تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ کرنے...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا “جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ تریندیگرعلم و ادب

دوستوں کے نام خطوط — پہلی قسط: از اعجاز الحق اعجاز

by میاں ارشد فاروق 09/09/2017
written by میاں ارشد فاروق 09/09/2017
130
اعجاز الحق اعجاز کے یہ خطوط ان احساسات و کیفیات پر مشتمل ہیں جن کا تجربہ مکتوب نگار کو ایک دیہی علاقے میں مطالعہ فطرت کے دوران ہوا۔ مکتوب نگار نے بے حد سادہ مگر عمیق اور مختصر مگر بلیغ انداز میں فطرت کے بے پایاں حسن اور اس کی بو قلموں رعنائیوں کو ادبی اسلوب سے اس طرح بیان کیا ہے کہ فطرت کی یہ نیرنگیاں ہمارے دل کے تاروں کو چھیڑتی ہیں اور کئی صوفیانہ اور فلسفیانہ تناظرات کو بھی آشکار کرتی ہیں۔ ان خطوط کو لکھنے کا ایک مقصد قارئین میں فطرت پسندی کے رجحانات اجاگر کرنا ہے کہ وہ ایسی زندگی کی طرف لوٹ آئیں جو فطرت کے زیادہ سے زیادہ قریب ہو۔

 


پہلا خط (زابر سعید بدر کے نام)

عزیز دوست! میں وہاں ہوں جہاں تم کبھی نہیں آئے۔ مجھے خبر ہے کہ شہر کے جھمیلے تمھیں اس کی اجازت نہیں دیتے۔ تم نے ہمیشہ میرے یہاں آنے پہ اعتراضات کی ایک بوچھاڑ کی ہے جن کے جواب میں ہمیشہ دھیرے دھیرے مسکراتا ہی رہا ہوں۔تمھیں کیا خبر کہ یہ کیسے اسرار کی دنیا ہے اور یہاں فطرت کے کیسے کیسے رومان بکھرے ہیں۔یہ سبزہ و گل کا جہاں اور یہ ستاروں بھرا آسماں، کاش تم دیکھنے کے لیے آتے۔میں یہاں صبح سویرے ایک لمبی سیر کے لیے نکلتا ہوں تو ایک چھوٹی سی آبجو میرے ساتھ ساتھ محو سفر رہتی ہے اور روپہلے پروں والے پرند اور سرسبز جھاڑیاں میرا رستہ روکتی ہیں اور میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ یہ مجھ سے الجھیں اور پھر مجھے اپنی آغوش میں لے لیں۔صدیوں کی گرد سے اٹی اور زندگی ہی کی طرح ٹیڑھی میڑھی پگڈنڈی پہ چلتے چلتے میری نظر دھرتی کی آغوش سے سر نکالتے سورج پر پڑتی ہے تو زندگی کی ساری گپھائیں روشن ہونے لگتی ہیں۔ یہ شاہ خاور اپنی نرم نرم کومل کومل سی کرنوں سمیت جب دور کھجور کی اوٹ سے مسکراتا ہے تو زندگی بھی مسکرانے لگتی ہے۔ دور ایک گھاس کا میدان میرا منتظر ہے جسے دیکھ کر چیخوف کا ناولٹ The Steppe یاد آجانا لازمی ہے۔اچھا دوست باقی احوال پھر بیان کروں گا۔ شہر کے دھوئیں اور شور سے اپنے آپ کو بچائے رکھنا۔ خدا حافظ۔
خیر اندیش
اعجاز

دوسرا خط (محمد خوشنود کے نام)

عزیزمن! میں تمھیں بتا رہا تھا کہ سامنے ایک وسیع گھاس کا میدان میرا منتظر ہے جو خودرو گھاس ،جھاڑیوں اور جڑی بوٹیوں سے اٹا ہے۔کہیں کہیں ننھے منے پھول مسکرانے کی عبادت میں مصروف ہیں۔مجھے یہ بے ہنگم روئیدگی اچھی لگتی ہے۔ اس میدان سے آگے دھان کا ایک کھیت ہے جس میں سفید پروں والے پرند اڑان بھر کر آتے ہیں کچھ دیر ٹھہرتے ہیں اور پھر کہیں اور چلے جاتے ہیں۔ کبھی کبھی مجھے یہ پرندے یونانی شہزادہ نارسیسس کی طرح لگتے ہیں جو دھان کے کھیت کے ٹھہرے ہوئے پانی میں اپنا عکس جمیل دیکھنے باربار آتے ہیں۔کھیت میں ایک دختر دھقان بھی کام کر رہی ہے مگر اس کے لبوں پر ورڈزورتھ کی دختر دھقان جیسا روح کو ہلا دینے والاکوئی گیت نہیں۔ ابھی ایک بیل گاڑی میرے قریب سے گزری ہے جس کی مدھر گھنٹیاں ردائے خواب اوڑھے اشجار کو جگا رہی ہیں۔دور ایک پپیہا ترنم ریز ہوا ہے جس نے ایک قدیم یاد تازہ کردی ہے۔ وقت، زمین اور آسماں ٹھہرے ٹھہرے سے ہیں۔ کاش یہ ٹھہراو میرے شعور شور انگیز میں بھی آجائے۔باقی احوال پھر کبھی۔
خیراندیش

تیسرا خط (احسن رامے کے نام )

عزیز من! میں آپ کو کیا بتاوں کہ یہاں آکر مجھے کتنی کلفتوں سے چھٹکارا مل گیا ہے۔ کتنی راحتیں نصیب ہوئی ہیں جیسے دشت یاس سے نکل کر امیدوں اور آرزووں کی نئی دنیاوں کی بازیافت میں کھو گیا ہوں۔ ابھی ایک شجر نے اپنا دست مہرباں میرے زندگی کے بوجھ تلے دبے کندھے پر رکھا ہے۔ ایک برگ گل نے میری پیشانی کو چھو کر مجھے نہال کر دیا ہے۔ میرے سامنے ایک بے پایاں بحر حسن ہے۔ حسن خیر ہے اور خیر حسن۔ میں نے گوتم بدھ سے جب یہ پوچھا تھا کہ فطرت سے مکالمہ کیسے کروں تو اس نے جواب دیا تھا کہ اپنے افکار کی دنیا کو خاموش کر کے۔ ظاہر ہے اس کا اشارہ وقتی خاموشی کی طرف ہی تھا۔ میں نے گزشتہ خط میں یہ بتایا تھا کہ میرا شعور شور انگیز تو کبھی ٹھہراو میں نہیں آتا۔ میرے افکار کی دنیا ہر دم حادثات کی دنیا ہے۔فطرت کے بدلتے ہوئے مظاہر کی زیریں سطح پہ سکون ہی سکون ہے۔ ٹھہراو ہی ٹھہراو ہے مگر میرے افکار کی زیریں سطح میں تو طوفان ہی طوفان ہیں۔ ایک شورش ہے جو ہر دم بپا ہے۔یہ کیسے فطرت سے مکالمہ کر پائے گی مگر اس کے اسباب بھی فطرت ہی کبھی کبھی مہیا کر ہی دیتی ہے اور میری سوچوں کے تلاطم میں بے وجہ قرار سا آجاتا ہے۔ میں چلتے چلتے بکائنوں کے ایک جھنڈ میں آگیا ہوں۔ یہاں میں گھاس کے فرش پربیٹھ کر ورڈز ورتھ کی کچھ نظمیں گنگناوں گا یا اقبال کی پہلے دور کی نظمیں جو حسن فطرت کی خوبصورت عکاسی کرتی ہیں۔ ان نظموں کو گنگنانے کی اس سے اچھی جگہ کیا ہو سکتی ہے۔ عزیز من فطرت کی زبان کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔ اس کے اپنے اشارے ہیں۔ اس کی اپنی علامتیں اور استعارے ہیں اور ان کو سمجھنے کے لیے اس کے اشیا و مظاہر کے درمیان ایک عرصہ رہنا ضروری ہے۔ ہلکی ہلکی ہوا چلنی شروع ہوگئی ہے۔ یہ ایک نئی لے سیکھ کر آئی ہے۔ باقی احوال اگلے خط میں۔اپنا خیال رکھیے گا۔
خیر اندیش
اعجاز

چوتھا خط (افتخار کھوکھر صاحب کے نام )

برادر محترم! یہاں پگڈنڈیوں اور کھلیانوں اور درختوں پر ایک سحر آگیں سکوت طاری ہے۔دور سے ایک بوڑھا کسان آتا دکھائی دیا ہےجس کا جسم مسلسل مشقت کے بوجھ تلے دبا ہے۔ اس کسان کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا ہے۔ دھرتی کا یہ فرزند مجھے بے حد مقدس لگا ہے۔ وہ میرے پاس سے گزرا تو میں نے اسے سلام کیا ہے اور پھر اسے گلے سے لگا لیا ہےاور اس کے ہاتھوں پر بوسہ دیا ہے۔ محنت کے آثار اس کی آنکھوں اور ہاتھوں سے ہویدا ہیں۔مجھے معلوم ہے کہ وہ تمام تر مشقت کے باوجود ایک کلبہ افلاس میں رہتا ہے۔ مجھے اسے دیکھ کر مجید امجد کی نظم ہڑپہ کا کتبہ یاد آگئی۔ صدیوں سے کسان اسی حالت میں ہے۔ گاوں کے ان کسانوں اور محنت کشوں کی محبت سے ہمیشہ میرا دل لبریز رہا ہے۔ میں بنیادی طور پر تنہائی پسند ہوں مگر میرا دل کبھی بھی ان لوگوں سے الگ تھلگ نہیں رہا۔ میں کہیں بھی ہوں فطرت کے یہ عظیم فرزند میرے دل میں بستے ہیں۔ کاش میں ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتا تو مجھے کتنی روحانی طمانیت نصیب ہوتی اور یہ طمانیت فطرتی جمال سے حاصل ہونے والی طمانیت سے ہم آہنگ ہو کر مسرتوں کے کیسے کیسے خزانوں کے در وا کرتی۔ عزیز من یہاں بہار ہو یا خزاں بہت زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ ہر موسم ایک سی مسرتوں کی بارش لاتا ہے۔ جب گندم کی فصل پک جاتی ہے تو ہر طرف ایک سنہرا سمندر مچلنے لگتا ہے۔ میں جب خزاں کے موسم میں یہاں آیا تھا تو خشک پتے درختوں سے گرتے تھے ، پرندے اڑتے تھے۔ خزاں رسیدگی سے دل ربودگی تک سارے منظر کتنے انوکھے تھے۔ ابھی ایک بوڑھے برگد کے درخت کے پاس آ کھڑا ہوا ہوں۔ کیا آپ نے کبھی اس کی سرگوشیاں سنی ہیں ؟۔ باقی احوال پھر کبھی۔ دعاوں میں یاد رکھیے گا۔
خیر اندیش
اعجاز

Facebook Comments Box
featuredادبی خطوطاردو ادباعجاز الحق اعجازخطوطشاعریمکتوب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
میاں ارشد فاروق

previous post
لکڑی کی گولیاں: ابنِ فاضل
next post
سرمایہ داری، مزدوری اور ملکی ترقی ۔ تھامس پکٹی Thomas Piketty کی کتاب کا جائزہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

“دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں “عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے تناظر میں —- اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.