اعلانِ رجوع اور كچھ تلخ و شیریں باتیں — احمد جاوید

2

کوئی سال بھر پہلے ایک اصلاحی نشست میں دین داری کے حقیقی تقاضے کے موضوع پر میں نے کوئی گھنٹے ڈیڑھ کی گفتگو کی تھی۔ معمول کے مطابق وہ گفتگو ریکارڈ کر کے یوٹیوب پر اپلوڈ بھی کر دی گئی۔ کسی صاحب نے اس میں سے چار پانچ منٹ کا ایک حصہ نکالا اور اسے سوشل میڈیا پر ایک مخصوص حلقے میں پھیلا دیا۔

بعض دوستوں نے توجہ دلائی کہ اس کلپ میں تم نے جو باتیں کی ہیں ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ آج کے سبھی علما اور سارے مولوی بدتمیز اور جھوٹے ہیں۔ سب علما کو ایسا سمجھنا اور کہنا کبھی شدت ِ شکایت میں بھی نہ میرے خیال میں آیا نہ الفاظ میں۔ ظاہر ہے یہ بہتان  عظیم ہوتا، جو بے شمار کمزوریوں میں مبتلا ہونے کے باوجود مجھ سے سرزد نہیں ہوسکتا۔ میں نے ان دوستوں سے کہا بھی کہ اس پوری گفتگو کو سن لیا جائے تو شاید ایسا تاثر نہ پیدا ہو۔ لیکن پھر خود ہی خیال آیا کہ وہ کلپ سننے والوں کی اکثریت نے پوری گفتگو نہیں سنی ہوگی، اور اگر بتا بھی دیا جائے تو بھی وہ نہیں سنیں گے، اس لیے بہتر یہی ہوگا کہ میں اس کلپ سے براءت اور رجوع کا اعلان کردوں۔ ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ ایک کلوزڈ گروپ میں اس کلپ کو شیئر کر دیا گیا۔ وہاں کچھ مخلص اور فاضل ممبران نے، خصوصاً مجیب الرحمٰن صاحب شامی نے اس پر ناگواری کا اظہار کیا۔ شامی صاحب کی ناگواری نے مجھ پر خاصا اثر کیا کیونکہ میں ان کی رائے کو بہت اہمیت دیتا ہوں۔ میں نے فوراً ہی رجوع بلکہ توبہ کی عبارت لکھ کر پوسٹ کر دی جسے شامی صاحب سمیت تمام خیرخواہوں نے خوش دلی سے قبول کر لیا۔ یہ قضیہ پوری طرح نمٹ چکا تھا کہ کچھ دن پہلے وہی کلپ پھر سے گردش کرنے لگا۔ اس مرتبہ زیادہ وسیع پیمانے پر۔ اس کلوزڈ گروپ میں پھر ایک شور مچ گیا کہ جاوید کے اعلانِ رجوع کے باوجود اس کلپ کو دوبارہ کیوں استعمال کیا جارہا ہے۔ وہاں کے کچھ احباب نےپھر مجھ سے فرمائش کی کہ تم اس رجوع کی تجدید کردو۔ تو ان حضرات کے مشورے کی تعمیل میں رجوع کی ایک عبارت اس گروپ میں پوسٹ کر چکا ہوں اور اس وقت اپنے رجوع اور توبہ کو ذرا بڑے پیمانے پر مشتہر کرنے کے لیے ریکارڈ بھی کروا رہا ہوں۔ ہر دیکھنے والے کو اجازت ہے کہ اسے جہاں چاہے استعمال کر لے۔ جو عبارت میں پوسٹ کی تھی وہ بھی سن لیں:

میں اس کلپ پر معافی بھی مانگ چکا ہوں اور استغفار بھی کر چکا ہوں۔ اب جو مہربان بھی اسے نشر کر رہا ہے وہ دانستہ نادانستہ مجھ پر ظلم کر رہا ہے۔ ایک وضاحب البتہ کر دوں کہ یہ کلپ ایک گفتگو کا حصہ ہے۔ وہ گفتگو ایک ایسی مجلس میں ہوئی تھی جس میں دو تین علما اور مدارس کے کچھ طلبہ بھی موجود تھے۔ ان کے علاوہ بھی جو حضرات شریک تھے وہ سب کے سب حقیقی اور روایتی معنوں میں دین دار ہیں۔ اس گفتگو کا مجموعی تاثر بہرحال اس کلپ سے پیدا ہونے والے تاثر سے خاصا مختلف تھا۔

میری ساری عمر علما، خاص کر اہلِ دل علما کی کفش برداری میں گزری ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ مفتی محمد شفیع، مولانا ایوب دہلوی، مولانا مودودی، مفتی ولی حسن ٹونکی، مولانا سبحان محمود، مولانا عبد الجبار سلفی، پیر کرم شاہ ازہری، مولانا عبد العزیز کوئٹے والے اور مولانا عبدا لسلام نوشہروی رحمہم اللہ کا عاشق ِ زار علما کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ بس اتنا ہے کہ آج کے اکثر علما میں جب مذکورہ بالا حضرات کا رنگ نظر نہیں آتا تو کبھی مایوسی اور کبھی شکایت پیدا ہوکر اظہار میں بھی آجاتی ہے۔ لیکن یہ شکوہ شکایت ایسی ہی ہے جو چھوٹوں کو اپنے بڑوں سے ہوجاتی ہے۔ یہ بات بہرحال آپ کو بھی محسوس ہوتی ہوگی کہ دین کی ترجمانی کی مسند پر زبردستی براجمان لوگ خود کو سلف کا وارث بناتے ہیں اور عام آدمی انھیں ایسا سمجھتا بھی ہے۔ اس صورت ِ حال کا پھیلاؤ اتنا زیادہ ہے کہ علماے حق بے اثر ہوتے جا رہے ہیں۔ بڑوں کا علمی، کرداری اور اخلاقی تسلسل خود ان کے جانشینوں میں بھی الا ماشاءاللہ کمزور پڑتا جارہا ہے۔ یہ سب دیکھ کر کبھی نوحہ منہ سے نکل جاتا ہے اور کبھی ہجو۔ لیکن یہ عذر ِ گناہ اپنی جگہ، اس کلپ میں جو کہا گیا ہے، اسے سن کر خود مجھے اپنے آپ سے نفرت محسوس ہوئی۔ اللہ معاف فرمائے اور ساتھ ساتھ ان اسباب کو بھی دور فرمائے جو اس معصیت کے محرک بنے۔ آمین۔

اس عبارت سے یہ تو واضح ہو گیا ہو گا کہ اس کلپ کو اگر ایک کُل کی حیثیت سے دیکھا جائے تو وہ نری بہتان طرازی ہے لیکن اگر اسے اصلی گفتگو سے ملا کر اس کے ایک چھوٹے سے جزو کے طور پر سنا جائے تو امید ہے کہ بہتان طرازی اور تہمت تراشی کا تاثر پیدا نہیں ہوگا۔ تاہم اس وضاحت اور صفائی کے بعد بھی اور علما پر بہتان باندھنے کی خفیف سی نیت بھی نہ رکھنے کے باوجود مجھے اپنے لیے یہی بہتر لگ رہا ہے کہ اس پر توبہ بھی کی جائے اور اسے سن کر جن لوگوں کی دل آزاری ہوئی ہے، ان سے معافی بھی مانگی جائے۔ توبہ اور معافی کا یہ عمل آج میں پبلکلی تیسری یا چوتھی بار کر رہا ہوں لیکن اپنے مخاطبوں کی ایک اچھی خاصی تعداد کی افتادِ طبع کو دیکھتے ہوئے یہ عرض کرنا بھی گویا اپنے ساتھ انھیں بھی گناہ سے بچانے کی کوشش ہےکہ اس کلپ سے جو نتیجہ نکالا گیا وہ میری مراد نہیں تھا۔ مجھ سے الحمد للہ بہتان وغیرہ کا جرم سرزد نہیں ہوا لیکن یہ تاثر پیدا ہوا تو اللہ کی پکڑسے ڈرتے ہوئے میں نے استغفار بھی کیا اور معذرت بھی۔ اسے آپ احتیاطی توبہ کہہ سکتے ہیں۔

تو یہ رجوع ایسا نہیں ہے کہ میں اپنے کسی غلط خیال اور برے گمان سے رجوع کر رہا ہوں۔ بلکہ یہ رجوع اس لیے تھا اور ہے کہ میری ایک بات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کرنے کے نتیجے میں اچھے بھلے لوگوں کو جو کوفت اٹھانی پڑی اور خود مجھے اپنے آپ سے جتنی تکلیف پہنچی، اس کی تلافی بھی ہوجائے اور اگر اس میں میرے نفس کی کوئی بہت ہی مخفی چال کارفرما ہے جس کی خود مجھے خبر نہیں ہے، اس کی بھی معافی مل جائے۔ تو بہرحال، بالکل واضح لفظوں میں پھر دہرا رہا ہوں کہ اس کلپ پر ناکردہ گناہی کے باوجود توبہ بھی کرتا ہوں کیونکہ توبہ ہی بندگی کا شرف ہے، اور لوگوں سے معذرت طلب کرتا ہوں کیونکہ اپنے تئیں بے گناہی پر بھی معذرت اخلاق کی روح ہے اور خیر پر مبنی معاشرت کی اساس۔ اس وقت اپنی بے گناہی کا حوالہ دینا ضروری ہے کیونکہ چند مہربانوں نے میری توبہ کو اپنی فتح گرداننا شروع کر دیا ہے۔

اب ایک دوسری بات کرتا ہوں۔ اس مرتبہ میری اس کلپ کو منظور مینگل صاحب کی ایک حالیہ تقریر پر رد ِ عمل کی حیثیت سے پھیلایا گیا ہے۔ ایسا کرنے والوں میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو سیاسی وابستگیاں رکھتے ہیں۔ البتہ بعض دین دار حضرات نے بھی اس کی اشاعت کی۔ ان کا مقصد واضح تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مینگل صاحب کی تقریر دین اور اہل ِ دین کے استخفاف اور توہین کا سبب بن سکتی ہےتو انھوں نے مینگل صاحب ہی جیسے حلیے والے ایک ناچیز کی گفتگو کا ایک حصہ سوشل میڈیا پر ڈال دیا تاکہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ سبھی داڑھی ٹوپی والے مینگل صاحب کی طرح کے ہوتے ہیں۔ کاش یہ حضرات اس کلپ کی بجائے وہ پوری گفتگو اپنے کام میں لے آتے جس میں سے یہ کلپ بنایا گیا تھا۔ ایسا کر لیا جاتا تو مینگل صاحب کی تقریر سے پیدا ہوجانے یا ہو سکنے والے تحقیری اور تخریبی ردِعمل پر زیادہ بامعنی روک لگ جاتی۔ لیکن بہرحال، دینی مفاد میں یہ کام کرنے والوں سے مجھے کوئی شکایت نہیں البتہ سیاسی مقاصد میں اس کلپ کا استعمال کرنے والوں نے ٹھیک نہیں کیا۔ میں کسی بھی سیاسی جماعت سے دور کا بھی تعلق نہیں رکھتا، وہ چاہے لبرل ہو یا مذہبی۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ موجودہ سیاسی کلچر میں ایک لمحہ گزارنا بھی میرے لیے اقدامِ خودکشی سے کم نہیں ہے۔ میں جب اس پورے سیاسی نظام ہی کو غیر انسانی سمجھتا ہوں تو اس نظام میں کام کرنے والی یہ جماعت ہو یا وہ جماعت، میرے لیے یکساں طور پر بیزار کن ہے۔ تو اس بات کو بھی نظر میں رکھا جائے کہ میرا کسی بھی طرح کا کوئی سیاسی تشخص ہے نہ مقصد۔ ہاں، رائے ضرورہے اور وہ سب کے لیے منفی ہے، کہاں کی حزب ِ اقتدار اور کیسی حزب ِ اختلاف۔ بہرِ تقسیمِ قبور انجمنے ساختہ اند۔

یہ پرزور وضاحت اس لیے کی ہے کہ مینگل صاحب کے دو ویڈیوز پر اپنی دیانت دارانہ رائے کا اظہار کر سکوں۔ ایک ویڈیو غالباً مینگل صاحب کے درس کی ہے اور دوسری ایک تقریر ہےجو انھوں نے حالیہ دھرنے میں فرمائی ہے۔ یہ دونوں ریکارڈنگز میں نے بس تھوڑی تھوڑی ہی دیکھی ہیں کیونکہ انھیں دیکھنا شروع ہی کیا تھا کہ مجھے شدید اور قطعی احساس ہوا کہ میں کسی بڑے گناہ کا ارتکاب کر رہا ہوں۔ ایسے بڑے گناہ کا ارتکاب جو شخصیت کو تباہ و برباد کر دیتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اگر میں یہ دونوں ویڈیوز شیطان کے بہکاوے میں آکر پوری پوری دیکھ لیتا تو پھر ساری عمر سجدۂ استغفار میں گزار کر بھی اس سے پہنچنے والے اخلاقی، ذوقی اور باطنی نقصان کی تلافی نہ ہو پاتی۔ اگر میری یہ بات کسی کو بلاوجہ کا مبالغہ لگ رہی ہے تو وہ ذرا ہمت کرے اور مولانا تقی عثمانی صاحب کو یہ وڈیوز دکھا دے، جی ہاں صرف دکھا دے اور خود بھی ان کے ساتھ بیٹھا رہے۔ ان کی جو بھی رائے ہو گی وہ یہ صاحب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ ان شاء اللہ۔ تقی صاحب تو ماشاءاللہ بڑی ہستی ہیں، کسی بھی نیکوکار مسلمان کو اس وحشتناک امتحان میں ڈال کر دیکھ لیں، پتا چل جائے گا کہ دینی حمیت کیا ہوتی ہے۔ یہی نہیں اسلام کی طرف مائل کسی غیر مسلم کو یہ وڈیوز یہ بتا کر دکھائیں کہ یہ اسلام کے ایک جید عالم ہیں تو کم از کم مجھے یقین ہے کہ وہ اسلام کی طرف اپنے میلان پر شرمسار ہو جائے گا۔

اس لیے جو لوگ ان کا دفاع کر رہے ہیں میرا انھیں ہاتھ جوڑ کر مشورہ ہے کہ حمیتِ جاہلیہ سے مشابہت رکھنے والی اس گروہ بندی اور جانب داری پر توبہ کریں۔ ان صاحب کو بہت بڑا عالم کہنا یا محض عالم کہنا بھی علمِ دین کی ماہیت اور خاصیت سے بے خبری ہے۔ علمِ دین اپنی ساخت میں ذہنی سے زیادہ اخلاقی ہے۔ خشیت ِ الہٰی کا سب سے زیادہ احساس عالمِ دین کو ہوتا ہے۔ یہ خشیت نہ ہو تو کثرت ِ معلومات تو ہوسکتی ہے، مناظرے جیتنے کے لیے درکار دلائل کا انبار بھی ہوسکتا ہے، آدمی شیخ الحدیث وغیرہ کے منصب پر بھی براجمان ہوسکتا ہے، لوگوں میں بخاریِ زماں بھی کہلا سکتا ہے لیکن عالمِ دین نہیں ہوسکتا۔ کون ہے جو ایمان داری سے اور خوف ِ خدا کو بیدار رکھتے ہوئے ان صاحب کے فحشیات کا دفاع کر سکتا ہے۔ اور پھر یہ ایک آدھ فقرے کی بات ہوتی تو چلو اسے کسی وقتی کمزوری کا غلبہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا لیکن یہ تو صاف نظر آرہا ہے کہ یہ صاحب اس سوقیانہ پن اور ابتذال کے خود بھی مزے لے رہے ہیں اور دوسروں کو بھی لطف اندوز ہونے کی دعوت دے رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ بہت سارے مذہبی مسائل میں ہماری رہنمائی کر سکتے ہوں لیکن ایسی رہنمائی تو بہت سے منکرینِ اسلام بھی کر دیتے ہیں۔

مجھ سے پوچھا جائے اور چاہے ہزار بار پوچھا جائے، میرا جواب ان ایسے علما کے بارے میں اس کلپ میں موجود گفتگو سے بھی کہیں زیادہ سخت ہوگا۔

آخر میں ایک بات مجبوراً کہہ رہا ہوں کہ میرا ایک سلسلۂ ارادت مولانا حسین احمد مدنی ؒ سے ہےاور دوسرا شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ سے ہے۔ اس کے علاوہ میرے دینی ذوق کا غالب حصہ مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تصنیفات کا فیضان ہے۔ مجھے مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت شیخ الہندؒ، مفتیِ اعظم محمد شفیعؒ، مولانا خیر محمد جالندھریؒ اور مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ سے والہانہ عشق ہے۔ لہٰذا میرے اس بلند آہنگ احتجاج بلکہ اظہارِ نفرت کو کوئی مسلکی رنگ نہ دیا جائے۔ جس مسلک کے وکیل بن کر بعض سادہ لوح افراد ایسی اخلاقی سطح رکھنے والے مدرّسوں اور مقرروں کا مجنونانہ دفاع کر رہے ہیں وہ بچارے کیا جانیں کہ اس مسلک کی بنیادی قدریں کیا ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کیا ہوا کرتی تھیں۔ ہاں ماضی کا صیغہ استعمال کرنا ہی درست ہے، آج تو اچھے بھلے واجب الاحترام علما بھی، خصوصاً بڑے مدارس کے مہتممین تیزی سے زمانے کے رنگ میں رنگتے جا رہے ہیں۔ سو میں شاید بیس ہوں جو بیوروکریٹک سیٹ اَپ کو قبول نہ کر چکے ہوں۔

مجھے کم از کم تین مدارس کا تجربہ ہے کہ ان مہتممین یعنی حضرت صاحبان کی طرف سے اپنے مدرسے میں آنے کی پر شوق دعوت دی گئی مگر یہ دعوت خود مہتمم صاحب نے کبھی نہیں دی، ہر موقعے پر ان کے کسی چھوٹے ہی کا فون آیا کہ ہمارے حضرت صاحب کی دلی خواہش ہے کہ تم ان کے مدرسے کو وزٹ کرو اور یہاں اساتذہ و طلبہ سے خطاب کرو۔ ایک مرتبہ تو یہ ہوا کہ ایک بہت ہی بڑے مدرسے کے سرپرست اور مہتمم نے اسی افسر شاہی انداز سے مجھے بلوایا اور میں اپنی سعادت جان کر وہاں چلا بھی گیا۔ وہاں پہنچ کر یہ خبر ملی کہ مجھ سے ملاقات کے مشتاق حضرت صاحب کسی مسئلے میں پھنس گئے ہیں اور نہ آ سکیں گے۔ مجھے ذرہ برابر ناگواری نہ محسوس بلکہ دل سے دعا کی کہ حضرت صاحب کسی مشکل میں نہ پڑیں۔ اب عام اخلاقی قاعدے کے مطابق انھیں دو چار دن میں خود فون کر کے اس دن اپنی غیر حاضری پر معذرت کرنی چاہیے تھی مگر کچھ بھی نہیں۔ مجھ ایسوں کے لیے تو ان کا بلوانا ہی باعثِ اعزاز ہے مگر اب یہ خیال میری ہی کسی کمزوری سے شدت پکڑتا جا رہا ہے کہ بڑے بڑے دینی ادارے اسٹیبلشمنٹ کی طرح چلائے جا رہے ہیں اور ان کے سربراہان عمومی اخلاقی قدروں کی بھی پاسداری نہیں کرتے۔ حال ہی میں ایک بڑے حضرت کی طرف سے ایسی ہی ایک through proper channel طلبی ہوئی تو میں نے جی کڑا کر کے مہتممِ اعلیٰ صاحب کے پی اے سے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ حضرت جی سے کہہ دیں کہ اگر وہ ملنا چاہتے ہیں تو مجھ سے خود فون پر وقت لیں اور غریب خانے پر تشریف لے آئیں۔ ان کا فون میرا کوئی ماتحت یا شاگرد نہیں سنے گا، میں خود ہی ریسیو کروں گا۔ مذہبی مقتداؤں اور رہنماؤں کی اچھی خاصی تعداد اس متکبرانہ کلچر میں کھپ چکی ہے۔ اس انتہائی سنگین مرض پر اگر ہمارے بڑے علما کی توجہ نہ ہوئی تو ایک پرانے صوفی کے اس شعر میں مذکور صورتِ حال اکثر مدارس اور خانقاہوں کو خاکم بدہن اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔

خانۂ شرع خرابست کہ اربابِ صلاح
در عمارتگریِ گنبدِ دستارِ خودند

اسی طرح کتنے علما ہیں جو الحاد کی یلغار روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ یہ تو مجھ ایسے جاہل کو بھی معلوم ہے کہ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ خدا اور دین کے انکار کا ہے جو مسلم معاشروں میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ اس خطرے کا سامنا ظاہر ہے کہ علمائے دین ہی کی ایک جماعت کو کرنا چاہیے۔ لیکن وہ متخصصین کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟ اگر مجھ ایسے کچھ لوگ کوئی ٹوٹی پھوٹی کوشش کرتے بھی ہیں تو علما کی سرپرستی اور رہنمائی میسر نہیں آتی۔ بلکہ بعض اوقات تجدد وغیرہ کے طعنے سننے پڑتے ہیں، خاص طور پر ان خدائی فوجداروں سے جو ہماری روایت کی زمین پر زہریلی کھمبیوں کی طرح اگ پڑے ہیں۔ یہ لوگ خود کو روایتی علما کا ہراول دستہ سمجھتے ہیں۔ جھوٹ، غیبت، اجڈپن، بہتان وغیرہ ان کے اصلی ہتھیار ہیں جنھیں یہ بلیک میلروں اور بھتّا خوروں کی طرح بیدریغ استعمال کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی ایک بلیک میلر مجھ ناچیز پر بھی مہربان ہیں اور مولوی كہلاتے ہیں۔ میرا مزاج ہے کہ خود پر تنقید کو دلچسپی بلکہ احسان مندی کے جذبے سے سنتا ہوں۔ مگر ان صاحب نے میرے اس طبعی مزاج کو متزلزل کر کے رکھ دیا۔ ان کی ساری تنقید کم فہمی اور اظہارِ خبث کا ملغوبہ ہے جسے جھوٹ اور بہتان کے طشت میں سجایا گیا ہے۔ علما کی طرف سے ان کے نام کی آڑ میں کذب و غیبت وغیرہ کی دکان آراستہ کرنے والی اس عجیب و غریب مخلوق پر کوئی سنجیدہ اور مضبوط گرفت کم از کم آج تک تو دکھائی نہیں دی، کل کا علم اللہ کو ہے۔

معافی چاہتا ہوں، زندگی میں شاید پہلی بار دل کے پھپھولے پھوڑ رہا ہوں اور اپنی مستقل حالت کے برخلاف اس طرح کی آپ بیتی سنانے پر مجبور کر دیا گیا ہوں۔ تو قصہ مختصر آج کے سچے اور باکردار اور بااختیار علما کی اکثریت اپنی کچھ نہایت اہم ذمہ داریاں ادا کرنے سے غافل یا قاصر نظر آتی ہے۔ اس مبارک طبقے کے ہم پر احسانات بھی اتنے زیادہ ہیں کہ شمار کرنا بھی مشکل ہے۔ علما کا سایہ سر پر سے ہٹ جائے تو ضلالت اور ہوا پرستی کی دھوپ ہمیں جلا کر رکھ دے۔ اور اسی طرح مدارس نہ ہوتے تو دین ہمارے معاشرے سے شاید غائب ہو چکا ہوتا۔ تاہم احسان مندی ہی کا تقاضا ہے کہ ملت کے ان حقیقی مقتداؤں کو جدید دنیا میں سر اٹھانے والی روحانی، عقلی اور اخلاقی بلاؤں کی طرف متوجہ کیا جائے جن سے وہی ہمیں بچا سکتے ہیں۔ لیکن بہت شرمندگی کے ساتھ عرض کر رہا ہوں کہ دین کی عمارت کو گرانے کا عزم کر کے یلغار کرنے والی ان طاقتوں سے مقابلے کی تیاری فی الحال ہمارے طبقۂ علما میں نظر نہیں آتی۔ ہم ایسے بے بضاعت مگر آج کی رزم گاہ میں پاؤں جمائے رکھنے کی کوشش کرنے والے تو غایتِ ادب سے حافظ کا یہ شعر بھی نہیں سنا سکتے کہ:

شبے تاریک و بیمِ موج و گردابے چنیں ہائل
کجا دانند حالِ ما سبکبارانِ ساحلھا

یہ بھی پڑھیں: میرا ذوق مطالعہ اور پسندیدہ کتب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احمد جاوید (1)

(Visited 1 times, 16 visits today)

Leave a Reply

2 تبصرے

  1. ارشد محمود on

    ایک سچے آدمی کے دل سے نکلی تلخ و شیریں باتیں اچھی لگیں تاہم مذکورہ کلپ اور وڈیو دیکھے بنا بہت کچھ کہنا ممکن نہیں

    مجھے اس مضمون میں رجوع سے زیادہ مایوسی اور تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے

  2. مذہبی اذہان کے آپسی مناقشوں کا (جن کے ختم ہونے کا کوئی امکان بھی نہیں) یہی نتیجہ نکلنا تھا۔

Leave A Reply

%d bloggers like this: