہیں گے جسمیں مغرب نے اپنے آپ کو غرق کر لیا ہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ بعض معاشرتی عادات صدیوں کا سفر کرتے کرتے ثقافت کا حصہ بن جاتی ہیں اور انکو ازلی اور ابدی سمجھ لیا جاتا ہے اور یوں انہیں بدلنا براتصور کیا جاتا ہے۔ اسکی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارے ہاں غیرت کا سارا تصور عورت کے اردگرد گھومتا ہے۔ ’’اچھی یابری عورت‘‘ کی اصطلاح سے ہمارے معاشرے کا تقریباََ ہر فرد آگاہ ہے اور اسکو کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے مگر ’’اچھا یا برا ـ مرد‘‘ جیسے الفاظ خال خال سننے کو ملتے ہیں، مرد عموماََ مرد ہوتا ہے، قطع نظر اپنی اچھائی یا برائی کے۔ اسی طرح مغرب بھی آج ایک کلچر بنا رہا ہے جہاں عورت کو اسکے جسم تک محدود کر دینا وہاں کی جدید تہذیب کا مطمع ِ نظر ہے۔ جب یہ بھی ایک مکمل کلچر بن جائے گا تو اس پر بھی سوال کرنا جرم تصور کیا جائے گا۔
آج اگر عفت جیسی خواتین جو گھر وںسے باہر نکل کر کام کرنے پر مجبور ہیں یا وہ مزدور جو اپنے کام کے سبب اپنی جان جوکھوں میں ڈالتا ہے اور اپنے کنبے کی معاش کا بندوبست کرتا ہے، یہ دونوں ہی مجبور ہیں۔ اگر ان دونوں کو مواقع میسر آجائیں تو وہ یقیناََ اپنی زندگی کو آسان بنادینے والے کام کو ہی ترجیح دیں گے۔ اسی طرح فیکٹریوں یا دیگر اداروں میں سخت اور طویل اوقات تک پُرمشقت کام کرنے والی خواتین کے لیے عورت کی آزادی کا جدید نعرہ کچھ زیادہ دلکش نہیں۔ اگرنہیں موقع ملے تو یقینی طور پر وہ یہ کام کرنے کی خواہش مند ہر گز نہ ہوں گی۔ سماج جب تک اپنے معاشی اور معاشرتی ہرلحاظ سے کمزور اور ناتواں افراد کے لیے اقدامات نہیں کرے گا، مغرب سے درآمد شدہ کوئی بھی نعرہ ہمارے لیے زیادہ منافع بخش نہیں ہو گا۔
مرد کی روایتی برتری کا تصور جس طرح تیزی سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں مٹ رہا ہے اسکے اثرات دنیا کے تمام معاشروں پر مرتب ہو رہے ہیں، ایسے میں ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنی تہذیبی روایات کو کس طرح اس مغربی تصور کی مکمل یورش سے محفوظ کر پائیں گے۔ اس سے بظاہر نمٹنا اتنا آاسان نظر نہیں آتا لیکن غالباََ اسکا حل یہی ہے کہ مرد اور عورت کی مخاصمت اور مسابقت کے جدید بیانیے کو متوازن انداز سے دیکھا جائے۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ عورت کو صدیوں تک جبر و استحصال کا سامنا کرنا پڑا، اس پر بہت سے مظالم ڈھائے گئے لیکن اس بیانیے کو غیر ضروری طورر پر اپنے تعصب کے لیے استعمال کرنا بھی غیر منصفانہ ہے۔ دوسری طرف بدلتے حالات کے مطابق مفاہمت والا درمیانی راستہ نکالنا ہمارے معاشرے کے سنجیدہ اور صاحبِ تدبیر افراد کی ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہو گا کہ ہماری تہذیب میں مرد اور عورت قطع نظر اپنی جنس کے تعلق باللہ سے پہچانے جاتے ہیں۔ کوئی مرد یا عورت اپنی صنف کی بنیاد پہ برتر یا کمتر نہیں بلکہ وہ اس لیے ممتاز ہے کہ وہ اس تعلق کو کامل بنانے میں کس حد تک کامیاب ٹھہرا۔
یہ بھی پڑھیں: پدر سری نظام : فیمنزم کا فرضی دشمن
