برصغیر پاک و ہند کی ثقافت میں صوفیاء کا کردار نہایت اہم اور گہرا ہے، جنہوں نے اس خطے میں روحانیت، مذہب، اور انسانیت کی تعلیمات کو پھیلایا۔ چشتیہ سلسلہ، برصغیر میں سب سے زیادہ مقبول اور مؤثر صوفی سلسلوں میں سے ایک ہے، جس کا آغاز حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ نے 12ویں صدی میں کیا۔ چشتی صوفیاء نے نہ صرف روحانیت اور دین کی اشاعت کی بلکہ موسیقی کو بھی اپنے پیغام کے فروغ کا ذریعہ بنایا۔ ان صوفیاء کے نزدیک موسیقی ایک روحانی ذریعہ تھی جو دلوں کو خدا کے قریب کرنے میں مددگار ثابت ہوتی تھی۔ چشتیہ سلسلہ، اسلامی صوفی تحریک کا ایک اہم حصہ ہے، جس کی بنیاد افغانستان کے شہر چشت میں رکھی گئی۔ یہ سلسلہ حضرت ابو اسحاق شامیؒ کے ہاتھوں میں پروان چڑھا اور بعد میں برصغیر میں حضرت معین الدین چشتیؒ کے ذریعے پھیل گیا۔ چشتی صوفیاء نے انسانیت، محبت، اور عاجزی کی تعلیمات کو عام کیا اور اس سلسلے میں مختلف ذرائع کا استعمال کیا، جن میں سے ایک اہم ذریعہ موسیقی تھا۔
اسلامی تعلیمات میں بعض مکاتب فکر کے نزدیک موسیقی کو ناپسندیدہ سمجھا گیا ہے، لیکن چشتی صوفیاء نے موسیقی کو ایک روحانی تجربے کے طور پر اختیار کیا۔ ان کے نزدیک موسیقی ایک ایسا ذریعہ تھا جو انسان کے اندر خدا کی محبت اور عرفان کو بیدار کرتا تھا۔ بعض صوفیاء کرام نے نعتیہ قوالی کو بطور تبلیغ استعمال کیا۔ گانا بجانا ہندو سکھ ثقافت کا حصہ ہُوا کرتا تھا۔ گردواروں اور مندروں میں گا بجا کر عبادت کی جاتی تھی۔ برصغیر میں قوالی کا آغاز 700 سال قبل ہُوا۔ حضرت معین الدین چشتیؒ ہندوستان بھیجے گئے تو کفار کو متوجہ کرنے کے لئے نعتیہ اشعار کو سماع کی صورت میں پیش کرنے کی حکمت عملی اپنائی گئی۔ نعت کو طبلے کے ساتھ پڑھنا قوالی کہلانے لگا۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ کو اللہ تعالیٰ نے نائب رسولؐ برائے ہند مقرر فرمایا اور ہندوستان کی سلطنت کا ظاہری و باطنی نظام حضرت خواجہؒ کے سپرد فرما دیا۔ جو قلمرو ہند آپ کو دی گئی اس میں موجودہ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، افغانستان اور برما شامل تھے۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ اپنے فرائض منصبی سنبھالنے کے بعد ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے، راستے میں بغداد میں درگاہ سیّدنا عبدالقادر جیلانیؒ پر قیام فرمایا۔ وہاں اس وقت بہت کم لوگوں کی حاضری ہوتی تھی اور حضرت شہاب الدین سہروردیؒ خدمات انجام دیتے تھے۔ انہوں نے خواجہؒ کو دعوت طعام دی جو قبول فرمائی لیکن خواجہؒ نے پیغام دیا کہ چشتیوں کی دعوت تو سماع کے بغیر نامکمل ہوتی ہے۔ حضرت سہروردیؒ نے اہتمام سماع فرمایا۔
حضرت امام غزالیؒ اپنی معروف اور مستند تصنیف ’’کیمیائے سعادت‘‘ کے صفحہ 233 میں سماع کے بارے میں لکھتے ہیں
’’انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ایک بھید ایسا پوشیدہ ہے جیسے آگ لوہے اور پتھر کے درمیان ہے۔ جس طرح لوہا پتھر پر مارنے سے وہ آگ نکلتی ہے اور صحرا میں لگ جاتی ہے اسی طرح اچھی اور مدھر آواز سُننے سے انسان کے دل کو جنبش ہوتی ہے اور بے اختیار دل میں ایک چیز پیدا ہوجاتی ہے اور جس کا دل جس چیز کے ساتھ مشغول ہو اچھی آواز سے وہ چیز حرکت میں آتی ہے جیسے پھوکنے سے آگ زیادہ بھڑک جاتی ہے۔ جس کسی کے دل میں اللہ تعالیٰ کے شوق کی آگ ہو اس کے لئے سماع اچھا ہے تاکہ آگ زیادہ تیز ہو جائے اور جس کے دل میں غیر اللہ کی محبت ہے اس کے لئے سماع زہر قاتل ہے۔ سماع سے لوگوں کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ سب خوشیاں حرام نہیں ہوتیں، خوشیوں میں جو خوشی حرام ہے وہ اس سبب سے حرام نہیں کہ اچھی معلوم ہوتی ہے بلکہ اس باعث سے حرام ہے کہ اس میں کچھ نقصان اور فساد ہے۔ چڑیوں کی آواز بھی خوش ہے اور مرغوب ہوتی ہے لیکن حرام نہیں ہے۔ اچھی آواز کان کے حق میں ایسی ہے جیسے آنکھ کے حق میں سبزہ اور ناک کے حق میں بوئے مشک اور زبان کے حق میں لذیذ طعام اور عقل کے حق میں اچھی حکمتیں تو دل کی لذت کے لئے سماع حرام نہیں۔‘‘
امام غزالیؒ نے سماع کی شرائط اور آداب پر روشنی ڈالی ہے۔
حضرت علی ہجویریؒ نے بھی اپنی لازوال تصنیف کشف المحجوب میں سماع سے متعلق ایک باب رقم فرما دیا جس میں آپ فرماتے ہیں
’’سماع کے آداب کی شرطیں یہ ہیں کہ جب تک اس کی ضرورت نہ ہو نہ کیا جائے اور اس کو اپنی عادت نہ بنایا جائے تاکہ اس عظمت دل سے اٹھ نہ جائے، سماع کا مکان عام لوگوں سے خالی ہو، قوال بھی شریعت کا احترام کرنے والا ہو، دل دنیا کے دھندوں سے خالی اور طبیعت لہو و لعب سے متنفر ہو، مبالغہ سے پاک ہو، سُننے والے میں اتنی دانش ہو کہ فیضانِ حق کو قبول کر سکے‘‘
حضرت علی ہجویریؒ فرماتے ہیں
’’شعر کا سُننا مباح ہے اور نبی اکرمؐ نے بھی سُنا ہے اور صحابہ کرام ؓ نے بھی اشعار کہے اور سُنے ہیں۔ حضورؐ نے فرمایا کہ بلاشبہ بعض شعر حکمت ہیں۔ عمر بن الشریدؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرمؐ نے مجھے شعر پڑھنے کا حکم دیتے ہوئے پوچھا کہ کیا تو امیہ ابن اُبی کے اشعار میں سے کچھ سُنا سکتا ہے؟ تو میں نے آپؐ کو سو شعر سُنائے اور جب میں ایک شعر ختم کرتا تو حضورؐ فرماتے کچھ اور سُناو پھر حضورؐ نے فرمایا کہ قریب ہے کہ امیہ شعر میں مسلمان ہو جاتا۔‘‘
چشتی سلسلے میں سماع (روحانی موسیقی کی محفل) کی خاص اہمیت تھی۔ اس محفل میں قوالی، نعت، اور مناجات کے ذریعے اللہ کی حمد و ثناء کی جاتی اور صوفیاء اور عقیدت مند حضرات اس محفل میں روحانی سکون پاتے۔ قوالی کا ذکر خاص طور پر چشتی صوفیاء کے حوالے سے ضروری ہے، کیوں کہ قوالی اس سلسلے کے صوفیاء کے زیر سرپرستی پروان چڑھی اور آج تک برصغیر کے مختلف خطوں میں مقبول ہے۔
خواجہ معین الدین چشتیؒ، جو چشتیہ سلسلے کے بانی ہیں، نے اپنی تعلیمات میں ہمیشہ محبت، برداشت، اور رواداری کا درس دیا۔ وہ موسیقی کو روحانی ترقی کا ایک ذریعہ مانتے تھے۔ خواجہ معین الدین چشتیؒ کے مزار پر آج بھی ہر سال موسیقی کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے ہیں جہاں قوالیاں پیش کی جاتی ہیں۔ ان کا نظریہ تھا کہ موسیقی ایک وسیلہ ہے جو بندے کو اللہ کے قرب میں لے جا سکتا ہے اور دل کے اندر روحانی تبدیلیاں لا سکتا ہے۔ حضرت نظام الدین اولیاءؒ، چشتی سلسلے کے ایک اور اہم صوفی ہیں جو حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے مرید و خلیفہ تھے، جنہوں نے موسیقی کو بڑے پیمانے پر اپنی تعلیمات کا حصہ بنایا۔ ان کے مرید، امیر خسروؒ، کو برصغیر میں کلاسیکی موسیقی اور قوالی کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ امیر خسروؒ نے قوالی کو ایک نئی شکل دی اور اس میں فارسی، عربی، اور ہندی عناصر کو ملا کر ایک منفرد طرز ایجاد کیا۔ ان کے نزدیک قوالی ایک ایسا ذریعہ تھا جس کے ذریعے روحانی تجربات کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔ امیر خسروؒ نے موسیقی میں کئی تجربات کیے اور کئی نئے سازوں اور دھنوں کو متعارف کرایا۔ ایک روایت کے مطابق ان کا ایجاد کردہ طبلہ اور ستار آج بھی ہندوستانی کلاسیکی موسیقی میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ خسروؒ نے راگوں اور دھنوں کو صوفیانہ شاعری کے ساتھ ملا کر ایک منفرد اور روحانی موسیقی کی بنیاد رکھی۔ ان کی قوالیاں آج بھی صوفی محافل میں گائی جاتی ہیں اور لوگ ان کے ذریعے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔
امیر خسروؒ نے کئی راگوں کو صوفی موسیقی میں شامل کیا، جن میں "راگ یمن”، "راگ بہار”، "راگ درباری” اور "راگ دیس” خاص طور پر اہم ہیں۔ انہوں نے مختلف تالوں جیسے کہ "تین تال”، "جھپ تال” اور "دادرہ” کو قوالی میں استعمال کیا۔ ان تالوں اور راگوں کی مدد سے قوالی کو ایک خاص موسیقیاتی ترتیب ملی، جو دل و دماغ کو سکون بخشتی یھا۔ قوالی چشتیہ سلسلے کی ایک اہم روایت ہے، جس میں صوفیانہ کلام اور نعت و مناقب کو موسیقی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ قوالی کی محفلوں میں صوفیاء اور عقیدت مند حضرات موسیقی کے ذریعے خدا کی یاد میں محو ہو جاتے ہیں۔ قوالی کے اشعار اکثر اللہ کی حمد و ثناء، رسولﷺ کی محبت، اور اولیاء کرام کی عقیدت پر مبنی ہوتے ہیں۔ چشتی صوفیاء کی محافل سماع میں قوالی کو ایک اہم مقام حاصل رہا ہے، جہاں موسیقی کے ذریعے دلوں کو خدا کی طرف مائل کیا جاتا تھا۔
امیر خسروؒ نے صوفی شاعری کے ذریعے اپنے پیغامات کو موسیقی کے ساتھ جوڑا۔ ان کے اشعار میں فارسی اور ہندی کا ملاپ ملتا ہے، مثلاً:
زحال مسکیں مکن تغافل، دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں، نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
اسی طرح ان کے کلام، مثلاً "چھاپ تلک سب چھین لی” اور "آج رنگ ہے ری ماں” آج بھی صوفی محافل میں گائے جاتے ہیں اور روحانی کیفیت کو بڑھاتے ہیں۔
اسی طرح حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ، جو چشتیہ سلسلے کے مشہور صوفی بزرگ تھے، نے بھی موسیقی کو روحانی ترقی کے لیے اہم سمجھا۔ ان کا نظریہ تھا کہ موسیقی کے ذریعے انسان کے دل کو نرمی اور سکون ملتا ہے اور یہ خدا کی طرف مائل ہونے میں مددگار ہوتی ہے اور انسان مو دردمندی کی جانب لے کر جاتی ہے۔ انہوں نے اپنی تعلیمات میں موسیقی کو صوفیانہ محفلوں کا لازمی حصہ بنایا اور اس کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو خدا کی یاد میں محو کیا۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کی زیادہ تر ہندی، دکنی شاعری موسیقی یعنی راگ راگنیوں کے تابع ہے۔ وہ جانتے تھے کہ کون سا سر کون سی تال کس وقت کس موسم کس مقام اور کس انداز میں کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔ شعر میں اثر انگیزی کی اسی کیفیت کے تحت خواجہ صاحب نے موسیقی یعنی راگ راگنیوں کے فن کو سیکھا اور اسے شاعری میں استعمال کی۔اس فن اثرانگیزی کو خواجہ میر درد جیسے نقشبندیہ بزرگ نے بھی تسلیم کیا ہے اور اس سے کام لیا ہے۔ ان کے والد خواجہ ناصر عندلیب اور ان کے مرشد شاہ گلشن دہلوی کا بھی یہ حال تھا۔ خواجہ بندہ نواز گیسو دراز کے اس شعر کو دیکھیے جو کہ عام آدمی کے لیے صرف شعر ہے لیکن آشنائے فن کے نزدیک یہ راگ رام کلی کے بولوں پر ہے۔
مخفی نانوں معشوق رکھ ظاہر شہباز کہلائے
عشق جینی چند بند، اپنی آپ دکھائے
حضرت خواجہ بندہ نواز کے مزار پر بھی آج تک قوالی اور صوفی موسیقی کی محفلیں منعقد ہوتی ہیں۔ حضرت خواجہ میر دردؒ، جن کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ سے تھا لیکن ان کا گہرا روحانی تعلق چشتیہ صوفیاء کی تعلیمات سے بھی تھا، نے اپنی شاعری اور فلسفے میں موسیقی کو اہمیت دی۔ وہ مانتے تھے کہ موسیقی روحانی تجربات کا ایک ذریعہ ہے اور اس کے ذریعے انسان اپنے اندر کی کیفیت کو بیان کر سکتا ہے۔ ان کے اشعار میں موسیقی اور روحانیت کا گہرا تعلق ملتا ہے اور انہوں نے اسے انسان کی روحانی ترقی کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔ ان کا ایک مشہور شعر ہے:
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں
چشتی صوفیاء کی تعلیمات اور موسیقی کا برصغیر کی ثقافت پر گہرا اثر پڑا ہے۔ قوالی اور دیگر صوفیانہ موسیقی کی روایات نے برصغیر کی موسیقی کو ایک نیا رخ دیا اور اسے روحانیت سے جوڑ دیا۔ آج بھی برصغیر میں قوالی اور صوفیانہ موسیقی کو روحانی تجربات کے لیے اہم سمجھا جاتا ہے۔ برصغیر میں ہونے والی صوفی محافل اور درگاہوں پر ہونے والی قوالیاں، چشتی صوفیاء کے موسیقی کے ساتھ تعلق کا ثبوت ہیں۔ ان محافل میں شامل ہونے والے لوگ موسیقی کے ذریعے روحانی سکون حاصل کرتے ہیں اور ان کے دلوں میں خدا کی محبت اور یاد کا چراغ روشن ہوتا ہے۔ چشتیہ سلسلے کے صوفیاء نے برصغیر میں دین کی اشاعت کے ساتھ ساتھ موسیقی کو بھی روحانی ترقی کا ایک ذریعہ بنایا۔ ان کے نزدیک موسیقی ایک مقدس عمل تھا، جس کے ذریعے دلوں کی صفائی اور خدا کی محبت حاصل کی جا سکتی تھی۔ قوالی اور صوفیانہ موسیقی چشتی صوفیاء کے پیغام کا ایک اہم حصہ بنی اور آج بھی یہ روایات برصغیر میں زندہ ہیں۔
حوالہ جات:
1. سید سلمان ندوی، تاریخ دعوت و عزیمت، لاہور: دار الاشاعت، 2003۔
2. خورشید احمد، صوفیانہ فکر اور تہذیبی روایات، کراچی: آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، 1997۔
3. ایوان ہنری، موسیقی اور اسلام: ایک تاریخی جائزہ، نیویارک: ہارپر اینڈ بروتھرز، 1952۔
4. جے۔ سی۔ گراہم، The Sufis of India: Their Influence and Contributions to Indian Music، نیو دہلی: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، 2011۔
5. امیر خسروؒ کی شاعری، لاہور: سنگ میل پبلیکیشن، 2010۔
’’انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ایک بھید ایسا پوشیدہ ہے جیسے آگ لوہے اور پتھر کے درمیان ہے۔ جس طرح لوہا پتھر پر مارنے سے وہ آگ نکلتی ہے اور صحرا میں لگ جاتی ہے اسی طرح اچھی اور مدھر آواز سُننے سے انسان کے دل کو جنبش ہوتی ہے اور بے اختیار دل میں ایک چیز پیدا ہوجاتی ہے اور جس کا دل جس چیز کے ساتھ مشغول ہو اچھی آواز سے وہ چیز حرکت میں آتی ہے جیسے پھوکنے سے آگ زیادہ بھڑک جاتی ہے۔ جس کسی کے دل میں اللہ تعالیٰ کے شوق کی آگ ہو اس کے لئے سماع اچھا ہے تاکہ آگ زیادہ تیز ہو جائے اور جس کے دل میں غیر اللہ کی محبت ہے اس کے لئے سماع زہر قاتل ہے۔ سماع سے لوگوں کو خوشی محسوس ہوتی ہے۔ سب خوشیاں حرام نہیں ہوتیں، خوشیوں میں جو خوشی حرام ہے وہ اس سبب سے حرام نہیں کہ اچھی معلوم ہوتی ہے بلکہ اس باعث سے حرام ہے کہ اس میں کچھ نقصان اور فساد ہے۔ چڑیوں کی آواز بھی خوش ہے اور مرغوب ہوتی ہے لیکن حرام نہیں ہے۔ اچھی آواز کان کے حق میں ایسی ہے جیسے آنکھ کے حق میں سبزہ اور ناک کے حق میں بوئے مشک اور زبان کے حق میں لذیذ طعام اور عقل کے حق میں اچھی حکمتیں تو دل کی لذت کے لئے سماع حرام نہیں۔‘‘