تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبکتابوں پر تبصرے

سماجیات ’’درسی کتاب‘‘ کیسے بنی؟ محمد حسین (شریک مصنف)

by محمد حسین 27/05/2017
written by محمد حسین 27/05/2017
150

یہ نومبر۲۰۱۴ کی بات ہے کہ اسلام آباد میں منعقدہ ایک مشاورتی اجلاس میں میری ملاقات خورشید احمد ندیم صاحب سے ہوئی۔ خورشید ندیم صاحب کے کالموں کو بعض اوقات پڑھتا تھا اس لیے میں ان کی فکر، استدلا ل اور ان کی دلچسپی کے موضوعات سے کسی حد تک آگاہ تھا، ان دنوں مختلف مکاتب فکر کے مدارس کے قائدین، جید علمائے کرام اور نامور ماہرین تعلیم کی مشاورت اور رہنمائی میں تیار ہونے والی درسی کتاب ’’تعلیم امن اور اسلام‘‘ شائع ہوئی تھی، چونکہ راقم کو اس کتاب پر بطور شریک مصنف، نصاب ساز اور تربیت کار کام کرنے کا موقع حاصل رہا تھا جس کا خورشید صاحب کو پہلے سے علم تھا، اس لیے انہوں نے کہا کہ ان کا ادارہ بھی ایک ایسی درسی کتاب تیار کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کے ابتدائی خد وخال پر تبادلہ خیال کے بعد انہوں میں مجھے اس درسی کتاب کے منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دی. طے شدہ ترتیب کے تحت کام کا آغاز ہوا ۔ خورشید صاحب کا اپنا ایک وسیع حلقہ ہے جو علم، ادب، صحافت، سماج اور مذہب کے بندھن میں ان سے جڑا ہوا ہے، اس لیے ان کے دفتر میں مختلف طبقات فکر کے اہل فکر و دانش کی آمد و رفت بھی رہتی ہے، چنانچہ اس دوران وہاں ہماری محفل سجتی رہی، کبھی گپ شپ اور کبھی مختلف سماجی، مذہبی اور سیاسی مسائل پر سنجیدہ علمی تبادلہ خیال ہوتا رہا اور ساتھ میں کتاب پر کام بھی ۔

اس کتاب پر عملاً کام کا آغاز جنوری ۲۰۱۵ میں ہوا، اس کتاب کی تیاری کے لیے دو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں، ایک مجلس تحریر اور دوسری مجلس نظارت و مشاورت، مجلس تحریر میں خورشید احمد ندیم اور راقم شامل تھے جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سابق سربراہ ڈاکٹر خالد مسعود صاحب کی سربراہی میں مختلف ماہرین اور دانشوروں کی ایک مجلس نظارت تشکیل دی گئی۔ کتاب کے خدو خال طے کرنے کے لیے شروع میں کئی مشاورتی اجلاس ہوئے، ان اجلاسوں میں مجلس تحریر اور نظارت کی باہمی مشاورت سے طے شدہ عناوین کے تحت تحقیق و تصنیف کر کے مواد کی تیاری مجلس تحریر کی ذمہ داری ٹھہری جبکہ مجلس نظارت کے ذمہ تیار شدہ مواد کا تنقیدی جائزہ لینا اور اس میں ترمیم و اضافہ اور بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کے لیے رہنمائی کرنا قرار پایا۔ ایک سال کے بعد جب مختلف مراحل سے گزر کر کتاب کا ابتدائی مسودہ تیار ہوا تو اسے پاکستان کے کئی جامعات اور دیگر اداروں سے وابستہ ماہرین تعلیم کو نظر ثانی کے لیے بھیجا گیا، ان سے درخواست کی گئی دیے گئے دو ہفتوں کے عرصے میں وہ اس کا تنقیدی جائزہ لیں۔ پھر پاکستان کے انہی نامور ماہرین تعلیم، سماجی دانشوروں اور جید علمائے کرام کا ایک اجلاس بلایا گیا جس میں انہوں نے کتاب کے مسودے پر اپنا تنقیدی جائزہ پیش کیا اور اجلاس کے دوران مزید بحث اور غور و خوض کے ذریعے اس میں مزید بہتری کے لیے اصلاحات تجویز کیں۔ ان ماہرین میں مجلس تحریر کے ارکان کے علاوہ پروفیسر ڈاکٹر شاہد صدیقی (وائس چانسلری علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی) پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز (سابق وائس چانسلر، پشاور یونی ورسٹی)، پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود (سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل)، ڈاکٹر محمد حنیف (سابق ایڈوائزر کریکلم ونگ)، ثاقب اکبر چیئرمین البصیرہ پروفیسر اے ایچ نئیر (قائد اعظم یونی ورسٹی)، ، پروفیسر شاہد گیلانی (راولپنڈی گروپ آف کالجز)، بیرسٹر ظفر اللہ خان (وزیر اعظم پاکستان کے قانونی مشیر)، عامر رانا ڈائریکٹر PIPS، مولانا عمار خان ناصر (استاذ گفٹ یونی ورسٹی)، مس جنیفر (ڈائریکٹر کریسچن سٹڈی سنٹر)، ڈاکٹر عرفان شہزاد ، مفتی محمد سعید (الندوہ لائبریری) ، مفتی عبد القوی، پرفیسر توقیر احمد ، سبوح سید۔ محمد ذاکر، محمد حفیظ، سمیت دیگر ارباب فکر و دانش شامل تھے۔ ماہرین کی آراء اور سفارشات کی روشنی میں کتاب کے مسودے کو دوبارہ نظرثانی و اصلاح کے عمل سے گزارا گیا۔

کتاب مارچ ۲۰۱۷ میں منصہ شہود پر آگئی اور اس کی تقریب رونمائی میں وفاقی وزیر مملکت برائے تعلیم و تربیت جناب انجئییر بلیغ الرحمان کی صدارت میں اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں مختلف جامعات اور قومی اداروں اور طبقات کی نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔ نئی نسل کی تربیت اور اس کے سماجی شعور کو پروان چڑھانے میں ہمارے نظام تعلیم میں موجود خلا کو پُر کرنے کی غرض سے تیار کردہ ’’سماجیات‘‘ کے نام سے یہ کتاب کئی مراحل سے گزر کر تیار ہو گئی۔ ادارہ تعلیم و تحقیق اسلام آباد کے تحت تیار اور شائع ہونے والی ’’سماجیات‘‘ صرف ایک درسی کتاب نہیں بلکہ پاکستان میں موجود مختلف طبقات فکر کے اداراک،معاشرے کے بنیادی اور مستقل مسائل کے پیش نظر طلبہ کی انفرادی و اجتماعی کردار سازی کا ایک تربیتی نصاب ہے۔ اس میں فرد، سماج، آئین، رویوں، اخلاقیات، سماجی ادارے، مسائل اور ان کے حل پر سات ابواب کے تحت تقریباً ۶۰ درسی اسباق موجود ہیں۔ ہر باب کے شروع میں اس کے تدریسی مقاصد اور خلاصہ اور آخر میں بنیادی نکات اور جائزہ مواد دیا گیا ہے۔ یہ کتاب پاکستان کی مختلف یونی ورسٹیوں اور دینی مدارس کے گریجویشن کی سطح کے طلبہ کے لیے ایک معاون درسی کتاب کے طور پر تیار کی گئی ہے، جسے نصابی معیارات اور طلبہ کی تعلیمی نفسیات کے مطابق مرتب و مدون کی گئی ہے جو عام قارئین کے مطالعہ کے لیے بھی یکساں مفید ہے۔ ادبی ، تحقیقی اور یگر اصناف تحریر(جس میں لکھاری اپنی علمیت، مہارت اور فہم کی پختگی اور مطالعہ و تحقیق کی وسعت کے مطابق اپنے مطالب، مدعا، استدلال اور نتائج کو پیش کرتا ہے) کے برعکس نصابی کتاب میں اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ جس عمر اور جس شعبہ کے طلبہ کے لیے اسے تیار کی جاتی ہے ان کی عمر، نفسیات، تعلیمی سطح اور تدریسی مقاصد کے مطابق اسے مرتب و مدون کی جاتی ہے، دوسرے لفطوں میں نصابی کتب میں لکھاری کی مہارت اس بات میں نمودار ہوتی ہے کہ اس نے متعلقہ عمر اور شعبہ کے طلبہ کے لیے کتاب کو کس قدر قابل تفہیم، اور تدریسی مقاصد کے حصول کے لیے موثر طریقہ کار کے مطابق اسے مرتب و مدون کیا ہے۔ یعنی نصاب کتاب میں محور لکھاری کے بجائے طلبہ ہوتا ہے۔ چنانچہ عام کتب کے قارئین کے لیے نصابی کتب میں بہت زیادہ تکرار محسوس ہوتا ہے، کہ ایک ہی بات کو تدریسی مقاصد، پیشگی خلاصہ، مرکزی مواد، اہم نکات اور جائزہ مواد میں مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ مگر نصاب ساز کے سامنے ان مطالب کی تفہیم زیادہ اہم ہوتی ہے اس لیے کتاب کو اس طرح خود آموز بنانے کی کوشش کی جاتی ہے، کہ اگر مذکورہ کتاب کی تدریس پر تربیت یافتہ مدرس میسر آیا تو بہت اچھا اور نور علی نور، اگر دستیاب نہ ہو تو کتاب ہی رہنما بنے اور راستہ بھی جس کے ذریعے تدریسی مقاصد کا حصول ممکن ہو۔ میری خوش قسمتی کہ مجھے ’’سماجیات‘‘ کی بتدائی خاکہ سازی سے لے کر اس کی تدریس کے لیے اساتذہ کی تربیت تک، اس کے تصنیفی اور تدوینی مراحل میں بطور شریک مصنف، نصاب ساز اور تربیت کار اپنا حصہ شامل کرنے کا موقع ملا، مگر میری یہ حسرت رہ گئی کہ دو سال اس کتاب کی تیاری کے مراحل میں شامل رہنے کے باوجود اس کی اشاعت کے بعد مارچ ۲۰۱۷ میں منعقدہ اس کی تقریب رونمائی میں پاکستان سے باہر ہونے کے باعث شریک نہ ہو سکا۔ کہا جاتا ہے لکھنے والے کے لیے اس کی تحریریں والدین کے لیے بچوں جیسی ہوتی ہیں کہ انہیں سنبھالنا بھی پڑتا ہے اور ان سے تعلق قائم رکھنا بھی، یہ مضمون بھی اسی تعلق کے اظہار کے لیے لکھا گیا ہے۔

Facebook Comments Box
تبصرہ کتب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حسین

محمد حسین، مصنف، مطالعات تنازعات کے ایک ماہر نصابیات اور تربیت کار ہیں، اور تعمیر امن اور بین المذاہب مکالمے کی بین الاقوامی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

previous post
جنہاں ‘گھڑیاں’ سانبھ کے رکھیاں۔ قیصر شہزاد
next post
عورتیں پاگل کیوں ہو جاتی ہیں؟ صدف زبیری

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.