دل کچے دھاگے سا ! مدد علی سندھی کا افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: عامر صدیقی

0
  • 13
    Shares

وہ موسمِ سرما کی ایک سرد اور تاریک رات تھی۔ آسمان پر البتہ کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے سفید بادل بھی تیر رہے تھے۔ ٹھنڈک بھی روز کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ میں اپنے گھر کے برآمدے میں گڑیوں سے کھیل رہا تھا۔ کچھ دور انگیٹھی میں کوئلے سلگ رہے تھے۔ ایسے میں امی اور نانی اماں، تیار ہو کر باہر آئیں اور میرے برابر میں کھڑی ہو گئیں۔

’’نانی اماں، کہاں جا رہی ہو، مجھے بھی ساتھ لے چلو۔‘‘

میں نے گڑیا کو چھوڑ کر نانی کے برقعے کو پکڑا۔

’’مہناز ولایت سے لوٹ آئی ہے، ہم ملاقات کرنے جا رہے ہیں۔‘‘ امی نے کہا۔

جب میں نے مہناز آپا کی ولایت سے آنے کی بات سنی تو رونے لگا، کیونکہ بہت دنوں سے مہناز آپا کے متعلق بہت ساری باتیں سنتا رہا تھا۔ امی اور نانی کے منہ سے سن سن کر ان کے مختلف روپ میرے ذہن میں نقش ہو گئے تھے۔

مجھے زمین پر لوٹتے دیکھ نانی نے مجھے اٹھا کر تیار کیا۔ فٹافٹ نیلی نیکر اور بوشرٹ پہن کر میں ہواؤں میں چھلانگیں مارتا ہوا نانی اور امی سے بھی دو قدم آگے چلتے ہوئے وکٹوریہ میں جا بیٹھا۔ وکٹوریہ چلنے لگی تو میں نے گاڑی کی پچھلی کھڑکی کا چمڑے اٹھایا اور ارد گرد کے مناظر کو دیکھنے لگا۔ ان دنوں حیدر آباد کی سڑکوں کی بات ہی کچھ اور تھی۔ نہ اتنا زیادہ ٹریفک، نہ سانس میں بندش پیدا کرنے والا گاڑھا کسیلا دھواں، نہ آٹو رکشاؤں کا شور شرابہ۔ موٹر کاریں بھی خال خال دکھائی پڑتیں۔ سڑکوں پر صرف وکٹوریہ گاڑیاں، ٹانگے اور سائیکلیں۔ فٹ پاتھ سڑک سے کافی اوپر، جن کے دونوں اطراف پیپل اور برگد کے گھنے سایہ دار درخت، تلک چاڑی سے اسٹیشن روڈ تک کا پورا علاقہ ان گھنے درختوں سے بھرا ہوا تھا۔ رسالہ روڈ کے دونوں اطراف پر بڑے سارے باغیچے (ایک حیدر چوک تک اور دوسرا جہاں آج کل گول بلڈنگ ہے)، جس میں اونچے اونچے درخت، ہری ہری فرحت بخش گھاس، پانی کی جھیلیں اور فوارے، روز شام کے وقت ہم ان دونوں باغیچوں کی سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔

وکٹوریہ سیشن کورٹ سے ہوتی ہوئی، پیچھے کی طرف سے بمبئی بیکری کے پاس آ کر رکی تو میں نانی اماں کے ساتھ اتر کر بیکری کے اندر چلا گیا۔ نانی اماں اور امی جب بھی کسی قریبی جاننے والے کے پاس جاتی تھیں، تو سب سے پہلے یہاں آ کر کیک ضرور لیا کرتی تھیں۔ (مضبوط ساگوان کی لکڑی سے بنی الماریاں، جن پر لگے شیشوں کے پیچھے موجود رنگ برنگے کیک للچایا کرتے تھے۔ شیشے کے بڑے بڑے گول مرتبان ہمیشہ تازہ خستہ بسکٹوں سے لبالب بھرے ہوئے ہوتے۔)

وکٹوریہ پھر چلنے لگی تو میں دوبارہ کھڑکی سے کنٹونمنٹ کی سڑک کو دیکھنے لگا۔ طویل سڑک پر سوائے درختوں سے گرے خشک اور زرد پتوں کے، جو ہوا میں ادھر ادھر اڑ رہے تھے، اور کچھ بھی نہیں تھا۔ جب وکٹوریہ باؤنڈری کو پار کرتی ہوئی، ایک سرخ پتھر سے بنائی گئی بڑی اور دو منزلہ عمارت کے پاس رک گئی، تو ہم اس سے اترے اور سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے۔

توجیہ تھا مہناز بانو کا شاہانہ گھر، جو صرف گھر نہیں، بلکہ محل تھا۔ سارے کا سارا سرخ پتھر سے بنایا ہوا تھا۔ اس جگہ پر سو تو فقط کمرے ہوا کرتے تھے، اوپر سے نیچے۔ اس مکان کے دو دروازے ہوتے تھے۔ ایک کا رخ جنوب کی جانب اور دوسرے کا مشرق کی جانب۔ بڑے بڑے لکڑی کی شہتیروں والے کمرے، برآمدے، سنگ مرمر کی سیڑھیاں، بڑے بڑے ہوا دان، جن میں لگے رنگین شیشوں سے چھنتی دن کی دھوپ ماحول میں قوس و قزح کے رنگ بکھیرتی۔ سنگِ مر مر سے تراشے سفید براق شیر، جو اپنے کندھوں پر اس جگہ کی خوبصورت دیواروں کا بوجھ اٹھائے، آنے جانے والوں کو دیکھا کرتے تھے۔ اوپر کے گلیارے پر بنی بارہ دری تو دور سے ہی دکھائی دیتی تھی۔ اس بڑی دو منزلہ عمارت میں مغرب کی طرف دالان اور مشرق کی طرف چھوٹا ساباغ تھا، جس کے کناروں کے اطراف نیم اور دیگر اقسام کے درخت تھے اور ان کے درمیان میں ایک خوبصورت فوارہ تھا، جس سے پانی آبشار بن کر نیچے تالاب میں گرتا رہتا تھا۔

’’یہ جادو ئی محل ضرور کسی شہزادی نے اپنے رہنے کے لئے بنوایا ہو گا۔‘‘ ہر روز رات کو امی اور نانی اماں سے گل بکاؤلی، مومل رانو اور پھولوں کی رانی والی کہانیاں سن کر میرے تصور میں بھی ہمیشہ صرف محل، شہزادیاں اور دیو بسے رہتے تھے۔ خوبصورت اور کومل شہزادی، جسے ایک بڑا سا دیو، ایک شاہی محل میں قید کر بیٹھا تھا، جسے کہانی کے آخر میں ایک شہزادہ آ کر مار دیتا ہے اور شہزادی کو آزاد کرواتا ہے۔

امی، آنگن میں کسی سے گلے ملیں تو میں اسے دیکھنے لگا۔ امی، مہناز آپا کی ساس سے باتیں کر رہی تھیں۔ وہ ہمیں برآمدے میں لے کر چلیں، جس میں سب سے پہلے ایک شاہانہ کمرہ تھا، جسے ڈرائنگ روم کے نام سے پکارا جاتا تھا (ان دنوں یہ لفظ ڈرائنگ روم بھی کتنا کشش بھرا ہو کرتا تھا)۔ وہ کمرہ پرانے وکٹورین دور کے فرنیچر سے بھرا ہوا تھا۔ کوچ، تپائیاں، سائیڈ ٹیبلز، اوپر چھت پر فانوس۔ بلب (جن کی تاریں دکھائی نہیں دیتی تھیں، فقط سیاہ لوہے کے بٹن کو دبانے سے بتیاں روشن ہو جایا کرتی تھیں۔ انہیں جلانے سے سفید سفید دیواریں جگمگا جاتی تھیں۔ میں جب بھی اس ڈرائنگ روم میں بیٹھتا تھا تو حیران ہوا کرتا تھا کہ آخر یہ بتیاں بغیر تاروں کے کس طرح جلتی ہیں۔ اس وقت تک انڈر گراؤنڈ بجلی کی وائرنگ کا چلن عام نہیں تھا۔)

’’مہناز کہاں ہے؟‘‘ امی نے پوچھا۔

’’بیٹھی ہے اوپر کمرے میں۔‘‘ مہناز آپا کی ساس نے ناک کو مروڑتے ہوئے کہا۔

’’بلا لیتی ہوں۔‘‘ ایسا کہہ کر وہ پھر امی کے ساتھ باتیں کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ وہ امی کی بچپن کی سہیلی تھیں۔ اس کے ساتھ اسکول میں پڑھتی تھیں۔ اسی لیے ان کی باتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ میں نے ان کی باتیں سننے کے بجائے نانی اماں کو پریشان کرنا شروع کر دیا۔ ان کے کپڑے گھسیٹ کر انہیں اٹھنے پر مجبور کرتا رہا، ’’چلو چلیں مجھے مہناز آپا کو دیکھنا ہے۔‘‘

آخر نانی اماں مجھے لے کر مہناز آپا سے ملانے چل پڑیں۔ ڈرائنگ روم کے کونے سے ایک چھوٹا آنگن تھا، جسے پار کرتے ایک چھوٹے سے کمرے سے ہوتے، ایک بڑے کمرے کے دروازے پر پہنچے۔

سامنے مضبوط ساگوان کا بنا ہوا دروازہ تھا، جس پر لگے ہوئے رنگین شیشے اندر جلتی روشنی میں جگمگا رہے تھے۔ کمرہ ہماری آنکھوں کے سامنے تھا۔ میرے سامنے ڈبل بیڈ پر ایک گوری خوبصورت عورت (شہزادی) لیٹی ہوئی تھی، جس کے ہاتھوں میں کوئی کتاب تھی، لیکن جس کے دو نین بائیں جانب والی کھلی کھڑکی کے باہر بکھری ہوئی تاریکی کو دیکھ رہے تھے۔ میں نے امی کی زبانی جو کہانیاں سنی تھیں، انہیں کہانیوں کی شہزادی اپنی تمام تر خوبصورتی، کومل بدن کے ساتھ میرے سامنے موجود تھی۔ وہ ہمیں دیکھتے ہی اٹھیں اور آ کر پیار سے نانی اماں سے ملیں۔ (بھلا قد، لمبے سیاہ بال، خوبصورت نین نقش، دمکتا مکھڑا، گلاب کے پھول جیسے سرخ ہونٹ)۔

مجھے یوں گم صم اپنی طرف تکتے ہوئے دیکھ کر بازو سے پکڑتے ہوئے کہا، ’’ماسی شانتی کا بیٹا ہے نا؟‘‘

’’ہاں بیٹا ہے، اور دیکھو نہ تمہیں کس طرح دیکھ رہا ہے۔ تم سے ملنے کے لئے ایک دم بے چین ہوا جا رہا تھا۔‘‘ نانی اماں نے اسے بتایا۔

’’بالکل اپنی ماں پر گیا ہے۔‘‘ ایسا کہتے ہوئے مجھے اپنی گود میں لے کر بیڈ پر بیٹھیں اور نانی اماں سے باتیں کرنے لگیں اور میں ان کے کمرے میں رکھی چیزوں کو دیکھنے لگا۔

مہناز آپا، بہت برسوں بعد اپنے شوہر کے ساتھ ولایت سے واپس لوٹی تھیں، اسی لیے ان کا کمرہ بھی عجیب و غریب چیزوں سے سجا ہوا تھا۔ ڈبل بیڈ، سائیڈ ٹیبلز، دیواروں پر پینٹنگز لکڑی کے بڑے فریم میں جڑی، ایک کونے میں شیشے کی الماری، جس کے ایک حصہ میں کتابیں، دوسرے میں گڑیا اور کھلونے، کچھ فاصلے پر نٹنگ مشین تھی جس میں تاریں لگی ہوئی تھیں۔ (بعد میں پتہ چلا کہ وہ مشین مہناز آپا حیدرآباد میں سب سے پہلے لندن سے لے کر آئی تھیں اور وہ سن ستاون کا زمانہ تھا۔ )

کمرے کے مشرقی جانب ایک شاہانہ گیلری تھی، جس پر لٹکے سرخ پردے، ریشمی رسیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ ان سے نیچے باغ میں موجود درختوں کی شاخیں ہوا میں ہلتی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ باہر افق پر اندھیرا چھا چکا تھا۔ کھڑکی سے سردیوں کی سرد لہر آ کر ہمیں چھو رہی تھی اور میں نے مہناز آپا کی گود میں بیٹھے بیٹھے انہیں دیکھا۔ ان کا چہرہ چودھویں کی چاند کی مانند روشن تھا۔ ان کی نیلی گہری آنکھوں میں بے حد گہرائی تھی (جی ہاں تمام شہزادیاں ایسی ہی ہوتی ہوں گی، شہزادی گل بکاؤلی، پھولوں کی رانی، مومل رانو، امی سے سنی ہوئی سبھی کہانیاں اور ان کہانیوں کی شہزادیاں آ کر میرے سامنے کھڑی ہو گئی ہیں۔ )

’’کیا نام ہے تمہارا۔‘‘ انہوں نے میری ٹھوڑی کو اپنے خوبصورت ہاتھ سے چھوتے ہوئے کہا۔

میں نے دیکھا، ان کے خوبصورت ہاتھوں کے ناخن لمبے تھے، جو سرخ نیل پالش کی وجہ سے چمک رہے تھے۔ میں نے شرماتے ہوئے نام بتایا تو کہنے لگیں، ’’میں تو تمہیں مدھو کہہ کر بلاؤں گی۔۔۔ کیا کہہ کر بلاؤں گی؟ ۔۔۔ بولو نہ بابا؟‘‘

شرم کے مارے میں نے کچھ بھی نہیں کہا، تو ہنسنے لگیں۔ ان کے موتی جیسے دانت اور گلابی ہونٹ۔ میں گردن اٹھا کر انہیں تکنے لگا اور امی کی سنائی پھول رانی کی کہانی کو یاد کرنے لگا۔ (رات میں امی کو بتاؤں گا کہ پھول رانی، دیو کی قید سے خود کو آزاد کروا کے، اپنے محل میں واپس آ گئی ہے )

تو یہ تھی مہناز آپا سے میری پہلی ملاقات، جس نے میرے ناسمجھ دل پر ان کیلئے، نہ سمجھ آنے والی جادو ئی جذبوں کی جھلملاتی باریک چادر ڈال دی تھی۔ میری عمر اس وقت تقریباً سات آٹھ سال کی رہی ہو گی۔ پر مجھے ابھی تک ان کی شخصیت کے سارے رنگ اور روپ یاد ہیں۔

مہناز آپا حیدرآباد کی اپر سوسائٹی کی ایک ذہین خاتون تھیں۔ اس وقت کی مہذب سوسائٹی میں مشکل سے ہی کوئی دوسری عورت فیشن، خوبصورتی اور لباس میں ان کا مقابلہ کر سکتی تھی۔ جیم خانے کی محفلوں سے لے کر سوشل نیٹ ورک تک ان کی خوبصورتی کے چرچے تھے۔ ان کے میکے والے سول لائنز اور سسرالی شہر میں رہتے تھے۔ مہناز آپا کے شوہر ایک نامور ڈاکٹر تھے، جو حال ہی میں لندن سے ایک نئی ڈگری لے کر آئے تھے۔ ان کے سسر کو برٹش کے زمانے میں ’’خان بہادر‘‘ کا خطاب ملا تھا۔ وہ ہمیشہ اس عمارت کے بڑے اور طویل برآمدے میں آرام کرسی پر لیٹے پائپ پیا کرتا تھا۔ ہمارے ان کے ساتھ پرانے خاندانی تعلقات ہوا کرتے تھے، اسی لیے آپس میں زیادہ آنا جانا لگا رہتا تھا۔ کوئی دن خالی نہیں ہوتا تھا، جب ہمارے یہاں سے کوئی ان کے یہاں یا ان کے وہاں سے کوئی ہماری طرف نہ آتا ہو۔ اماں اگر جاتی ہیں تو ان کا سارا دن مہناز آپا والوں کے پاس گزرتا تھا اور وہ بھی لوگ بھی آتے تو شام ڈھلے ہی ہمارے یہاں سے جاتے۔

عجیب سا زمانہ تھا، زندگی کی ہر ایک بات پر ابھی مشینی زندگی نے اپنے رنگ نہیں جمائے تھے اور آج دکھ فقط اس بات کا ہے کہ وہ محبت بھرے قریبی رشتے جانے کس طرف منہ موڑ کر چلے گئے ہیں۔ ان کا پتہ کسی کو نہیں چلتا، جن سے محبت تھی، جن سے پیار تھا، جن لوگوں کے چہرے ایک دوسرے کو بھلے لگتے تھے۔

اور جیسے جیسے میں نے مہناز آپا کے پاس مزید جانا شروع کیا، ویسے ویسے ہمارے بیچ کا تعلق بھی گہرے سے گہرا ہوتا گیا۔ وہ مجھ سے پیار بھی تو بہت کرتی تھیں۔ میں ایک دن چھوڑ کر ان سے ملنے ضرور جایا کرتا تھا۔ نانی اماں اکثر ان کے شوہر سے دوا لینے چلی جاتی تھیں، تو میں بھی اس کے ساتھ لگ جاتا ( مہناز آپا کے شوہر کا مطب بھی اسی شاہانہ عمارت کے نچلے حصے میں ہوتا تھا)، نانی اماں ان کے شوہر سے دوا لیتی تھیں اور میں مہناز آپا کے پاس اوپر جا کر کھیلا کرتا۔ مہناز آپا کا کمرا، عمارت کے سامنے والے حصے میں تھا، جس کے سامنے فرانسیسی طرز کی ایک شاہانہ گیلری تھی، جسے درختوں کی شاخیں چھو لیا کرتی تھیں۔ تیز ہوا کے جھونکوں کی وجہ سے ان درختوں کے سوکھے اور زرد پتے جھڑ کر نیچے فوارے میں گرا کرتے تھے۔ سرخ پتھر کی اس شاہانہ گیلری میں، میں بیٹھ کر کھیلا کرتا تھا اور مہناز آپا میرے قریب آرام کرسی ڈال کر بیٹھ جاتی تھیں۔ گیلری کے نیچے چھوٹا باغ ہوتا تھا، جس میں دو چار نیم اور چند دیگر اقسام کے گھنے درخت اور ان کے درمیان میں سنگ مرمر کا بنا فوارہ تھا، جس سے پانی نکل کر تالاب میں جا کر گرتا تھا۔ اس کے ارد گرد ہری ہری گھاس اور تھوڑی دور پر اس عمارت کا شیشم سے بنا سیاہ دروازہ تھا۔ دروازے کے سامنے سڑک تھی، جہاں پیپل کے درخت کے نیچے کبھی کبھار کوئی ٹانگا گزرتا تھا، تو اس کی آواز بھی اندر آتی تھی۔ کبھی کبھی میں اور مہناز آپا اس گیلری کے کٹہرے پر سے جھک کر نیچے تالاب کو دیکھتے تھے۔ تیز ہوائیں ہمارے پاس سے گزر کر، مہناز آپا کے لمبے بال اڑا کر، درختوں کے بیچ شور کرتی ہوئی چلی جاتیں۔ میں اس وقت مہناز آپا کے چہرے کی طرف دیکھتا، جو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گالوں پر رکھ کر، نیچے پانی کو دیکھ رہی ہوتی تھیں۔

ایک بار میں اور مہناز آپا گیلری میں بیٹھے تھے۔ وہ جب بھی خاموش ہوتیں تو سگریٹ جلا کر آسمان میں ادھر ادھر تکا کرتی تھیں۔ اس دن بھی وہ سگریٹ ایک خوبصورت ہولڈر میں ڈال کر، لائٹر سے جلا کر، اس کے چھوٹے چھوٹے کش لیتے ہوئے سامنے درختوں کی چوٹیوں کو دیکھنے لگیں۔ میں جو ان کے پاس کھڑا تھا۔ انہیں سگریٹ پیتے دیکھ کہنے لگا، ’’آپا، آپ یہ مت پیا کرو؟‘‘

یہ سن کر انہوں نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ وہ اسی وقت نہا کر باہر آئی تھیں۔ ان کے سیاہ اور لمبے بال کندھے پر جھول رہے تھے۔ انہیں ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے مجھے بانہوں میں جکڑ کر اپنے قریب لاتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’کیوں مدھو، تم کو یہ اچھا نہیں لگتا کیا؟‘‘ میں نے سر ہلا کر حامی بھری تو میرے بالوں کو اپنی خوبصورت مخروطی انگلیوں سے سنوارتے ہوئے کہنے لگیں، ’’اچھا اب نہیں پیوں گی۔‘‘

میں گردن جھکائے ان کے خوبصورت نازک پاؤں دیکھنے لگا۔ مہناز آپا کے ہاتھ پاؤں بہت خوبصورت تھے (عورتیں کہا کرتی تھیں کہ مہناز جیسا خوبصورت حسن انہوں نے بہت کم دیکھا ہے)۔ ان کی خوبصورت لمبی انگلیاں، ان کے بڑھائے ہوئے ناخن، جنہیں وہ سرخ نیل پالش لگاتی تھیں، روشنی میں ہمیشہ چمکتے تھے۔ اچانک میں نے ان کے ناخنوں کو دیکھتے ہوئے کہا۔

’’آپا، کیا اپنے ہاتھوں کے ناخن بھی ولایت سے بنوا کر لائی ہیں؟‘‘

یہ سن کر وہ ہنسنے لگیں، ’’کیوں تمہیں اچھے لگتے ہیں کیا؟‘‘

میں ان کے ہاتھوں کے سرخ ناخنوں کو دیکھتے، اپنے دونوں ہاتھ ان کے سامنے پھیلاتے ہوئے کہنے لگا، ’’آپ میرے ناخن بھی اپنے جیسے بنا دیں۔ میں گھر جا کر انہیں لال کروں گا۔‘‘

وہ زور سے ہنسنے لگیں تو میں شرمندہ ہو گیا۔ انہوں نے ہنستے ہنستے کہا، ’’چلو تمہارے ناخنوں کو نیل پالش لگاؤں۔‘‘ ایسا کہتے ہوئے وہ مجھے اندر بیڈروم میں لے کر چلی گئیں۔ ان کی ڈریسنگ ٹیبل سرخ رنگ کی تھی، جس کے آئینے کے سامنے مختلف اقسام کی شیشیاں تھیں۔ ایک شیشی لے کر وہ کہنے لگیں، ’’کون سا رنگ لگاؤں؟‘‘

’’آپا آپ کو کون سا رنگ پسند ہے؟‘‘ میں نے کہا۔

’’ریڈ۔۔۔ مجھے سرخ رنگ پسند ہے؟‘‘ وہ اپنے رنگین ناخنوں کو دیکھتے ہوئے کہنے لگیں۔

’’مجھے بھی وہی لگا دو۔‘‘

اس نے فوراً میرے چہرے کی طرف دیکھا۔

’’مدھو، تجھے یہ رنگ بھی میری وجہ سے اچھا لگتا ہے؟‘‘

میں نے گردن ہلائی، پھر وہ ہنس کر کہنے لگیں، ’’چلو، آؤ تو تمہارے ناخنوں کو نیل پالش لگاؤں۔‘‘

ایسا کہہ کر وہ ڈریسنگ ٹیبل کے پاس رکھے اسٹول پر بیٹھ گئیں اور میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ناخنوں کو نیل پالش لگانے لگیں۔ میں سامنے موجود آئینے میں انہیں اور خود کو دیکھنے لگا۔

اچانک ایک شخص بیڈروم میں تیزی سے داخل ہوا۔ سوٹڈ بوٹڈ، جسم بھرا ہوا، رنگ صاف، پر ہونٹ بے حد موٹے۔ مہناز آپا، جن کے ہونٹوں میں اٹکے ہولڈر کا سگریٹ سلگ کر ختم ہو گیا تھا، میرے ہاتھوں میں نیل پالش لگاتے ہوئے، ایک نظر اُس پر ڈالی، پھر اپنے کام میں مصروف ہو گئیں۔ بیڈروم کے اندر آنے والا شخص مجھے نجانے کیوں اچھا نہیں لگا تھا۔ اس وقت مجھے اس شخص سے بہت ڈر لگا۔ میں ڈری سہمی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔ وہ کپڑوں کی الماری میں کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔ اچانک اس نے کوئی چیز الماری سے نکال کر جیب میں ڈالی اور آگے بڑھ کر ہمارے پاس آ کھڑا ہوا، تو میں مزید ڈرتے ہوئے مہناز آپا سے چپک کر بیٹھ گیا۔

’’کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اس کی آواز بہت بھاری تھی، تیز، کڑک اور جذبات سے خالی۔

’’کیوں ڈاکٹر صاحب، کچھ چاہیے تھا کیا، جو اس وقت اوپر آئے ہو؟‘‘  مہناز آپا نے بغیر سر اٹھائے، اس کی جانب دیکھنے کے بجائے، میرے دوسرے ہاتھ کے ناخنوں کو نیل پالش لگانے میں مصروف رہیں۔

’’یہ کون ہے؟‘‘ اس نے پوچھا

’’ماسی شانتی کا بیٹا ہے؟‘‘ آپا نے جواب دیا۔

’’ٹھیک ہے۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔؟‘‘ اس نے تیز آواز میں کہا۔ ’’پر تم سگریٹ کم پھونکا کرو۔‘‘

’’میں اپنے برے بھلے سے اچھی طرح واقف ہوں۔ آپ براہِ مہربانی بالکل فکر نہ کیا کریں۔‘‘ مہناز آپا نے میری چھوٹی انگلی کے ناخن کو نہایت ہی خوبصورتی سے پالش لگاتے ہوئے کہا۔

نہ جانے اچانک اس شخص کو کیا ہوا، وہ مہناز آپا کے ساتھ تیز لہجے میں بات کرنے لگا۔ وہ بھی پلٹ کر اسے اسی لہجے میں جواب دینے لگیں تو وہ شخص غصے میں زور زور سے زمین پر پیر پٹختا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا۔

یہی تھا مہناز آپا کا شوہر، جسے پہلی بار میں نے اس حالت میں دیکھا۔ مہناز آپا اور ان کے شوہر کے مزاج میں بہت فرق تھا، پر میرا ننھا ذہن اس وقت اس فرق کو سمجھ نہیں پایا۔

ایک بار ہمارے گھر آپا کی ساس آئی تھیں۔ امی اور وہ، دونوں پلنگ پر بیٹھی باتیں کرتی رہیں اور میں قریب ہی رکھے پالنے میں بیٹھا تھا۔ میرے ہاتھوں میں نانی اماں کے ہاتھ سے تیار ’’گول جھومر‘‘ تھا (کسی زمانے میں چھوٹے نوزائیدہ بچے کے لئے رنگین کپڑوں سے اسے بنایا جاتا تھا۔ اس کے اندر روئی ٹھونسی ہوئی ہوتی تھی اور باہر کڑھائی اور چمکیلے ستارے ٹانکے جاتے تھے۔ یہ بچے کے پالنے کے اوپر والی لکڑی پر ٹانگی جاتی تھی)، جو میں پالنے کی لکڑی پر باندھ رہا تھا۔ اچانک بیٹھے بیٹھے میں نے محسوس کیا کہ مہناز آپا کی ساس کے منہ سے مہناز نکلا۔ بس میں نے فوری طور پر اپنے کان ان کی باتوں میں لگا دیے۔ آپا کی ساس ان کے برائیاں کر رہی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں۔

’’بھئی عورت ہو تو ایسی، اتنے سکھ دیے ہیں پھر بھی اپنے شوہر کی صورت بالکل اچھی نہیں لگتی۔ ابھاگن کو ولایت لے گیا، تو وہاں سے بھی اکیلی اکیلی لوٹ آئی۔ پھر اسے لے گیا اور اب اتنے برس وہاں گذار کر آئی ہے، تو بھی ذرا دھیان نہیں دیتی ہے اس کی طرف۔‘‘

’’آپ کو زبردستی شادی نہیں کروانی چاہیے تھی۔‘‘ امی نے کہا۔

’’تو پھر کیا کرتے۔ چچیرا رشتہ، لین دین کے تعلقات، ہمیں کیا پتہ تھا کہ وہ کسی اور سے محبت کرتی ہے۔ میرا بیٹا تو ولایت میں تھا۔ اب تو اسے بھی ہر بات کا پتہ چل گیا ہے۔‘‘ ایسا کہہ کر انہوں نے دو چار تلخ الفاظ مہناز آپا کیلئے کہے۔ ان کا ایسا کہنا تھا، میں جو پالنے پر بیٹھا تھا، وہیں سے چلا اٹھا، ’’آپ سب آپاسے جل رہے ہو۔‘‘

میرا ایسا کہنا جیسے بھنبھور کو آگ لگ گئی۔ امی نے مجھے پھٹکارا، ’’شرم نہیں آتی بڑوں کے بیچ میں بات کرتے ہوئے۔‘‘

آپا کی ساس، جو اس محبت کو دیکھ کر دہل گئی تھیں، کہنے لگیں، ’’اما، اب چھوڑو بھی، اس کا بھی کوئی قصور نہیں۔‘‘

میں اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پالنے سے نیچے اترا، گول جھومر کو وہیں پھینک کر باہر نکلنے لگا، تو مہناز آپا کی ساس کی آواز سنی، ’’اتنے چھوٹے بچے کو بھی اپنا ہمدرد بنا لیا ہے۔‘‘

باہر آنگن میں نکل کر میں اپنی ہرنی کے پاس جا بیٹھا۔ جب کبھی بھی کسی سے روٹھتا تھا تو جا کر اسی کے پاس روتا تھا۔ اس واقعہ کے بعد جب بھی کبھی مہناز آپا کی ساس ہمارے گھر آتیں تو میرے سامنے ایک لفظ بھی بات نہیں کرتی تھیں۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، میری چاہت مہناز آپا کیلئے بڑھتی رہی۔ ا نکی سحر انگیز شخصیت کے کئی رنگ میرے سامنے آتے رہے۔ ان کے بیڈروم کو دیکھ کر ان کی فطرت کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا۔ انہیں پھولوں سے، خاص طور پر مو تیا کے پھولوں سے بے انتہا دلی وابستگی تھی، جنہیں وہ ’’رابیل‘‘ کہہ کر پکارتیں اور میں نے ’’رابیل  ’’لفظ بھی پہلی بار انہیں کے منہ سے سنا تھا۔ وہ اکثر شام کے وقت اپنے جوڑے میں انہی پھولوں کا گجرا لگاتی تھیں۔ اس بیڈروم میں داخل ہوتے ہی پھولوں کی خوشبو استقبال کرتی۔ وہیں دو کونوں میں بڑے بڑے اٹالین گلدان رکھے رہتے تھے، جن کے پھول روز ان کی نوکرانی تبدیل کر دیتی تھی۔ اس بیڈروم کی سفید دیواروں پر خو7بصورت پینٹنگز ٹنگی ہوئی تھیں۔ جب بھی اس سے ملنے جاؤ تو کبھی وہ نٹنگ کرتی ہوئی ملتیں، کبھی کتاب پڑھتے ہوئے، تو کبھی ستار بجاتے ہوئے۔ وہ ستار بجانا کب اور کہاں سیکھیں، یہ تو یاد نہیں اور نہ ہی میں نے ان سے اس بابت پوچھا، پر ان کو ستار بجاتے کب دیکھا تھا، یہ اچھی طرح یاد ہے۔

جب میرا، ان کے گھر کے قریب واقع ’’سینٹ بونا وینچر‘‘ میں داخلہ ہوا، تو پہلے دن ہی میں نے رو رو کر اپنا برا حال کر لیا تھا۔ ایسی حالت دیکھ کر میرا نوکر ’’یارو‘‘ مجھے مہناز آپا کے پاس چھوڑ آیا۔

اس وقت صبح کے دس گیارہ بجے ہوں گے۔ میں نے ان کے بیڈروم میں نم سوجی آنکھوں سے داخل ہوا، تو وہ نیچے قالین پر بیٹھی ستار بجا رہی تھیں۔ وہ سیاہ رنگ کی ساڑی پہنے تھیں، جس پر ستارے لگے ہوئے تھے۔ بیڈروم میں اندھیرے اور روشنی کے بیچ کا عالم تھا۔ کھڑکیوں کے پردے اوپر اٹھے ہوئے نہیں تھے، لیکن ہوا دان سے آتی روشنی میں سیاہ ساڑی پر لگے ستارے چمک رہے تھے۔ گلدانوں کے تازہ پھولوں کی مہک کمرے کو مہکا رہی تھی۔ وہ مجھے اس وقت اتنی اچھی لگیں کہ میں اپنا رونا بھول ان کے پاس جا بیٹھا۔ انہوں نے اپنے نین موندے ہوئے تھے اور سارے ماحول پر ستار کی اداس اور جادوئی آواز چھائی ہوئی تھی۔ اچانک ستار بجاتے بجاتے انہیں کسی کے ہونے کا احساس ہوا۔ آنکھیں کھول کر میری طرف دیکھا۔ ستار کی آواز تھم گئی اور کمرے میں ایک عجب خاموشی سی چھا گئی۔ میں، جو ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا، انہیں اپنی طرف دیکھتے شرما گیا۔ انہوں نے ستار ایک طرف رکھا اور میری طرف دیکھ کر مسکرا دیں۔

’’آپا میں نہیں پڑھوں گا۔‘‘ میں نے روتے ہوئے کہا۔

مجھے اسکول کے لباس میں دیکھ کر سمجھ گئیں کہ میں اسکول سے بھاگ آیا ہوں۔

’’نہیں مدھو، ایسے نہیں کہتے۔‘‘ انہوں نے بازوؤں کو آگے کرتے ہوئے مجھے اپنی طرف کھینچ لیا۔

’’تم پڑھو گے اور ایک دن پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بنو گے۔‘‘

میں، جو پہلے سے ہی رونی صورت لئے بیٹھا تھا۔ اب سسکتے ہوئے اس کی گود میں منہ چھپانے لگا۔

وہ اپنی انگلیوں سے میرے بال سنوارنے لگیں، تو میں نے کہا۔ ’’آپا، مجھے اسکول سے ڈر لگتا ہے۔‘‘

’’کیوں پاگل، کیا ہوا ہے اسکول کو، اتنا اچھا تو ہے اسکول۔‘‘

’’نہیں آپا، میں نہیں پڑھوں گا، بالکل نہیں پڑھوں گا۔‘‘

’’نہیں پڑھو گے؟‘‘

میں نے انکار میں سر ہلایا تو وہ مسکرا کہنے لگیں، ’’نہیں پڑھو گے تو بڑے لڑکے کس طرح بنو گے؟ نہیں مدھو، تم پڑھ لکھ کر بڑے ہو جاؤ، تو پھر میں تمہارے پاس چل کر رہوں گی۔‘‘ ایک بار میں نے ان سے کہا تھا کہ آپا آپ چل کر ہمارے پاس رہیں۔ یہاں یہ سبھی لوگ آپ سے جھگڑتے ہیں۔

میں خاموشی سے ان کی گود میں منہ چھپائے بیٹھا رہا۔ وہ میرے بال سلجھاتے ہوئے کہنے لگیں۔ ’’کیوں مدھو پڑھو گے نا؟‘‘

میں گردن ہلا کر کہنے لگا، ’’آپا، میں پڑھوں گا اور بعد میں جب میں بڑا آدمی بن جاؤں گا، پھر آپ چل کر ہمارے ساتھ رہنا۔‘‘

یہ سن کر انہوں نے ہنستے ہوئے میری پیشانی چومی اور کہنے لگیں۔ ’’اچھا، اب ایسا کیوں نہ کریں کہ تم روز شام میرے یہاں آ کر پڑھو، میں تم کو ٹیبل بھی سکھاؤں گی۔ سیکھو گے نا؟‘‘

’’ہاں۔‘‘ میں نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔

انہوں نے ہنس کر میرے آنسو اپنے ہاتھ سے پونچھے، پھر میں نے ان سے پوچھا، ’’آپا، آپ یہ کیا بجا رہی ہیں؟‘‘

’’یہ۔۔۔ ستار ہے۔‘‘ ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تیر گئی، ’’کیوں، تمہیں اس کی آواز اچھی لگتی ہے؟‘‘

’’سچ آپا، آپ بہت اچھا بجا رہی تھیں۔ اسے پھر بجائیں نا؟‘‘

یہ کہہ کر میں نے برابر میں رکھے ستار کے تاروں کو چھو لیا۔

انہوں نے پل بھر کچھ سوچتے ہوئے ستار اٹھایا اور آہستہ آہستہ سے ایک دھن چھیڑی۔ مہناز آپا ستار بھی اچھا بجا تی تھیں۔ میں جھوم جھوم کر اسے سنتا رہا۔ وہ ستار بجاتی رہیں اور میں وارفتگی سے ان کی خوبصورت اور نازک انگلیوں کو تاروں پر تھرکتے ہوئے دیکھتا رہا۔ آج اس بات کو گزرے مدت ہو گئی ہے، پر میں اب تک ان خوبصورت انگلیوں اور ستار کی اس اداس دھن کو نہیں بھلا پایا ہوں۔

یہ بھی پڑھیے: بارود —– ہری موٹوانی کا افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ترجمہ: عامر صدیقی

 

اچانک ستار بجاتے بجاتے ان کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے، پھر آنکھوں سے نکل کر گال پر ٹھہر گئے۔ یہ دیکھ کر میں ڈر سا گیا، فوری طور پر اٹھ کر اپنے ہاتھوں سے ان آنسو پونچھتے ہوئے کہنے لگا، ’’آپا مت روئیں، آپا مت روئیں۔‘‘

اور انہوں نے ستار بجانا بند کرتے ہوئے میرے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں پر رکھا اور سسکتے ہوئے رونے لگیں۔

اس رات جب آسمان پر ستاروں نے اپنی محفل سجائی تو میں امی کی بغل میں لیٹا ٹمٹماتے ستاروں کو دیکھتا رہا۔ مجھے ٹکر ٹکر آسمان کو تکتے ہوئے دیکھ کر امی کہنے لگی، ’’بیٹا، آسمان میں یوں دیکھنا نہیں چاہئے، نہیں تو نیند میں ڈر لگنے لگتا ہے۔‘‘

’’کیوں بھلا؟ کیا ہے آسمان میں؟ ابھی تو گھنے سائے بھی آنگن پر نہیں چھائے ہیں۔ میں تو نہیں ڈر رہا۔‘‘ میں نے ضد کرتے ہوئے غصے بھرے لہجے میں کہا۔

’’بیٹے ضد نہیں کرتے۔‘‘ امی نے میرے بال سنوارتے ہوئے کہا،  ’’کیوں آج کوئی کہانی نہیں سنو گے کیا؟‘‘

میں نے اپنے دونوں ایک ہاتھ سر کے نیچے رکھے اور ستاروں کی طرف مسلسل دیکھتے ہوئے کہنے لگا، ’’امی آپ مجھے وہ جو ایک کہانی سناتی ہیں نا، جس میں شہزادی کو ایک دیو نے بڑے سے محل سے اٹھا کر اپنی جیل میں رکھا ہوا ہے۔ وہی پھر سنائیں نا۔‘‘

’’وہ تو بہت بار سنائی ہے۔‘‘ امی مسکرانے لگی۔

’’بس وہی کہانی اچھی لگتی ہے۔‘‘ میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

’’امی، وہ شہزادی دیو کی قید سے کب آزاد ہو گی؟‘‘

’’جب شہزادہ دیو کو مار کر اسے قید سے آزاد کروائے گا۔‘‘

یہ کہہ کر، امی نے سوز بھرے لہجے میں کہانی سنانی شروع کی اور میری آنکھیں کہانی سنتے سنتے نہ جانے کب بند ہو گئیں۔ اس رات میں نے کتنی ہی بار ڈراؤنے خواب دیکھے اور ہڑبڑاہٹ میں اٹھتا بیٹھتا رہا۔ اور ساری رات نیند میں تڑپتا رہا۔

’’کل رات مدھو خواب میں ڈر گیا۔‘‘ صبح صبح اٹھتے ہی امی نے نانی اماں سے کہا، جو دودھ کا گلاس پکڑے میرے سرہانے کھڑی تھیں۔ نانی نے آگے بڑھ کر میرے ماتھے کو ہاتھ لگایا تو وہ انہیں جلتا ہوا محسوس ہوا۔ بخار کا نام سنتے ہی پورے گھر میں ہلچل مچ گئی۔ فوری طور پر پڑوس والے ڈاکٹر عزیز احمد کو بلوایا گیا، جس نے آ کر سوئی لگائی اور دوا دی۔ میرا اسکول جانا بند ہو گیا۔ شام کو نانی اماں، بخاری شاہ میں ’’مائی بچل‘‘ کے یہاں دعا مانگ کر پلیٹیں لکھوا کر لے آئیں ( ایک روایت کے مطابق پلیٹ میں کچھ آیتیں لکھی جاتی ہیں۔ روز صبح ان کو دھو کر اس کا پانی پانی پلایا جاتا تھا)

دو چار دن مہناز آپا کے پاس نہیں گیا تو ایک شام وہ خود ہمارے گھر آ پہنچیں۔ میں اس وقت تازہ تازہ بخار سے اٹھا تھا اور اس خوشی کے نشے کے نتیجے میں، خریدی گئی تتلیوں والی بو شرٹ اور کالی مخمل کی نیکر پہن کر آنگن میں پھر رہا تھا۔ ( حیدر آباد شہر میں اس وقت ریڈی میڈ کپڑوں کی فقط ایک ہی بڑی دکان ہوا کرتی تھی، جس میں بچوں اور بڑوں کے طرح طرح کے ریڈی میڈ کپڑے اور کاسمیٹکس بھرے ہوتے تھے۔ وہ دکان تلک چاڑی کے اوپر، جہاں اب ہوٹل جبیس ہے، اس کے نزدیک ہوا کرتی تھی)

انہیں دیکھتے ہی دوڑ کر میں ان سے لپٹ گیا۔ انہوں نے آسمانی رنگ کی ساڑی پہن رکھی تھی، جس پرہ ہُرمِچ کی خوبصورت کاریگری کی ہوئی تھی اور پاؤں میں اونچی ایڑی والی سینڈل تھی۔ میں خوش ہوتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی ہرنی کے پاس لے آیا۔ اپنی ساری گڑیائیں، بچے کی جھومر اور بخار کے دوران خریدے گئے کھلونے دکھانے لگا۔ وہ میرے لئے چاکلیٹ کا ایک خوبصورت پیکٹ لے کر آئی تھیں، جو میں نے اسی وقت اپنی دراز میں چھپا کے رکھ دیا۔ مجھے خوش ہوتا دیکھ کر امی، مہناز آپا سے کہنے لگیں، ’’اتنے دنوں کے بعد آج تجھے دیکھ کر ہنسا ہے۔‘‘ یہ سن کر وہ مسکرانے لگیں۔

اس شام وہ مجھے اپنے ساتھ گھمانے لے گئیں۔ ہمارے گھر کے سامنے ان کی موٹر کھڑی تھی۔ میں چھلانگیں مارتا ہوا ان کے ساتھ چلنے لگا۔ انہوں نے کار کا دروازہ کھول کر مجھے آگے والی سیٹ پر بٹھایا اور پھر خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گئیں۔ میں مسرت بھرے انداز میں انہیں کار چلاتے ہوئے دیکھتا رہا (اس وقت حیدرآباد شہر میں ایک آدھ ہی موٹر کاریں ہوا کرتی تھیں )۔

حیدرآباد کی سڑکیں شام کے دھندلے پن سے گھری ہوئی تھیں۔ فٹ پاتھ پر لوگ چہل قدمی کر رہے تھے۔ سڑکوں پر لگے بجلی کے کھمبوں میں لٹکتے بلب جلنے شروع ہو گئے تھے۔ ہماری موٹر آہستہ آہستہ سیاہ ڈامر کی پختہ سڑک پر چلتی جا رہی تھی۔ جب موڑ پر موٹر مڑ کر بڑی سڑک پر چلنے لگی تو انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’’مدھو، کہاں گھومنے چلو گے؟‘‘

میں، جو اس وقت کھڑکی سے باغ کے قد آور درختوں کو دیکھ رہا تھا، خوش ہو کر کہنے لگا، ’’آپا، جہاں کہیں بھی لے چلیں آپ کی مرضی۔‘‘ پیچھے سے آتا چڑیوں کا شور، شام کے اندھیرے میں عجیب لگ رہا تھا۔ میں سیٹ پر ٹیک لگا کر بیٹھتا تو کبھی سیدھا ہو کر سامنے باغ کو دیکھنے لگتا۔ موٹر جب سندھ یونیورسٹی کے پاس سے گزری تو ٹاور کے گھڑیال کی ٹھن ٹھن شروع ہو گئی۔ برابر میں موجود سیشن کورٹ کی عمارت، احاطے میں اگے درختوں کی وجہ سے بہت ڈراؤنی لگ رہی تھی۔ ہمارے دائیں طرف سیشن کورٹ اور بائیں طرف سندھ یونیورسٹی کی عمارت کا ٹاور، اس کے سامنے شاہی باغ اور اس کا لوہے کا جھولا تھا۔ سبھی شام کے دھندلکے میں گھرے ہوئے نظر آ رہے تھے۔ کورٹ سے کچھ آگے جا کر بائیں طرف سول لائنز کا بنگلہ نمبر ایک تھا، جس کے صحن میں بہت ساری گائیں بندھی تھیں۔ میں یہ سارا منظر بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا۔ ہمارے سامنے ڈاک بنگلہ اور کچھ فاصلے پر جیم خانہ تھا، جس کی باہر جلتی لائٹیں دور سے دکھائی دے رہی تھیں۔ موٹر جب پریم پارک کے قریب پہنچی تو میں نے آپا کو بتایا، ’’آپا، ہم پریم پارک ایک بار گھومنے آئے تھے۔‘‘

انہوں نے ہنستے ہوئے کہا، ’’اچھا، پھر آج ہم اپنے مدھو کو کلب گھمائیں گے۔‘‘

میں دھیان سے پریم پارک کے درختوں تلے چڑھائی پر بنی پتھر کی بنچیں اور سول لائنز کی طرف جاتے راستے پر درختوں کی قطاروں کو دیکھنے لگا۔

گاڑی جب جیم خانہ کلب کے اندر پہنچی تو میں کلب کی عمارت کو دیکھنے لگا، جس کے آگے کتنے ہی درخت لگے تھے اور ان کے درمیان سے شام کی ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیں آ جا رہی تھیں۔ عمارت کے اوپری حصے میں جلنے والے بلب ہوا میں جھوم رہے تھے۔

انہوں نے موٹر لے جا کر نیم کے گھنے درخت کے نیچے کھڑی کی اور دروازہ کھول کر نیچے اتریں۔ پھر میری طرف والا دروازہ کھول کر مجھے کلب کے اندر لے جانے لگیں۔ ہمارے اوپر رات کا اندھیرا چھانے لگا تھا۔

ہم سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچے تو سامنے ایک خوبصورت لان نظر آیا، جس کے اونچے اونچے درختوں کے نیچے بہت ساری کرسیاں اور میزیں رکھی تھیں اور ان پر بہت سے مرد اور عورتیں بیٹھے آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔ ہم لان سے گذر کر اندر برآمدے میں داخل ہوئے۔ ایک طرف بلیئرڈ روم تھا جس کتنے ہی سوٹڈ بوٹڈ مرد منہ میں سگار یا پائپ لگائے اور ہاتھوں میں لمبی اسٹکس پکڑے ایک طویل ٹیبل کے ارد گرد کھڑے تھے۔

’’یہ کیا کر رہے ہیں؟‘‘ میں نے فوراً ہی مہناز آپا سے پوچھا۔

’’یہ کھیل ہے بلیئرڈ‘‘ انہوں نے جواب دیا اور مجھے ہاتھ سے پکڑ کر بلیئرڈ روم سے نکالتے ہوئے عورتوں کے ہال میں لے کر جانے لگیں۔ لیڈیز ہال۔ ایک شاہانہ کمرہ تھا، جو وکٹوریہ دور کے فرنیچر سے بھرا ہوا تھا۔

نیچے غالیچے، اس پر سوفے، میزیں، تپائیاں، کرسیاں اور ادھر ادھر رکھے گلدان تازے پھولوں سے ہال کو مہکا رہے تھے۔ ہال میں کتنی ہی خوش مزاج عورتیں سج دھج کر بیٹھی ہوئی تھیں۔ سارا ہال طرح طرح کی خوشبوؤں سے مہک رہا تھا۔ آپا مجھے لے کر ایک کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کرنے لگی، تو کتنی عورتیں ہی آ کر ان سے ملیں۔ وہ عورتوں کو ہیلو ہائے کرتے ہوئے میری برابر والی کرسی پر بیٹھ گئیں۔

’’باہر چلو، لان میں چل کر بیٹھتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مجھے شرماتے ہوئے دیکھ کر کہا۔ میں نے گردن ہلا کر حامی بھری تو وہ مسکرا دیں۔ میں واقعی عورتوں کے اتنے بڑے گروپ میں جھجک رہا تھا۔ وہ مجھے ہاتھ سے پکڑ کر باہر آئیں۔ برآمدے میں کچھ بچے بھی تھے، جنہیں دیکھ کر وہ کہنے لگیں، ’’دیکھو مدھو یہ بچے کس طرح ادھر ادھر آ جا رہے ہیں۔ کھیل رہے ہیں اور تم ہو کہ شرما رہے ہو۔‘‘

باہر لان میں ایک دوسرے سے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر رکھی میزوں کے ارد گرد موجود کرسیوں پر کتنے ہی جوڑے بیٹھے تھے۔ کچھ بچے بھی ان کے ساتھ تھے۔ کلب کی تمام بتیاں جل چکی تھیں، جن کے اوپر آسمان پر بکھرے ہوئے بادلوں کے بیچ میں سے کہیں کہیں کچھ بھٹکے ہوئے ستارے جھانک کر ہمیں دیکھ رہے تھے۔

مہناز آپا مجھے ایک ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر خود میرے سامنے بیٹھ گئیں۔ پھر سگریٹ سلگا کر اس کے چھوٹے چھوٹے کش لینے لگیں۔ سفید لباس پہنے ویٹر ہمارے سامنے آ کر کھڑا ہوا، تو اسے چیز سینڈوچ اور آئس کریم کا آرڈر دے کر وہ دوبارہ سگریٹ پینے لگیں۔

اچانک انہوں نے پوچھا، ’’مدھو، تنگ تو نہیں ہو رہے ہو۔‘‘

’’نہیں آپا، مجھے بہت مزا آ رہا ہے۔‘‘

حیدرآباد کی گرمیوں کی رات اپنی تمام تر خوبصورتی کے ساتھ سارے ماحول پر غلبہ حاصل کرتی جا رہی تھی۔ ہوا میں پھولوں کی خوشبو بسی تھی۔ تھوڑے فاصلے پر موجود عورتیں، مردوں اور بچوں کے بولنے کی ہلکی سی آوازیں ہم تک بھی پہنچ رہی تھیں۔ پر وہ نہ جانے کون سے خیالوں میں گم، سگریٹ کے کش لگا رہی تھیں۔ وہ سگریٹ پر سگریٹ پھونکتی، اوپر آسمان کو دیکھ رہی تھیں۔ اوپر آسمان بھی اب بادلوں سے صاف ہو چکا تھا، جس پر چاندمسکرا اور ستارے ٹمٹما رہے تھے۔ وہ مسلسل سگریٹ پیتے کھلے آسمان کو تک رہی تھیں (میں نے اس وقت ہلکی ہلکی روشنی میں ان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے سوچا کہ بڑا ہو کر میں مہناز آپا سے شادی کروں گا اور انہیں اپنے پاس رکھوں گا)۔

اور پھر میں نے ہر روز شام کے وقت مہناز آپا کے پاس جانا شروع کر دیا۔ وہ مجھے شام کے وقت پڑھاتی تھیں۔ کبھی اپنے بیڈروم میں تو، کبھی چبوترے پر۔ اس عرصے میں کتنی ہی بار ان کے شوہر سے آمناسامنا ہوا۔ پر نہ انہوں نے مجھ سے بات کی، نہ میں نے ان کے قریب جانے کی کوشش کی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے، ایک بار میرے بازو پر لال نشان پڑ گیا تھا، شاید کوئی جِلدی بیماری تھی، جب مہناز آپا نے وہ نشان دیکھا تو پوچھ بیٹھیں، ’’مدھو یہ کیا ہوا ہے؟‘‘

’’آپا، اس میں کھجلی ہوتی ہے۔ پاؤڈر بھی لگایا ہے پھر بھی جلن ہے۔‘‘ میں نے ان سے کہا، یہ سنتے ہی وہ مجھے نیچے لے گئیں۔ اس وقت شام کے پانچ یا چھ بجے تھے۔ نیچے آنگن میں ان کا شوہر واش بیسن کے قریب برش کر رہا تھا۔ مہناز آپا نے، فوری طور پر شوہر سے کہا، ’’دیکھئے، چھوٹو کو یہ نشان پڑ گیا ہے۔ اسے کوئی دوا لکھ دیں۔‘‘

میں نے بازو آگے کیا تو انہوں نے برش کرتے ہوئے، نہایت ہی غصے سے جھڑکتے ہوئے کہا، ’’میں یہاں کسی بھی مریض کو نہیں دیکھتا ہوں۔ دکھانا تو صبح اسے ہسپتال بھیج دینا۔‘‘

پھٹکار سن کر میں کچھ پیچھے ہٹ گیا۔ آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ مہناز آپا نے اس وقت انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ غصے میں میرا بازو پکڑا اور اپنے بیڈروم لے گئیں۔ پھر الماری سے پاؤڈر نکال کر میرے بازو میں لگانے لگیں۔ میری آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اپنے ہاتھوں سے انہیں پوچھتے ہوئے مجھے نیچے لے آئیں۔ فوارے کے پاس بیٹھ کر ہم اس میں سے نکلتے پانی کو دیکھنے لگے۔ ان کا چہرہ غصے سے لال ہو رہا تھا۔ اس سے پہلے کبھی میں نے انہیں اتنے غصے میں نہ دیکھا تھا۔

مجھے یاد ہے کہ مہناز آپا کو سیر سپاٹے کا بہت شوق ہے۔ قدرت کے خوبصورت نظارے دیکھنے میں تو انہیں بے حد لگاؤ ہے۔ چاندنی راتوں میں وہ اکثر چھت پر چلی جایا کرتی تھیں۔ سردیوں کے موسم میں وہ جھیل کی طرف گھومنے چلی جاتیں، جہاں اس کا ماموں زاد بھائی انہیں شکار کرنے لے جاتا (میرے ذہن میں ابھی تک وہ تصویر تیرتی ہے، جو ان کے میکے کے مکان کے گول کمرے کی دیوار پر ٹنگی ہوتی تھی، جس میں وہ رائڈنگ لباس میں گھوڑے پر بیٹھی نظر آتی تھیں)۔ ایک بار ان کے میکے میں کوئی خاص قسم کی تقریب تھی۔ ان کا گھر سول لائنز میں تھا۔ بہت بڑا بنگلہ، جس میں دونوں جانب لان اور اس کے کناروں پر امرود، آم اور نیم کے درخت ہوا کرتے تھے۔ رات کو وہ جشن اسی کھلے ہوئے شاہانہ لان میں تھا، جس میں شامیانے لگے ہوئے تھے۔ باہر ہلکی سردی تھی۔ لان کے ایک جانب میز کرسیاں رکھی ہوئی تھیں، جن پر سفید کور بچھائے ہوئے تھے۔ مہناز آپا کے خاندان کی لڑکیاں، پڑوس کے بنگلوں کی دیگر لڑکیوں کے ساتھ مل کر شیشے کے گلاسوں میں سفید نیپکن لپیٹ کر رکھ رہی تھیں اور میں مہناز آپا کے پیچھے پیچھے پھر رہا تھا۔ امی برابر والے گول کمرے میں اپنی پرانی سہیلیوں سے باتیں کر رہی تھیں۔ کمرہ عورتوں سے بھرا ہوا تھا۔ مہناز آپا نے لال ساڑی پہن رکھی تھی، جس پر کشیدہ کاری کی ہوئی تھی۔ قدرت نے انہیں ایسی خوبصورتی عطا کی تھی کہ ان پر ہر رنگ پھبتا تھا۔ اس وقت بھی وہ اس لال ساڑی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھیں۔ ا نکے لمبے سیاہ بال، جن کو انہوں نے آج جوڑے میں نہیں باندھ رکھتا تھا، کمر تک لٹک رہے تھے۔

’’چل مدھو، تو میں تیار ہو لوں۔‘‘ انہوں نے اپنی ماں کے کمرے سے باہر نکلتے ہوئے کہا۔

میں جو ان کے انتظار میں برآمدے میں کھڑا تھا، اس کا ہاتھ تھامے ان کے ساتھ چلنے لگا۔ وہ مجھے اندر ڈریسنگ روم میں لے گئیں، پچھلا دروازہ ان کی ماں کے کمرے سے کھلتا تھا۔ اندر ان کی والدہ لکڑی کے تخت پر بیٹھی نماز پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے ہمارے سلام کا جواب دیتے ہوئے ہماری طرف دیکھا۔ ڈریسنگ روم پہنچتے ہی آپا نے مجھے اسٹول پر بٹھا دیا اور خود آئینے کے سامنے اپنے بال سنوارنے لگیں۔ بال بناتے بناتے وہ میٹھی آواز میں شاہ سائیں کی ایک ’’کافی‘‘ گانے لگیں۔

ترجمہ: جن کے ساتھ دل کے تار جڑ گئے۔ یہ جان اُن پر قربان ہے۔

ان کی مدھر آواز میں، میں نے پہلی بار سندھی کلام سنا تھا۔ وقت کے بے رحم پلوں میں، وہ پل اور وہ آواز کبھی کبھی میرے کانوں میں اکثر گونج اٹھتی ہے۔

میں نے دیوار سے ٹیک لگائی، اسٹول پر بیٹھے بیٹھے ان کا یہ کلام سنا، اچانک کمرے کا دروازہ کھولا اور ان کی ماں اندر آئیں۔ مہناز آپا نے جب انہیں دیکھا تو بال بنانے بند کئے اور آئینے میں سے انہیں دیکھنے لگیں، جو اب تک ان کے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی تھیں۔

’’مہناز‘‘ انہوں نے آہستہ سے آواز دی۔

’’جی اماں۔‘‘ مہناز آپا نے ان کی طرف دیکھتے پوچھا۔

مہناز آپا کی ماں کی گمبھیر آنکھوں پر عینک چڑھی ہوئی تھی، جس میں سے ان کی آنکھیں بیٹی پر سے ہوتے ہوئے مجھ پر آ کر ٹھہر گئیں۔

’’بیٹا تم چل کر باہر بیٹھو، ہم آ رہے ہیں۔‘‘ میرے بالوں کو سہلاتے ہوئے انہوں نے کہا۔

’’نہیں اماں، یہ بیٹھا رہے گا۔‘‘ مہناز آپا نے کچھ تیز لہجے میں کہا، ’’آپ کو جو کچھ بھی کہنا ہے، اس کے سامنے کہہ دیں۔‘‘

’’تمہارے پیچھے تو مدھو جیسے سایہ بن کر گھوم رہا ہے۔‘‘ مہناز آپا کی ماں نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’اس کی ماں کہتی ہے کہ یہ اُس کا نیک بیٹا ہے۔ اسی لئے تو مہناز کا اس سے اتنا لگاؤ ہے۔‘‘

’’امی یہ میرا اصلی ساتھی ہے۔ اسی سے میرا دل بہلا رہتا ہے۔‘‘  مہناز آپا نے مجھے پیار بھری نظر سے دیکھتے ہوئے کہا۔

کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد ماں نے پھر آواز دی۔ ’’مہناز۔‘‘

’’امی، کہیں نا کیا کہنا چاہتی ہیں آپ۔‘‘ مہناز آپا نے برش کے تاروں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا۔

’’بیٹا تم اپنا بھلا اور برا خود بہتر سمجھتی ہو۔ میں تمہیں اور کیا کہوں۔‘‘ ان کی ماں نے آہستہ آہستہ کہنا شروع کیا۔ ’’کہنا تو بہت کچھ چاہتی ہوں، پر فقط اتنا کہوں گی کہ جو کچھ ہوا، سو ہوا۔ اب حالات سے سمجھوتہ کر لو۔‘‘

’’سمجھوتہ؟‘‘ مہناز آپا کے چہرے کا رنگ دھندلا پڑتا گیا۔

’’امی سمجھوتہ کس سے کروں؟ اپنے آپ سے، ان حالات سے یا زندگی سے؟‘‘

’’مہناز تم سمجھتی کیوں نہیں؟‘‘ ماں نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔

مہناز آپا نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا، ’’امی، میں نے آپ سے پہلے بھی کہا ہے اور یہ بات آج پھر آپ کو بتائے دیتی ہوں کہ اس شخص سے شادی کروا کر آپ نے میری زندگی تباہ کر دی، مر جاؤں گی پھر بھی یہ بات آپ کی یاد رہے گی۔‘‘ ان کی آواز غصے اور درد سے بھر آئی۔ فوراً ہی ان کی ماں نے آگے بڑھ کر انہیں گلے لگا لیا، تو وہ ماں کی چھاتی میں منہ چھپا کر کسی چھوٹے بچے کی طرح ہمک کر رونے لگیں۔ ماں خاموش کرانے کی کوشش کرنے لگی۔

میں نے اسٹول پر بیٹھ کر یہ سارا منظر دیکھا۔ کچھ وقت خاموشی چھائی رہی، جس میں صرف مہناز آپا کی سسکنے کی آواز تھی۔ جو وقفے وقفے سے گونج رہی تھی۔

’’مہناز، اب ہو بھی کیا سکتا ہے؟‘‘ ان کی ماں کہنے لگیں، ’’تم کوشش کر کے اپنے گھر کو برباد نہ ہونے دو بیٹی۔ اُس مردار سے بھی فون پر بات نہ کیا کرو۔ تمہاری ساس ایک ایک بات تمہارے شوہر کو بتاتی ہے۔‘‘

مہناز آپا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اچانک، انہوں نے دائیں ہاتھ سے اپنی آنکھوں سے بہتے آنسو پونچھے اور میری طرف دیکھ کر کہا، ’’اوئے مدھو، باہر چلیں کیا؟‘‘ انہوں نے میرے کندھے کو پکڑتے ہوئے اسٹول سے اترنے کیلئے کہا۔ میں پہلے ہی اس ماحول سے سہم گیا تھا۔ فوری طور پر ہاتھ پکڑ کر ان کے ساتھ باہر نکل آیا۔

’’کہاں جا رہی ہو مہناز؟‘‘ ان کی ماں نے آہستہ سے کہا

آپا مجھے باہر لے آئیں۔ باہر برآمدے میں ریفریجریٹر رکھا ہوا تھا، جس سے ٹھنڈے پانی کی ایک بوتل نکال کر پانی پینے لگیں۔ میں تعجب سے ان کی طرف دیکھنے لگا، جو اتنی سردی میں بھی وہ اتنا ٹھنڈا پانی پی رہی تھیں۔

باہر لان میں لڑکیوں کا شور تھا، جو نیپکن بناتے ہوئے آپس میں زور زور سے باتیں کر رہی تھیں۔ نوکر لان میں پھر رہے تھے۔ عورتوں کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ کچھ دور شامیانے میں گلو کارہ چھُمّی شیدانی اپنی پارٹی کے ساتھ آ بیٹھی تھی۔ دن ابھی ختم نہیں ہوا تھا، اسی وجہ سے سورج کی روشنی ابھی باقی تھی۔ لیکن لان کے درختوں میں لگی قمقموں کی جھالر ابھی سے جلا دی گئی تھی۔

ہم برآمدے کے زینے سے اتر کر نیچے لان میں آئے تو مہناز آپا کو لڑکیوں نے گھیر لیا۔ وہ ان سے باتیں کرتیں، لان سے گزر کر جلدی جلدی مجھے اپنے ساتھ لئے بنگلے کے میں گیٹ کی طرف چلنے لگیں۔ تو میں نے پوچھا، ’’آپا، کہاں چل رہی ہیں؟‘‘

’’باہر چلتے ہیں۔ اونچائی پر ہوا کھانے، مدھو، یہاں تو میرا دم گھٹ رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا۔

اور میں چپ چاپ ان کے ساتھ چلتا ہوا بنگلے کے گیٹ سے باہر نکل آیا۔

باہر سول لائنز کی سڑکوں پر، شام آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی اور میں، مہناز آپا کے ساتھ پیدل چلتا رہا۔ سارے ماحول پر شام اپنے تمام رنگوں سمیت غالب ہونے لگی تھی اور وہ سامنے ’’ٹنڈو جھانیاں‘‘ والی پہاڑی کی طرف سست رفتار سے قدم بڑھاتی چل رہی تھیں۔

ہم پیدل چلتے جا رہے تھے اور میں آسمان کے ماحول کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ دونوں جانب بنے بنگلوں میں سے کسی کسی وقت لوگوں کی آوازیں ابھرتیں پھر ختم ہو جاتیں۔ کچھ آگے چل کر ہم پہاڑی پر پہنچے (ٹنڈو جھانیاں والی وہ پہاڑی، سول لائنز کے کنارے پر ہوا کرتی تھی اور آج وہ پہاڑی ویران ہو گئی ہے۔ اس پوری پہاڑی پر بنگلے بن گئے ہیں)، وہ وہیں کھڑی ہو کر مغرب کی سمت منہ کئے ڈوبتے سورج کو دیکھنے لگیں۔

ہمارے چاروں جانب شام کا اندھیرا پھیل رہا تھا۔ اس سیاہ شام میں نے مہناز آپا کی ساڑی کا پلو پکڑا، جس کی انہیں بھنک تک نہیں پڑی۔ میں نے گردن اٹھا کر ان کی جانب دیکھا۔ وہ بہت اداس تھیں اور کرب کی لکیریں شاید ان کی دلی کیفیت کا اظہار چہرے پر کر رہی تھیں۔ میں نے اس وقت آسمان کے کئی رنگوں والی روشنی میں ان کے چہرے پر ایک اداسی محسوس کی اور دل ہی دل میں سوچنے لگا، ’’مقید شہزادیاں، دیوؤں کی قید میں ایسے ہی دکھی اور ملول رہتی ہوں گی۔ مومل، سومل، پھول رانی۔‘‘

اچانک انہوں نے مجھ سے پوچھا، ’’مدھو، ڈر رہے ہو کیا؟‘‘

’’نہیں آپا۔‘‘ میں نے جھوٹ کہا، ’’آپ جو میرے ساتھ ہیں۔‘‘

میں نے سر اٹھا کر ان کو جواب دیا اور پھر وہ سامنے افق کے رنگوں کو دیکھنے میں گم ہو گئیں۔ ڈھلتے سورج کی کرنیں ٹھیک ہمارے سامنے تھیں۔ چند پلوں میں سورج مغرب کی ڈھلان میں غائب ہو گیا۔ سارے ماحول میں خوف جیسا سناٹا چھا گیا۔ سبھی پرندے بھی خاموش ہو گئے تھے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ہمارے پاس سے گزرتی جا رہی تھی، جس سے مہناز آپا کے کھلے بال اڑ رہے تھے اور آسمان سے اترتی دھند، اندھیرے کے ساتھ سرمئی شام کو نگلتی رہی۔

انہوں نے ایک طویل سانس لی اور میرا بازو تھام کر پیچھے کی طرف لوٹنے لگیں۔ ان کا ہاتھ میرے کندھے پر تھا۔ سامنے سول لائنز کی سڑکوں پر لگی اسٹریٹ لائٹس کی طویل قطاریں روشن ہو چکی تھیں۔ اس روشنی میں بھی ساری سڑک ویران تھی۔ ہوا کے تیز جھونکوں سے جھڑے ہوئے پتے اڑ رہے تھے۔ دور کسی نے سوکھے پتوں کے ڈھیر کو جلا دیا تھا۔ جس کا دھواں شام کے سیاہ رنگ میں گھل مل رہا تھا۔ جلنے کی بو ہوا میں شامل ہو کر ہم تک پہنچ رہی تھی۔ آس پاس کے بنگلوں میں آہستہ آہستہ بتیاں جلنے لگی تھیں اور آپا گردن جھکائے چلتی جا رہی تھیں۔

جب ہم واپس بنگلے کے گیٹ کے پاس پہنچے تو آسمان کے سرمئی رنگت میں رات کے ستارے ڈوبتے نظر آئے۔ اندر لان میں عورتوں اور بچوں کا شور تھا۔ جگمگ روشنیوں کے بیچ بچھے ہوئے قالین پر مشہور گلو کارہ چھُمّی شیدانی اپنی درد بھری آواز میں ڈوہیاڑا گا رہی تھی۔

ترجمہ: سورج خندقوں میں ڈھلتا ہوا اٹھکیلیاں کرتا رہا۔ مجھے بے موت مارا تاریکی کر کے۔

اس واقعے کے چند مہینوں کے بعد اچانک بابا کا ٹرانسفر لاہور ہو گیا تو ہمیں جانے کی تیاری کرنی پڑی۔ میرا دل بجھ سا گیا۔ حیدرآباد شہر میں دن کھیلتے گزارے تھے۔ ان لمحوں اور مہناز آپا کو چھوڑتے ہوئے دل اداس ہو رہا تھا۔ میں نے تو بالکل ضد پکڑ لی تھی کہ میں لاہور نہیں جاؤں گا۔ مہناز آپا کے پاس رہ کر پڑھوں گا۔ مجھے یہیں چھوڑ جائیں۔

مجھے یاد ہے، مہناز آپا ہمیں الوداع کہنے ہمارے گھر آئیں تو میں دوڑ کر ان کے گلے لگ گیا اور رونے لگا۔ مہناز آپا میرے آنسوؤں کو پونچھتے ہوئے کہنے لگیں، ’’مدھو، تم پڑھ لکھ کر بڑے آدمی بن جانا، تو پھر میں آ کر تمہارے پاس رہوں گی۔ دیکھو تمہیں میرا وعدہ یاد نہیں ہے؟‘‘ وہ مجھے خاموش کراتے ہوئے اندر جانے لگیں، تو میں اور زیادہ بلکنے لگا۔

اور اس طرح پورے دس برس تیزی کے ساتھ آنکھوں کے سامنے سے گزر گئے۔ گرمیاں گئیں اور سردیاں آئیں۔ ساون، پھاگن۔ میں نے یہ تمام موسم لاہور کی مہک بھری فضاؤں میں گزار دیے۔ سن اڑسٹھ کی بات ہے، میں اس زمانے میں میٹرک میں پڑھتا تھا اور بابا سرکاری نوکری سے ریٹائر ہو گئے تھے۔ ہم واپس حیدرآباد لوٹ آئے۔ حیدرآباد لوٹنے پر بہت بری خبرسننے کو ملی کہ مہناز آپا کو کینسر ہو گیا ہے (تعجب کی بات ہے کہ ان کا ستارہ بھی سرطان تھا۔ ان کی پیدائش تین جولائی کو ہوئی تھی) اور انہوں نے علاج کیلئے بیرون ملک جانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ وہ میرے بچپن کی آدرش تھیں۔ میرے بچپن کی یادوں کے سارے رنگیں خواب، ان کے ہی رنگوں سے بُنے تھے۔ میں انہیں لاہور سے لوٹنے پر پہلی بار دیکھنے گیا۔

(دس سالوں میں حیدرآباد کا نقشہ ہی بدل گیا تھا۔ سڑکوں پر دل دہلانے والے ٹریفک کا شور، سڑکوں سے درختوں کا غائب ہونا۔ فٹ پاتھوں کے نام و نشان تک کا پتہ نہیں پڑنا۔ سول لائنز کی طرف رسالہ سے دونوں خوبصورت باغ غائب ہو گئے تھے۔ حیدر باغ کے مقام پر ایک چھوٹا پارک اور دوسری جگہ پر گول بلڈنگ کھڑی تھی۔ سول لائنز کی سڑکوں سے ڈوڈینا کی سبز قطاریں، بینچوں کے ساتھ کسی اور جہان میں جا پہنچی تھیں اور سب سے خوبصورت پریم پارک میں فلیٹ اور دکانیں بن رہی تھیں۔)

وہی سول لائنز تھی۔ وہی حیدرآباد تھا۔ پر نجانے کیوں سب کچھ عجیب عجیب سا لگ رہا تھا۔ اس بنگلے میں پاؤں رکھا تو خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ دروازے کے پاس مہناز آپا کی ماں مجھے مل گئیں۔ جھک کر ان کے پیروں پر ہاتھ رکھتے ہوئے نام بتایا تو گلے لگا کر میرے ماتھے کو چومتے ہوئے سسکنے لگیں۔ میری آنکھوں میں بھی آنسو تیر آئے۔ کتنے سالوں کے فراق کے بعد میں اپنے بچپن کی اس رول ماڈل کو دیکھنے جا رہا تھا، جس نے میرے ذہن کے کینوس پر طرح طرح کے رنگوں سے خواب بنائے تھے۔ جس کیلئے میں نے دل ہی دل میں نہ جانے کتنے ریت کے محل بنا کر پھر توڑ دیے تھے۔ میں سر جھکائے آپا کی ماں کے پیچھے چلتا رہا۔ وہ مجھے اپنے کمرے میں لے گئیں، جہاں مہناز آپا ٹھہری ہوئی تھیں۔

کمرے کے سامنے وہی لکڑی کا تخت پڑا تھا، جس پر بیٹھ کر ان کی ماں نماز پڑھا کرتی تھیں۔ اسی پر آج مہناز آپا کا شوہر بیٹھا تھا۔ اس کی گردن نیچے جھکی تھی اور وہ کسی خیال میں گم تھا۔ اس نے میری طرف دیکھا ہی نہیں اور میں اس کے پاس سے ہوتا ہوا اندر چلا گیا۔

اندر مہناز آپا پلنگ پر لیٹی تھیں۔ ان کے اوپر اجرک پڑی ہوئی تھی۔ دونوں ہاتھ سر کے نیچے ٹکائے وہ مسلسل اوپر چھت کو تک رہی تھیں۔

’’مہناز، دیکھ کون آیا ہے؟‘‘ ان کی ماں کی آواز کمرے میں گونجی اور وہ چونک کر میری طرف دیکھنے لگی (خوبصورت چہرہ، وہی قد، گہری کالی آنکھیں، خوبصورت اور دودھ کی طرح سفید ہاتھ، لمبی انگلیاں اور پدم جیسے پیر) مجھے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی تو میں نے جھک کر اس کے پاؤں چھو لئے۔

’’مدھو ہو نا؟‘‘ انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی۔

’’ہاں آپا۔‘‘ میں بھرائی سی بھاری آواز میں بولا۔

انکے پیلے زرد چہرے پر مسکراہٹ اور خوشی ابھر آئی۔ ایکدم میرے بالوں پر ہاتھ پھیرتے، میرے ماتھے پر چومتے ہوئے، ماں سے کہنے لگیں، ’’اماں، دیکھو نا، مدھو کتنا بڑا ہو گیا ہے؟‘‘

میں نے سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا، جیسے چودھویں کے چاند کو گرہن لگ گیا تھا۔ ان کی گہری، نیلی آنکھوں کے نیچے سیاہ کالے حلقے تھے۔ نہ وہ پہلے سا چہرہ، نہ مسکراہٹ، نہ وہ رنگ، نہ وہ روپ۔ میں نم آنکھوں سے ان میں بچپن والی مہناز آپا کو تلاش کرنے لگا۔

انہوں نے ایک بار پھر مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا، ’’مدھو، پڑھ تو رہے ہو نا؟‘‘

’’ہاں آپا۔‘‘ میں نے ان کے پلنگ پر بیٹھے بیٹھے نگاہیں نیچی کر لیں۔

’’مدھو، مجھے وہاں یاد کرتے تھے؟‘‘

میں نے شرما کر جواب نہیں دیا۔ تو مسکرا کر کہنے لگیں، ’’ہمارا مدھو اتنا بڑا ہو گیا ہے، لڑکیوں کی طرح اب بھی شرما رہا ہے۔‘‘

یہ کہہ کر وہ پھر تکیہ پر سر رکھ کر لیٹ گئیں۔ کمرے میں ایک خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ باہر موجود اندھیرے میں ہوا کی سرسراہٹ سننے میں آ رہی تھی۔ سامنے کھڑکی کھلی ہوئی تھی، جس سے جولائی کے مہینے کا سیاہ آسمان نظر آتا تھا، جس کے جنوب میں ستارے جگمگا رہے تھے۔ دور کہیں کسی کتے کی کرب ناک آواز آ رہی تھی۔

پھر میں ہر روز صبح انہیں دیکھنے جانے لگا۔ ہر روز گلِ یاسمین کے پھولوں کا اپنے ہاتھ سے بنایا ہوا گلدستہ جا کر ان کے ہاتھوں میں دیتا تھا، جسے وہ اپنے سرہانے رکھتے ہوئے مسکرا دیتیں۔

آخری بار انہیں دیکھنے گیا تو وہ جولائی کی ہی ایک اداس اور ویران شام تھی۔ ان کی حالت پہلے سے خراب ہو گئی تھی۔ وہ ویسے ہی اسی پلنگ پر لیٹی ہوئی تھیں۔ ان کے سرہانے بیٹھی ان کی ماں ان کے بال سنوار رہی تھیں۔ ان کی آنکھیں نم تھیں۔ کچھ دور کرسی پر ان کا شوہر بیٹھا تھا۔ مہناز آپا کے خاندان کے سبھی افراد کمرے میں آ جا رہے تھے۔

میں نے غور سے بھیگی آنکھوں کے ساتھ مہناز آپا کو دیکھا جو آنکھیں موندے سو رہی تھیں۔ میرے پاؤں کی آہٹ سے موندے نین کھول کر انہوں نے میری طرف دیکھا۔ گہری اور نیلی آنکھوں میں جلتے دیپ، جو کبھی ان کی آنکھوں میں دیکھے تھے، وہ اب مدھم پڑ رہے تھے۔ انہوں نے مسکرا کر میری طرف دیکھا۔ یہ مسکراہٹ بھی حیرت بھری تھی، جیسے سردیوں میں سورج کی روشنی کی ایک کرن۔

اپنے بچپن کے اس خواب کو میں نے دیکھا۔ اس خواب کا سچ ہونا میں نے صرف خواب میں ہی دیکھا تھا۔ میرے لئے وہ ایک بے مثال، قابل تقلید رول ماڈل تھیں۔ میں نے سوچا تھا کہ بڑا ہو کر اس قید سے انہیں آزاد کراؤں گا۔ انہوں نے مجھے پڑھایا تھا۔ ٹیبل سکھائے تھے۔ ہاتھ پکڑ کر اونچی سوسائٹی دکھائی تھی۔

اچانک وہ پھر سے آنکھیں بند کر کے سو گئیں۔ میں نے جھک کر ان کے پاؤں کو چھو لیا۔ کہتے ہیں کہ استاد کا رتبہ ماں باپ کے برابر ہوتا ہے۔ انہوں نے بھی مجھے زندگی کے رنگوں کے کئی شیڈ دکھائے تھے۔ آنکھوں میں آنسو لئے میں بھاری قدموں سے برآمدے کو پار کرتا ہوا گیٹ سے باہر نکل گیا۔

باہر سول لائنز کی سڑکوں پر سرمئی شام اپنے رنگ بکھیر رہی تھی۔ اسٹریٹ لائٹس کی ملگجی روشنی میں ساری سڑک ویران اور اداسی سے گھری ہوئی تھی۔ شام کی ہوا سرسراہٹ کرتی درختوں کے خشک، جھڑے ہوئے پتوں کو اڑا رہی تھی۔

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: