وحید مراد اور ہمارا عہد: قلندر کی بارگاہ —- قسط 4 — خرم علی شفیق

0
  • 94
    Shares

نہ تاج و تخت میں نَے لشکر و سپاہ میں ہے
جو بات مردِ قلندر کی بارگاہ میں ہے!

لیجیے، ’’قلندر کی بارگاہ ‘‘ آپ کے سامنے ہے، لیکن اِس سے پہلے کہ آپ وہاں جائیں، یہ بات یاد دلانا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب میرے اُس کام کا حصہ ہے جو میں نے اقبالیات کے میدان میں کیا ہے۔ البتہ اقبالیات میں میرا نقطۂ نظر دوسروں سے مختلف ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے اپریل ۱۹۴۶ء میں قائداعظم کے ساتھ مل کر جیسا معاشرہ بنانے کا عہد کیا تھا، آج کوشش کر کے صرف چند برس میں اُسے حقیقت بنا سکتے ہیں۔ اُس معاشرے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ وہاں غربت، ناانصافی، جرائم اور خوف کا کوئی وجود نہ ہو۔ ’’وحید مراد اور ہمارا عہد‘‘ کا موضوع یہ ہے کہ اِس خاص مقصد میں وحید مراد کا فن کس طرح ہمارے کام آ سکتا ہے۔ یہ کتاب اس عملی مقصد کو سامنے رکھ کر پیش کی جا رہی ہے۔ اگر کوئی اُس مقصد کو اپنائے تو خوشی کی بات ہے ورنہ کسی سے کوئی شکایت بھی نہیں ہے۔ پچھلی قسط (جو اس لنک پہ دیکھی جاسکتی ہے) میں آپ نے عہدنامے کا تذکرہ پڑھ لیا ہے۔ آئیے اب دیکھتے ہیں کہ جس نسل نے بچپن میں وہ عہد کیا تھا اُس نے جوان ہونے پر کس قسم کے خیالات سب کے سامنے پیش کیے۔ مصنف۔


آزادی کے وقت پاکستان کے تمام شہروں میں سے صرف لاہور میں فلمی صنعت قائم تھی۔ تقسیم کے ہنگاموں میں اسٹوڈیوز جل گئے لیکن جلد ہی اُنہیں بحال کر کے فلمی صنعت کو دوبارہ زندہ کیا گیا۔ ۱۹۵۵ء میں کراچی اور ۱۹۵۶ء میں ڈھاکہ میں بھی فلم اسٹوڈیو قائم ہوئے۔ پروڈیوسر کے طور پر وحید نے سوائے اپنی آخری تین فلموں کے باقی سب کراچی کے ایسٹر ن فلم اسٹوڈیوز میں تیار کیں۔

وحید کی زندگی میں پاکستان میں فلمسازی کو باقاعدہ صنعت کا درجہ کبھی نہیں ملا اس لیے فلموں کا بیمہ نہیں ہو سکتا تھا۔ بہت سے فلمساز لین دین کے معاملے میں بدنام تھے۔ بعض نئے پروڈیوسر عیاشیوں میں سرمایہ برباد کر کے فلمیں ادھوری چھوڑ دیتے تھے۔ مگر کچھ سنجیدہ مزاج لوگ اس ماحول سے کوسوں دُور تھے اور وحید بھی اُنہی میں شمار کیے گئے۔ بزنس مین کی حیثییت میں وہ روپے پیسے کا سختی سے حساب رکھنے والے لیکن بہت کھرے اور دیانتدار نکلے۔ اقبال رضوی کا کہنا ہے کہ وحید سے پیسے کسی یاددہانی کے بغیر وقت پر مل جاتے تھے، اور نچلے عملے کے ساتھ اُن کا برتاؤ خاص طور پر بہت اچھا تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ بہت لیے دئیے اور سب سے الگ تھلگ بھی رہتے تھے، جس کی وجہ سے بعض لوگ انہیں مغرور سمجھتے تھے۔ لہری نے برسوں بعد ٹی وی پروگرام ’’سلور جوبلی‘‘ میں کہا کہ وحید مراد ’’ٹُو دی پوائنٹ آدمی ہیں، اور پڑھے لکھے آدمی ہیں، شریف آدمی ہیں۔‘‘

فلم اولاد میں

یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے کہ اُن کے بینر ’’فلم آرٹس‘‘ سے منسلک ہونے والوں میں زیادہ تر وہی لوگ نظر آتے ہیں جو محبِ وطن تھے اور کسی نہ کسی حد تک مذہبی رُجحان رکھتے تھے۔ اقبال رضوی اور فیاض ہاشمی کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ نوجوان منیر رشید بھی، جنہیں پہلی دفعہ وحید نے ڈائرکشن کا موقع فراہم کیا، ایک مذہبی شخص کے طور پر مشہور تھے (ان کے صاحبزادے ہارون الرشید مشہور کرکٹر ہوئے)۔ سہیل رعنا، مسرور انور اور صبہا اختر بعد میں قومی نغموں کی پہچان بنے۔ وحید کے بچپن کے دوست پرویز ملک نے بعد میں حبُ الوطنی کے موضوع پر جتنی فلمیں بنائیں اُتنی شاید کسی اور نے نہیں بنائی ہوں گی۔ ظہور احمد نے بعد میں ٹی وی پر اِسی قسم کی خدمات انجام دیں (اُن کے لکھے ہوئے ڈراموں میں’’مقدمۂ کشمیر‘‘ شامل ہے)۔ حمایت علی شاعر شروع میں کمیونسٹ رجحان رکھنے والی ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر تھے لیکن بعد میں نعتیہ شاعری پر زبردست تحقیق کر کے دنیا کے سامنے پیش کی۔ قائداعظم کے ڈرائیور آزاد کو، جنہیں اداکاری کا شوق فلموں کی طرف لے آیا تھا، آیندہ نسلیں شاید فلم آرٹس کی’’احسان‘‘ کے حوالے سے ہی یاد رکھیں گی۔

وحید کے حلقے میں ہمیں وہ لوگ دکھائی نہیں دیتے جو پاکستان کی بنیادکے بارے میں کسی قسم کے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے تھے۔ جاوید علی خاں کا کہنا ہے کہ وہ ایک دفعہ وحید کو فیض احمد فیض کے پاس لے گئے۔ فیض کا تعلق بھی سیالکوٹ سے تھا اور وہ وحید کے بزرگوں سے واقف تھے۔ وحید کے ساتھ بڑی شفقت کے ساتھ پیش آئے لیکن اس خوشگوار ملاقات کے باوجود وحید، فیض کے ساتھ رابطے میں نہ رہے۔

______

دُوسری فلم پروڈیوس کرتے کرتے وحید نے اداکاری کے میدان میں بھی قدم رکھ دیا۔ ایس ایم یوسف حال ہی میں ہندوستان سے آئے تھے، اور فلم ’’سہیلی‘‘ پیش کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔ یہ صحیح معنوں میں’’فیملی فلم‘‘ تھی، جس نے قدامت پسند گھرانوں کو بھی کچھ منتخب فلمیں دیکھنے پر آمادہ کر دیا۔ یوسف کی تمام فلموں کی تشریح پر مبنی چھوٹی سی کتاب لکھی جائے تو وہ بہت دلچسپ ہو گی کیونکہ اُن کے اپنے اعتراف کے مطابق اُن کی فلمیں علامتی تھیں۔ فلم ’’آشیانہ‘‘ (۱۹۶۴) میں ’’آشیانہ‘‘ ایک گھر کا نام ہے۔ فلم کے آخر میں پس منظر سے آواز اُبھرتی ہے:

’’ یہ ہنسی خوشی، یہ چہل پہل، یہ قہقہے، ’آشیانے‘ میں رہنے والوں کی ملی جلی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔ ہمارا وطن آشیانے کی مثال ہے۔ جس طرح ’آشیانے‘ کے ہر فرد و بشر کی کوشش، ایمانداری، قربانی اور اتحاد کی وجہ سے آج یہ گھر خوشحال ہو گیا ہے، اُسی طرح ہمارے وطن کے ہر فرد و بشر میں ایمانداری، قربانی اور اتحاد کا جذبہ پیدا ہو جائے تو ہمارے وطن میں بھی ہر طرف ہنسی خوشی، چہل پہل اور قہقہے سنائی دیں گے۔ ‘‘

فلم آشیانہ کا آخری منظر

پاکستان میں’’سہیلی‘‘ کے بعد یوسف کی دوسری فلم ’’اولاد‘‘ تھی۔ اس کی کہانی، مکالمے اور نغمات فیاض ہاشمی نے لکھے تھے، جن کی قومی خدمات کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ ’’اولاد‘‘ کی ہیروئن طیّبہ (نیرسلطانہ) ایک ایسی عورت تھی جس نے علامہ اقبال کے آئیڈیلز کے مطابق اپنے لڑکے امان کی تربیت کی (فلم کے مکالموں میں یہ بات واضح کی گئی ہے)۔ اُس لڑکے کے کردار کے لیے یوسف نے وحید کو منتخب کیا۔ اس سے پہلے وحید اپنے دوست درپن کی فلم ’’ساتھی‘‘ میں چند لمحوں کے لیے کیمرے کے سامنے آئے تھے لیکن اُسے اداکاری نہیں کہہ سکتے بلکہ زیادہ سے زیادہ ’’کیمیو ‘‘ اپئرنس کہا جا سکتا ہے۔ اداکار کے طور پر وحید فلم ’’اولاد‘‘ ہی کے ذریعے متعارف ہوئے جو ۱۰؍ اگست ۱۹۶۲ء کو ریلیز ہوئی۔

اُس ابتدائی زمانے میں وحید کے رکھ رکھاؤ کی ایک جھلک ہدایتکار شوکت ہاشمی نے پیش کی ہے، جنہوں نے فلم ’’ڈاکٹر‘‘ (۱۹۶۵) میں انہیں سائیڈ ہیرو لیا تھا۔ اُنہوں نے بعد میں لکھا:

’’[لاہور سے] میں نے کراچی میں وحید کے والد نثار مراد کو فون کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ وحید تھوڑی دیر کے بعد اپنے دفتر میں آنے والا ہے، میں براہِ راست اُس سے بات کروں تو زیادہ بہتر ہے۔ دو گھنٹوں کے بعد میں نے پھر فون کیا تو وحید دفتر میں موجود تھا اور میری کال کا منتظر تھا۔ میں نے اُسے بتایا کہ میں اُسے صرف ۱۵؍ ہزار روپے دے سکتا ہوں اور یہ رقم اُسے یک مشت ریلیز سے پہلے ادا کر دُوں گا۔ مجھے اُس کے ۱۲؍ شفٹ مسلسل چاہئیں۔ ان میں چند راتیں اور چند دن ہوں گے۔ وحید کو اپنے چار سُوٹ اور چند بش شرٹس، پتلونیں وغیرہ ساتھ لانا ہوں گی کیونکہ اس کے لیے نئے کپڑے سلوانے کا میرے پاس وقت نہیں ہے۔ پھر میں نے اُسے بتایا کہ اُس کا کردار ایک نوجوان ڈاکٹر کا ہے۔ وحید خاموشی سے سنتا رہا۔ جب میں خاموش ہوا تو اُس نے کہا، ’مجھے آپ کی آفر منظور ہے مگر میری بھی کچھ شرائط ہیں۔‘ میں نے شرائط دریافت کیں تو اُس نے کہا، ’میں نائٹ کوچ سے نہیں آؤں گا (اُس زمانے میں نائٹ کوچ بہت سستی تھی اور کفائت پسند لوگ زیادہ تر نائٹ کوچ سے سفر کرتے تھے)۔ مجھے آپ ۵؍ ہزار لاہور آنے پر اَدا کر دیجیے اور بقیہ دس ہزار اپنی مرضی کے مطابق ریلیز سے پہلے دے دیجیے گا۔ میں شوٹنگ کے دوران لاہور میں کسی اچھے ہوٹل میں ٹھہروں گا۔ آپ فلیٹیز، ایمبیسیڈر یا انٹرنیشنل میں سے جو پسند کریں۔‘

’’میں نے اُس کی تینوں شرطیں منظور کیں۔ مقررہ تاریخ پر صبح سویرے ائرپورٹ پر وحید کو ریسیو کیا اور ایمبیسیڈر ہوٹل میں لے جا کر ٹھہرا دیا…دوسرے دن صبح سات بجے میں اپنی کار لے کر ایمبیسیڈر پہنچا تو وحید باہر لان میں ٹہل رہا تھا اور ہمارا منتظر تھا… میں نے وحید سے بارہ شفٹ لیے تھے مگر اُس کا کام اُس کی کوآپریشن اور پابندیٔ وقت کی وجہ سے دس شفٹوں میں مکمل ہو گیا اور گیارہویں دن وحید خاموشی سے کسی قسم کا تقاضا یا یاددہانی کرائے بغیر کراچی واپس چلا گیا۔‘‘

______

والدہ، وحید مراد، سلمی اور نثار مراد

ایم اے کے امتحان مئی ۱۹۶۲ء میں (یعنی ’’اولاد‘‘ کے ریلیز ہونے سے چند ماہ پہلے) ہوئے۔ نتیجہ نکلنے سے پہلے ایک رات وحید اور جاوید طویل ڈرائیو پر نکلے ہوئے تھے جب ان کی جیپ میں کچھ خرابی ہو گئی۔ کراچی کوسوں دُور تھا۔ کسی نے کہا کہ قریب ہی ایک مقام پر کسی بزرگ کا مزار ہے اور مجاور کے پاس ایسی ہی جیپ ہے، اس لیے ہو سکتا ہے کہ اُس ڈرائیور کچھ مدد کر سکے۔ مقام سہون اور بزرگ کا نام لعل شہباز قلندر بتایا گیا۔

اگرچہ جاوید اور وحید دونوں ہی تصوّف سے دلچسپی رکھتے تھے، اور جاوید تو پاک پتن جا کر بابا فرید گنج شکر کے عُرس میں بھی شریک ہو آئے تھے، لیکن انہوں نے اس سے پہلے لعل شہباز قلندر کا نام نہیں سنا تھا۔ ان کا اصل نام سید محمد عثمان مروندی تھا اور وہ ۱۱۷۷ء میں ایران کے شہر مرند میں پیدا ہوئے۔ یہ شہر تبریز کے قریب ہی تھا جہاں اُن کے ہمعصر شمس تبریز تھے، جو بعد میں مولانا روم کے مرشد ہوئے۔ عثمان مروندی مسلم دنیا میں نجانے کہاں کہاں ہوتے ہوئے آخر سندھ پہنچے اور سہون میں آباد ہو گئے۔ یہاں انہوں نے فقہ کا درس دیا، سہروردی سلسلے کے تصوّف کی خانقاہ بنائی، اور فقہ اور تصوّف پر کم سے کم چار کتابیں لکھیں۔ اُن کا انتقال ۱۲۷۴ء میں ہوا۔ وہ بہأالدین ذکریا ملتانی، فرید گنج شکر اور اُچ شریف کے سید جلال الدین بخاری کے قریبی دوست تھے۔ عوامی سطح پر لوک گیت ’’دما دم مست قلندر‘‘ میں انہیں سندھ کے ہندوؤں کی مقدس شخصیت جھولے لعل کے ساتھ یکجا کر دیا گیا ہے اور یہ ایک دلچسپ اتفاق ہے کہ جس طرح مولانا روم کے مزار پر رقصِ درویش ہوتا ہے، اُسی طرح قلندر کے مزار پر دھمال ڈالی جاتی ہے۔

وحید اور جاوید رات گئے مزار پر پہنچے۔ مجاور نے انہیں خوش اخلاقی کے ساتھ مہمان بنایا۔ جب مجاور کو معلوم ہوا کہ دونوں اتفاق کے تحت یہاں پہنچے ہیں، تو اُس نے اُن سے کہا کہ ہو سکتا ہے، قلندر کی رُوح نے آپ کو بلایا ہو۔ آپ چاہیں تو مزار پر جا کر فاتحہ پڑھیں اور خدا سے دعا مانگیں۔ دونوں نے ایسا ہی کیا۔ اگلی صبح مجاور کے ڈرائیور نے جیپ ٹھیک کر دی۔ دونوں دوستوں نے ایک دفعہ پھر مزار پر حاضری دی اور کراچی واپسی کے لیے روانہ ہو گئے۔ راستے میں جاوید نے وحید کو بتایا کہ انہوں نے ایم اے میں فرسٹ ڈویژن کی دعا مانگی ہے۔ جب انہوں نے وحید سے پوچھا کہ انہوں نے کیا دعا مانگی تو وحید نے جواب دیا، ’’میں نے دعا مانگی کہ میں پاکستان کا سب سے بڑا سُپر اسٹار بن جاؤں۔‘‘

امتحان نکلا تو جاوید کی فرسٹ ڈویژن آئی تھی۔ وحید نے کچھ ہی کم نمبر حاصل کر کے سیکنڈ ڈویژن لی تھی۔ ڈگری ۱۷ ؍مئی ۱۹۶۳ء کو جاری کی گئی۔ جاوید کی وہ دعا بہرحال پوری ہو گئی جو اُنہوں نے مانگی تھی۔ جہاں تک اُس دعا کا سوال ہے جو وحید نے مانگی تھی، اُس کے بارے میں یہ کہنے کی ضرورت شاید نہیں ہے کہ وہ کس حد تک پوری ہوئی۔ سہون کے ساتھ وحید نے اپنا تعلق آخر تک قائم رکھا جس کا ذکر آگے آئے گا۔

______

سلمی مراد بائیں طرف اور فاطمہ جناح دائیں طرف

سلمیٰ میکر کے والد ای ایچ اے میکر ایک بہت بڑے انڈسٹریلسٹ تھے، اور ایچ ایم سلک ملز کے مالک تھے۔ اُ ن کی اور اُن کی بعض سہیلیوں کی بچپن سے وحید کے ساتھ دوستی تھی۔ سلمیٰ کے والد نے اُس زمانے کے مشہور کلاسیکی رقاصوں، گھنشیام اور نیلما کو پی ای سی ایچ سوسائٹی میں اکیڈمی قائم کرنے میں مدد دی تھی اور سلمیٰ بھی وہاں کلاسیکی رقص کی تربیت حاصل کر رہی تھیں۔ وہ ایک پرفارمنس کے لیے نیو یارک جانے والی تھیں جب وحید نے انہیں شادی کی پیشکش کی اور گھر والوں نے آپس میں بات کر کے یہ رشتہ طے کر دیا۔

۱۷ ؍ستمبر ۱۹۶۴ء کو بہت دھوم دھام کے ساتھ شادی ہوئی۔ ایک نوجوان گلوکار جس نے اس تقریب میں کئی گانے سنائے، اُس کا نام نذیر بییگ تھا اور چند ہی برس بعد وہ ندیم کے فلمی نام سے ایک بڑے ہیرو کے طور پر اُبھرے۔

وحید اور سلمیٰ کی پہلی اولاد عالیہ کراچی میں ۲۳؍ دسمبر ۱۹۶۹ء کو پیدا ہوئیں۔ ان کے بعد ایک بیٹی سعدیہ پیدا ہوئی جو دو ماہ میں ہی فوت ہو گئی۔ عادل لاہور میں ۱۳؍ نومبر ۱۹۷۶ء کو پیدا ہوئے۔

______

اِس دوران فلم آرٹس کی تیسری فلم، ’’ہیرا اور پتھر ‘‘تکمیل کے مراحل طے کر رہی تھی اور ۱۱؍ دسمبر ۱۹۶۴ء کو نمایش کے لیے پیش کر دی گئی۔

ہیرا اور پتھر

اس فلم کا بنیادی خاکہ وحید کے ذہن میں ڈھاکہ کے ایک سفر کے دوران آیا، جو اُس وقت مشرقی پاکستان کا دارالحکومت تھا۔ اُنہوں نے اقبال رضوی کو سُنا کر اُن سے اسکرپٹ لکھنے کو کہا۔ مسرور انور نے نغمے لکھے لیکن ایک اور اُبھرتے ہوئے شاعر موج لکھنوی سے بھی تین نغمات لکھوائے گئے (’’آج مجھے کیا ہوا‘‘، ’’مجھے اک لڑکی سے پیار ہو گیا‘‘ اور ’’پکنک‘‘)۔ موسیقی سہیل رعنا نے دی جنہیں وحید نے کچھ عرصہ پہلے دریافت کیا تھا اور پچھلی فلم (’’جب سے دیکھا ہے تمہیں‘‘) کی موسیقی بھی انہی سے دلوائی تھی۔

اس دفعہ وحید خود بھی اسکرین پر آئے۔ بطور ہیرو اُن کی پہلی فلم تھی (اس سے پہلے تین فلموں ’’اولاد‘‘، ’’دامن‘‘ اور ’’مامتا‘‘ میں سائیڈ ہیرو آئے تھے)۔ ہیروئین زیبا تھیں۔ فلم آرٹس کی پچھلی فلم کی ہیروئین بھی وہی تھیں لیکن اُس کے بعد سے وہ ’’آشیانہ‘‘ جیسی سپرہٹ فلموں کے ذریعے بہت مقبول ہو چکی تھیں۔

’’ہیرا اور پتھر‘‘ کی شروعات ہونے سے پہلے منور رشید، جنہوں نے اس سے پہلے فلم آرٹس کی دونوں فلموں کی ہدایات دی تھیں، لاہور کے پروجیکٹس میں خاصے مصروف ہو چکے تھے۔ اس لیے وحید نے مصنف اقبال رضوی کو ہدایتکاری کا موقع دیا لیکن وہ کچھ عرصے بعد پروحیکٹ سے علیحدہ ہو گئے۔ اُن کے اپنے الفاظ میں:

’’بعض اوقات آدمی over-estimate کر جاتا ہے، دوستی کو بھی over-estimate کر جاتا ہے۔ ایک دن، پتہ نہیں غیرشعوری طور پر، میرا ذہن خراب ہوا اور میں نے کہا، چھوڑو یار میں نہیں کرتا تمہاری پکچریں۔ اور میں نے پکچر چھوڑ دی۔ اُس سے مجھے بے انتہا نقصان پہنچا ہے۔ وحید مراد بہت اچھے آدمی تھے۔ انہوں نے کوئی ناانصافی نہیں کی، میں نے کہا تھا کہ میں نے ڈائرکٹ نہیں کرنی ہے۔‘‘

اس دوران پرویز ملک یونیورسٹی آف کیلی فورنیا لاس اینجلز (UCLA) سے فلم کی ڈگری لے کر واپس آ چکے تھے لیکن وحید سمجھتے تھے کہ امریکہ میں سیکھی ہوئی فلمسازی اُس وقت تک کام نہیں آ سکتی جب تک مقامی ماحول کا تجربہ نہ ہو جائے۔ اس لیے پہلے پہل انہوں نے پرویز کو مشورہ دیا کہ وہ کچھ عرصہ یہاں کے ماحول کا جائزہ لیں۔ لیکن جب رضوی نے’’ہیرا اور پتھر‘‘ سے علیحدگی اختیار کی تو وحید نے پرویز کو ہدایتکاری کی دعوت دی۔ انہوں نے اسکرپٹ میں کچھ مناظر کا اضافہ کیا اور یہ اضافی مکالمے مسرور انور سے لکھوائے گئے۔

ہیرا اور پتھر

اس طرح چار دوستوں کی ٹیم وجود میں آئی جو وحید، پرویز، سہیل اور مسرور پر مشتمل تھی۔ پرویز نے بعد میں کہا کہ وحید، ’’فلم کے ہر شعبے میں خود دلچسپی لیتا۔ کہانی، میوزک، سَیٹ، لباس غرض کہ ہر چیز میں اس کی رائے شامل ہوتی تھی۔ میں چونکہ اِس کام میں نیا تھا، بطور ہدایت کار مجھے پہلی فلم بنانے میں وحید سے بہت مدد ملی۔‘‘ سہیل رعنا بھی اِسی قسم کی رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن انہوں نے ایک اور دلچسپ بات بھی کہی ہے۔ اُنہوں نے کہا، ’’میں یہ نہیں کہوں گا کہ ہم ایک دوسرے کو متاثر کرتے تھے۔ ہم ایک تھے۔‘‘

فلم کے عنوان میں یہ سوال چھپا ہوا تھا کہ پاکستان کے تعلیم یافتہ طبقے اور ’’جاہل ‘‘ عوام میں سے کون ہیراہے، اور کون پتھر ہے؟

مسرور سہیل، سعدی ہارون، وحید مراد اور پرویز

کہانی میں خیرُو مزدور (کمال ایرانی) کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔ وہ صرف ایک بچے کو تعلیم دلوانے کی استطاعت رکھتا ہے اس لیے بڑے لڑ کے حمید (ابراہیم نفیس) کو اعلیٰ تعلیم کے لیے شہر بھجوا دیتا ہے۔ چھوٹا لڑکا جانو (ووحید مراد) گدھا گاڑی چلا کر، اور لڑکی زیبو (نِمّی) چٹنی روٹی پکا کر حمید کی تعلیم کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ انہیں اُمید ہے کہ وہ پڑھ لکھ کر اُن کے حالات بھی بہتر کر دے گالیکن اُسے تعلیم مکمل کرتے کرتے بیروزگاری کا خوف لاحق ہو جاتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی کلاس فیلو سلمیٰ سے شادی کر لیتا ہے جس کے باپ (آغا جان) کی بہت بڑی فیکٹری ہے۔ اپنے غریبانہ پس منظر کو چھپانے کے لیے وہ جھوٹ بو ل دیتا ہے کہ اُس کے ماں باپ اور بہن بھائی مر چکے ہیں، اور دنیا میں اُس کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے۔ اس لیے بعد میں جب وہ سب اُس کے سامنے آتے ہیں، تب بھی وہ اُن کے ساتھ اپنے رشتے کا اعتراف نہیں کر سکتا۔ وہ خاموشی سے اُن کی مدد کرنا چاہتا ہے تو جانُو یہ کہہ کر انکار کر دیتا ہے کہ جب وہ باپ کو باپ، اور بھائی کو بھائی نہیں سمجھتا تو وہ بھی اُس کی مدد قبول نہیں کر سکتے۔ وہ بے بسی اور بے غیرتی کے ملے جلے احساس کے ساتھ اپنے اوباش سالے ساجد (ادیب) کے ہاتھوں اپنے باپ، بھائی اور بہن کی بے عزتی ہوتے دیکھتا رہتا ہے لیکن خاموش رہنے پر مجبور ہے۔ آخر جب راز فاش ہوتا ہے تو اُس کا امیر سُسر بھی کہہ اُٹھتا ہے کہ اُسے حقیقت نہیں چھپانی چاہیے تھی کیونکہ غریبی کوئی عیب نہیں ہے۔

غریبوں سے ہمدردی کے موضوع پر بہت سی فلمیں بنی تھیں لیکن اس فلم کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں مسئلے کا حل سوشلزم وغیرہ کی بجائے اخوّت کے اصول میں تلاش کیا گیا۔ اس حوالے سے اقبال رضوی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ’’پشتوں سے مذہبی آدمی‘‘ ہیں، اِس لیے’’غیرشعوری طور پر‘‘ بھی کسی ملحدانہ نظریے کی طرف نہیں جا سکتے تھے۔

فلم کا سب سے مشہور نغمہ ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘، احمد رشدی اور نجمہ نیازی نے گایا۔ دُوسرے نغمات بھی خاص وجوہات سے قابلِ ذکر ہیں لیکن ایک نغمے میں اُس اخلاقی قوّت کا اظہار ہے جو حقیقت میں پاکستان کو وجود میں لائی تھی۔ اِس نغمے کی اہمیت اس وجہ سے اور بڑھ جاتی ہے کہ جس نسل نے تحریکِ پاکستان کے دوران آنکھ کھولی، وہی اب جوان ہونے پر یہ بات کہہ رہی تھی:

ہیرا اور پتھر

رہے ہّمت جواں اپنی ساتھی، رہے ہونٹوں پہ اپنے ترانہ!
سامنے آج تک مشکلوں کے، ہم نے سیکھا نہیں سر جُھکانا!
لڑتے رہو غم کے طوفان سے،
روشن رکھو دل کو ایمان سے!
دل میں ہو کیوں اپنے غم کا گزر!
’’وہ‘‘ مہرباں ہے تو پھر کیسا ڈر!
اُس کی رحمت کے سائے میں جیتے ہیں ہم،
ہنس کے سہتے ہیں دنیا کے رنج و اَلم!
رہے ہمت جواں اپنی ساتھی، رہے ہونٹوں پہ اپنے ترانہ!
کہتی ہے ہر اِک نظر کی خوشی،
کل بھی ہمارا ہے اور آج بھی!
جو دُکھ سے ہمت نہ ہارا کبھی،
منزل نے خود اُس کو آواز دی!
آ گئی شام ہونٹوں پہ خوشیاں لیے،
جھلملانے لگے آرزو کے دِیے!
رہے ہمت جواں اپنی ساتھی، رہے ہونٹوں پہ اپنے ترانہ!
جس حال میں بھی رہو، خوش رہو،
سب کی جو سُنتا ہے اُس سے کہو!
انسان کے بس میں ہوتا ہے کیا!
اللہ ہے سب سے بڑا بادشاہ!
اُس کے چاہے بِنا کچھ بھی ہوتا نہیں،
دیر ہوتی ہے اندھیر ہوتا نہیں!
رہے ہمت جواں اپنی ساتھی، رہے ہونٹوں پہ اپنے ترانہ!
سامنے آج تک مشکلوں کے، ہم نے سیکھا نہیں سر جھکانا!

یہ فلم اُس وقت ریلیز ہوئی جب ایوب خاں کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کی انتخابی مہم چل رہی تھی۔ جنرل (اور بعد میں فیلڈ مارشل) ایو ب خاں ۱۹۵۸ء میں برسرِ اقتدار آئے تھے۔ جلد ہی انہوں نے ’’بنیادی جمہوریت‘‘ کا نظام رائج کیا جس کے تحت عوام براہِ راست صدر کو منتخب کرنے کے مجاز نہ رہے بلکہ وہ صرف اسّی ہزار ایسے لوگوں کو منتخب کر سکتے تھے جوبعد میں صدر کو منتخب کرتے۔ یہ نظام اِس غلط مفروضے پر قائم تھا کہ عوام اونچی سطح کے مسائل پر رائے دینے کے اہل نہیں ہیں۔ جب حزبِ اختلاف کی تمام جماعتوں نے مشترکہ طور پر محترمہ فاطمہ جناح کو صدارتی اُمیدوار نامزد کیا تو بحث صرف صدر کے انتخاب تک محدود نہ رہی بلکہ فاطمہ جناح نے اپنی مہم میں یہ سوال اٹھایا کہ جب پاکستان عوام کے فیصلے کی بدولت وجود میں آیا تھا، تو اَب کس بنیاد پر کہا جا رہا ہے کہ عوام صحیح فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے؟

انتخابی مہم اکتوبر، نومبر اور دسمبر میں جاری رہی، اور دسمبر ہی میں ’’ہیرا اور پتھر ‘‘ ریلیز ہوئی۔ محض اتفاق ہی سہی لیکن فلم کا مرکزی خیال اس انتخابی بحث کے ساتھ ایک عجیب و غریب تعلق رکھتا ہے (خواہ فلم بنانے والوں کا ارادہ یہ نہ رہا ہو)۔ اگر پاکستان کا تعلیم یافتہ طبقہ اُس بڑے بھائی جیسا ہو جسے فلم میں دکھایا گیا تھا، اور ناخواندہ عوام جانُو کی طرح ہوں، تو دونوں میں سے کس کی رائے زیادہ اعتبار کے قابل ہو گی؟

ایم اے کی سند

یہ ایک دلچسپ سوال ہے کہ اُس وقت فلم بینوں نے خواہ شعوری طور پر نہ بھی سوچا ہو تو کیا غیرشعوری طور پر محسوس کیا ہو گا کہ یہ فلم اِس مفروضے کی تردید کرتی ہے کہ ناخواندہ عوام قومی معاملات میں رائے دینے کے اہل نہیں ہیں؟ ’’ہم تو جاہل گنوار دیہاتی ہیں، کچھ نہیں سمجھتے،‘‘جانُو فلم میں کہہ رہا تھا، ’’لیکن بھائی کو بھائی اور باپ کو باپ ضرور سمجھتے ہیں۔‘‘ صدر ایوب اور اُن کے حواریوں نے انتخابی تقریروں میں مادرِ ملّت کے خلاف بڑی سخت باتیں کہی تھیں، بالکل اُسی طرح جیسے فلم میں مغرور ساجد بوڑھے خیرُو کے منہ پر تھپڑ مارتا ہے (اور خیرو کا تعلیم یافتہ بیٹا چپ چاپ دیکھتا رہ جاتا ہے)۔

بہرحال فلم نے پچاس مجموعی ہفتے نکال کر گولڈن جوبلی منائی اور دو نگار ایوارڈ حاصل کیے (وحید مراد کو بہترین اداکار اور عقیل خاں کو بہترین ایڈیٹر کا ایوارڈ ملا)۔ وحید بطور ہیرو کامیاب ہو گئے۔

کچھ عرصے بعد ایک انگریزی رسالے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بات تسلی بخش ہے کہ پاکستانی خواتین نے وقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو تبدیل کیا ہے، معاشرے اور پیشہ ورانہ زندگی میں ایک نیا کردار ادا کرنا شروع کیا ہے، اور شوہروں کی سماجی اور پیشہ ورانہ زندگی میں حصہ لینے لگی ہیں، مگر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ آخر عورت کا صحیح مقام اُس کا گھر ہی ہے۔

یہ اُن کی اگلی فلم کا مرکزی خیال بھی تھا، جس کی کہانی وہ خود لکھ رہے تھے۔ اس کا نام تھا، ’’ارمان‘‘۔
[ویڈیوز – ’’ہیرا اور پتھر‘‘ کا ایک منظر:

[ویڈیو: نغمہ ’’مجھے تم سے محبت ہے‘‘

—جاری ہے—

اگلی قسط،’’قوم کا ارمان‘‘، ۷؍ دسمبر (جمعہ) کی شام کو آ رہی ہے، انتظار فرمائیے (بیتاب ہو اُدھر تم، بیچین ہیں اِدھر ہم؟)۔

اس دلچسپ سلسلہ کی پہلی قسط اس لنک پہ اور دوسری قسط اس لنک پہ اور تیسری قسط اس لنک پہ دیکھی جاسکتی ہے۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: