تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیعلمیکالممذہبی

اسلامی نظریاتی ریاست کی تعلیمی پالیسی — ڈاکٹر غلام شبیر

by دانش ڈیسک 07/09/2024
written by دانش ڈیسک 07/09/2024
334

سیکولر ریاستوں کی تعلیمی پالیسی کا محور و مرکز نیشنلزم کی بنیاد پر ایسا نظام تعلیم وضع کرنا ہوتا ہے جو انہیں ایک ایسی قومی عصبیت عطا کرے جس کی بنیاد پر وہ نظم عالم کا کلیدی پرزہ بن سکیں۔ ان کی سماجی، معاشی، سیاسی، ثقافتی، فوجی اور اقتصادی جدوجہد کی بنیاد کسی اخلاقی فلسفے کے برعکس سیکولر اخلاقیات پر ہوتی ہے جو وحی الٰہیہ کے برعکس انسانی فہم وفراست Positivism پر یقین رکھتی ہے۔ تاہم اسلام اور کمیونزم دو ایسے نظریے ہیں جو ریاست کے جملہ معاملات میں اپنی ٹرمز اینڈ کنڈیشنز پیش کرتے ہیں۔ تعلیم چونکہ ریاست کا کلیدی مسئلہ ہے اس لیے تعلیمی پالیسی کا متعلقہ آئیڈیالوجی پر فروغ و نمو پانا ازحد ضروری ہے ورنہ نظریاتی فصیلیں مضبوط نہیں رہتیں۔  جہاں تک کمیونزم کا تعلق ہے اس کی نظریاتی پرداخت کو سینچنے کیلیے جہاں کارل مارکس نے سائنسی طرز فکر اختیار کیا وہاں اس کے نظریاتی پیروکاروں نے اسے فکری اور جسمانی جدوجہد کی اقلیم پر عروج بخشنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔ مارکس ازم دراصل جدید تہذیب مغرب کا orthodox statement ہے۔ اس لیے جہاں کہیں کمیونسٹ انقلاب آئے ہیں وہاں انقلاب سے پہلے ہی اسٹیٹ پالیسیز، پروگرامز اور دیگرامور کا ہوم ورک کرلیا جاتا تھا۔ المیہ یہ ہے کہ جتنے اسلامی ممالک نوآبادیاتی شکنجوں سے آزاد ہوئے وہاں آزادی کی تحریکوں نے جاں فروشی کیلیے احدوبدر کی یادیں تازہ کیں مگر جہاں تک اسلامی کی نظریاتی اساسوں اور ریاستی پالیسی کا تعلق تھا کوئی ہوم ورک نہ تو پہلے کیا گیا اور نہ بعد میں سنجیدہ کوششیں ہوئیں۔ زیادہ تر افق پر سیکولر قوتوں اور مذہبی پیشوائیت کے درمیان لاینحل قسم کی جدوجہد ملتی ہے سنجیدہ کوشش کیلیے جس طرح کی ادراکی صلاحیتیں درکارہیں وہ دونوں طرف عنقا ہیں۔ البتہ ابتدائی ایام میں اسلامک سوشلزم ایک مثبت اپروچ تھی مگر پالیسی کے باب میں وہ ماسکو اور دیگر سوشلسٹ ممالک کی پالیسیوں کے کٹ پیسٹ سے آگے نہ بڑھ سکے۔ اور سوویت روس کے ٹوٹنے کے بعد اسلامک سوشلزم بھی دم توڑ گیا۔

کوئی قوم خواہ ریاست رکھتی ہو یا ریاست سے محروم ہر دو صورت میں اس کا نظم تعلیم ہی اس کی بقا کا ضامن ہوا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان سے بہت پہلے برصغیر کے مسلمانوں میں نظم تعلیم کے باب میں حساسیت پائی جاتی تھی۔  جب سرسید نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی میں برطانوی سیکولر نظم تعلیم اختیار کیا تو سید جمال الدین افغانی نے ببانگ دہل کہا کہ یہ نظم تعلیم برطانوی غلام ایجنٹ اور انگریز کے وفاداروں کی فوج ظفرموج پیدا کر سکتا ہے مگر حقیقی مسلم قیادت فراہم نہیں کرسکے گا۔ سید جمال الدین کا کہنا تھا کہ Political emancipation is the first step forward towards independent education policy  افغانی نے کہا کہ ہندووں اور مسلمانوں کا ہزار سالہ مشترک ثقافتی ورثہ اور مشترک زبان اردو انگریز کیخلاف مشترکہ جدوجہد کے بے پناہ امکاں لیے ہوئے ہیں۔ زبان مذہب سے بھی بڑی قوت ہے کیونکہ ایک قوم ممکن ہے ہزار سال میں دوتین بار اپنا مذہب بدل لے مگر زبان ایک رہتی ہے۔ اس لیے ہندووں اور مسلمانوں کیلیے ایک اردو جامعہ کا قیام ضروری ہے جہاں بین الاقوامی ادب، تاریخ، فنون اور قدرتی علوم کی شہرہ آفاق کتابوں کے اردو میں تراجم ہوں اور ہندو مسلم اتحاد سے انگریزوں کیخلاف آزادی کی جدوجہد ہو۔ اس تصور کی بنیاد پر جامعہ عثمانیہ حیدرآباد کا قیام عمل میں آیا۔ تاہم ہندو اور مسلم طلبا کو طویل المیعاد جدوجہد میں کوئی فیوچر نظر نہ آیا۔ انگلش میڈیم کے فارغ التحصیل طلبا کیلیے برطانوی سرکار سرکاری ملازمتیں طشت میں لیے کھڑی تھی یوں ہندو طلبا نے جب نوکریوں کے حصول کیلیے انگلش میڈیم کالجز اور اسکولوں کا رخ کیا تو مسلم طلبا نے بھی عثمانیہ یونیورسٹی کو خیرباد کہہ کر مسلم علی گڑھ یونیورسٹی کا رخ کیا جہاں سرسید نے انگلش میڈیم کو ادارے کی لازمی پالیسی قرار دے رکھا تھا اور برطانوی انسٹرکٹرز تدریسی فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ یوں ہندو مسلم طلبہ نے قلیل المدتی مفاد کیلیے ایک طویل المدتی جدوجہد سے کنارہ کشی اختیار کی اور جامعہ عثمانیہ کی بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔ اگر جامعہ عثمانیہ کا پروجیکٹ کامیاب ہو جاتا تو برصغیر کی تاریخ کچھ اور ہوتی اور آج برصغیر کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ It is a region without language یعنی برصغیرکے ممالک میں ہائرایجوکیشن مقامی زبان کے برعکس انگریزی میں ہے۔

تاہم برصغیر کے مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے کہ کرائسس کے ہنگام انہیں اقبال جیسا لیڈر میسر آیا۔ اقبال کو بجا طور پر ابن تیمیہ، شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ اور سید جمال الدین کا Organic extension قرار دیا جاسکتا ہے۔ روحانی اقلیم پراقبال کا مرشد رومی ہے مگر سیاست کی اقلیم پر وہ سید جمال الدین افغانی کواپنا امام مانتے ہیں۔ یہاں تک کہ جاوید نامہ میں جب اقبال رومی کیساتھ عالم ارواح کی سیرکر رہے ہیں تو ایک مقام پر پہنچتے ہیں جہاں جمال الدین کی امامت میں اقبال اور رومی مقتدی بن کر نماز ادا کر رہے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اقبال کے ہاں افغانی کا مقام رومی سے بھی بلند تر ہے۔  یوں سرسید کے بعد اقبال کی آمد یکسر نئے عہد کا آغاز ہے اس لیے اقبال نے کہا کہ "طائر زیردام کے نالے توسن چکے ہوتم۔۔۔ یہ بھی سنو کہ نالہ طائربام اور ہے۔۔ جذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجازکا۔۔ اس کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہے”۔ علیگڑھ پر برٹش ایسٹیبلشمنٹ کی مہر تھی اور مسلم لیگ کا قیام انگریزوں سے وفاداری اور مسلم اشرافیہ کے مفادات کی بنیاد پرعمل میں آیا تھا اقبال نے شعرونثر کے زور پر دونوں کی کایا کلپ کردی۔ لارڈمیکالے کا نظام تعلیم انگریزوں اور مقامی آبادی کے درمیان Mediators پیدا کرنے کیلیے وضع ہوا تھا جس کا منتہاومقصود coconut syndrome یعنی ایسے افراد پیدا کرنا تھا جو باہر سے گندمی رنگ نظر آئیں مگر باطن میں وہ سفید چمڑی والے انگریز ہوں۔ اقبال نے لارڈ میکالے کے نظام تعلیم پر وقیع نقد کی جس میں وہ اپنے پسرسے مخاطب ہے

"اک مردفرنگی نے کہا اپنے پسر سے۔۔ منظروہ طلب کرکے تیری آنکھ نہ ہو سیر
بیچارے کے حق میں ہے یہی سب سے بڑا ظلم۔۔ برے پہ اگر فاش کریں قاعدہ شیر
سینے میں رہے راز ملوکانہ تو بہتر۔۔۔ کرتے نہیں محکوم کو تیغوں سے کبھی زیر
تعلیم کے تیزاب میں ڈال اس کی خودی کو۔۔ ہوجائے مالئم توجدھر چاہے ادھر پھیر
تاثیر میں اکسیر سے بڑھ کر ہے یہ تیزاب۔۔ سونے کا ہمالہ ہو تو مٹی کا ہے اک ڈھیرـ”

اقبال نے سرسیدکے برعکس سید جمال الدین افغانی کی روش اختیار کی اوراس نتیجے پر پہنچے کہ سیاسی آزادی ہی آزاد تعلیمی پالیسی کا سنگ میل ہوسکتی ہے۔ اس لیے ان کی فکر کا محور و مرکز آزاد ریاست کا قیام ٹھہرا۔ ان کے ہاں سیکولر نظام تعلیم اور مدارس کا کہنہ نظم تعلیم یکساں تنقید کا نشانہ دکھائی دیتے ہیں کہیں کہیں وہ تعلیمی پالیسی پر کچھ اظہارخیال کرتے ہیں مثلاً کہتے ہیں کہ درجہ ہشتم کے نصاب میں خطبہ زینب شامل کرلیا جائے جو شام میں یزید کے دربار میں دیا گیا تا کہ ایک بلندہمت اور دلیر نسل تیارہو وہ تعلیم نسواں کے حق میں ہیں مگر جاوید نامہ میں Feminism کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ یہ وہ سیپ ہیں جو قطرے کو گوہر بنانے سے مانع ہیں اور پیاسی مرجانے پر یقین رکھتی ہیں۔ تاہم اقبال نے تعلیمی پالیسی پرکوئی مربوط اورجامع تحریر نہیں چھوڑی۔ تاہم اقبال کیپٹلزم اور کمیونزم دونوں کے شدید مخالف تھے۔ "زندگی ایں راخروج آں را خراج۔۔ درمیان ایں دوسنگ آدم زجاج”۔ کمیونزم ملک بہ ملک خروج اور بغاوتوں کوجنم دے رہا ہے اور کیپٹلزم کا وظیفہ خراج کی وصولی ہے اور شیشہ آدم ان دو پتھروں کے بیچ کرچی کرچی ہے۔  کیپٹلزم اور کمیونزم مادہ پرستانہ میٹافزکس کے دو رخ ہیں۔ اقبال ایک روحانی نظم حیات کے خواہاں نظر آتے ہیں "کس دریں جا سائل و محروم نیست۔ عبدومولیٰ، حاکم و محکوم نیست”۔ وہ ایک ایسی ریاست چاہتے ہیں جہاں تمیز بندہ و آقا، عبدومولیٰ اور حاکم و محکوم نہ ہو۔

اقبال کی قائداعظم سے خط وکتابت ان کے نظریہ ریاست اور تعلیمی پالیسی کے بنیادی خط وخال کو واضح کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ کا قیام مسلم اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ ہے تو برصغیر کے مسلمانوں کو اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوگی۔ نہرو کے ملحدانہ سوشلزم میں بھی مسلمانوں کیلیے کوئی اپیل نہیں ہے۔ پنجاب اور بنگال کے مفلوک الحال مسلمانوں کا بڑا مسئلہ روٹی ہے۔ اسلام کی حتمی منزل ایک Egalitarian society کا قیام ہے۔ اسلام کے دامن ایسے سماجی اور معاشی اخلاقی رہنما اصول موجود ہیں جو شرمندہ تعبیر ہوا چاہتے ہیں۔ یوں اگرچہ بہ ہنگام تحریک پاکستان تعلیمی پالیسی پر بات نہیں ہوئی لیکن اگر یہ کہا جائے کہ بانیان پاکستان کے دل و دماغ میں تعلیمی پالیسی کا کوئی خاکہ حساسیت یا اہمیت و ضرورت نہیں تھی یہ قرین قیاس نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے فوراً بعد16 اگست ۱۹۴۷ کو آئین ساز اسمبلی کے ارکان کے اعزاز میں ایک سوشل فنکشن میں ماہرین تعلیم کو متوجہ کرتے ہوئے قائداعظم محمدعلی جناح نے کہا "now that we have got our own state, it is up to you to establish a viable, productive and sound system of education suited to our needs. It should reflect our history and our ideals”۔ اب تقسیم ہند میں معلوم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت، قتل وغارت، مہاجرین کی آبادکاری کے مسائل، بھارت کا پاکستان کے فنڈز روکنے کا مسئلہ اور نوزائیدہ ریاست کی انتظامی مشینری کو ترتیب دینے اور چلانے کا ایشو اور دیگراہم جلتے بھڑکتے اور سلگتے مسائل کو دیکھیے کہ ان کے بیچ حکومت پاکستان نے 27 نومبر1947 کو ایجوکیشن کانفرنس منعقد کی جس میں وزیر تعلیم فضل الرحمان نے کہا

It is, therefore, a matter of profound satisfaction to me as it must be to you, that we have before us the opportunity of reorienting our entire education policy to correspond closely with the needs of the times and to reflect the ideals for which Pakistan as an Islamic state stands. This is a great, indeed, a unique opportunity but even greater is the magnitude of the task which it imposes on us.”

وزیر موصوف کے وژن پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے کہ خود اقبال بات کر رہا ہو۔ یوں دیکھا جائے تو قبل ازتقسیم اور بعد ازتقسیم کے رہنماوں میں تعلیمی پالیسی اور قومی اسلامی تشخص کے موضوع پر کامل ہم آہنگی ملتی ہے۔ یہ وہی تصور ریاست و تعلیم ہے جس کی داغ بیل سید جمال الدین افغانی نے یہ کہتے ہوئے ڈالی تھی

 To meet the danger of Western expansionism the Muslim community would have to raise their intellectual and moral standards. They would have to cultivate philosophic and scientific disciplines by expanding the curricula of educational institutions for general educational reforms.”

مسلم دنیا میں افغانی پہلا شخص تھا جس نے جمہوریت کو اسلامی شورائی نظام کے مساوی عمل قرار دیا۔ آئینی حکومتوں کودرست مانا بلکہ مصر اور ایران میں آئینی حکومتوں کے قیام کیلئے جدوجہد بھی کی۔ قدرتی علوم اور سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم پر زور دیا۔ تاہم مغرب کی مادہ پرستانہ میٹافزکس پر ایسی جامع اور جمیل تحریر بعنوان "ردنیچریت” چھوڑی جو بعنوان "Refutation of the materialists” امریکی مصنفہ Nikkie Keddie کے افغانی پر پی ایچ ڈی کے مقالے میں ترجمہ ہوچکی ہے۔ مادہ پرستی کا کامل محاکمہ اس کے مفسد نتائج پر اس سے بڑی شاید ہی کوئی تحریر ہو۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کے ہاں جس شدومد سے مدارس کے نظام تعلیم پر کڑی تنقید ہے اس سے کہیں زیادہ مغربی سیکولر نظام تعلیم پر نقد کی گئی ہے۔ حتمی نتیجے میں وہ جدید سیکولر مغربی تعلیم کو مدارس کے نظام تعلیم سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیتے ہیں۔ مدرسہ سسٹم کواقبال impotent قرار دیتے ہیں کہ یہ تخلیقی نظام تعلیم نہیں ہے اس کے بطن سے تخلیق کی امید رکھنا عبث ہے۔ جدید سیکولر تعلیم کو اس بنیاد پر مدرسہ کی تعلیم سے بہتر قرار دیتے ہیں کہ یہ کامل جمود بہرحال نہیں ہے اور مسلمانوں سے کہتے ہیں کچھ نیا کرو خواہ وہ گناہ ہی کیوں نہ ہو یعنی جمود پر حرکت کو تفوق حاصل ہے خواہ اس کی سمت غلط ہی کیوں نہ ہو مگرحتمی تجزیے میں اقبال سیکولر تعلیم کو مدرسہ ایجوکیشن کے مقابلے میں انسانیت کیلیے Positively harmful قرار دیتے ہیں کہ اس کے دامن کی بجلیاں اس کے آشیانے کو پھونک ڈالیں گی۔ "وہ فکر گستاخ جس نے عریاں کیا تھا فطرت کی طاقتوں کو۔۔ اسی کی بے تاب بجلیوں سے خطرمیں ہے اس کا آشیانہ”۔ اقبال مغربی سیکولرنظام تعلیم کے ناقد اس لیے ہیں کہ یہ inventive بناتا ہے creative نہیں بناتا۔ حقیقی ایشو یہ ہے کہ سیکولرازم کا اول و آخر ظاہروباطن سب کچھ مادہ پرستی ہے۔ یوں وہ ایجادات جن کے استعمال کا تعین اصول اخلاق نہ کرے وہ ایجادات محض صرف محکوم قوموں سے مفلوک الحالی کا خراج وصول کرتی ہیں۔ حقیقی چیلنج ان ایجادات کو اخلاقی جہت فراہم کرنا ہے جس سے مغرب کا دامن تہی۔ مغرب کی Technological orgiastic performances اس حقیقت پر دال ہیں۔

آدم کی ملائک پر برتری اور ترفع کا راز اس امر میں پنہاں ہے کہ انسان کو باری تعالیٰ نے جامد علم کے برعکس Faculty of Creative Knowledge سے سرفراز کیا ہے۔  علم الآدم اسماالحسنیٰ، آدم کو ہم نے اسمائے حسنیٰ کا علم دیا قرآن کے مطابق علم الاسما کا مطلب چیزوں کو دیکھ سمجھ کر ان کو نام دینے Nomenclature کی صلاحیت ہے۔ قرآن کہتا ہے انا عرضنا الامانہ علی السمٰوات والارض والجبال فابین انٰھملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان انہ کان ظلوماً جھولاً۔  ہم نے یہ "بارامانہ” بالفاظ دیگر یہ "Trust” آسمانوں، زمین، اور پہاڑوں کو آفر کیا سب ٹھٹک گئے اور اسے لینے سے انکار کر دیا، انسان نے اسے قبول کیا اور بیشک یہ بڑا ہی ظالم، جاہل اور عجلت پسند واقع ہوا ہے۔ قدما نے اس ٹرسٹ سے قرآن مراد لیا۔ جدید مفکرین نے اس کا مطلب Faculty of Reason لیا ہے یعنی انسان کیلیے عقل کے ذریعے درست اور غلط کا تعین کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔  تاہم کچھ کے نزدیک اس ٹرسٹ کا مطلب زمین پر Egalitarian social moral order کا قیام ہے تاہم جب ہم تعلیمی پالیسی پر بات کر رہے ہیں تو ڈاکٹر فضل الرحمان کیمطابق یہ "Trust "یا الامانہ دونی اہمیت اختیارکر جاتا ہے یعنی

"Trust is to discover the laws of, and thus get mastery over nature-or, in the Quranic terminology, "to know the names of all things”- and use this mastery, under the human moral initiative, to create a good moral order.”

یہ انسان کا بنیادی فریضہ ہے اور اس فریضے کی ادائیگی کو قرآن عبادت قرار دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے اقبال خطبات میں سائنسدانوں کو Sufi-Seekers قراردیتا ہے کہ نیچر کا مطالعہ اپنی حتمیت میں خدا تک پہنچنے کا ذریعہ ہے۔

قرآن علم کی سیکولر اور مذہبی گروہ بندی کا قائل نہیں ہے۔ علم خواہ سائنسی ہو، الہامی ہو یا ادراکی scientific-intuitive- intellectual سب خدا کیطرف سے آتا ہے۔  ہم نے داود ؑ  کو ذرہ بنانے کا علم سکھایا(۲۱:۸۰)، ہم نے یوسف ؑ کو خوابوں کی تعبیرکا علم دیا(۱۲:۳۷)، اور جب تم کوئی معاہدہ کرو تو اسے ضبط تحریرمیں لے آیا کرو، کاتبین کی مددسے، اور کاتبین کو یہ کام سرانجام دینے میں کوئی مفرنہیں ہونا چاہیے کیونکہ انہیں لکھنے کا ہنر اللہ نے عطا کیا ہے(۲:۲۸۲)۔ زرہ یا جنگی ہتھیار بنانے کا علم مذہبی علم نہیں ہے اور نہ ہی لکھنے کا فن جاننا کوئی مذہبی علم ہے اور تحریر نویسی کا علم بھی مذہبی علم نہیں ہے۔ خوابوں کی تعبیر کا علم وجدانی علم ہے۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے جنگی لباس بنانے کا علم سائنسی علم ہے، خوابوں کی تعبیر جاننے کا علم الہامی یا وجدانی علم ہے اور تحریر نویسی ادراکی علم ہے یوں قرآن کے مطابق علم ایک وحدت ہے اوراس کا مرجع ومنبع ذات باری تعالیٰ ہے۔ یہاں تک کہ اگرکسی علم کا مفقود ہونا اوراس کی جگہ نئے علم کا وجود پذیر ہونا بھی من اللیہ ہے۔  سنقرئک فلا تنسیٰ الا ماشااللہ۔ اللہ تمہیں پڑھائے گا جو تم فراموش نہیں کر پاو گے الا کہ یہ مشیت باری تعالیٰ ہو۔ اس آیت کریمہ میں رسول اللہ کو مخاطب بنا کر بنی آدم سے کہا جا رہا ہے کہ خدا تمہیں سکھاتا پڑھاتا ہے اور جب تک چاہتا ہے اس علم کو باقی رکھتا ہے اور جب ارتقا کا تقاضا ہو تو وہی علم طاق نسیاں ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ نیا علم، نئی ٹیکنالوجی اور نئی سائنسی دریافات لے لیتی ہیں، گویا نیا علم، ٹیکنالوجی اور سائنسی مشاہدات تو کیا ان کا طاق نسیاں ہونا یا پیوند خاک ہونا بھی خدا کے دست قدرت کی کارفرمائی ہوتی ہے۔

یوں اسلام کے قرن اول کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ قرآن نے جب علم کی sacred and profane کی تخصیص رد کردی اور ادارہ ختم نبوت کے ذریعے آئندہ کسی مرسل یا مسیحا کا تصور رد کر دیا تو قرآن نے جابجا ذکر کیا کہ اب وحی الٰہیہ کا سلسلہ اختتام کو پہنچا، وحی کی بیساکھی واپس لیکر انسان کو اپنے قدموں پر بھروسے کا سبق دیا۔ کہا اگرچہ قرآن روز قیامت تک کے مسائل کو اخلاقی سطح پر بیان کرنے میں کافی و شافی ہے تاہم اب انسان کو مطالعہ تاریخ sociology، مشاہدہ و مطالعہ فطرت Natural sciences اور علم نفسیات Psychology میں جہدپیہم کو شعار کرنا ہوگا۔ قرآن نے جگہ جگہ سیروفی الارض پر زور دیا ہے تو تاریخ کے بعد اہم ترین علم جغرافیہ ہے۔ یوں قرآن نے دراصل علم کی ہمہ جہت تحریک برپا کی اور قرن اول یا عہدعروج میں کوئی شعبہ علم ایسا نہیں تھا جسے مسلمانوں نے اپنی کاوشوں سے فیضیاب نہ کیا ہو۔ اسی لیے اقبال نے کہا

ولایت، پادشاہی، علم اشیا کی جہاں گیری
یہ سب کیا ہے، فقط اک نکتہ ایماں کی تفسیریں

پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے۔  نظریاتی ریاست تعلیمی پالیسی یا قومی نظریے کونان اسٹیٹ ایکٹرزکے سپرد نہیں کرسکتی۔ ہم نے کبھی نہیں سنا کہ کسی کمیونسٹ اسٹیٹ نے اپنی نظریاتی اساس اور تعلیمی پالیسی کو پرائیویٹ اداروں کے سپرد کیا ہو یہ المیہ پاکستان کا ہے کہ یہاں ریاست کے تصوراسلام کا تعین مذہبی پیشوائیت کرتی ہے اور وہ ایک الگ تھلگ تعلیمی نظام بھی رکھتی ہے جو modern ethos سے یکسر تہی دامن ہے اور ہم ان دو نظام ہائے تعلیم سے دو مختلف قومیں تیار کر رہے ہیں جن کے درمیان مکالمہ ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ طبقاتی تقسیم ہی نہیں ہے بلکہ Epistemic Divide بھی ہے۔  ایک طبقہ عہد وسطیٰ کی مفروضہ جاتی Epistemology پر کاربند ہے اور جدید تعلیم modern western epistemology اپنائے ہوئے ہے۔ ایک کا اسلوب سائنسی ہے دوسرے کا اسلوب مفروضہ جاتی، ظن وتخمیں اور قیاس آرائیوں کا پیکر ہے۔ ٹیونس میں صدر موگابے نے جامعہ زیتونہ کو مسجد سے اٹھا کر مرکزی یونیورسٹی جامعہ ٹیونس میں پلانٹ کیا، مصرمیں جمال عبدالناصر نے جامعہ الاظہر کو میڈیکل کالج اور ایگریکلچرل کالج دیا مگر عالم اسلام کا تیسرا بڑا تاریخی اہمیت کا حامل ادارہ دارالعلوم دیوبند نصابی تبدیلیوں کی راہ میں آج تک مزاحم چلا آرہا ہے۔

ریاست پاکستان تعلیمی پالیسی کے باب میں کوئی خاطرخواہ کامیابی کیوں حاصل نہیں کرسکی اس کا پس منظر کھوجنے کی ضرورت ہے۔ تقسیم بھارت کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو اس کی تخم ریزی شیخ احمد سرہندی نے کی تھی جب انہوں نے اکبرکے دین الٰہی کورد کرکے ہندو مسلم انجذاب integration کے برعکس ہندو مسلم co-existence  پر زور دیا تھا۔ اقبال کی سحر انگیز شاعری اور نثر کا جائزہ لیا جائے تو یہ انہیں افکار کی خوبصورت شیرازہ بندی ہے جو شیخ سرہندی نے تین سو سال پہلے قلمبند کیے تھے۔ مصور پاکستان اقبال نے ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا تھا جو عہد جدید کی ایک جمہوری اور آئینی ریاست ہوگی اور جدیدوقدیم کا امتزاج وانصباغ ہوگی جس کے ذریعے اسلام پرعرب امپییریلزم کی چھاپ ختم ہوگی جسے مولانا مودودی عرب جاہلیت خالصہ سے موسوم کرتے ہیں۔  اقبال نے سر آرنلڈ کو خط میں لکھا تھا کہ اسلام شہنشاہیت اور کشورکشائی و جہانگیری کے برعکس کمیونٹی کی جمہوری اور اقتصادی تنظیم پر زور دیتا ہے۔ ملوکیت درآنے سے جمہوری اور اقتصادی تنظیم کے بے پایاں امکانات تشنہ تعبیر رہے جو قرآن و سیرت رسول میں جابجا ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں۔ ملوکیت اقبال کے نزدیک Re-paganization of Islam کی سنگ میل ثابت ہوئی۔ اقبال کا خواب تھا کہ قیام پاکستان کے ذریعے مسلم کمیونٹی کی جمہوری اور اقتصادی تنظیم ہوگی اور مسلمانوں کی سوشواکنامک اور پولیٹیکل لائف قرآن و سیرت رسول کے اخلاقی رہنما اصولوں کے ذریعے Shape up ہوگی تو دنیا کو ایک دفعہ پھر اسلام کا حقیقی چہرہ دیکھنے کو ملے گا۔

ڈاکٹرفضل الرحمان کا تجزیہ یہ ہے کہ اقبال ریاست پاکستان کے حقیقی Dreamer & Ideologue تھے جناح کا کردارایک Technician کا تھا۔ ایک عملیت پسند کامیاب وکیل کی حیثیت سے انہوں نے materially achievable task یعنی حصول پاکستان کا مقدمہ لڑا اورمقدمہ جیت کر دکھایا جہاں تک پاکستان کی نظریاتی اسلامی اساس اوردیگراسٹیٹ پالیسیز کا تعلق ہے انہوں نے قیام پاکستان سے قبل بارباراس بات کا اعادہ کیا کہ آئین کیسا ہوگا؟ ریاست کی پالیسیاں کیا ہوں گی اس کا تعین منتخب نمائندگان کریں گے۔ قیام پاکستان کے بعد ہونا یہ چاہیے تھا کہ ایسے دانشوروں کی ایک کہکشاں ہوتی جواقبال کے تصور پاکستان کو پالیسیزکی اقلیم پر عملی پیراہن پہنا سکتی مگرسوئے قسمت اقبال کے ترجمان منظرنامے پر موجود ہی نہیں تھے۔ اقبال کا جزوی مطالعہ رکھنے والے بے شمار تھے تقریریں تو مذہبی پیشوائیت کی بھی اقبال کے شعروں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تھیں مگر منظر پر ایسے کتنے تھے جو Reconstruction of Religious Thought in Islam کی تفہیم سے بہرہ مند تھے۔ یہاں ایسے لوگ درکار تھے جو خطبات اقبال سے آگے کے جہانوں پر نظر رکھنے والے ہوتے مگر حاصل و میسر کھیپ نے تو مشکل انگریزی کے بہانے خطبات اقبال کو طاق نسیاں بنا دیا۔ پھر المیہ یہ بھی تھا کہ اقبال پچھلے چار پانچ سو سالوں میں پہلا اسکالر میسر آیا تھا جس نے عصری پیرائے میں اسلام کا دھندلا سا Restatement پیش کیا اور اہل حق اکلوتے دانشور پر نعرہ زن ہوئے کہ اقبال نے قیامت تک کیلیے اسلام کے حوالے سے حرف آخرکہہ دیا ہے۔ حالانکہ خطبات کے تعارف میں ہی اقبال نے اس تصور کی تردید کر دی تھی۔

اب اقبال اور جناح کے درمیان missing term ایسے دانشوروں کا قحط وبحران تھا جو اقبال کے تصور پاکستان کو عملیت کی اقلیم پر پالیسی ایشوز میں Translate کرتے۔ "رہا آباد عالم اہل ہمت کے نہ ہونے سے۔۔ بھرے ہیں جس قدرجام وسبو مئے خانہ خالی ہے”۔ یہ وقت تھا کہ اقبال کے تصور پاکستان کو ریاستی پالیسیز کیساتھ نامیاتی طور پر جوڑ دیا جاتا۔ یہ Organic link وہی پیدا کر سکتے تھے جو اقبال انسپائرڈ Islamic modernism کا ادراک رکھتے مگر یہ جینوئن اسلامک ماڈرنسٹس کا خلا کون پر کرتا۔ خلا کبھی خلا نہیں رہتا اسے بھرنا ہوتا ہے۔ یوں منظرنامے پر سیکولر ماڈرنسٹس اور مذہبی پیشوائیت چھا گئی اور باقی انہیں دو طبقات کے درمیان رسہ کشی کی تاریخ ہے۔ المیہ یہ ہے کہ مذہبی پیشوائیت اور سیکولر ماڈرنزم دونوں کو اقبال نے رد کیا تھا اور یہی دو طبقات پاکستان کی تقدیر کے مالک بن بیٹھے۔ دوسرا بڑا المیہ یہ ہوا کہ سرسید اور مفتی عبدہ جو اسلامک ماڈرنزم کو ٹھوس بنیادیں فراہم کرنے میں ناکام رہے اور ان کی جزوی اور نامکمل تعبیرات سے اسلامک ماڈرنزم دو باہم متضاد دھاروں یعنی سیکولر ماڈرنزم اور احیا پسند بنیاد پرستی میں ٹوٹ گیا۔ ان کی باقیات اسلام کی ترجمان بن گئیں۔ سید چراغ علی، پرویز اور غلام جیلانی برق جن کی فکرمیں سیکولر ماڈرنٹی lock, stock and barrel موجود ہے جنہوں نے اسلام پر سیکولر ویسٹرن ماڈرنٹی کا پیراہن چڑھایا وہ بدقسمتی سے مسلم ماڈرنسٹس اسکالر سمجھے جاتے ہیں۔ اور جینئوئن اسلامک ماڈرنزم سوائے ڈاکٹر فضل الرحمان کے کہاں ملتا ہے؟

یوں مذہبی پیشوائیت اور سیکولر قوتوں کی باہم آویزش میں حقیقی نقصان یہ ہوا کہ اقبال کا تصور پاکستان پالیسیز میٹرز میں شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ اقبال کے تصور تعلیم کیمطابق پہلا وار سیکولر اور مذہبی علم کی دوئی پر ہونا چاہیے تھا۔ مگر ریاست کی تعلیمی پالیسی نے اس دوئی کو مزید گہرا کیا۔ سول ملٹری بیوروکریسی نے اسے شدید تر کیا کیونکہ اس کی تعلیم وتربیت برطانوی اداروں کے تحت ہوئی تھی اور انہیں لائنز پر ہنوز سفر جاری ہے۔  انجینئرز، ڈاکٹرز، وکیل اور دیگر پروفیشنلز اپنے معاشی اسٹیٹس کیوجہ سے اسلام کے ترجمان بن گئے۔ نجی محفلوں میں ان کا اسلام کچھ اور ہے اور پالیسی میٹرز میں کچھ اور۔ پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اسلامک سوشلزم کی لہر پر سوار ہو کر ایوان اقتدار پہنچے اپنی انتخابی فتح کو اسلام کی عظیم فتح قرار دیا مگر جب اصلاحات کی باری آئی تو مذہبی پیشوائیت کے آگے ڈھیر ہوگئے۔ کس درجے کی منافقت اوڑھ کر انہیں کہنا پڑا ہوگا کہ

"so far as madrassa education is concerned status quo shall be maintained.”

ریاست پاکستان کی تعلیمی پالیسی نے کیا گل کھلائے دوتین دہائیوں میں ہمارانظام تعلیم ورلڈکلاس ڈاکٹرزاورانجینئرز پیداکررہا تھا مگرکوئی ایک جینوئن اسلامک اسکالر، مورخ یا social scientist پیدانہ کرسکا۔  قیام پاکستان سے تین دہائیاں بعد تحریک پاکستان کا ایکٹوممبر، مایہ نازمورخ، ایجوکیشنسٹ ڈاکٹراشتیاق حسین قریشی یہ کہنے پرمجبورہوا کہ

 ” our secular educated elite is the most spineless, the most unscrupulous and the most mercenary in the world…what has gone wrong during this quarter of a century that has eaten into the vitals of our society and the grit of its leaders except the continuation of a faulty, aimless, and diseased system of education that has bred no virtues, no depth of feeling, no sense of responsibility- nothing except selfishness, corruption and cowardly lack of initiative and courage.”

ڈاکٹراشتیاق حسین قریشی نے یہ نقشہ جدید سیکولر تعلیمی اداروں کی پروڈکٹ کا کھینچا ہے۔ اس کے بعد وہ مدرسہ ایجوکیشن سسٹم کی پروڈکٹ پراظہارخیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں

 ” They (the leaders of traditional education) had neglected modern knowledge to the extent that there is no scope left for a dialogue between those who have received modern education and the graduates of the seminaries….the seminaries are doing useful work in the preservation of the classical theological learning and providing ill-paid, ill-educated and ill-informed Imams of the mosques. It is quite obvious that such education cannot help the growth of religious consciousness.”

جدید سیکولر اور قدیم مدرسہ ایجوکیشن پر یہ تنقید اس وقت کی گئی جب صورت حال بہتر تھی، اب اس سے بھی ابترصورت حال ہے۔

ریاست پاکستان کی تعلیمی پالیسی کی اساس قرآن وسیرت رسول ﷺ پرہونی چاہیے تھی۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی ضرورت تھی کہ قرآن کے نزدیک ایجوکیشن کا مقصود و منتہیٰ کیا ہے؟ ڈاکٹرفضل الرحمان کا موقف ہے کہ قرآن کے نزدیک تعلیم کا مقصدانسان کی باطنی قویٰ کی ایسی تعمیروتشکیل ہے کہ وہ جوعلم حاصل کرتا ہے وہ اس کی کلی تخلیقی شخصیت کا نامیاتی جزولاینفک بن جائے۔ یہ تعمیرباطن اسے اس قابل بنادے کہ وہ عناصرواجزائے عالم اورقوانین وقوائے فطرت کوانسانی فلاح و بہبود کیلیے بروئے کارلاتے ہوئے ایک صحت مند، ترقی پسند اور مبنی برانصاف عالمی نظم اخلاق کے قیام کی جدوجہدکرے۔ یعنی تعلیم کا مقصدانسان کو اس قدرتخلیقی بنانا ہے کہ وہ علم کو تعمیری مقصد کیلیے بروئے کارلانے کا اہل ہو جائے۔ علم دودھاری تلوار ہے اورانسان کا المیہ یہ ہے کہ وہ اپنے خودغرضانہ مفادات کواخلاقی اصول و قانون پر ترجیح دیتے ہوئے علم کے مضرت رساں پہلووں کو اپناتا ہے۔ انسان نے پہلے ایٹم بم بنایا اوربعد میں سوچا کہ نیوکلیئرتوانائی کو بجلی بنانے کیلیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ صوفیا ہوں یا فلسفی وسائنسدان وہ امور آسمان کو سنوارنے اور سوئے فلک سفر کرنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ زمین کے اموراپنے حل کیلیے تشنہ طلب رہتے ہیں۔ ـ”تو کار زمیں را نکوساختی۔۔۔ کہ برآسماں نیز پرداختی”۔ شیخ سعدی نے غالباً صوفیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کیا تم نے زمین کے امور درست کرلیے ہیں کہ آسمان کے امور سنوارنے چلے ہو؟  قرآن کیمطابق علم اگر اپنے ساتھ احساس ذمہ داری نہ لاسکے تو مضرت رساں بن جاتا ہے۔ اقبال نے یہی سوال مولانا رومی سے کیا "چشم بینا سے ہے جاری جوئے خوں۔۔علم حاضرسے ہے دیں زاروزبوں”۔  مولانا رومی نے جواب میں کہا "علم را برتن زنی مارے بود۔۔ علم را بردل زنی یارے بود”۔  یعنی اگرعلم کا مقصدمادہ پرستی بن جائے تو یہ سانپ بن جاتا ہے اور اگر علم کا مقصد حیات قلب کی آفرینش ہو، عشق ہو، اخلاقی اقدارکوسمجھنا اور انہیں تاریخ کے گوشت پوست میں انجیکٹ کرنا ہو تو اس سے بہتر کوئی دوست نہیں ہے۔ قرآن کے تصور تعلیم پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فضل الرحمان کہتے ہیں کہ The end of education is to save man from himself by himself for himself۔ قرآن جس قدرحصول علم پر زور دیتا ہے اس سے کہیں زیادہ اس علم کو برتنے کی ذمہ داری پر زوردیتا ہے۔ علم کا استعمال مفادعامہ کیلیے ہونا چاہیے ایسا علم جو مفاد عامہ، انسانی بہبود اور تعمیری مقاصد کیلیے بروئے کار آتا ہے اسے قرآن "نور” اور”ھدایہ” سے موسوم کرتا ہے۔ قرآن روح وجسم کی دوئی کا قائل نہیں ہے، روح وجسم کی دوئی کا فلسفہ یونانی فکرونظرکی عطا ہے۔ قرآن صحت کے معاملے میں بھی جسمانی اور روحانی صحت کی تخصیص کا قائل نہیں ہے قرآن جہاں شہد کو ذریعہ شفا قرار دیتا ہے وہاں قرآن کو بھی شفا الما فی الصدور قرار دیتا ہے۔  سیکولر نظم تعلیم جسمانی صحت کو ہی ایڈریس کرتا ہے اور میڈیکل ڈاکٹرکی حیثیت اس مکینک کی ہے جو جسم کے پرزہ جات کا علاج کرتا ہے مگرروحانی صحت اس کا مطمع نظر نہیں ہوتی۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کے پیش نظرعلم کے ماخذ کیا ہیں اور علم کی خصوصیات کیا ہیں یعنی What is the nature of knowledge?۔ جہاں تک علم کے مواخذ کا تعلق ہے ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں وہ تین ہیں۔ پہلا ماخذ مطالعہ و مشاہدہ کائنات یعنی طبعی اور قدرتی علوم ہیں۔  دوسرا ماخذ نفس انسانی ہے یعنی انسانی ذہن کے آپریشنز کیا ہیں یہ کس طرح کام کرتا ہے، گہرا غور و تفحص کیا نتائج پیدا کرتا ہے انسانی ذہن کے مرغوبات کیا ہیں انسان کے جبلی جذبات کیسے ہیں اسے جو فطرت نے instinctive guidance کا شرف عطا کر رکھا ہے اس کے پیٹرنز کیا ہیں، مادہ پرستی، شہوات انسانی، خودغرضی اور حب جاہ و مال کے فسادات کیا ہیں ان کی تہذیب کیونکر ہوسکتی ہے یہ جملہ امورPsychology یعنی Constitution of mindکا موضوع ہیں۔ علم کا تیسرا ماخذ تاریخ ہے۔ یہ معاشروں کےعروج و زوال کے قوانین کی تفہیم کا نام ہے۔  یعنی اپنے اردگرد کے معاشروں کی تعمیروترقی اور زوال کی وجوہات کو جاننا اور ماضی کی اقوام جو صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں ان کے عروج و زوال کا مطالعہ کرنا۔ یہ علم اپنی حتمیت میں معاشروں کا تقابلی جائزہ لینے سے عبارت ہے اس لیے آپ اسے علم سماجیات یا Sociology کہہ سکتے ہیں۔

جہاں تک علم کی ساخت وپرداخت اورہیئت وخواص کا تعلق ہے قرآن کا موقف دوٹوک ہے۔ قرآن کیمطابق علم کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ یہ ظن وتخمیں اوریادہ گوئیوں کے برعکس تجربے اورمشاہدے پرمشتمل ہونا چاہیے۔ قرآن کرسٹل کلیئر الفاظ میں کہتا ہے کہ ان الظن لا تغنی من الحق شیئاً۔  ظن وتخمیں اور اوہام پرستی Superstitions حق کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔ حق ایک سائنسی سچ ہے، irrefutable truth ہے۔ اس لیے اوہام پرستی کے گھوڑے حق کو نہیں پچھاڑ سکتے۔ قرآن ایسے افرادکی سخت مذمت کرتا ہے جو کائنات کوسمجھنے کیلیے حواس خمسہ اور تجربے اور مشاہدے کو بروئے کار نہیں لاتے وہ دل تو رکھتے ہیں مگر فہم حق سے محروم رہتے ہیں، آنکھیں رکھتے ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے کان رکھتے ہیں مگر سن نہیں سکتے، یہ جانور ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں(۷:۱۷۹)۔ علم خواہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی مشاہدے، تجربے اور تجزیے کا خواستگار ہوتا ہے۔ اقبال نے کہا کہ فلسفہ ممکن ہے اپنی عقلی بنیادوں سے اعتنا برت لے جوکہ یہ برتتا آیا ہے لیکن مذہب جوعمل کا خواستگار ہے وہ rational foundations کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔ قرآن و سیرت نے Empirical knowledge پر زور دیا اور قرن اول یا عہد عروج کے مسلم فلاسفرز اور سائنسدانوں نے علم کے باب میں conjectures کے برعکس مشاہدے اور تجربے پر زور دیا۔ عہد وسطیٰ میں theological speculations and mystic deliriums نے مسلم ڈسکورس میں راہ پائی تو زوال امت کی بنیاد پڑگئی۔

قرآن کیمطابق علم کی دوسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ Knowledge by its very nature is ever-growing and dynamic; it can never lie stationary and stagnant. Stagnation and repetition is the death of knowledge. امام الانبیا کو قرآن یہ دعا سکھائی رب زدنی علما خدایا میرے علم کو اضافہ پذیر رکھ۔ قرآن کہتا ہے فوق ذی کل علم علیم (۱۲:۷۶) ہر سیر کا ایک سوا سیر ہے۔  یعنی خواہ کوئی کتنا بڑاصاحب علم ہو اس سے زیادہ علم رکھنے والے کا وجود بھی ہوتا ہے۔

قرآن کیمطابق علم کی تیسری بڑی خاصیت یہ ہے کہ علم اگرچہ ہمیشہ اضافہ پذیررہتا ہے مگر اپنی حتمیت میں یہ ایک نامیاتی وحدت لیے ہوتا ہے۔ it is developing yet an organic whole.۔ تخصص specialization اچھی چیز ہے کہ اس سے زیادہ ڈیٹا جمع ہوتا ہے علم کا دامن وسیع ہوتا ہے۔ "but at each step there must be creative minds sufficiently endowed with power of thought which can integrate the various threads of this knowledge into a total organic picture.”۔ اسپیشلائزیشن کا سب سے بڑا مسئلہ علم کی fragmentation ہے یعنی علم مختلف حصوں بخروں کا شکار ہے علم کی تصویر کلی عنقا ہے۔ بقول اقبال جسد علم ایک مردار کی صورت اختیار کرچکا ہے اور طبعی علوم کی مختلف شاخیں گدھ بن کر اپنے حصے کا گوشت لے اڑتی ہے اور نتیجتاً sectional view of reality یعنی حقیقت کا جزوی پہلو ہمارے سامنے آتا ہے اور کلی حقیقت کا سمع و بصر احاطہ نہیں کر پاتے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان Fragmentation of knowledge کوعہد جدید کا سب سے بڑا المیہ قرار دیتے ہیں۔ علم کی holistic organic picture اس لیے ضروری ہے تا کہ پتہ چلے کہ علم کی تمام شاخوں کا یعنی علم کا بطور نامیاتی وحدت خدا، انسان اور کائنات کے متعلق unified stand کیا ہے؟

ہم نے جو امور بیان کیے ہیں اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کا تصور تعلیم و تعلم کیا ہے اور ہماری رائج تعلیمی پالیسی میں یہ کس قدر مستعمل ہے۔ جب تک قرآن کے تصور علم کو ریاستی تعلیمی پالیسی کا حصہ نہیں بنایا جاتا اور جدید تعلیم اورمدرسہ تعلیم کے درمیان بعد کوپاٹا نہیں جاتا یعنی ایک synthetic approach کے ذریعے جدید اور روایتی تعلیم کے درمیان Fusion نہیں ہوتی یعنی Islamic ideals اورmodern ethos کا امتزاج و انصباغ نہیں ہوتا ہماری تعلیمی پالیسی بے ثمر رہے گی اور ایک وقت میں دومختلف قوموں کی نشوونما و پرداخت جاری رہے گی۔

Facebook Comments Box
Education PolicyEducation Policy of Islamic Stateاسلامی ریاست کی تعلیمی پالیسیاسلامی نظریاتی ریاستاسلامی نظریاتی ریاست کی تعلیمی پالیسیتعلیمی پالیسینظریاتی تعلیمی پالیسینظریاتی ریاست کی تعلیمی پالیسی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
نواب واجد علی شاہ، ایک فنکار فرمانروا — اقدس ہاشمی
next post
برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.