وحید مراد اور ہمارا عہد: مواخات —- قسط 8 — خرم علی شفیق

0
  • 167
    Shares

اس دفعہ قسط ایک دو روز کی تاخیر سے سامنے آرہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں کمنٹس پڑھنے کے بعد ہی اگلی قسط کا خاکہ ذہن میں بناتا ہوں۔ پچھلی قسط نہ جانے کیوں بہت سے مستقل پڑھنے والے بھی کئی دن تک نہیں پڑھ سکے۔ اس لیے اس قسط پر کام دیر سے شروع ہوا (سمجھ جائیے کہ اگلی قسط اگر وقت پر چاہیے تو وہ آپ کے ہاتھ میں ہے، جلدی سے یہ قسط پڑھ کر اپنی رائے سے آگاہ کر دیجیے)! ویسے پچھلی قسط پر زیادہ تر پسندیدگی کے تبصرے موصول ہوئے ہیں۔ صرف ایک تجویز یہ ملی کہ وحیدمراد کی فلموں کی کہانیوں سے ان کے مداح پہلے ہی واقف ہیں اس لیے کیوں نہ صرف اس زمانے کے واقعات اور وحید کی زندگی کے حالات پر زیادہ توجہ دی جائے؟ اُمید ہےکہ اس دفعہ سیاسی واقعات اور حالاتِ زندگی کے بارے میں تشنگی محسوس نہیں ہو گی۔ لیکن جہاں تک بعض فلموں کی کہانیوں کا تفصیل سے ذکر کرنے کی بات ہے، اُن کے صرف خلاصے ہی تو پیش نہیں کیے جا رہے۔ اصل کوشش تو یہ ہے کہ ان کہانیوں کے ذریعے ہم اپنے آپ کو پہچان سکیں۔ کیا خیال ہے آپ کا؟۔ مصنف۔


کہتے ہیں کہ ایک دفعہ پرندے اپنے بادشاہ کی تلاش میں نکلے جس کا نام سیمرغ تھا لیکن جسے کسی نے دیکھانہیں تھا۔ سات دشوارگزار وادیوں سے گزر کر صرف تیس پرندے بادشاہ کے دربار تک پہنچے۔ وہاں اُنہوں نے دیکھا کہ وہ سب مل کر ایک وجود بن گئے ہیں۔ یہی سیمرغ ہے کیونکہ فارسی میں سی کا مطلب ہے، تیس اور مرغ کا مطلب ہے پرندہ۔ سیمرغ جو کچھ کہہ رہا تھا وہ آواز کے بغیر ہر پرندے کے دل تک پہنچ رہا تھا۔ لیکن ہر پرندے کی انفرادیت بھی برقرار تھی۔

یہ کہانی بارہویں صدی میں صوفی شاعر شیخ فریدالدین عطار نے ’’منطق الطیر‘‘ کے عنوان سے لکھی۔ بعد میں بہت سے لوگوں نے اِس میں کچھ اور معانی تلاش کیے لیکن بالکل سیدھے سادے الفاظ میں یہ ایک ’’بادشاہ‘‘ کی تلاش کی کہانی ہے یعنی اس کا موضوع ایک آئیڈیل نظامِ حکومت ہے۔ بہرحال مولانا روم، امیر خسرو، بھٹائی، وارث شاہ اور علامہ اقبال سمیت کوئی بڑا اور مقبول مسلم شاعر نہیں جس کے یہاں اِس کہانی کے اثرات نہ ملتے ہوں۔ اقبال کے اکثر شعر کسی نہ کسی طرح عطار سے ماخوذ ہیں، مثلاً یہ مشہور شعر دراصل پرندوں کے سفرنامے کی تیسری وادی کا خلاصہ ہے:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اس کے علاوہ اقبال نے ہمیشہ اپنی مثالی ریاست کے بارے میں یہی بتایا کہ وہاں فردِ واحد حکمراں نہیں ہو گا بلکہ ہر فرد بجائے خود حکمراں ہو گا۔ مثلاً خطبۂ الٰہ آباد میں، جہاں اُنہوں نے مسلم ریاست کا تصوّر پیش کیا، وہ کہتے ہیں:

’’قرآن مجید کی ایک نہایت معنی خیز آیت یہ ہے کہ پوری انسانیت کی موت و حیات بھی فردِ واحد کی موت و حیات کی طرح ہے۔ آپ جو بجا طور پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ آپ ایک قوم کے طور پر انسانیت کے اِس بہترین تصوّر کی پہلی عملی مثال ہیں، کیوں نہیں آپ سب کا جینا اور حرکت کرنا، اور آپ کا پورا وجود ایک فردِ واحدکی طرح ہو سکتا؟‘‘

یہ سیمرغ کا تصوّر ہی ہے کہ ’’سب کا جینا اور حرکت کرنا‘‘ اور سب کا ’’پورا وجود ایک فردِ واحدکی طرح‘‘ ہو جائے، اور یہ اقبال کے اپنے الفاظ میں اُس ریاست کی تشریح ہے جس کا خواب انہوں نے دیکھا۔ 1946 کے انتخاب میں عوام نے اسی ریاست کے حق میں ووٹ دئیے۔ لیکن اُس وقت صرف یہ پوچھنے کا موقع تھا کہ کیا مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کے علاقوں کو ہندوستان سے علیحدہ کر دیا جائے؟ اِس سے اگلا سوال یہی ہو سکتا تھا کہ ان دونوں علاقوں میں اختیارات اور وسائل کس طرح تقسیم ہوں۔ چنانچہ 1970 کے انتخاب میں درحقیقت یہی سوال درپیش تھا۔

اس انتخاب میں عوامی لیگ نے فتح حاصل کی۔ اس کا منشور چھ نکات پر مبنی تھا جن کا خلاصہ یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ اختیارات مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کی صوبائی حکومتوں کو تفویض کر دئیے جائیں اور مرکز کا اختیار بہت محدود ہو۔ قومی اسمبلی کی 300 نشستوں میں سے160 عوامی لیگ نے حاصل کیں اگرچہ یہ تمام مشرقی پاکستان سے تھیں (اگرچہ عوامی لیگ نے مغربی پاکستان میں بھی نمایندے کھڑے کیے تھے)۔ مغربی پاکستان میں نومبر 1967 میں ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان پیپلز پارٹی کے نام سے نئی سیاسی جماعت بنائی تھی، جس کا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان تھا۔ اس جماعت نے مشرقی پاکستان میں کوئی نمایندہ کھڑا نہیں کیا۔ بلوچستان سے کوئی نشست حاصل نہ کر سکی۔ صوبہ سرحد سے ایک نشست حاصل کی۔ سندھ اور پنجاب میں زیادہ نشستیں حاصل کیں جنہیں ملا کر کُل 81 نشستیں بنتی تھیں۔

لیکن مغربی پاکستان کے ایک اخبار کی شہ سرخی تھی، ’’بھٹو آ گیا‘‘ ! قومی اسمبلی کا اجلاس ڈھاکہ میں ہونا تھا۔ صدر یحییٰ اور بھٹو نے اقتدار مجیب کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا (بھٹو کا فقرہ اخبارات میں آیا کہ اگر کوئی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہونے گیا تو ’’میں اُس کی ٹانگیں توڑ دوں گا‘‘)۔ مشرقی پاکستان میں سخت احتجاج ہوا۔ 25 مارچ کو وہاں پاکستان فوج نے آپریشن کا آغاز کر دیا۔ مجیب کو گرفتار کر کے مغربی پاکستان میں قید کیا گیا جہاں وہ سال کے آخر تک حالات سے بیخبر رکھے گئے۔ اس دوران مشرقی پاکستان خانہ جنگی کی لپیٹ میں آ گیا اور بھارت نے کھل کر علیحدگی پسندوں کی حمایت کی۔

اس ہنگامے کو پس منظر میں رکھتے ہوئے اگر ہم اُن آوازوں کی طرف متوجہ ہوں جو کسی فردِ واحد کی نہیں بلکہ پوری قوم کی آوازیں تھیں، اور جنہیں معاشرے کے ہر طبقے نے قبول کیا، تو بنگالی گلوکارہ شہناز بیگم کی آواز سب سے اونچی سنائی دیتی ہے، ’’جیوے، جیوے، جیوے پاکستان‘‘ ۔ اشعار جمیل الدین عالی نے لکھے اور موسیقی سہیل رعنا نے بنائی۔ پچھلے برس ریلیز ہونے والے ’’سوہنی دھرتی‘‘ کی طرح یہ بھی اب ہماری پہچان بن چکا ہے اور قومی ترانے کے بعد اس کا مقام بھی ’’سوہنی دھرتی‘‘ کے ساتھ ہے۔

ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اس کا ایک ایک مصرعہ جہاں پاکستان کے بارے میں ہے، وہاں سیمرغ کے تصوّر پر بھی بالکل اُسی طرح پورا بیٹھتا ہے جیسے اسے جمیل الدین عالی کی بجائے فریدالدین عطار نے لکھا ہو:

من پنچھی جب پنکھ ہلائے، کیا کیا سُر بکھرائے
سننے والے سنیں تو اُن میں ایک ہی دُھن لہرائے
پاکستان، پاکستان، جیوے پاکستان!
بکھرے ہوؤں کو، بچھڑے ہوؤں کو، اِک مرکز پہ لایا
کتنے ستاروں کے جھرمٹ میں سورج بن کر آیا
پاکستان، پاکستان، جیوے پاکستان!
جھیل گئے دُکھ جھیلنے والے اب ہے کام ہمارا
ایک رکھیں گے، ایک رہے گا، ایک ہے نام ہمارا
پاکستان، پاکستان، جیوے پاکستان!

مشرقی پاکستان سے آخری فلم جو مغربی پاکستان پہنچی، وہ ندیم اور شبانہ کی ’’جلتے سُورج کے نیچے‘‘ تھی۔ اس میں مسرور انور کی ایک غزل ایسی ہے جس پرذرا سنجیدگی سے غور کیا جائے تو وہی پیغام برآمد ہوتا ہے جو ’’جیوے پاکستان‘‘ میں ہے:

زندگی کتنی حسیں ہے، آزما کر دیکھیے!
زندگی کی تلخیوں کا لُطف اٹھا کر دیکھیے!
اپنی آنکھوں میں چُھپا کر آنے والے کل کے خواب
دو گھڑی بِیتے دنوں کا غم بھلا کر دیکھیے!
کون کہتا ہے کہ آنسو ہیں غمِ دل کا علاج!
پیار کی سچی خوشی لب پہ سجا کر دیکھیے!
اپنی اپنی راحتوں سے جب کبھی فرصت ملے
دوسروں کا درد بھی دل میں جگا کر دیکھیے!

اس زمانے میں ابنِ صفی مستقل یہی درس دئیے جا رہے تھے کہ فرقہ واریت پر مبنی افواہیں پھیلا کر دشمن کے آلۂ کار مت بنیے۔ ان کے ناول ’’اجنبی کا فرار‘‘ کے 4 جنوری 1971 کو لکھے ہوئے پیشرس کے یہ جملے پوری وضاحت کر دیتے ہیں:

’’ایک صاحب نے مجھے لکھا ہے، ’جہاں دو چار مل بیٹھتے ہیں وہاں ہر طرح کی باتیں ہوتی ہیں، مثال کے طور پر کوئی صاحب کوئی ایسا قصّہ سناتے ہیں جس میں ایک صوبے کے فرد پر کسی دوسرے صوبے کے آدمی کی زیادتی کا ذکر ہو تو آپ اِسے افواہ سازی کس طرح کہیں گے جبکہ وہ واقعہ حقیقت پر مبنی ہو!‘ ان صاحب کا خط طویل ہے لیکن یہ ٹکڑا خصوصیت سے جواب طلب ہونے کی بنا پر میری توجہ کا مرکز بنا۔ گذارش ہے کہ واقعہ سنانے والے کو آپ جیسا پڑھا لکھا آدمی یہ تو سمجھا ہی سکتا ہے کہ وہ دو صوبوں کی بجائے دو نالائق پڑوسیوں کی بات کریں۔ دو نالائق بھائیوں کی بات کریں جو وقتی غصّے کے تحت ایک دوسرے کو قتل کر دینے پر بھی آمادہ ہو سکتے ہیں۔ ایک ماں کی کوکھ سے جنم لینے والوں کو میں نے آپس میں کٹتے مرتے دیکھا ہے۔ آپ دو صوبوں کی بات لئے پھرتے ہیں۔ لہذا ایسے واقعات کو صوبائی رنگ دینا دانشمندی نہیں ہو سکتی!‘‘

قوم نے حیرت کے ساتھ پاک فضائیہ کے بیس سالہ پائلٹ آفیسر کے بارے میں بھی سنا جس نے 20 اگست1970 کی صبح اپنے طیارے کو زمین سے ٹکرا کر جامِ شہادت نوش کر لیا۔ یہ راشد منہاس شہید تھے جنہیں نشانِ حیدر دیا گیا۔ وہ تمام سپاہی جنہوں نے پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں (اور جن میں غیرمسلم بھی شامل ہیں)، ہمارے ہیرو ہیں اور راشد منہاس شاید ہمارے لیے اُن سب کا استعارہ بن گئے ہیں۔ اُن کا چہرہ نگاہوں کے سامنے آنے پر ہم عام طور پر صرف اُنہی کے بارے میں نہیں بلکہ ایسے تمام محسنوں کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔

میں نے اُن کی مفصل سوانح بھی لکھی ہے (جو شائع ہو چکی ہے)۔ اُن کی جمع کی ہوئی کتابیں، اور اُن کے لکھے ہوئے خطوط اور ڈائریاں پڑھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ اگرچہ وہ صرف بیس برس کی عمر میں دنیا سے چلے گئے لیکن اس مختصر مدت میں بھی اُن کا وسیع مطالعہ دوسری جنگِ عظیم کے بارے میں درجنوں کتابوں سے لے کر چرچل کی خودنوشت سوانح اور علامہ اقبال کی شاعری کے انگریزی تراجم تک پھیلا ہوا تھا۔ اُن کے ہیروز میں قائداعظم کے ساتھ ساتھ گاندھی بھی شامل تھے۔ آخری زمانے میں وہ اسلام کا مطالعہ کر رہے تھے جس کے حوالے سے انہوں نے اپنے ایک خط میں لکھا کہ اب تک انہیں مذہب کے بارے میں وہی کچھ معلوم ہے جو بزرگوں سے سنا لیکن اب اپنے طور پر مذہب کو پہچاننا چاہتے ہیں۔ 1970 کے انتخاب میں وہ بھٹو کے حامی تھے لیکن انتخاب کے بعد گھر میں اکثر کہتے تھے کہ جب عوامی لیگ انتخاب جیت گئی ہے تو پھر اقتدار اُس کے حوالے کر دینا چاہیے۔ ایسا مؤقف رکھنے کے باوجود اُنہوں نے اپنے طیارے کو ہائی جیک ہونے سے بچانے کے لیے جان دے دی جس کی وجہ سے یہ قربانی اور زیادہ قیمتی ہے کہ یہ صرف اپنے فرض کی خاطر دی گئی۔ اس میں کسی تعصّب یا منفی جذبے کا کوئی دخل نہیں تھا۔

اقبال کی فارسی مثنوی ’’گلشنِ راز جدید‘‘ کے کچھ اشعار کا انگریزی ترجمہ انہوں نے نوٹ بک میں اپنے ہاتھ سے لکھ رکھا تھا۔ اُردو میں اُن کا مفہوم ہے:

’’ہمارا دل کسی وہم کے پیچھے نہیں دوڑ رہا۔ بے حاصل غم ہمارا نصیب نہیں ہے۔
یہاں آرزو، سرور اور جستجو کے ذوق و شوق کا دھیان رکھا جاتا ہے۔
خودی کو لازوال کیا جا سکتا ہے اور جدائی کو وصال بنایا جا سکتا ہے۔
ایک گرم سانس سے چراغ جلایا جا سکتا ہے۔ اِس سوئی سے آسمان کا چاک سِیا جا سکتا ہے۔‘‘

راشد کی تعلیم اعلیٰ درجے کے انگلش میڈیم اسکولوں میں ہوئی اس لیے اُنہیں امریکی گلوکار جِم رِیوز (Jim Reeves) کے نغمے سب سے زیادہ پسند تھے۔ بھارتی گلوکاروں میں کشور کمار پسند تھے۔ انگریزی فلموں، بالخصوص جنگ کے موضوع پر بنی ہوئی فلموں، کے دلدادہ تھے اور دیسی فلموں کی گھریلو کہانیاں برداشت کرنا ان کے بس سے باہر تھا۔ لیکن ملک کے اکثر نوجوانوں کی طرح وہ بھی وحید کے مداح تھے (جب 1966 میں ’’ارمان‘‘ ریلیز ہوئی تو اُن کی عمر صرف پندرہ برس تھی)۔ چنانچہ اُن کی بعض تصویروں میں یہ اثر واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے (چند تصاویر اِس قسط کے ساتھ پیش کی جا رہی ہیں)۔

اور وحید خود کیا کر رہے تھے؟ 1971 میں اُن کی چار اُردو فلمیں ریلیز ہوئیں: ’’نیند ہماری خواب تمہارے‘‘ ، ’’رِم جِھم‘‘ ، ’’افشاں‘‘ اور ’’خاموش نگاہیں‘‘ ۔ ایک پنجابی فلم ’’مستانہ ماہی‘‘ بھی آئی۔ اِن اُردو فلموں کے جو نغمے ہماری زبان کا حصہ بن چکے ہیں، اُن میں سے کچھ ہیں، ’’ناراض نہ ہو تو عرض کروں‘‘ (نیند ہماری خواب تمہارے)، ’’گڑیا جاپانی‘‘ (خاموش نگاہیں)، ’’لاکھوں حسیں ہیں مجھے تم کیوں پسند ہو؟‘‘ اور ’’افشاں‘‘ کا یہ نغمہ:

خدا کرے کہ محبت میں وہ مقام آئے،
کسی کا نام لوں، لب پہ تمہارا نام آئے!

’’مستانہ ماہی‘‘ 24 ستمبر 1971 کو ریلیز ہوئی۔ یہ فلم آرٹس کی پیشکش تھی۔ ہدایات افتخار خاں نے دیں۔ نغمات سمیت پورا اسکرپٹ حزیں قادری نے لکھا (اس سے پہلے ان کا سب سے مشہور نغمہ تھا، ’’گول گپے والا آیا، گول گپے لایا‘‘ )۔ موسیقی نذیر علی نے دی، جن کی وجۂ شہرت یہ ہے کہ انہوں نے سب سے زیادہ فلموں کے لیے ’’دھمال‘‘ یعنی ’’دما دم مست قلندر‘‘ کے نمونے پیش کیے ہیں۔ نمایاں ستاروں میں وحید کے علاوہ عالیہ، نغمہ، منور ظریف، اسد بخاری، تایا برکت، رنگون والا، محمد یوسف، اجمل، رضیہ، خلیفہ نذیر، رشید ظریف، آشا پوسلے اور چوہان شامل تھے۔

اِس فلم کے حوالے سے وحید نے اپنی زندگی کے آخری زمانے میں ٹی وی پروگرام ’’سلور جوبلی‘‘ میں بتایا:

’’کئی لوگوں نے مجھے کہا کہ پنجابی فلم میں کام کرو، کام کرو۔ تو پروڈیوسر ہونے کی حیثیت سے – میں پروڈیوسر بھی تھا بلکہ ابتدا پروڈیوسر کی حیثیت سے کی تھی – میں نے سوچا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر پہلی پنجابی فلم میں خود ہی کیو ں نہ بناؤں! تاکہ اپنے مطلب کی بھی ہو، اور مستانہ ماہی ایک بڑی انوکھی فلم تھی، پنجابی کے حساب سے [لیکن] اگر وہ فلم کسی بھی زبان میں بنے اور کسی بھی ملک میں بنے ناں، تو وہ کہانی اپنی جگہ اچھی کہانی ہے۔‘‘

اس فلم کے بہت سی یادگار نغمات ہیں، جیسے ’’اینہاں پُھل کلیاں دی محفل وِچ‘‘ لیکن جو نغمہ فوراً ہی لوک گیت جیسی حیثیت اختیار کر گیا وہ ہے، ’’سیونی میرا ماہی میرے بھاگ جگاون آ گیا۔‘‘ اس کے بارے میں وحید نے ’’سلور جوبلی‘‘ میں بتایا:

’’سیونی میرا ماہی پہ بڑی محنت کی میں نے۔ لاہور میں میوزک ڈائرکٹر اور سونگ رائٹر بہت بزی تھے۔ میں انہیں خاص طور پہ کراچی لایا۔ ہوٹل میں ٹھہرایا۔ تاکہ وہ بالکل سکون سے ہوں اور بیٹھ کے میرے گانے بنائیں۔‘‘

میوزک ڈائرکٹر نذیر علی نے ٹیلی وژن کے ایک پنجابی پروگرام مٹھرے گیت کو انٹریو دیا جو کچھ برس پہلے تک یوٹیوب پر موجود تھا لیکن اب شاید وہاں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اُس پنجابی انٹریو کے ایک اقتباس کا اُردو ترجمہ کچھ یوں ہے:

’’اس گیت کے پیچھے ایک بڑی لمبی کہانی ہے۔ جب [حزیں] قادری صاحب نے مجھے یہ لائنیں دیں، میں نے سوچا کہ یہ لائنیں بہت طویل ہیں۔ میں ان کی طرز کیسے بناؤں گا! لیکن پھر میں نے اپنے مرشد لعل شہباز قلندر کا تصوّر کیا، اور تصوّر کیا کہ میرے مرشد میرے بھاگ جگانے میرے گھر آ گئے ہیں۔‘‘

فلم کا آغاز ایک میاں بیوی، فقیرا (خلیفہ نذیر) اور بختو (رضیہ) کی کہانی سے ہوتا ہے، جن کا تعلق دو مختلف دیہاتوں سے ہے۔ بختو اپنے اپنے گاؤں گئی تھی لیکن اب وہاں کا بدمعاش لاکھا (اسد بخاری)اُسے شوہر کے پاس واپس نہیں جانے دے رہا۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے بھی بدمعاش کو سمجھانے کی بجائے یہ کہنے لگتے ہیں کہ فقیرا اپنی دکان کے ساتھ اُن کے گاؤں منتقل ہو جائے۔

فقیرے کو عوامی لیگ اور بختو کو حکومت سمجھ لیا جائے تو کہانی کی مزید تشریح کی ضرورت نہیں رہتی، خاص طور پر اگر وہ پیغام بھی ذہن میں رکھا جائے جو فلم ’’سمندر‘‘ میں دیا گیا تھا۔ بختو کے گاؤں والوں کا مطالبہ کہ فقیرا اپنی دکان لے کر اُنہی کے گاؤں آ جائے، ویسا ہی ہے جیسے مغربی پاکستان کے اربابِ سیاست عوامی لیگ سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ اپنے چھ نکات میں ترمیم کرے تب اُسے اقتدار دیا جا سکتا ہے۔ کہانی کا ہیرو راجُو (وحید مراد) اس کے متعلق گاؤں والوں سے کہتا ہے، ’’یہ بات میں بختو کو رخصت کرنے کے بعد کروں گا۔‘‘ لیکن یہ بات کرنے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی کیونکہ فقیرا اس شرافت سے متاثر ہو کر کہتا ہے، ’’ہم اُسے یہ بات کہنے کا موقع ہی نہیں دیں گے۔ اُس کے کہنے سے پہلے ہی دکان لے کر یہاں آ جائیں گے۔‘‘

فلم کے بہت سے اشارے اور مکالمے اُس زمانے کی سیاسی صورت حال کی روشنی میں معنی خیز ہو جاتے ہیں۔ لاکھے پہلوان کی بیٹھک میں ٹائیگر کی کھال لٹکی ہوئی ہے جو پنجاب میں نہیں ہوتا اور بنگال کی مشہور علامت ہے۔ اُس کا گُرگا (منور ظریف) اُس سے کہتا ہے، ’’آج آپ کا مُوڈ دیسی نہیں لگتا۔ میرا مطلب ہے کچھ فارن کنٹری والی طبیعت ہوئی ہے آپ کی۔‘‘ لاکھے پہلوان کا مخصوص جملہ ہے، ’’میں جہاں پاؤں دھروں وہاں بھونچال آ جائے!‘‘ ایک موقع پر وہ اپنے ہی گاؤں میں پِٹ جاتا ہے تو گُرگا کہتا ہے کہ کاش ’’یہی لڑائی آپ نے باہر لڑی ہوتی‘‘ ! راجُو اپنے گاؤں کے بڑوں سے کہتا ہے، ’’میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ شریف گھروں کے فیصلے ایک بدمعاش کی بیٹھک پر کیوں پہنچ گئے ہیں؟ آپ لوگ خود مل کر اِن باتوں کے فیصلے کیوں نہیں کرتے؟‘‘ اس پر لاکھا بدمعاش دھمکی دیتا ہے، ’’میں اب دیکھوں گا راجُو، تم لوگ اپنے فیصلے کس طرح کرتےہو!‘‘

وحید نے اِس فلم میں ڈبل رول کیا۔ اُن کا دوسرا کردار ڈاکٹر شکیل احمد تھا جو شہر کے ایک امیر گھرانے کا لڑکا ہے۔ جب اُسے معلوم ہوتا ہے کہ گاؤں میں رہنے والا غریب راجُو حقیقت میں اُس کا سوتیلا بھائی ہے جسے شکیل کی ماں (آشا پوسلے) نے جائیداد اور ولدیت سے محروم کر دیا تھا تو وہ اِس زیادتی کو بے نقاب کر کے اپنے بھائی کو وراثت میں سے حصہ دلواتا ہے اور اُس کی شادی اپنی ماموں زاد جمیلہ خانم (نغمہ) کے ساتھ کروا دیتا ہے، جسے راجُو سے محبت ہے۔ اِس سے پہلے ایک موقع پر راجو بہت دُکھی ہو کر مرحوم باپ کی تصویر کو مخاطب کر کے کہتا ہے:

’’دیکھ لے، ابّا! یہ گھر ہے تیرے غریب بیٹے کا۔ مجھے کہیں غریب سمجھ کے تو میرا گھر نہیں چھوڑ گیا تھا، ابّا؟ امیر آدمی تھا ناں، جبھی قبر بھی امیر بیٹے کے پاس بنائی تھی!‘‘

یہ تقریباً ویسی ہی بات ہے جیسی پانچ سال پہلے فلم ’’بھیّا‘‘ کی ہیروئین نے قائداعظم کی تصویر کو مخاطب کر کے کہی تھی۔ یہاں راجُو اپنے مرحوم باپ کی تصویر سے یہ بات کہہ رہا ہے، لیکن ہمیں وہ تصویر نہیں دکھائی جاتی۔ بڑی آسانی کے ساتھ فرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ قائداعظم کی تصویر ہے کیونکہ اُس زمانے کا مشرقی پاکستان بھی اُن کی رُوح کو مخاطب کر کے یہی باتیں کہہ سکتا تھا جو راجُو اپنے باپ کی تصویر سے کہہ رہا ہے (ہم نے دیکھا ہے کہ ابنِ صفی نے بھی ’’مستانہ ماہی‘‘ کی ریلیز سے نو دس مہینے پہلے یہی کہا تھا، ’’دو صوبوں کی بجائے دو نالائق پڑوسیوں کی بات کریں۔ دو نالائق بھائیوں کی بات کریں…‘‘ )! کسی اور زمانے میں کوئی اور یہ فریاد کر سکتا ہے بلکہ ہر زمانے میں پاکستان کا ہر غریب، ہر مظلوم یہی بات کہہ سکتا ہے۔

لیکن ’’مستانہ ماہی‘‘ صرف مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتی بلکہ ایک ایسا حل بھی پیش کرتی ہے جو آج بھی اُتنا ہی قابلِ عمل ہے جتنا 1971 میں تھا۔ یہ حل مواخات ہے یعنی بھائی چارہ قائم کرنا۔ جس کسی کے پاس طاقت یا وسائل ہیں، وہ اُن لوگوں کو سگے بھائیوں کی حیثیت دینے پر تیار ہو جائے جو طاوت اور وسائل سے محروم ہیں، جس طرح شکیل نے راجُو کو اپنی جائیداد میں حصہ دار بنایا۔ لیکن یہ بھائی چارہ کسی نئی بنیاد پر قائم نہیں ہو سکتا بلکہ اُس رشتے کو پہچاننا ہے جو پہلے سے موجود ہے۔ پاکستانیوں کے درمیان یہ رشتہ قائداعظم کے حوالے سے ہے کیونکہ وہ سب کے ’’بابائے قوم‘‘ ہیں۔ کسی کا تعلق کسی بھی صوبے، زبان یا مذہب سے ہو، اور خواہ کوئی امیر ہو یا غریب، پڑھا لکھا ہو یا ناخواندہ ہو، بہرحال سب قائداعظم کی معنوی اولاد ہیں (شکیل اور راجُو کوئی نیا رشتہ قائم نہیں کر رہے، جیسے ’’احسان‘‘ میں کیا گیا، وہ دوست بھی نہیں بن رہے جیسے ’’سمندر‘‘ میں جیرا اور راجہ تھے بلکہ وہ اُس رشتے کو پہچاننے میں کامیاب ہوئے ہیں جو پہلے سے اُن کے درمیان موجود ہے لیکن جسے مفاد پرست رشتے داروں نے دنیا کی نظروں سے اور خود اُن کی نظروں سے بھی چھپا دیا تھا)۔

مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجوں نے 16 دسمبر 1971 کو بھارتی فوجوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ ہزاروں سپاہی بھارت کے جنگی قیدی بن گئے۔ مشرقی پاکستان علیحدہ ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔ ابن صفی نے لکھا:

’’میں اس کے علاوہ اور کچھ نہیں عرض کر سکتا کہ مایوسی کو پاس نہ پھٹکنے دیجیے۔ دنیا کی کئی قومیں اس وقت کڑے آزمائشی دور سے گزر رہی ہیں! ایسے حالات میں صرف ثابت قدمی اور قومی یکجہتی برقرار رکھنے کی کوشش ہی ہمیں سُرخ رُو کر سکتی ہے! دشمن ایک بار پھر ہماری صفوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ لہٰذا ہوشیار رہیے، افواہوں پر کان نہ دھرئیے۔ قومی تعمیرِ نو میں پوری پوری ایمانداری سے حصّہ لیجئے۔ اور اللہ سے دعا کرتے رہئیے کہ وہ قوم کے معماروں کو فلاح کے راستے دکھاتا رہے!
’’ایک بار پھر گوش گزار کروں گا کہ دشمن کے ایجنٹوں کے پیشانیوں پر اُن کے آقا کی مہر نہیں ہوتی۔ وہ صرف گفتار اور کردار ہی سے پہچانے جا سکتے ہیں۔ مایوسی پھیلانے والوں پر کڑی نظر رکھئے!‘‘

مغربی پاکستان میں یحییٰ خاں نے صدارت بھٹو کے حوالے کر دی۔ بھٹو نے اعلان کیا کہ وہ ’’نیا پاکستان‘‘ بنائیں گے، وہ پاکستان ’’جو قائداعظم نے چاہا تھا‘‘ ۔ انہوں نے اہم صنعتیں نجی مالکوں سے لے کر حکومت کی تحویل میں دے دیں۔ 14 اگست 1973 کو ملک میں نیا آئین نافذ کیا جس کے بعد وہ صدر کی بجائے وزیراعظم بن گئے۔

کیا ایک نیا پاکستان قائداعظم کا پاکستان ہو سکتا ہے؟
اس سوال کا جواب ابن صفی نے اپنے ناول ’’زہریلا سیارہ‘‘ میں دیا ہے۔ وہاں کرنل فریدی کہتا ہے کہ معاشرے میں جرائم بڑھ گئے ہیں کیونکہ ’’آبادی بڑھ گئی ہے۔ وسائل محدود بھی ہیں اور چند ہاتھوں کا ان پر قبضہ ہے… دولت مندوں کو مزید دولت مند بننے کی آزادی ہے اور عوام کو قناعت پسندی کا سبق دیا جارہا ہے۔‘‘ اس پر فریدی سے کہا جاتا ہے کہ ’’اس کے علاوہ اور چارہ بھی کیا ہے‘‘ ، تو وہ جواب دیتا ہے:

’’چارہ ہی چارہ ہے۔ اگر خودغرضی او رجاہ پسندی سے منہ موڑ لیا جائے۔ ایک نئے انداز کی سرمایہ داری کی بنیاد ڈالنے کی بجائے خلوص نیت سے وہی کیا جائے جو کہا جاتا رہاہے۔ تو عوام کی جھلاہٹ رفع ہوجائے گی۔ ضرورت ہے کہ اُنہیں قناعت کا سبق پڑھانے کی بجائے ان کی ’خودی‘کو اُبھاراجائے جیسے بعض دوسرے ممالک میں ہوا۔‘‘

یہی فلم آرٹس کی پیشکش ’’جال‘‘ کا مرکزی خیال ہے، جو 31اگست 1973 کو ریلیز ہوئی۔ ہدایتکار افتخار خاں اور موسیقار نذیر علی تھے۔ نغمات مسرور انور اور خواجہ پرویز نے اور کہانی ریاض ارشد نے لکھی (اس کہانی میں ایلیا کازان کی مشہور فلم ’’بُوم رینگ‘‘ [Boomerang] سے ایک ٹکڑا بڑی خوبصورتی کے ساتھ اخذ کر کے ایک انوکھے انداز میں استعمال کیا گیا)۔ نمایاں ستارے وحید کے علاوہ نشو، حسنہ، ایس ایم سلیم، ساقی، ننھا، شائستہ قیصر، راشد، ناظم، امان صوفی، چنگیزی اور لڈن تھے۔

فلم کا ہیرو جہانگیر (وحید) ایک ٹیکسی ڈرائیور ہے ( جس طرح ’’ہیرا اور پتھر‘‘ میں جانُو گدھا گاڑی چلاتا تھا)۔ وہ اپنی بہن بانو (شائستہ قیصر) کو کالج میں پڑھاتا ہے۔ دونوں کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور والد کی جائیداد ایک ظالم چچا نے ہتھیا کر دونوں کو بے سہارا کر دیا ہے۔ بانو کو ایک ہم جماعت (ناظم) سے محبت ہو جاتی ہے۔ اس کا باپ سیٹھ ہارون بہت امیر ہے لیکن طبقاتی اونچ نیچ میں یقین نہیں رکھتا اس لیے رشتے پر تیار ہو جاتا ہے ( ’’نئے پاکستان‘‘ میں جو لوگ برسرِ اقتدار آئےتھے، وہ بھی یہی کہتے تھے کہ وہ طبقاتی فرق کے خلاف ہیں)۔ جلد ہی جہانگیر کو معلوم ہوتا ہے کہ ظالم چچا جس نے جائیداد سے محروم کیا تھا حقیقت میں سیٹھ ہارون کا آلۂ کار تھا اور شہر بھر کے جرائم کا اصل سرغنہ سیٹھ ہارون ہے۔ کیا ہماری تعلیم اور خلوصِ دل کے ساتھ کی ہوئی ساری کوششوں کا حاصل اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہم معزز ٹھگوں کے ’’جال‘‘ میں پھنس جائیں؟ یہ سوال جہانگیر عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو کر پوچھتا ہے۔

لیکن اسی عدالت میں بانو کے ایثار کی وجہ سے سیٹھ ہارون بھی بے نقاب ہو جاتا ہے۔ وہ بڑی مایوسی کے ساتھ جج کی طرف دیکھتا ہے جو فیصلہ لکھ رہا ہے۔ پھر جج کے پیچھے دیوار پر ذرا اوپر لگی ہوئی قائداعظم کی تصویرسے اُس کی نگاہیں چار ہوتی ہیں، جس کے بعد وہ بھری عدالت میں خودکشی کر لیتا ہے۔ برائی کی سب سے بڑی قوّت کو سب کی مشترکہ کوشش نے شکست دی یا قائداعظم کے اثرات نے، یا دونوں چیزوں نے؟ فیصلہ ناظرین پر منحصر ہے:

پیار کی دولت بخشی تم نے، مجھ پہ یہ احسان کیا
ایک ہی دل تھا پاس ہمارے، وہ تم پر قربان کیا
مرنا جینا ساتھ تمہارے، آج یہ وعدہ دہرائیں!
یہ رنگین سماں یہ موسم، کاش یہیں پر رُک جائیں!
دل کی دھڑکن مدھم مدھم، نظریں ملیں اور جُھک جائیں!

ان دو برسوں، یعنی 1972 اور 1973 میں ریلیز ہونے والی فلموں میں سے ’’جال‘‘ کے علاوہ جن فلموں میں وحید نے کام کیا اُن کے نام ہیں: ’’خلش‘‘ ، ’’ہل اسٹیشن‘‘ ، ’’ناگ منی‘‘ ، ’’دولت اور دنیا‘‘ ، ’’بندگی‘‘ ، ’’بہارو پھول برساؤ‘‘ ، ’’زندگی ایک سفر ہے‘‘ ، ’’ملاقات‘‘ ، ’’خواب اور زندگی‘‘ اور ’’انہونی‘‘ ۔

ان میں سے ہر فلم کسی نہ کسی لحاظ سے یادگار ہے۔ ان کے مشہور ترین نغمات میں سے کچھ ہیں، ’’پیار، پیار ہوتا ہے جب دل، دل سے ملتا ہے‘‘ (خلش)، ’’میرا دل نجانے کب سے تیرا پیار ڈھونڈتا ہے‘‘ (ہل اسٹیشن)، ’’میرا ایمان محبت ہے، محبت کی قسم!‘‘ (ناگ منی)، ’’تن تو پے واروں، من تو پہ واروں‘‘ (ناگ منی)، ’’گا میرے دیوانے دل‘‘ ، ’’خاموش ہیں نظارے اک بار مسکرا دو‘‘ (بندگی)، ’’ہر آدمی الگ سہی مگر اُمنگ ایک ہے‘‘ (زندگی ایک سفر ہے)، ’’اگر تم برا نہ مانو تو اک بات کہہ دوں‘‘ (ملاقات)، ’’کل بھی تم سے پیار تھا مجھ کو تم سے محبت آج بھی ہے‘‘ (خواب اور زندگی) اور ’’ہے کہاں وہ کلی جو کبھی نہ ملی‘‘ (انہونی)۔

اس برس یعنی 1973 میں وحید لاہور منتقل ہو گئے۔ وہاں ان کی کوٹھی کا پتہ 72-G، گلبرگ 3 تھا۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد ایک فلمی صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ اُن کے ذہن میں بہت سی کہانیاں ہیں اور فیصلہ کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اُن میں سے کس پر فلم بنائیں۔ بہرحال اس کے بعد وہ اپنی زندگی میں کوئی فلم پروڈیوس کر کے پیش نہ کر سکے۔ آخری زمانے میں ’’ہیرو‘‘ پروڈیوس کرنا شروع کی جو اُن کی وفات کے بعد 1985 میں ریلیز ہوئی۔

اگلا سال یعنی 1974 اس لحاظ سے ان کی فلمی زندگی میں ایک تبدیلی کا سال ہے کہ اس برس چودہ فلمیں ریلیز ہوئیں جن میں انہوں نے اداکاری کی تھی، یعنی ’’پیار ہی پیار‘‘ ، ’’عشق میرا ناں‘‘ (پنجابی)، ’’تم سلامت رہو‘‘ ، ’’سیونی میرا ماہی‘‘ (پنجابی)، ’’مستانی محبوبہ‘‘ ، ’’اُسے دیکھا اُسے چاہا‘‘ ، ’’ننھا فرشتہ‘‘ ، ’’لیلیٰ مجنوں‘‘ ، ’’حقیقت‘‘ ، ’’دشمن‘‘ ، ’’دیدار‘‘ اور ’’شمع‘‘ ۔ ان کے علاوہ ’’پھول میرے گلشن کا‘‘ ، جس میں زیبا اور وحید سات برس بعد اسکرین پر اکٹھے دکھائی دئیے لیکن اس دفعہ دیور بھابھی کے رُوپ میں تھے۔

مئی اور نومبر 1974 ایسے مہینے تھے جن میں وحید کی تین تین فلمیں ریلیز ہوئیں۔ اس سے پہلے کبھی ایک سال میں ان کی اتنی فلمیں نہیں آئی تھیں۔ ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اب ایک ہی فلم میں ایک سے زیادہ ہیرو لینے کا رواج عام ہو گیا تھا۔ چنانچہ اب وحید کے ساتھ بھی اکثر فلموں میں کوئی دوسرا ہیرو موجود تھا، مثلاً محمد علی، ندیم یا پھر شاہد، جو چند برس پہلے اسکرین پر نمودار ہو کر نمایاں مقام حاصل کر چکے تھے۔

ان فلموں کے مقبول نغمات میں سے کچھ ہیں، ’’تُو ہے پھول مرے گلشن کا‘‘ (پھول میرے گلشن کا)، ’’عشق صدا آباد رہے گا‘‘ (لیلیٰ مجنوں)، ’’اپنی محنت اپنے بازو سوہنی دھرتی کے نام‘‘ (دشمن)، ’’بی بی جی سلام!‘‘ (دشمن) اور ’’جاؤ اب صبح ہونے والی ہے‘‘ (دیدار)۔

یہی زمانہ ہے جس کے بارے میں ایک پچھلی قسط میں پرویز ملک کا بیان ہماری نظر سے گزر چکا ہے کہ وحید کی بے پناہ مصروفیت کی وجہ سے ’’دشمن‘‘ ان دونوں دوستوں کی آخری اکٹھی فلم ثابت ہوئی۔ یہ فلم کئی لحاظ سے قابلِ ذکر ہے لیکن فی الحال صرف ایک پہلو کا ذکر کرنا ہے۔

قراردادِ پاکستان (مارچ 1940) میں جہاں ہندوستان کو علیحدہ ریاستوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ تھا وہیں ان ریاستوں کی بنیادی تعریف اس طرح کی گئی تھی کہ وہاں نہ صرف اقلیتوں کے ’’مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دوسرے حقوق اور مفادات‘‘ کی ’’کافی، موثر اور لازمی‘‘ طور پر حفاظت کی جائے گی بلکہ یہ کام ’’اُن سے مشاورت‘‘ کے ساتھ کیا جائے گا۔ گویا آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگرس کے درمیان ایک نظریاتی اختلاف یہ بھی تھا کہ کانگرس چاہتی تھی کہ اپنی مرضی سے اقلیتوں کے حقوق کا تعین کر دے جبکہ مسلم لیگ کے نزدیک یہ ضروری تھا کہ ان حقوق کا تعین اقلیتوں کی خواہشات کے مطابق کیا جائے۔ اس کے بعد قائداعظم نے ہمیشہ یہی کہا کہ پاکستان کا آئین عوام اپنی مرضی سے بنائیں گے لیکن جو بات پہلے سے طے ہو چکی ہے، وہ یہی اقلیتوں کے حقوق کی بات ہے۔ 1946 کی قراردادِدہلی میں بھی، جسے ہم اِس کتاب میں پاکستان کا عہدنامہ کہہ رہے ہیں، یہ بات دہرائی گئی۔

پاکستان کے تصوّر میں اقلیتوں کے حقوق کی اصل اہمیت یہ ہے کہ بہرحال بہت سے مسلمانوں کو بھارت میں رہنا تھا۔ پاکستان میں غیرمسلموں کو جو بھی حقوق دئیے جاتے، وہی حقوق بھارت کے مسلمانوں کے لیےبھی طلب کیے جاتے۔ پاکستان بنانے والوں کے لیے یہ کافی نہیں تھا کہ بھارت سیکولر ہوجائے۔ بلکہ ان کا خواب یہ تھا کہ بھارت کے مسلمان بدستور اپنی تہذیب کی پرورش کرتے رہیں اور اپنی تہذیبی شناخت قائم رکھیں۔

لہٰذا ابن صفی کے پہلے ناول ’’دلیر مجرم‘‘ (1952)کا آغاز بھی اِسی بات سے ہوا۔ چونکہ وہ ناول الٰہ آباد سے شائع ہوا اس لیے بھارتی مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے یہ بات پیش کی گئی اور دکھایا گیا کہ ایک ہندو عورت ایک مسلمان بچے کی سرپرست بن جاتی ہے لیکن اُسے اُس کے مذہب پر قائم رہنے دیتی ہے:

’’سبیتا دیوی … نےاسے اپنے بیٹے کی طرح پالا تھا۔ وہ ہندو دھرم کی ماننے والی ایک بلند کردار خاتون تھیں۔ انہوں نے اپنی دم توڑتی ہوئی سہیلی جعفری خانم سے جو وعدہ کیا تھا اسے وہ آج تک نبھائے جا رہی تھیں۔ انہوں نے ان کے بیٹے کو ان کی وصیت کے مطابق ڈاکٹری کی اعلیٰ تعلیم دلا کر اس قابل کر دیا تھا کہ وہ آج سار ے ملک میں اچھی خاصی شہرت رکھتا تھا۔ اگرچہ شوکت کی والدہ اس کی تعلیم کے لیے معقول رقم چھوڑ کر مری تھیں۔ لیکن کسی دوسرے کے بچے کو پالنا آسان کام نہیں اور پھر بچہ بھی ایسا جس کا تعلق غیر مذہب سے ہو۔ اگر وہ چاہتیں تو اسے اپنے مذہب پر چلا سکتی تھیں لیکن ان کی نیک نیتی نے اسے گوارہ نہ کیا۔ دنیاوی تعلیم کے ساتھ ہی ساتھ اُنہوں نے اُس کی دینی تعلیم کا بھی معقول انتظام کیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ نوجوان ہونے پر بھی شوکت علی ہی رہا۔ سبیتا دیوی کے برادری کے لوگوں نے ایک مسلمان کے ساتھ رہنے کی بنأ پر اُن کا بائیکاٹ کر رکھا تھا مگر وہ اپنے مذہب کی پوری طرح پابند تھیں اور شوکت کو اس کے مذہبی احکام کی تعمیل کے لیے مجبور کرتی رہتی تھیں۔‘‘

پرویز ملک کی فلم ’’دشمن‘‘ میں شعوری یا غیرشعوری طور پر اِسی کردار کو پاکستان میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس میں ایک عیسائی عورت (عطیہ شرف) ایک یتیم مسلمان بچے (وحید مراد) کی سرپرست بن جاتی ہے لیکن اُس کی پرورش اسلام کے مطابق کرتی ہے۔

فروری 1974 میں لاہور میں دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ ایک نئی تنظیم تھی جو پانچ چھ برس پہلے وجود میں آئی تھی اور دنیا کے تمام مسلمانوں کے اتحاد کی نمایندگی کرتی تھی۔ اس کی پہلی کانفرنس 1969 میں مراکش کے شہر رباط میں ہوئی۔ دوسری کانفرنس کے لیے دنیا بھر کی مسلم ریاستوں کے سربراہ لاہور میں جمع ہوئے۔ اس یادگار لمحے کی یادیں اور جھلکیاں اب پاکستان کی اُس نسل تک بھی منتقل ہو چکی ہیں جو بعد میں پیدا ہوئی۔

اس موقع کی ایک اہمیت یہ بھی تھی کہ صرف تین برس پہلے مشرقی پاکستان میں جو کچھ گزری تھی، اُس کے باوجود پاکستان اور بنگلہ دیش اس کانفرنس میں برادر مسلم ریاستوں کے طور پر شریک ہوئے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ چونکہ یہ ایک نئی تنظیم تھی، اس لیے اسے ایک سرکاری ترانے کی ضرورت تھی۔ دنیا بھر کے مسلمان شاعروں نے ترانے بنا کر بھیجے جن کی تعداد سیکڑوں میں تھی۔ ان میں سے ایک ترانہ منتخب ہوا اور کانفرنس کی ایک قرراداد کے ذریعے طے کیا گیا کہ جب بھی کانفرنس منعقد ہو گی، اس ترانے کا سازینہ بجایا جائے گا (یہ بات جمیل الدین عالی نے اپنی طویل نظم ’’انسان‘‘ کے ایک فُٹ نوٹ میں بھی درج کی ہے)۔

منتخب کیے جانے والے ترانے کے شاعر جمیل الدین عالی تھے۔ سہیل رعنا نے دُھن بنائی۔ مہدی ظہیر اور کورس کی آوازوں میں ریکارڈ کیا گیا۔ جس طرح جیوے پاکستان میں سیمرغ کا تصوّر پاکستان سے ہم آہنگ تھا اُسی طرح یہاں وہ تصوّر پوری ملّتِ اسلامیہ پر منطبق ہو رہا ہے:

ہم تا بہ ابد سعی و تغیر کے ولی ہیں – ہم مصطفوی، مصطفوی، مصطفوی ہیں!
دین ہمارا دینِ مکمل، استعمار ہے باطلِ ارزل، خیر ہے جدوجہدِ مسلسل، عند اللہ!
اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر!
سبحان اللہ، سبحان اللہ، یہ وحدت فرقانی!
روحِ اخوّت، مظہرِ قوّت، مرحمتِ رحمانی!
سب کی زباں پر سب کے دلوں میں اک نعرہ قرآنی!
اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر!
امن کی دعوت کُل عالم میں، مسلک عام ہمارا
دادِ شجاعت دورِ ستم میں، یہ بھی کام ہمارا
حق آئے باطل مٹ جائے، یہ پیغام ہمارا
اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر!

میں نے اس ترانے کی شرح اپنے ایک مقالے ’’جمہوری ادب‘‘ میں لکھ کر اقبال اکادمی کے مجلے ’’اقبالیات‘‘ میں شائع کروائی تھی جسےآن لائن پڑھا جا سکتا ہے۔ فی الحال صرف اس بات کی طرف توجہ دلانی ہے کہ چونکہ کانفرنس پاکستان میں ہوئی اور ترانہ بھی پاکستانی آرٹسٹوں کی تخلیق تھا اس لیے ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ یہ بس اُس موقع پر ہمارے ٹیلی وژن کی پیشکش تھی۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ کانفرنس کے باقاعدہ فیصلے کے تحت اسے سرکاری ترانہ بنایا گیا اور دنیا میں جہاں کہیں تمام مسلم ممالک کے سربراہ اکٹھے ہوتے ہیں، کم سے کم اس کا سازینہ ضرور بجایا جاتا ہے۔ فلم آرٹس کے بینر سے سہیل رعنا نے جس سفر کا آغاز کیا اُس کا نقطۂ عروج یہ تھا۔

—جاری ہے

اگلی قسط، ’’نیا پاکستان‘‘ اس لنک پہ۔ یہ قسط وحید مراد کی زندگی کے آخری زمانے اور اُن کی وفات کے بارے میں ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: