ذکر پسندیدہ کتب کا —- علی عبداللہ

0

رات کا نصف دائرہ مکمل ہو چکا ہے اور میرے بک شیلف میں موجود بہت سی کتب مادی وجود لیے میرے اردگرد جمع ہو کر مجھ سے گفتگو کرنے آن پہنچی ہیں- چونکہ میں خود کتاب نہیں اس لیے ان تمام کتابوں کو سننا ممکن نہیں، لہذا سوچ رہا ہوں کہ ان میں سے کوئی دو ایسی کتب ہمیشہ اپنے پاس رکھوں جنہیں پڑھنا اور سننا اچھا لگے اور وہ سفر حیات کو روشنی سے معمور بھی رکھیں- شاید میری یہ سوچ ان کتب تک بھی پہنچ گئی ہے اور ہر کتاب بڑھ چڑھ کر اپنے اندر موجود الفاظ کے موتی پیش کرنے کو بے چین ہو رہی ہے- یہ تمام کتب اپنے اندر ایک خزانہ سموئے ہوئے ہیں لیکن بعض اوقات انسان کو کچھ خزانے بھی راس نہیں آتے- مطالعہ کی پیاس، جب خود شناسی کے صحرا میں نازل ہوتی ہے تو کتب ایک نخلستان کی مانند خود شناسی کے صحرا کی منازل طے کروانے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں- اس لیے میری بھی یہی کوشش ہے کہ کتاب ایسی ہو جو تشنگی کا احساس نہ دلائے بلکہ مزید آگے بڑھنے پر اکسائے-

میرے سامنے اردو کے شاہکار خاکوں پر مشتمل ایک ضخیم کتاب موجود تھی- ایک کونے میں “انتظار حسین، چراغوں کا دھواں” سلگائے میری جانب تک رہے تھے- دوسرے کونے پر کتاب”پیا رنگ کالا” پا بجولاں کھڑی پراسرار نگاہوں سے میری جانب ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی- مگر مجھے کسی نخلسان سا احساس اور چشمے سی تازگی دینے والے کی تلاش تھی- اسی محفل میں سر جھکائے “فرائیڈ” اپنے مضامین لیے کھڑا تھا تاکہ میری توجہ حاصل کر سکے- اور قریب ہی “برٹرینڈ رسل، فلسفہ مغرب کی تاریخ” کا الاؤ روشن کیے بیٹھا تھا- تھوڑی اور نظر دوڑائی تو چند بوڑھے “تاریخ ہند، و یورپ اور سلطنت عثمانیہ” کی شکل میں نظر آئے جو بڑھاپے کے باوجود جوانوں سے دکھائی دے رہے تھے مگر میرا انتخاب شاید کچھ اور تھا- بے چینی بڑھنے لگی تھی اور میں نے ادھر ادھر پھر نظر دوڑائی تو “مہاتما گاندھی، ہٹلر، محمد حسین آزاد، ابوالکلام آزاد، نصیرالدین شاہ اور اے حمید”اپنا اپنا آئینہ ایام لیے میری جانب لشکارے مار رہے تھے تاکہ میں ان سے مخاطب ہو سکوں- مگر مجھے ان آئینوں سے کوئی غرض نہ تھی- میں نے دو قدم آگے بڑھ کر دیکھا تو ایک جانب “یروشلم، اندلس، سندھ اور لاہور” سفرناموں کا بورڈ اٹھائے کھڑے تھے تاکہ میں خود ہی ان کو پہچان لوں اور کسی آوارہ مسافر کی مانند ان کے ساتھ چل پڑوں- لیکن ایک مسافر کب تک چل سکتا ہے، بالآخر کہیں نہ کہیں پڑاؤ تو کرنا ہوتا ہے- خیر میں انھیں نظر انداز کرتا ہوا واپس مڑا تو پاس ہی” گبرئیل گارشیا مارکیز وباء کے دنوں میں محبت” کی شکل میں نمودار ہوا- ساتھ ہی “ایلف شفق چالیس چراغ عشق کے” روشن کرتی دکھائی دی- اور اسی روشنی میں “عمیرہ احمد اپنے الف” سے گفتگو کرتی نظر آئی- مگر مجھے کچھ اور ہی کھوجنا تھا- لہذا میں “پری زاد، عبداللہ، بوئے گل اور جنت کے پتوں” کو پیچھے چھوڑتا ہوا واپس اپنی جگہ آن بیٹھا-

اچانک میری نظر کچھ پرندوں پر پڑی جو آپس میں گفتگو کر رہے تھے اور وہاں ایک پریشان حال جوگی بھی دکھائی دیا- بس مجھے محسوس ہوا کہ مجھے وہ مل گیا جو چاہیے تھا اور پھر میں” منطق الطیر، جدید” کے پاس آیا اور اسے اٹھا کر واپس چل پڑا-

“منطق الطیر، جدید” میں رومی و عطار کے اس پیوند زدہ نقش پا کو چھونے کی کوشش کی گئی ہے جو زمانوں سے عشق کی راہ پر گامزن ہے- اس کتاب کے ذریعےگزرے زمانوں کو زندہ کر کے صاحب کتاب “مستنصر حسین تارڑ” نے ایک منفرد کام سرانجام دیا جو شاید کسی اور کے بس میں نہیں تھا- اس کتاب کا انتساب ہی دیکھ لیجیے جو کہ “عطار”کے نام کیا گیا ہے،” پرندوں کی بولیاں میرے کانوں میں پھونکنے والے مرشد عطار کے نام”- منطق الطیر، جدید علامتی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اندر تجریدی رنگ بھی رکھتی ہے- پڑھنے والا اگر مذہبی روایات، تاریخ اور اساطیر سے واقف نہ ہو تو “منطق” سمجھ ہی نہیں آتی- صوفیانہ رنگ لیے کئی زمانوں کی سیر کروانے والی یہ کتاب مجھے جستجو کا پرندہ بنا دیتی ہے- یہ کتاب ٹلہ جوگیاں کا وہ پہاڑ ہے جسے عبور کرنے والا مجاز کے اندھیروں سے پھوٹنے والی حقیقت کی تیز روشنی کو روح میں اترتا ہوا محسوس کرتا ہے اور جگہ جگہ اٹکتا، گرتا اور نئے رازوں سے واقفیت حاصل کرتا چلا جاتا ہے- اسی لیے میں رات کے اس پہر سب کو نظرانداز کرتا ہوا اسی “منطق الطیر، جدید” کو اٹھا کر اپنے پاس رکھ لیتا ہوں جو کہ میری پسندیدگی کے ہر باب کو کامیابی سے عبور کرتی ہے-

اب دوسری کتاب پر غور کرتا ہوں اور ارگرد بکھری تمام کتب پر نئے سرے سے نظر ڈالتا ہوں تو مجھے کئی کتابوں کے بیچ سمٹی بیٹھی ایک کتاب دنیا و مافیھا سے بے خبر نظر آتی ہے- میں ذرا قدم اوپر اٹھا کر اسے دیکھتا ہوں تو اس کی پراسرار چمک میری آنکھوں کو خیرہ کرنے لگتی ہے- تھوڑا مزید غور کرتا ہوں تو “احیاء العلوم” اپنے مصنف “امام غزالی رح” کے ساتھ مراقبہ کرتی دکھائی دیتی ہے- میں بے اختیار اس کی جانب لپکتا ہوں، اسے اٹھاتا ہوں اور اپنے سینے سے لگائے ساتھ لے آتا ہوں- یہ کتاب تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف اور اسرار شریعت کا بحر بیکراں ہے- یہ وہ تصنیف ہے جس کے بارے اسلامی لائبریری اپنی بے پناہ وسعت کے باوجود اس کی نظیر پیش نہیں کر سکتی- اس کے بارے ہنری لوئس تاریخ فلسفہ میں لکھتا ہے کہ ڈیکارٹ(یورپ میں اخلاق کے فلسفہ جدید کا بانی خیال کیا جاتا ہے) کے زمانہ میں اگر احیاءالعلوم کا ترجمہ فرنچ زبان میں ہو چکا ہوتا تو ہر شخص یہی کہتا کہ ڈیکارٹ نے احیاءالعلوم کو چرا لیا ہے- جی ہاں یہی کتاب جو اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کے ہی راستے کے گرد ایک مشعل کی سی ہے تاکہ اس راہ سے گزرنے والے کہیں اور متوجہ نہ ہو سکیں- جب جب یہ کتاب کھولی، دانش کے کئی موتی اور قدرت کے کئی خزانوں سے آشنائی ملی- یہ کتاب بھی پسندیدگی کے ہر معیار کو پورا کرتی ہے اور میں اسے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا خواہشمند ہوں-

خود شناسی کے صحرا میں “احیاء العلوم” اور “منطق الطیر، جدید” جیسے نخلستان الگ الگ انداز اور آب و ہوا کے ساتھ انسان کو سوچ کے نئے زاویوں سے آشنا کرواتے ہیں- یہ دو کتب میری پسندیدہ کتب ہیں جنہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہوں اور رات کےتاریک گوشوں میں ان میں چھپے موتیوں کو کھوج کر قدرت کی نشانیوں کا مشاہدہ کرنا اپنا معمول بنانا چاہتا ہوں تاکہ ان نشانیوں کے بدلے حاصل کردہ علم باقی انسانوں کو پہنچا کر انہیں بھی ان دیکھے لازوال خزانوں کی جانب رواں دواں کر سکوں-

 

 

(Visited 1 times, 1 visits today)

Leave a Reply

Leave A Reply


Parse error: syntax error, unexpected '<', expecting identifier (T_STRING) or variable (T_VARIABLE) or '{' or '$' in /home/daanishp/public_html/wp-content/themes/daanishv2/footer.php on line 20