تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیسیاسیکالم

کالا باغ ڈیم: چھوٹے صوبوں کے خدشات — عثمان قاضی

by دانش ڈیسک 10/09/2017
written by دانش ڈیسک 10/09/2017
108

کالا باغ ڈیم کے دیرینہ مسئلہ کے بہت سے پہلو اجاگر کرتی ہے، بالخصوص چھوٹے صوبوں کے نکتہء نظر سے، زیر نظر تحریر اس مسئلہ کی تفہیم کی جانب ایک قدم ہے۔ دانش کا پلیٹ فارم اس حوالے سے دیگر نقطہ ہائے نظر کی اشاعت کے لئے حاضر ہے۔


کالا باغ ڈیم کم و بیش تیس سال سے پاکستانیوں کی توجہ کا مرکز بننے والے مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ سوشل میڈیا سے پہلے اس مسئلے کو قومی سطح پر موضوع گفتگو کم ہی بنایا گیا اس بناء پر زیادہ تر ایک ہی طرف کا نکتہ نظر حاوی رہا۔ علاقائی سیاستدانوں نے مجوزہ مسئلے سے عوام کو تکنیکی طور پر آگاہ نہیں رکھا یے صرف سیاسی لحاظ سے ہی تین صوبوں کی عوام کا استعمال ہوا، نتیجہ یہ رہا کہ نہ اب تک کالا باغ ڈیم بن پایا نہ ہی چھوٹے ڈیمز کے حق میں چھوٹے صوبوں کو قائل کیا جا سکا ہے۔ مزید برآں اس گزرتے وقت میں توانائی کے متبادل ذرائع پر کوئی مثبت پیش رفت کی تجویز تک پیش نہیں کی جا سکی ہے۔
اسی حساس موضوع پر فیس بک کے ایک فورم میں جناب عثمان قاضی صاحب سے ہونے والے چند سوالات کو مضمون کی شکل میں آپ کے سامنے لایا جا رہا ہے، اس امید کے ساتھ کہ نیک دلی سے چھوٹے صوبوں کے اشکالات کو سمجھا جائے گا۔

کالا باغ ڈیم اور صوبہ سندھ کے اشکالات:

ادھوری معلومات اور فرسودہ ٹیکنالوجی کا بیان، کالا باغ سے سندھ کو “زیادہ” فائدے کا سبز باغ آج تک دکھایا جاتا رہا ہے، جب کہ سندھ تو اب تک تربیلا ڈیم کے “زیادہ” فوائد ہی سمیٹ نہیں پایا ہے۔ مقدور ہو تو ٹھٹھہ سے کیٹی بندر تک سوکھے طاس میں اڑتی خاک اور تھور کا مشاہدہ کیجیے اور ان “زیادہ” فوائد پر عش عش کیجیے کہ جہاں پہلے دخانی جہاز چلا کرتے تھے، آج صحرا کے جہاز کا چارہ تک دستیاب نہیں، اور یہ صرف اس لئے ہوا کہ تربیلا نے ٹھٹھہ کا پانی اس زمین کے لئے زہر بنا دیا۔ـ

اکثر سوال کیا جاتا ہے کہ بڑے ڈیم کیسے نقصان دہ ہیں؟ کیونکہ جو پانی سیلاب میں ضائع ہوجاتا ہے وہی اگر ڈیم کی شکل میں محفوظ ہو جائے اور پھر بعد میں تسلسل سے دریا میں گرتا رہے تو صوبہ سندھ سیلاب سے بھی بچ جائے گا اور آبپاشی کے لئے پانی بھی ملے گا، وہ لوگ اور مکانات جو سیلاب سے ضائع ہوتے ہیں وہ بھی محفوظ رہیں گے۔ یہاں یہ دیکھئے کہ سیلاب میں تباہی ہونے کا سبب دریاوں پر بند کا نہ ہونا نہیں بلکہ اس کا الٹ ہے۔ سیلاب زرخیز مٹی کی تہہ بچھاتے ہیں جس پر پانی گزرنے کے بعد اتھلے کنووں کی مدد سے کاشت کی جاتی ہے۔ فصل کی کٹائی کے بعد لوگ دریا کے طاس سے اپنا عارضی ٹھکانا اکھیڑ کر اونچے کناروں کی جانب چلے جاتے ہیں۔ ڈیمز کی تعمیر کے سبب طاس میں پانی کا گزر کم ہوجاتا [ویسے اباسین میں مون سون کے سیلاب کو روکنا دنیا کے کسی ڈیم کے بس میں نہیں ہے، یوں بھی اس سیلاب کے دوران ڈیمز کو گاد بھرنے سے بچانے کے لیے ان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں۔ ]

ہوتا یہ ہے کہ بہاؤ کی کمی کے سبب مدت تک خشک رہنے والے طاس میں لوگ گھر بنانا شروع کر دیتے ہیں جو ہمیشہ سیلاب کی زد میں رہتے ہیں۔ جو با اثر ہوتے ہیں، وہ دریا کی زمین سے قبضہ کی گئی اراضی کے بچاؤ کے لیے حفاظتی بند بھی تعمیر کر لیتے ہیں چنانچہ سیلاب کا رُخ دوسرے کنارے پر واقع قدیمی بستیوں کی جانب پھر جاتا ہے۔ اس کی سینکڑوں مثالیں سن گیارہ اور چودہ کے سیلابوں کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ میٹھا پانی سمندر کے کھارے پانی کو دریا کے ڈیلٹا میں اوپر چڑھنے سے روکتا ہے اور تمّر [مینگروو] کے جنگلات کو زندہ رکھتا ہے جو سمندری طوفان اور صحرا زدگی کے خلاف قدرتی روک کا کام دیتے ہیں اور قیمتی جھینگوں، مچھلیوں، کیکڑوں کی افزائش کا ماحول فراہم کرتے ہیں۔ میٹھے پانی کے بہاو کو روکنے سے یہ سارا نظام تلپٹ ہوجاتا ہے۔ صرف تربیلا ڈیم کی تعمیر کے بعد سے مینگرؤو کا نوّے فی صد سے زیادہ رقبہ برباد ہوگیا ہے۔ فائدہ ڈیم کے قریب کے علاقے کے بڑے زمین داروں کو ہوتا ہے جبکہ تباہی ڈیلٹا والوں کی پھِر جاتی ہے۔ وسیع و عریض جھیل کے سبب ڈوبنے والی زرخیز زمین اور بستیوں کا مستقل اتلاف اس پر مستزاد ہے۔ یہ محض کنکریٹ کے پجاری اور کمیشن کے رسیا انجینئرز، کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی ہے کہ ڈیمز کی تعمیر سے سیلاب کو روکا جا سکتا ہے۔

اب جہاں تک ان سوالات کا تعلق ہے کہ ڈیمز کی عدم موجودگی میں پانی کس طرح محفوظ کیا جائے؟ بجلی کیسے بنائی جائے؟ اگر ڈیم نہ ہوں تو اس کا کیا حل ہے ؟ حقیقت کچھ یون ہے کہ پانی محفوظ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ اسے اس کی قدرتی ڈھلان پر بہنے دیا جائے۔ آخر پانی “محفوظ” کیوں کیا جائے؟ اسے کس سے خطرہ ہے؟ یہ تصور کہ بجلی پیدا کرنے کے لیے “ہیڈ” کی ضرورت ناگزیر ہے، اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ اوّل تو یہ کہ “رن آف دی ریور” بجلی پیدا کرنے کی ٹیکنالوجی بہت ترقی کر گئی ہے۔ دوسرے یہ کہ جس ملک میں لوگ سارا سال گرمی اور دھوپ کی شکایت کرتے ہوں وہاں “آف گرڈ” شمسی توانائی کو چھوڑ کر پن بجلی کے بڑے بڑے منصوبوں کے پیچھے بھاگنا حماقت ہے۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ جس ملک میں ہر طرف نامیاتی کچرے کے انبار لگے ہوں وہاں صنعتی پیمانے پر اس سے توانائی پیدا نہ کرنا مجرمانہ فعل ہے۔ چین میں چاول کی پرالی، درختوں کے گلے سڑے پتوں اور گھریلو کچرے سے بڑے پیمانے پر بجلی بنائی جاتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے ہمارا قدیمی شوق، سب سے بڑی” چیزیں”بنانے کا ہے جس میں یار لوگوں کے ہاتھ بھی کچھ کمیشن لگ جاتا ہے لہذا دوسری جانب نگاہ ہی نہیں کی جاتی پے۔

اب اگر جواز بنایا جائےکہ توانائی کا مہنگا سامان رکاوٹ نہیں ہے؟ اس ٖبابت پہلی بات یہ کہ “مہنگی” وہ چیز ہوگی جس کی قیمت ادا کرنا پڑے۔ اگر سندھ کو اس کے ماحول کی تباہی اور پختونخواہ کو اس کی دریا برد اراضی کی اصل قیمت ادا کرنا پڑے تو ڈیم کے حامیوں کو تب اندازہ ہو سکے گا کہ مہنگا سودا کیا ہے؟ اس وقت چوں کہ یہ سب “وسیع تر قومی مفاد” کے نام پر مفت برت لیا جا سکتا ہے، سو سستا لگتا ہے۔ یہ سب لاگت ڈال کر موازنہ کریں تو شمسی توانائی ہرگز منہگی نہیں لگے گی۔

ڈیم کی حمایت میں یہ جواز دیا جاتا ہے کہ پانی کا ذخیرہ خشک سالی سے بچنے کے لئے ہی کیا جاتا ہے پھر اگر پانی نہیں ہوگا تو سال بھر کی فصلیں کیسے اگائی جائیں۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارے نزدیک مزید اگاؤ سے پہے موجودہ خوراک کے ذخائر کا تحفظ اولیت رکھتا ہے۔یا نقد آور فصلات کی کاشت؟ ہماری سب سے بڑی غذائی فصل گندم ہے جس کی پانی کی ضرورت انتہائی کم ہے۔ خشک علاقوں میں بھی اسے تیس دن میں ایک سینچائی مل جاے تو یہ تیار ہو جاتی ہے۔ پانی کی کمی کبھی بھی اتنی نہیں ہوتی کہ گندم کے لیے پانی نہ مل سکے۔ جب کہ اگر بنیادی مقصد کپاس اور گنے کی پیداوار میں اضافہ کتنا ہے۔ تو اسے غور سے دیکھنا پڑے گا کہ کپاس اور گنے کی پیداوار کا فائدہ کن طبقات کو ہے اور نقصان کسے درپیش ہو سکتا ہے؟ اس میں خصوصا کپاس کی فصل کے لیے درکار زہریلی ادویات کے اقتصادی اور ماحولیاتی اثرات کو بھی مدِ نظر رکھنا ہو گا اور شوگر مل مافیا کی ریشہ دوانیوں کو بھی۔ کچھ دوست رزِ مبادلہ کے لیے کپاس کی اہمیت کا ذکر کرتے ہیں۔ کوئی دس سال قبل ہمارے ایک استاد نے ایک ریسرچ کی جس کی رو سے اگر دریا میں پانی بہنے دیا جائے تو صرف “سی فوڈ” کی برامد سے کپاس سے زیادہ منافع کمایا جا سکتا ہے۔ اس میں اڑچن بس یہ ہے اس عمل میں چند بلوچ اور سندھی ماہی گیر امیر ہو جائیں گے جبکہ کپاس سے فائدہ پنجاب کے جاگیردار کو ہو گا۔ یہیں آ کر سوئی اٹک جاتی ہے۔

پانی کے ذخائر بنانے سے پہلے سب سے حساس بات پانی چوری کی ہے۔ چھوٹے صوبوں کو جو سب سے زیادہ شکایت ہے وہ اس بنیاد پر ہے،خاص کر سندھ کے عوام کو، لیکن اگر پنجاب آئینی گارنٹی دے کی کالاباغ سے نہر نہیں نکالے گا یا پانی چوری نہیں کرے گا تو کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے پہں کہ پنجاب میں نہروں کی تین اقسام ہیں۔ اوّل، وہ نہریں جو دفاعی نکتہ نظر سے سود مند ہیں اور انہیں سال بھر بند نہیں کیا جاتا۔ دوم، آبپاشی کی نہریں جنہیں بھل صفائی کے لیے بند کیا جاتا ہے۔ سوم اباسین کا پانی ستلج اور جہلم میں ڈالنے والی رابطہ [لِنک] نہریں جنہیں پانی کی کمی کے زمانے میں فورا بند کردیا جاتا ہے۔ یہ طریقہءکار ملک کے سب سے بڑے بین الصوبائی ادارے “مشترکہ مفادات کی کونسل” کا طے کردہ ہے اور تقریبا آئینی گارنٹی کا درجہ رکھتا ہے۔ سن ننانوے میں پورا مغربی اور جنوبی ایشیا ءخشک سالی کا شکار تھا۔ دریاؤں میں پانی کی شدید کمی تھی۔ ذاتی مشاھدے کے مطابق متعلقہ سرکاری افسران زمینی حقاٰق سے ناواقف ہیں نہر کھولنےِ بند کرنے کا معاملہ ہو تو بھی تازی ترین صورت حال پر مانیٹرنگ نہیں کی جاتی ہے اس سے بڑھ کر سرکاری غفلت کا ثبوت کیا ہوگا کہ ان کے اپنے زیر اقتدار رقبہ جات میں پانی کی چوری کھلے عام جاری رہتی ہے۔ کیا کوئی ہے ان سے پوچھنے والا کہ پھر کیسی گارنٹی اور کس کا اختیار؟؟؟


ادارہ کا مضمون نگار کی رائے سے اتفاق ضروری نہیں۔

Facebook Comments Box
featuredپانیڈیمسیلابکالا باغ ڈیم
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اے عورت تجھے خود ہی اٹھنا ہوگا: مدیحی عدن
next post
شمس الرحمن فاروقی کی نظری تنقید: معراج رعنا

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.