تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیصنف/ جینڈرکالم

طوائف کا ادارہ ———– قاسم یعقوب

by قاسم یعقوب 08/03/2022
written by قاسم یعقوب 08/03/2022
402

پچھلی ایک ڈیڑھ صدی میں جہاں فکری حوالے سے بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئیں، اسی طرح ثقافت اور کلچر نے بھی اپنی بہت سی جگہوں کو خالی کیا یا پہلے سے موجود رسمات کو تبدیل کر لیا۔ نئی سماجیات نے پہلی والی سماجیات کو رد کر دیا یا اُن میں اضافہ کر دیا۔ یہ سب اچانک نہیں ہُوا اور نہ ہی یہ کسی فطری منصوبہ سازی کا نتیجہ تھا ایک ثقافت جب کسی دوسری ثقافت کو اپنے اندر (چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی) دخل اندازی کرنے دے تو پہلی والی ثقافت یا سماجی عمل کاری میں رد و بدل واقع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ تبدیلی فکری سطح پر ہموار ہوتی ہے، پھر ایک عرصےبعد عملی سطح پر اپنا راستہ تراشنے لگتی ہے۔

طوائف کا سماجی ادارے ہمارے معاشرے میں کلاسیکی کینن کا درجہ رکھتا تھا۔ اس پیشے سے چار بڑی رسمیں منسلک تھیں؛ پہلی رقص، دوسری گانا بجانا یعنی گائیکی، تیسری جسم فروشی اور چوتھی رسم تہذیب کا وہ ایک حوالہ بھی اسی پیشے کے سپرد تھا جسے معیاری انسان سازی کا درجہ دیا گیا تھا۔ عورت صرف اپنے جسم کو فروخت نہیں کرتی تھی بلکہ فنون کے نازک مراحل پر بھی عبور رکھتی تھی۔ عموماً ایسی عورتیں جو فنونِ لطیفہ پر دسترس نہیں رکھتی تھیں وہ طوائف کلچر میں جگہ نہیں پا سکتیں تھیں۔ اعلیٰ گائیک جسم فروشی میں بھی اعلیٰ مقام رکھتی اور اسے تہذیبی امور کا ادراک بھی بہتر ہوتا۔ یہ کلچر کوئی زیادہ دور کی بات نہیں، آپ امراؤ جان ادا والی طوائف ہی کو دیکھ لیں۔ جسم فروشی اُس کا مرکزی پیشہ نہیں ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ سماجی سطح پر تبدلیاں وقوع پذیر ہوئیں تو عورت سے منسلک’’ طوائفی‘‘ مشاغل میں بھی تبدیلیاں واقع ہونا شروع ہو گئیں۔

طوائف کا مرکزی اور واحد پیشہ صرف جسم فروشی قرار دے دیا گیا۔ سماجی تبدیلی نے طوائف سے وابستہ گائیکی، رقص اور تہذیب کے ادارے الگ کر دیے۔ اب گلوکاراؤں اور رقاصاؤں کا جسم فروش ہونا معیوب سمجھا جانے لگا اور آرٹ کو ایک الگ مقام دیا جانے لگا۔ یہ تبدیلی ایک دم پوری کی پوری نہیں آئی۔ منٹو کے عہد تک طوائف سے یہ ادارے تقریباً چھن چکے تھے۔ ایسا بھی نہیں کہ مکمل طور پر جسم فروشی سے الگ کر دیے گئے مگر گلوکارائیں الگ سے معاشرے میں مقام بنانے لگیں۔ شاید آج بھی ہمارے ہاں عورت کے ساتھ گانا گانے کا تصور ایک طوائف کے طور پر جڑا ہُوا ہے۔ ہم چوں کہ تاریخ میں زندہ ہوتے ہیں، اس لیے تاریخ کے بیانیوں کو ایک دَم رَد نہیں کر سکتے۔ منٹو، عصمت کی طوائف یا آنندی والی طوائف میں صرف یہی ایک تبدیلی آئی کہ وہ گانے بجانے سے الگ ہو گئی، باقی رسمات اُسی طرح قائم رہیں، البتہ مرکزی پیشہ جسم فروشی بن گیا۔ اس دور کی طوائف عورت اسی طرح ریڈ لائٹ ایریاز میں رہتی، کوٹھا کلچر اور دلالی کے وہی انداز اس دور میں بھی موجود رہے۔ گاہک کا تصور بھی اسی طرح جڑا رہا۔ یہ دور خاصا لمبا ہے کوئی اسّی کی دہائی تک اس طوائف کلچر میں جان رہی، البتہ اس میں سکڑاؤ آتا گیا۔ ریڈ لائٹ ایریا کم ہوتے گئے، گھروں اور مخصوص مقامات پہ ’’دھندا‘‘ ہونے لگا۔ طوائف کے مخصوص روپ میں بھی تبدیلی رہی۔ طوائف اب معاشرے میں اپنا حصہ مانگنے لگی۔ فلم کلچر کی طرف راغب ہوئی۔ سکرین انڈسٹری میں ایک بڑی تعداد ایسی عورتوں کی نظر آتی ہے جو اس دور میں ط طوائف کلچر سے نمو پاتی ہوئی فنکارانہ مہارت کی طرف راغب ہو گئیں۔

طوائف کلچر میں جنس فروشی کا یہ دھندا ایک گھٹیا اور توہین آمیز رویہ رکھتا تھا۔ یعنی مخصوص قسم کے لوگ جو عموماً طاقت، خوف اور جبر کے نمائندے ہوتے طوائف تک رسائی کو اپنا حق سمجھتے یا سمجھے جاتے۔ عام آدمی کا طوائف کلچر میں جنسی آسودگی ایک واقعہ ہوتا۔ عام آدمی نے اس کلچر سے فاصلہ کرنے کے علاوہ اس کو ’’عیاشی، دلالی، بے غیرتی اور بے حیائی ‘‘ کے الفاظ دے رکھے تھے۔ طوائفوں اور ان سے منسلک افراد کو "کنجر، دلّے اورچدائی‘‘ جیسے اَلقابات دئیے۔ جو سماجی سطح پر ایک گالی بن گئے۔

طوائف۔۔۔ مریم مجید -مکالمہنوے کی دہائی میں طوائف کلچر میں بے پناہ تبدیلیاں آئیں۔ (سائیڈ اور سوشل) میڈیا، تعلیم (مخلوط تعلیم) اور سماجی رابطوں کی تیزی نے طوائف کے مخصوص ادارے کو تقریباً ختم کر دیا۔ نوّے کی دہائی میں اس کے خاتمے کا آغاز ہُوا۔ اکیسویں صدی نے اپنے نئے کلچر کا اعلان کیا۔ جسم فروشی مخصوص افراد تک محدود عمل نہیں رہا۔ عورت کا یوں ریڈ لائٹ ایریا تک محدود رہنا بھی اختتام پذیر ہوا۔ اصل میں یہ سارا عمل جنسی آسودگی کے نئے ذرائع کھلنے سے ہُوا۔ لڑکی اور لڑکا نئے معاشرے میں ایک دوسرے کے قریب آئے۔ "نیلی” فلموں نے اس سلسلے میں ایک حیران کن تبدیلی کا آغاز کیا۔ جنس کو ایک ممنوعہ چیز سے نکال باہر کیا۔ جنسی لذت اور تلذذ کے اوپر جمے ہوءے ٹیبو کے خوف کو ہٹا دیا۔ طوائف کلچر ایک رویہ کے طور پر سامنے آیا۔ یعنی ایسا انسانی رویہ جس میں جنسی اختلاط کو جائز اور آزاد سمجھا جاءے۔ اکیسویں صدی میں آتے ہی طوائف کلچر ایک ادارے کے طور پر تقریباً ختم ہو گیا۔ جنسیت نے اب نئی راہیں تراش لی ہیں۔ طوائف کو یہ ادراک ہُوا کہ وہ بھی سماج کا حصہ ہے اور سماج میں رہتے ہوءے جنس فروشی کے ساتھ اس سے اپنا مقام بھی چھین سکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ طوائف بازی نے اب اچھی اچھی عورتوں پر حملہ کیا ہے اور وہ آفس، بازار، گھر اور اچھے سے اچھے عہدے پر کام بھی کر رہی ہے۔ اپنی قیمت اور اپنی خواہش سے جسم فروشی کرتی ہیں اور جنسی آسودگی کی تسکین صرف دینے پر ہی نہیں بلکہ لینے پر بھی قادر ہو گئی ہے۔

سماجی اداروں میں عورت اور مرد کے یکساں فراہمی نے اس ٹیبو کو توڑ دیا ہے۔ ’’طوائف بازی‘‘ کے ساتھ جڑے ہر غلیظ تصور کو اتار پھینکا ہے اور خالصتاً سماجی اور فطری روپ میں پیش کیاہے۔ جنسی آسودگی اب تقریباً ہر فرد کے ہاں یکساں قدرت اورتصور رکھتی ہے۔ جنسیت میں ملوث افراد کو اب ’’بے حیا‘‘ تو کہا جاتا ہے مگر ’’عیاش، دلال، کنجر‘‘ جیسی اصطلاحات کا استعمال نہیں کیا جاتا۔

نیلی فلموں کی دنیا نے ہر ذہن کی تشفی کے لیے ایک جنت کا کام کیا ہے۔ جس میں ایک پرندے کی طرح رنگین محلات پر اُڑتے جانا اور اپنی خواہش پر کسی بھی محل میں اتر جانا شامل ہے۔ دسترس کے تناظر میں جنس کو ارضی اور مقامی چیز بنا دیا گیا ہے۔ سیکس ورکز (میل، فی میل) اب معاشرے میں اعلیٰ مقام رکھتے ہیں۔ بلکہ مغرب میں اعلیٰ سول ایوارڈ بھی سیکس ورکرز کو دیے جاتے ہیں۔ سیکس ورکزز بہت اچھی جاب کرتے ملتے ہیں اور کئی تو فلم سٹارز بھی ہیں۔ (ہندوستانی فلم سکرین پر بھی ایسے فن کار نظر آءے ہیں جو سیکس ورکر بھی ہیں اور اعلیٰ فلم سٹار بھی)۔ اُن کا تعارفی ڈیٹا لوگ شوق سے حاصل کرتے ہیں اور اُن سے ملاقات ایک غلیظ تصور سے ہٹ کے ایک خوش گوار موقع تصور کی جاتی ہے۔ بالکل ایک سلیبرٹی کی طرح۔

پاکستانی سماج کے برعکس اُردو کی ادبی دنیا ابھی تک طوائف کو امراؤ جان ادا سے آگے لانے میں ناکام ہے اور اسی انداز کی تشریحات سے کام لے رہی ہے۔ منٹو کی طوائف بھی اب کہیں موجود نہیں۔ غلام عباس کی کہانی ’’آنندی‘‘ ۱۹۳۵ کی کہانی ہے جو طوائف پیشے کو مرکزی پیشہ دکھاتی ہے بلکہ پورا شہر اس کے گرد بنا دیتی ہے۔ مگر آج کی عورت اور مرد نے اس پیشے کو جسم کا فطری روپ دے کے اس کے ساتھ لگے سب لاحقے سابقے ختم کردیے ہیں۔ آج اگر منٹو ہوتا تو اس کی طوائف کی کالی شلوار کوئی نہ لیتا، نہ اسے اس کی ضرورت پیش آتی بلکہ کسی سماجی ویب سائٹ پہ اپنا اکاؤنٹ کھول کے جنسی قدر دانوں میں ” برانڈ” کے نام سے بیچ رہی ہوتی۔

Facebook Comments Box
ProstitutionTawaifبازار حسنبے حیائیتعلیمی اداروں میں فحاشیطوائففحاشیہیرا منڈی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
قاسم یعقوب

previous post
واپس نہ جا وہاں —— عزیز ابن الحسن
next post
’’الرسالہ کے خصوصی شمارہ ‘‘کے مطالعے کے بعد مولانا وحیدالدین خان کی فکر کا جائزہ۔ ۔۔ غازی سہیل خان

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.