اس کتاب کے مصنف لکھتے ہیں کہ "لکھو وہی جو تم ٹھیک سمجھتے ہو۔ ٹھیک سمجھنے پر وقت صرف کرو، لیکن جب سمجھ لو تو پھر اعتماد اور جرات سے وہ سب کہو جسے تمہارا روشن دماغ تم پر عیاں کرے۔”
ضروری نہیں کہ میرا ”ٹھیک” آپ سب کا بھی ٹھیک ہو۔ سو میرے خالی دماغ میں جگنو جیسی جو روشنی ہوئی ہے اسے عیاں کر دینا مناسب سمجھتی ہوں۔ میری نظر میں یہ مکالموں کی بیٹھکیں ہیں۔ ویسی ہی جیسے غالب اپنے خطوط میں سجاتا ہے۔ میں اگر اس کے ہر خط کی کہانی بیان کروں تو الگ کتاب کا درجہ اختیار کر لے گی۔ یہ مہابیانیہ ان خطوں کو ایک سے زائد بار پڑھنے پر دیا گیا ہے۔ کیا تنقید اور ناقد، کیا ادب اور تہذیب کا منظر نامہ، کتابوں کو کون کیسے پڑھتا ہے؟ معنی کی دنیا کتنی وسیع ہے، فکشن، نان فکشن، شاعری کسی بھی ادبی موضوع کو لے لیجیے، انسان کی زمانے اور اس کی روح کے ساتھ جڑت کو دیکھ لیجیے، فن پارے کا ایک سے زائد مرتبہ پڑھے جانا کیسے تبدیلی لاتا ہے، اصل متن کو پڑھنے کی بجائے اور اس پر لکھے جانے والی آرا کو پڑھ کر اپنی رائے دینا کیسا بھیانک عمل ہے، کتاب کی مصوری ایک الگ موضوع بحث ہے، اس میں درج حوالے و حواشی، اشعار کی مثالیں کیسے ہر ایک خط کی کہانی کے اندرونی عمل سے جڑی ہیں۔
آپ خود دیکھیے اس کتاب کے محرک کی داستاں اگرچہ چند پیراگراف پر مشتمل ہے لیکن وہ ایک ایسے کچوکے کی مانند ہے جس کی ٹیس سبھی سوچنےاور فہم رکھنے والوں کو محسوس ہو گی۔ پیش لفظ خصوصاَ صفحہ نمبر آٹھ پر لکھا جانے والا کرب قابل غور ہے۔ جو اس کتاب کے محرک کو واضح کرتا ہے۔ پہلا خط اس کتاب کا وہ حوصلہ مند در ہے کہ جس میں داخل ہونے کے بعد آپ کو کتاب سے عشق ہو جائے۔ ہلکے پھلکے مدلل انداز میں تنقید و ناقد کا تعارف نامہ قابل تائید ہے۔ تنقید کے کردار کو سمجھنا ہے تو دوسرے خط کے مکالمے آپ ہی کے لیے ہے۔ ہاں وہی آپ جو اس کے کردار پر سوال تو باآسانی اٹھا لیتے ہیں مگر اس پر آپ سے سوال کر لیا جائے تو گھسی پٹی دلیلیں دینے کے سوا آپ کے پاس کچھ نہیں ہے۔ یہ خط آپ کو سمجھاتا ہے کہ خاک چھاننا آسان ہے یا خاک اڑانا؟ اور تو اور آپ جو تنقید کے اصولوں کو ادب سے اخذ کرنے کا واویلا مچاتے ہیں امید ہے آپ کو دیے جانے والے جواب اور کیے جانے والے سوال آپ کو سوچنے پر مجبور کریں گے کہ آپ کا کیا جانے والا سوال دہرانے جانے کےقابل بھی ہے یا ردکیے جانے کے۔
تخلیق اور تنقید کا بنیادی فرق کیا ہے؟ تخلیق سے اصول اخذ کر کے ادب کا مطالعہ کیسے کیا جاتا ہے؟ حتمی رائے دینے کی آزادی و وجہ، تنقید کے اصولوں کا اخذ کیا جانا کیسا ہے؟ فہم و فکر کے دھارے کو محض ایک جملے میں کیسے سمیٹا جا سکتا ہے؟ دریا کو کوزے میں بند کرنا کیسا ہے؟ تاثر کا اثرا انداز ہونا کیسا ہے ؟تنقید لوگوں کو سوچنے پر کیسے مائل کرتی ہے؟ نقاد کو جاننے کا طریقہ کار کیا ہے؟ تنقید کو اخلاص کے ساتھ اختیار کرنے میں بورخیس اور غالب کا کیا کردار ہے؟ تنقید کیوں فن پارے کی تھاہ تک نہیں پہنچ سکتی اور نقاد کو خود سپردگی کے عمل سے کیوں گزرنا چاہیے؟ قول محال زندگی کی پیچیدگی اور تضادات سے کیسے نبرد آزما ہوتا ہے ؟کیا واقعی تنقید ادب سے ملنے والی مسرت کی قاتل ہے؟ ادب اور تہذیب کا کیا تعلق ہے؟ ناول آج کیوں مقبول ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ سوال اور اس کا جواب، جواب در جواب اور سوال در سوال۔ یقین جانیے کہ الجھی ہوئی گرہیں کھلتی چلی جاتی ہیں۔ مگر میرے جیسے نالائق طالب علموں کو یہ سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ سوال کی اہمیت کس قدر اہم ہے۔ اس کو تشکیل دینا اس کی معنویت میں نہ صرف اضافہ کرتا ہے بل کہ اصل مدعے تک رسائی بھی اسی کے پیش نظر ممکن ہے۔ جیسے کئی سوال مجھے سمجھاتے ہیں کہ تنقیدی آگہی کا ہونا کس قدر ضروری ہے۔ علم ہمیشہ سرحدوں سے ماورا ہے کیا میرا اور کیا تمہارا۔ سوال اور اعتراض میں کتنا بڑا فرق ہے۔ سوچنا مشکل جب کہ محسوس کرنا کتنا آسان ہے۔ تاثر کی اہمیت کیا ہے۔ کتاب شے ہے معنی شے نہیں۔ آرا اور تاثرات سے زیادہ حقائق کو، تنقید کے دائرہ کار کو، معنی کی آزادی کو، قول محال کو سمجھنا کتنا ضروری ہے۔ کتاب پڑھنا اندر کے زخموں کی شناخت کیسے کراتا ہے۔ انسانیت کی محبت لوگوں کی محبت پر کیسے بھاری ہے۔ فہم کا محدود ہونا کسی بھی فن پارے کی تھاہ تک پہنچنے میں کیسے رکاوٹ ڈالتا ہے۔ فن میں سیاہ و سفید کے معنی کیسے بدل جاتے ہیں۔ مابعد سچائی کے زمانے میں مصنف کی مشکلات کیسے بڑھ گئی ہیں۔ گھڑی گئی اور واقعی سچائی، فیکٹ اور فکشن کے فرق کو سمجھنا کتنا ضروری ہے۔ ان پر ذہن، وقت اور زبان کیسے اثر انداز ہوتے ہیں۔ کوئی لفظ معنی کے بغیر نہیں ہوتا۔ عظیم تر کہانی وہ ہے جسے ہر نسل اپنی کہانی سمجھے۔ اچھا فن پارہ داخلی وقت کو بروئے عمل لائے بغیر ممکن نہیں۔ اندر اور باہر کے وقت میں کتنا فرق ہے۔ اپنے فہم سے چیزوں کو دیکھنا، سمجھنا، پرکھنا کتنا مختلف تجربہ ہے۔ شائستگی اور دلیل سے کوئی بھی بات کہنا کتنا سہل ہے۔ شعر کی تفہیم کے کتنے رنگ ہیں۔ میں تنقیدی نظریات کے ازدحام سے کیوں گھبرا جاتی ہوں۔ اپنی رائے رکھنا کس قدر اہم ہے۔ ایسے ہی کئی سوالوں کے چشم کشا جواب ان خطوط (مکالموں) کی شکل میں یک جا ہیں۔
یہ کتاب ممکنات و اعترافات کی دنیا ہے۔ کسی ایک بیان پر حتمی رائے نہیں دیتی بل کہ راستے دکھاتی ہے۔ حرف و معنی کی یک دلی کو ترسنے والوں کو تسلی بخش جواب فراہم کرتی ہے۔ کسی ماہر نفسیات کی طرح نہ صرف ان حادثات کو حاشیے پر لا کھڑا کرتی ہے جو تنقیداور نقاد کی روح کو داغدار کرتے ہیں بل کہ ان پر حوصلے کا مرہم بھی لگاتی ہے۔ تخلیق کار کو کہتی ہے کہ اپنی تحریر بغیر کسی حجاب کے سپرد کرنا سیکھو اور کہو کہ لو ہمارے پیدائشی زخم کریدو اور ہمیں آسودگی فراہم کرو۔ کیوں کہ معنی کسی کی ملکیت نہیں ہوتے۔ یہ باور کراتی ہے کہ تنقید دلیل کے بغیر ممکن نہیں اور یہ کتاب اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہے۔ میری نظر میں تنقید کے میدان میں یہ وہ جھنڈا ہے جسے پہلی بار اتنی اونچائی پر گاڑھا گیا ہے کہ کئیوں کی آنکھیں نہ صرف چندھیا جائیں گی بل کہ سروں کے خم بھی اپنی جگہ سے ہل جائیں گے۔
