’’اللہ سوھنے میں حاضر ہوں‘‘ ثمینہ تبسم کے عمرے کا سفرنامہ ہے۔ مصنفہ کو رمضان کے آخری عشرے میں عمرہ کرنے کی توفیق ارزاں ہوئی۔ اردو میں حج وعمرے کے بے شمار سفرنامے تحریر کیے گئے ہیں۔ لیکن ’’اللہ سوہنے میں حاضرہوں‘‘ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے سفر کا روح پرور بیانیہ ہے۔ کیف ومستی میں ڈوب کر لکھا سفرنامہ قاری کو بھی سرشار کردیتا ہے۔
کینیڈا میں مقیم نثرنگار، شاعرہ اور استاد ثمینہ تبسم سینئر قلم کار ہیں۔ انہوں نے نظم و نثرکی درجن بھر کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں ’’پرچم تلے‘‘ سوانح اور آپ بیتی ہے۔ اپنے طرز کی اس منفردآپ بیتی میں ثمینہ تبسم نے شہید چھوٹے بھائی لیفٹیننٹ فرخ مرزا عرف ٹیپو جس والہانہ انداز سے ذکر کیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ بہن کا شہید بھائی کے ذکر کا ہر لفظ بے پناہ اور والہانہ لگاؤ محبت و الفت میں ڈوبا ہوا ہے۔ بہن کی چھوٹے بھائی سے محبت و پیار قاری بھی محسوس کرتا ہے۔ کتاب میں واہ کینٹ کے بارے میں معلومات بھی دلچسپ انداز میں بیان ہوئی ہیں۔
ثمینہ تبسم کی دیگرکتب میں نثری نظموں کا مجموعہ’’عینی شاہد‘‘اور شاعری کے مجموعے’’نیاچاند‘‘، ’’مٹی کی عورت‘‘، ’’دکھ اندر دکھ باہر‘‘، ’’آج کی نظم‘‘ نثری کتابوں میں ’’زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو‘‘, سفرنامہ مالاکنڈ ’’ہمارے پشتونوں کی سرزمین‘‘ اور ’’آپریشن سوات و مالاکنڈ‘‘ کینیڈا سے متعلق ’’سینٹرل کینیڈا۔ کیوبک اور اونٹاریو‘‘ شامل ہیں۔ حال ہی میں ان کا فلسطین کا سفرنامہ ’’دیوار گریہ سے غزہ کی دیوارتک‘‘ شائع ہوا ہے۔
نظموں کی کتاب ’’سربلندی تری عنایت ہے‘‘ کا آغاز ثمینہ تبسم نے ایک معجزاتی خواب کے بعدعطاہونے والی نظم ’’ماہ ربیع الاول‘‘ سے کیا تو انہیں یہ اندازہ نہیں تھاکہ یہ کتاب ان کی زندگی اس طرح بدل دے گی کہ ان کاراستہ خودبخود مخلوق خدا کی بھلائی کی طرف مڑجائے گا۔ اسلامی نظموں کی کتاب کا آغاز ایک تلخ واقعے سے ہوا۔ ان کی کولیگ نے طنزیہ انداز میں کہا۔ ’’دیکھا۔ ہم مغرب والے عورت کی کتنی عزت کرتے ہیں، اسے کتنا تحفظ دیتے ہیں۔‘‘ اس طنز نے ثمینہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ ان پر مشرق پر نہیں بلکہ اسلام پر طنز تھا۔ ایک سیکنڈ میں ان کے اندر کی کایا پلٹ گئی۔ انھوں نے اپنے سوہنے رب سے فریاد کی، سوال جواب ہوئے، اور وہاں سے ملنے والے اذن پر تحقیق کا راستہ اپنایا۔ ان التجاؤں کے جواب میں انہیں وہ قلم عطا کیا گیا جس کے سہارے ثمینہ تبسم نے اس سلسلے کی پہلی نظم ’’ماہ ربیع الاول‘‘ مکمل کی۔ اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کی تاریخ سے مسلمان عورتوں کو ڈھونڈنے کی مشقت کی۔ رسولﷺ کی حیات مبارکہ میں، ریاست مدینہ میں مسلمان عورتوں کو ملنے والے حقوق وقت، فرقوں اور قبائلی رسوم ورواج کے بوجھ تلے ایسے دبا دیئے گئے ہیں کہ ان پر جمی صدیوں کی گرد جھاڑنا ہی بذات خود ایک امتحان ہے۔ تحقیق نظموں کی صورت کاغذ پر اترتی رہی۔ جنت مکانی مقدس بیبیوں کی طرف رہنمائی ملتی رہی۔ کتاب سنورتی رہی۔ جو اللہ سوہنے کا حکم تھا جو رضا تھی وہی ثمینہ تبسم تمام فرقوں کے کھینچے ہوئے دائروں سے باہر نکل کر اکیسویں صدی میں سر اٹھا کر کھڑی ہوئی ایک مسلمان عورت بن گئی۔ دوران کتاب ہونے والے روحانی تجربات ایک طرف اور کتاب مکمل ہونے کے بعد پبلشر کو بھیجنے کے تجربات دوسری طرف۔ اس دوران وہ شدید ذہنی دباؤ میں رہیں۔ مئی 2018ء میں اتفاقاً علم ہوا کہ سعودی عرب نے حج اور عمرے کے لیے شرعی قوانین میں تبدیلی کرکے اعلان کیاہے کہ اڑتالیس سال سے زائدعمر کی عورتوں کو محرم کے بغیر حج یا حج کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ ثمینہ ہی کے الفاظ میں۔
’’یہ خبر آنکھوں میں تیرتے آنسوؤں سے وضو کرتی دل میں اتری تو ٹھک سے وہیں پیوست ہو گئی۔ میں نے بڑی التجا بھری آنکھوں سے آسمان کی طرف نظر کی تو ایسا لگا کہ جیسے آسمان سے اترنے والی ایک کوسی کوسی مسکراہٹ نے میرا ماتھا چوم لیاہو!‘‘
ثمینہ تبسم کا سفرنامہ مکہ معظمہ ومدینہ منورہ ’’اللہ سوہنے میں حاضر ہوں‘‘ جذب و کیف میں ڈوب کر لکھا گیا ہے۔ بے پناہ عقیدت اور روح پرور انداز پڑھنے والے کو بھی کیف و مستی میں شرابور کر دیتا ہے اور ان کی بے مثال منظر نگاری قاری کو ہر کیفیت میں شریک کر لیتی ہے اور پڑھنے والا ہرقدم ان کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اور تمام مناسک گویا ان کے ہمراہ ادا کرتے محسوس کرتا ہے۔ ثمینہ کی نثرسادہ اور اسلوب دل پذیر ہے۔ ان کا بار باراللہ سوھنا کہنا قاری کے دل کو چھو جاتا ہے اور وہ بخوبی ان کے جذبے کی شدت کو محسوس کرتا ہے۔
ثمینہ تبسم کے عمرے کا سفرنامے میں مجھے نامور ادیب ممتازمفتی کے منفرد سفرنامہ حج ’’لبیک‘‘ کا پرتو نظر آتا ہے۔ ممتازمفتی اللہ سے بے تکلف باتیں کرتے ہیں اور کعبہ کو اس کا کالا کوٹھا کہتے ہیں۔ ثمینہ تبسم ایسی بے ادبی کی مرتکب تو نہیں ہوتیں کہ وہ اللہ اور رسول اللہﷺ کی محبت میں سرشار ہیں۔ لیکن ہرمشکل وقت میں اللہ سے گفتگو کرتی رہتی ہیں۔ جیسے ممتاز مفتی اپنے کالے کوٹھے والے کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس گفتگو کے نتیجے میں وہ ہمیشہ درست فیصلہ کرلیتی ہیں۔ یہ جذب و کیف میں ڈوبا سفرنامہ ایک ہی نشست میں پڑھا جاسکتا ہے، کیونکہ اسے شروع کرکے ادھورا چھوڑنا ممکن نہیں ہوتا۔
دو سوچھیالیس صفحات کی کتاب ایمل مطبوعات نے اپنے روایتی دلکش انداز میں شائع کی ہے۔ بہترین کتابت، عمدہ چھپائی اورکاغذ نے کتاب کو چار چاند لگادیے ہیں۔ سرورق انتہائی خوب صورت اور روح افزا ہے اور اس کی بھی ایک کہانی ہے۔ جس کاعلم کتاب پڑھ کر ہوتا ہے۔
’’اللہ سوہنے میں حاضرہوں‘‘ کا انتساب بھی بڑا دلچسپ ہے۔
’’میرے تمام بزرگوں، بابوں، پیروں، فقیروں کے نام جنہوں نے مجھے اللہ رسول ﷺ سے جوڑے رکھا!‘‘۔
اس انتساب سے مصنفہ کی عقیدت اور مودت کاعلم بخوبی ہوتا ہے۔ ثمینہ تبسم نے اپنی گھریلو زندگی کو پردہ راز ہی میں رکھا، انہوں نے گھریلو مذہبی ماحول کی جھلک کچھ یوں دکھائی ہے۔
’’میں نے اپنے شوہرسے کہا تھا کہ آپ کی طرف میرے لیے سب سے بڑا گفٹ یہ ہوگا کہ ہم اکٹھے عمرہ کریں۔ انہوں نے ایسے ہنس کر میری طرف دیکھا تھا کہ میں کچی سی ہوگئی تھی۔ مجھے پتہ تھا کہ ان کو مذہب سے بس عید کی نماز پڑھنے تک ہی دلچسپی تھی۔ باقی سب دینی فرائض انہوں نے بڑھاپے اور ریٹائرمنٹ کے بعد پہ چھوڑ رکھے تھے۔ نماز کے لیے وقت نہیں ہوتا تھا کہ جاب پہ ہوتے تھے۔ رمضان شروع ہوتے ہی انہیں باقاعدہ چکر آنے لگتے تھے۔ زکوۃ کے معاملے میں ہاتھ جیب کی طرف جاتا ہی نہ تھا۔‘‘
اس مختصر اقتباس کے علاوہ ثمینہ تبسم نے ازدواجی زندگی کا زیادہ ذکر نہیں کیا۔ صرف یہ لکھا کہ شوہر دوسری شادی کرکے پاکستان میں مقیم ہیں۔ بچوں کوبھی مذہب سے زیادہ لگاؤ نہیں۔ اس کے باوجود شعائر اسلام، بابوں، فقیروں اورولیوں سے گہرا شغف کے بارے میں بتاتی ہیں۔
’’ میرے میکے میں پانچ وقت کی نماز نہ پڑھنے کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔ رمضان میں پورے اہتمام سے روزوں کے فرائض ادا کیے جاتے۔ میری پسندیدہ عبادت تہجد کے لیے جاگنا اور نوافل پڑھنا ہے۔ ذکر کا جو سرور آدھی رات کو ہے، اس کا جواب ہی نہیں۔ کبھی امی جی کی آنکھ کھل جاتی تو کہتیں۔ لڑکیاں اس طرح عبادت نہیں کرتیں کیونکہ ان کا دل دنیا سے اٹھ جاتا ہے تو گھرداری مشکل ہوجاتی ہے۔ میں حیران ہوتی کہ لڑکیاں اپنی مرضی سے دل بھر کر عبادت بھی نہیں کرسکتیں۔ پھر اٹھارہ سال کی عمر میں شادی ہونے کے بعد یہ بات اتنی بری طرح سمجھ میں آئی کہ ایک طویل عرصہ میں نے اپنے اللہ سوہنے سے جدا ہونے کے سوگ میں گزارا۔ شوہر، سسرال، پڑھائی، بچے اور پھر نوکری کے گھن چکر میں ایسی گم ہوئی کہ پھر دل لگا کر عبادت کرنا ایک یاد ہی بن گئی۔ میں نے اپنے اللہ سوہنے اور پیارے رسول کو ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں اس طرح سنبھال کر آباد کرلیا کہ اب وہاں کسی اور کا داخل ہونا ناممکن ہے۔ میرااللہ سوہنے سے تعلق کچھ اور قسم کاہے۔ یہ سانسوں کے ساتھ رواں دواں ذکر کا تعلق ہے۔ میں جہاں بھی ہوں۔ جس حال میں ہوں۔ میرے اندر کا تانابانا اللہ رسول سے جڑا رہتاہے۔ یہ تعلق مجھے اپنی امان میں رکھتاہے۔ آنکھیں بند کرتی ہوں تو اپنے اندر اک جہاں آباد دیکھتی ہوں۔ وہاں گنتی کا کوئی ناپ تو نہیں چلتا۔ وہاں اللہ سوہنے کی عطا کردہ بے حد و حساب نعمتوں، رحمتوں اور برکتوں کا شکرانہ میرا عاجزی سے جھکا ہوا سر ہے۔ ایک طرف روایتی مذہب اور فرقے ہیں۔ دوسری طرف میں ہوں جو اللہ رسول، ولیوں، شہیدوں، بزرگوں، فقیروں اور بابوں سے جڑی، باقی سب کی طرف دیکھ کر مسکراتی رہتی ہوں۔ میں نے کسی پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کبھی کسی کو درست یا غلط نہیں کہا۔ میری نظر میں سب راستے میرے رسول اللہ حضرت محمدمصطفٰیﷺ کی رہنمائی میں اللہ سوہنے کی طرف جاتے ہیں۔ ‘‘
اور ایمان کی مضبوطی ثمینہ تبسم کوان کی نانی کی عطاہے۔
’’ میرے خاندان کے بزرگ، خاص طور پر میری نانی جان زینب بی بی ایک درویش صفت انسان تھیں۔ پیروں، فقیروں، بزرگوں سے محبت کرتی تھیں۔ بچپن میں میرا ان کے ساتھ بہت وقت گزرا۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں میں اپنی امی جی نسیم اختر کے ساتھ ان کے پاس رہنے جہلم چلی جاتی تھی۔ وہ ہر جمعرات کو بزرگوں کے نام کی نیاز کا بہت اہتمام کرتی تھیں۔ اماں جی خود ایک بڑی ہی سادہ اور صوفی مزاج عورت تھیں۔ حج کرکے آئیں تو اللہ رسول کی محبت میں سرشار تھیں۔ میں ان کے پاس ٹھنڈے فرش پر لیٹی ان سے نہ جانے کہاں کہاں کے قصے سنتی رہتی۔ بابوں، بزرگوں اور فقیروں کے کئی واقعات یں نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ اماں جی کو قرآن پہ سرجھکائے آنسوؤں سے روتے دیکھا۔ میں کبھی سمجھ نہ سکی کہ میری اتنی دولت مند اماں جی آخراللہ رسولﷺ سے کیا مانگتی رہتی ہیں کہ ان کے آنسو ہی نہیں تھمتے! میں اوائل عمر سے ہی اسی کھوج میں رہتی کہ آخر اس دنیاوی نظام کے ساتھ وہ کیا نظام ہے جو بڑے ہی منظم طریقے سے چلتاہے مگر نظر نہیں آتا، وہ کون لوگ ہیں جن کی ایک نظر کرم انسان کی دنیا بدل دیتی ہے۔ جو فقیر کو بادشاہ اور بادشا ہ کو فقیر بنا دیتے ہیں۔ روحانیت کیاہے۔ مراقبہ کیا ہے۔ ذکر کیا ہے۔ ولی کون ہیں۔ قطب کسے کہتے ہیں۔ ایسے سوالوں پر اماں جی کبھی ہنس پڑتیں۔ کبھی مجھے جھڑک دیتیں۔ کبھی کہتیں کہ اس وقت کا انتظار کروں جب یہ سارے جواب تم تک خودبخود پہنچ جائیں گے۔‘‘
حج اور عمرے کے سفرنامے عقیدت اورجذبے سے بھرپور تو ہوتے ہی ہیں۔ ثمینہ تبسم کے سفرعمرہ میں جذبے کی گہرائی کے ساتھ ممتازمفتی کے لبیک کی مانند اللہ پر کامل یقین اور رسول پاکﷺ وابستگی اوردعا پر زور ہر صفحے پہ نظرآتا ہے۔ ممتاز مفتی اللہ سے دوستی کے دعویدار ہیں اور و ہ اپنے دوست کے کالے کوٹھے کو دیکھ کر بے اختیار ہوجاتے ہیں۔ ثمینہ تبسم اللہ سوہنے سے سارے گلے شکوے اور لاڈیاں کرکے پرسکون ہوجاتی ہیں۔ کبھی صوفی مزاج دوست سے اللہ کا پیغام ملتاہے کہ’’ثمینہ کو بتاؤ وہ اکیلی، بے سہار ایا لاوارث نہیں۔ ہم نے اسے چھوڑا نہیں ہے۔ ہم نے اسے اپنے ساتھ جوڑ لیاہے۔ اسے اپنے اوپر بھروسہ کرنا چاہیے۔ وہ کبھی اکیلی نہیں تھی۔ اب بھی اکیلی نہیں ہے۔ ‘‘
کبھی پاکستان سے میسنجر پرصبح سویرے فون آتا ہے۔ ’’میں نے خواب میں دیکھاکہ اپنے گھر میں ہوں۔ میری امی بھی میرے پاس بیٹھی ہیں۔ اچانک نور کا ایک سیلاب سا کمرے میں داخل ہوتاہے۔ اس کے اندر ایک نورانی شخصیت ہیں۔ ایسانورایسی خوشبوجس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ مجھے احساس ہوتاہے کہ وہ رسول اللہﷺ ہیں۔ میں اور امی کھڑے ہوکر درود پڑھنے لگتے ہیں۔ رسول اللہﷺ ادھرادھر دیکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ثمینہ کہاں ہے؟ میں سخت شرمندہ ہوتا ہوں کہ مجھے پتہ ہی نہیں کہ ثمینہ کہاں ہے۔ اتنے میں آپ کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور رسول اللہﷺ کے کندھے پررکھی ہوئی کالی چادر کا ایک کونہ اپنے داہنے ہاتھ میں لے کراسے آنکھوں سے لگاتی ہیں اور پھر اسے چومتی ہیں اورمسکرا کر کہتیں ہیں۔ میں یہاں ہوں یارسول اللہﷺ!۔ اور میری آنکھ کھل جاتی ہے۔
کتاب کے حصول کے لئے پبلشر کے وٹس ایپ نمبر پہ رابطہ کیجئے Whatsapp: 0342 5548690
ان واقعات پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ’’یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے۔‘‘ ان پیغامات کے بعد یکایک ثمینہ تبسم کو علم ہوتا ہے کہ سعودی حکومت نے اڑتالیس سال سے زائد عمرکی خواتین کے لیے محرم کی شرط ختم کردی ہے اور پھر رمضان کے آخری عشرے میں کس طرح انہیں عمرے کا ویزہ مل جاتا ہے۔ یہ بھی ایک روح پرور کہانی ہے۔ ’’اللہ سوہنے میں حاضرہوں‘‘سفر عمرہ کرنے والوں کے لیے بہترین ہدایت نامہ بھی ہے۔ خواتین کے لیے عمرے کے احکام کیا ہیں اور انہیں کیا سامان اپنے ساتھ رکھنا چاہیے۔ اس کی باقاعدہ فہرست ثمینہ نے دی ہے۔ جوعمرہ کرنے والی خواتین کے لیے بے حد مفید ہے۔
ثمینہ تبسم نے اپنی ذاتی زندگی کاخلاصہ ایک پیراگراف میں کس عمدگی سے کیاہے۔
’’مردوں کے حوالے سے میری توقعات کبھی پوری نہیں ہوئیں۔ وہ اپنی خودساختہ خدائی شان کے تکبر میں خوامخواہ مجھ پہ رعب جمانا چاہتے ہیں اور میں برداشت نہیں کر سکتی۔ لہٰذا میرا باپ ہو، بھائی ہو یا شوہر، ان کی طرف سے میرے ایڈونچرز پہ مجھے کبھی کوئی سپورٹ نہیں ملی۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میرے مشکل وقت میں وہ میرے ساتھ کھڑے ہوں۔ بلکہ ایسے وقت میں انھوں نے غیروں سے زیادہ کچوکے لگائے کہ دیکھا تم نے ہماری بات نہیں مانی تو اب بھگتو۔ اپنے آپ کو اپنوں کے سوالوں کی سولی سے بچا کرمیں خود اپنی ہمت سے اپنے پیروں پہ کھڑی ہوئی۔ خود کو مضبوط سے مضبوط کرتی چلی گئی۔ ہر ہر امتحان کا سامنا خود کیا۔ زندگی کے میدانوں میں درپیش ساری جنگیں خود لڑیں اور عزت سے فتح کے جھنڈے گاڑے۔ پھر یہ ہوا کہ خاندان کے مردوں نے میرا تذکرہ کرنا ہی بند کر دیا کہ میرے حوالے سے سوالوں کے جواب دینا ان کی انا کو مجروح کرتا تھا۔‘‘
ان تمام تفصیلات سے یہ واضح ہوتاہے کہ جس کام میں مذہبی طور پر بھی عورتیں مردوں کی محتاج ہوتی ہیں۔ اس میں بھی ثمینہ تبسم کو اکیلی کرنے کی گنجائش مل گئی۔ پھرخاندان کے مردوں کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی کہ اڑتالیس سال سے زائد کی عورت کا تنہاعمرہ جائز ہے یا نہیں۔ البتہ بہنیں بہت خوش ہوئیں۔
’’اللہ سوہنے میں حاضرہوں‘‘ کی مصنفہ مختلف امور پر اپنے مشاہدات پیش کرتی ہیں۔
’’میرے لیے عمرہ کرنا اہم تھاعمرے کی شرائط میں پورے جسم کو ڈھانپنا بھی شامل تھا۔ یہ حکم مردوعورت دونوں کے لیے ہے۔ جو بات یادرکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ ’عبایا‘ اسلام کا حکم نہیں بلکہ یہ سعودی کلچر کا حصہ ہے۔ سعودی عرب کی اکثر عورتیں محرم اور عبائے کے بغیرگھر سے نکلنے کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خود خانہ کعبہ کے اندر آپ دنیا بھر سے آئی ہوئی مسلم امہ کے مختلف قسم کے عبائے، چادریں، برقعے، حجاب اور دوپٹے دیکھ کرحیران رہ جاتے ہیں۔ اس وقت اندازہ ہوتاہے کہ یہ لفظ پردہ اپنے اندر کتنی ورائٹی رکھتا ہے۔ پاکستان کے مختلف صوبوں، حصوں اوران میں آباد برادریوں اور خاندانوں میں مختلف قسم کا پردہ سسٹم رائج ہے۔ سب اپنے اپنے طریقے کو درست سمجھتے ہیں۔ میرے نزدیک اس میں کوئی حرج بھی نہیں۔ ہر مہذب معاشرہ برہنگی کو برا سمجھتا ہے اور ہر معاشرے میں مذہبی مقامات پر خصوصی ڈریس کوڈ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کا احترام کرنا بہرحال سب پہ فرض ہے۔ مسلمانوں کے لیے حجاز مقدس اس کائنات کی مقدس ترین جگہ ہے۔ اس کے آداب کے خصوصی تقاضے ہیں جن پر کوئی سوا ل کرنا مناسب نہیں۔‘‘
ثمینہ تبسم کے جذب شوق کاعالم ملاحظہ کریں۔
’’ احرام باندھے مردوں نے ایک ردھم کے ساتھ’لبیک اللھم لبیک‘ کا ورد شروع کیا تو دل مارے وارفتگی ہاتھوں سے نکلا جاتا تھا۔ وفور شوق سے میرا بلڈ پریشر بہت ہائی ہوگیا۔ جسم پہ ایک شدیدکپکپی طاری تھی۔ اپنے اللہ سوہنے کے آنگن میں اترنے کا جذبہ ایک طرف اوراس کے گھر میں اس کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات دوسری طرف۔ لہٰذا میں خود کو سنبھال نہیں سکتی تھی۔ آنسو خودبخود رواں تھے اور میں اپنے رب کے قریب ہوتی جا رہی تھی۔ حج اور عمرہ کیونکہ توحید کی نشانی ہیں تو جونہی انسان احرام باندھتا ہے، تلبیہ کی صورت نعرہ تکبیر بلند کرنے لگتا ہے۔ لبیک لبیک۔۔ میں حاضرہوں۔ اے اللہ میں حاضر ہوں۔ اے میرے سوہنے اللہ میں حاضر ہوں۔۔ تیرا شکر احسان کہ تو نے مجھے یہاں آنے کی عزت دی۔ دنیاکے کروڑوں مسلمانوں میں سے مجھے اس قابل سمجھاکہ تیرے در پہ آکے تیری مہمان بنوں۔ تیرے سامنے بیٹھ کر تجھے سجدہ کروں۔ تیرے حکم کے مطابق بی بی حاجرہ کی سنت نبھاتے ہوئے طواف و سعی کروں۔ نفل پڑھوں اور نصیب ہونے والے ہرہرلمحے پہ اپناآپ نچھاور کردوں۔ اس عالم میں موت بھی آجائے تو کوئی غم نہیں کہ میں نے اپنے جسم وجاں کی پوری سچائی کے ساتھ پورے ایمان سے لبیک کہا ہے۔‘‘
سبحان اللہ کیاحسن بیان ہے۔ پڑھنے والا خود کوہر آن ان روح پرورلمحات میں مصنفہ کے ساتھ ساتھ محسوس کرتاہے۔ اللہ کے بارے میں ثمینہ کے ان تاثرات میں ممتاز مفتی کا پرتونظر آتاہے۔
’’ میرے ہوش سنبھالتے ہی میرے آس پاس کے لوگوں نے مجھے اللہ سے اتنا ڈرایا کہ بہت عرصے تک اللہ کانام آتے ہی یاکسی کو اللہ کی قسم کھاتے سن کرمیرے رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے! مجھے اللہ سے اتنا ڈرایا گیا تھا کہ میں اس سے چھپ چھپ کر رہتی تھی کہ کہیں وہ مجھے دیکھ نہ لے۔ اگراس نے مجھے دیکھ لیا تو سخت ناراض ہوگا۔ کوڑے مارے گا۔ فوراً آگ میں پھینک دے گا۔ جہنم میں جلا دے گا۔ عورتوں کے لیے تو وہ بہت ہی زیادہ غصیلا تھا۔ بہشتی زیور کا خدا تو اتنا ڈرا دینے والا تھا کہ عورتوں کے سانس لینے، ہنسنے، مسکرانے، کھانے پینے، اوڑھنے پہننے پہ نظر رکھتا تھا۔ جہاں کوئی عورت خوش نظر آئی۔ ذرا سا ہنسی، اور اس نے سزا سنائی۔ کوئی عورت کسی مرد کے پیچھے چھپے بغیر اس سے بخشش کی امید نہیں کرسکتی تھی۔ اب مرد چاہے کتناہی کوجا، بدکردار، بدمزاج اور نکما ہو وہ عورت سے برتر تھا کیونکہ وہ مرد تھا۔ پہلی بار بہشتی زیور پڑھ کر میں اتنی خوفزدہ ہوئی کہ کئی دن تک نمازکے لیے جانماز بچھاتے ہوئے میری ٹانگیں کانپنے لگتی تھیں۔ میں اپنے آپ کو جھڑکتی تھی کہ ایسے اللہ کو پکارے گی تو وہ تجھے سزادے گا، سزاکے خوف سے میں نے اس کتاب میں موجود خدا کو اپنا خدا ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ میرے نزدیک بہشتی زیور کا خدا عورتوں سے نفرت کرنے والے کسی سخت دل مولوی کا بیان کردہ صرف اور صرف مرد کا خدا تھا۔ میرا سوہنا اللہ تو ہمیں یہ حسین و جمیل کائنات بنا کر دینے کے بعدہم سے ہماری رائے پوچھتا تھا کہ کیا تم ان تمام نعمتوں کو جھٹلا سکتے ہو؟ وہ ہمیں مجبور نہیں کرتا تھا کہ اس کی بندگی کریں۔ اس کی حمدوثنا کریں۔ اسے سجدے کریں۔ بلکہ وہ انواع و اقسام کی مخلوقات دکھا کر ہمیں سوچنے پہ مائل کرتا تھاکہ کیا کوئی اس سے بہتر کائنات بناسکتا ہے؟ کیا یہ زمین، آسمان، موسم، پھل پھول، جنگل، حیوان، پانی، مٹی، ہوا، پہاڑ، دریا، ندی، نالے اور سمندر بنانے کی اہلیت رکھنے والا کوئی اور ہے؟ کیا انسانی جسم جیسی حیرت انگیز مشین کے ایک بال بنانے جیسی طاقت اس دنیا کی کسی بڑی سے بڑی طاقت کے پاس موجود ہے؟ کیا اس کی مرضی کے بغیر پانی کے ایک قطرے سے انسان جیسا عظیم الشان شہکار تخلیق کیا جاسکتا ہے؟یہ سب عطا کر کے پروردگار کیا ہمیں تڑیاں لگاتا ہے کہ مجھے اپنا پرور دگار مان اور بس سجدے میں گر جاؤ۔ ورنہ میں تمہیں جہنم میں پھینک دوں گا! بلکہ وہ سورہ رحمان بھیج کر ہم سے سوال کرتاہے! سورہ فاتحہ اتار کر ہمیں سیدھے راستے پر چلنے والوں کی پیروی کرنے پر مائل کرتاہے! اور سورہ اخلاص کے ذریعے وحدت کا اعلان کرتا ہے!‘‘
یہ تحریر قاری کوسوچنے پرمجبور کرتی ہے اور سچ تویہ ہے کہ اس کی روشنی میں جتنا آپ دنیا کو دیکھتے اور سوچتے ہیں اتناہی اس کے عشق میں گرفتار ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی اس تحریر کا کمال ہے۔ پہلے عمرہ پر ثمینہ تبسم کی کیا کیفیت تھی۔
’’عین دروازے کے سامنے، اللہ سوہنے ک گھر کی چوکھٹ کو اپنی پلکوں سے چومتے ہوئے میں نے کئی باراپنی آنکھیں کھولیں بند کیں۔ جو کچھ بھی تھا، وہ آج تک کی کتابوں میں پڑھے ہوئے حالات و تفصیلات سے بہت مختلف تھا! زندگی میں بالکل پہلی بار میں نے اللہ سوہنے، اسلام، پیارے رسولﷺ، قرآن اور مسلم امہ کی طاقت کا حقیقی مظاہرہ دیکھا! میں وہاں دنگ کھڑی یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ دنیا بھر میں پھیلے ان لاکھوں مسلمانوں کے ساتھ اللہ سوہنے نے مجھے بھی آواز دی تھی اور باقی سب کی طرح میں بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ ننگے پاؤں اس کے سامنے یوں کھڑی تھی جیسے اس نے ساری کائنات میری مٹھی میں تھما دی ہو۔ میرا دل ایسی وارفتگی سے ناچ رہا تھا کہ جیسے سورہ رحمان کی تلاوت شروع ہوتے ہی کائنات کا ذرہ ذرہ وجد میں آجاتا ہے! بھلا مجھ جیسی عاجز و حقیر و پرتقصیر بندی اور یہ عنایت کہ کعبہ کے صحن میں کھڑی اپنے اللہ سوہنے کی چوکھٹ کو یوں ٹک ٹک دیکھتی تھی!‘‘
لفظ لفظ کے ساتھ قاری خودوجد میں آجاتاہے۔ مکہ میں عصرکی نمازکے لیے صف آراہونے پرپہلی بارثمینہ تبسم کومکہ کی دوپہرکی چلچلاتی ہوئی دھوپ اورگرمی کا اندازہ ہوا۔
’’ اب سمجھ آئی کہ تقریباً ہر مرد عورت کے ہاتھ میں کارڈ بورڈ کی بڑی بڑی شیٹیں اصل میں جائے نماز تھی۔ لوگ خاموشی سے اپنے اپنے کارڈ بورڈ تپتی ہوئی زمین پہ بچھاتے اور ان پر کھڑے ہوتے جا رہے تھے۔ کوئی کسی کو کچھ نہیں بتا رہا تھا کہ وہ کیا کر ے، کہاں کھڑا ہو۔ یا کیسے ہاتھ باندھے۔ کسی کو کوئی غرض نہیں تھی کہ کس نے کیسا حجاب پہنا ہے۔ شلوار یا پینٹ ٹخنوں سے کتنی اونچی ہے۔ ٹوپی یا پگڑی کس رنگ یا ڈیزائن کی ہے۔ کوئی کیسے کھڑا ہے۔ جس کا جو طریقہ تھا اس کے عین مطابق سب اللہ سوہنے کے سامنے سجدہ ریز ہونے کو تیار تھے۔ اس وقت وہاں کوئی سنی، شیعہ، وہابی نہیں تھا۔ سب صرف مسلمان تھے اور ایک امت ہونے کااعلیٰ نمونہ پیش کر رہے تھے۔ بخدا اس دن پہلی بار مجھے امت مسلمہ کا مطلب اور طاقت کا اندازہ ہوا۔ وہاں موجود ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا مکمل احترام کر رہا تھا۔ کیا مجال ہے کہ کسی کے ماتھے پر کوئی بل ہو، یا کوئی کسی بداخلاقی کا مظاہرہ کرے۔‘‘
لیلتہ القدرکی رات ثمینہ تبسم اپنے شہید بھائی ٹیپو کے لیے عمرہ کرنا چاہتی تھیں، لیکن بے پناہ رش کے سبب انتظامیہ نے لوگوں کو واپس بھیجنا شروع کردیا۔ دنیا کہتی ہے کہ اس رات حرم شریف میں اتنا رش تھا کہ جتنا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ لیکن ہر اٹھتے قدم کے ساتھ انہیں ایسا لگ رہا تھا کہ لوگ دور نکلتے جارہے ہیں۔ جیسے ہر قدم کے ساتھ وہ اپنے اللہ سوہنے کے قریب ہوتی جارہی ہیں۔ جیسے اس انتہائی وسیع وعریض صحن میں وہ اپنے اللہ سوہنے کے سامنے بالکل اکیلی ہوں نہ گرمی۔ نہ تھکن۔ نہ نیند۔ نہ بھوک۔ سب سے بے نیاز۔
ثمینہ تبسم اس مبارک رات میں ہر صورت شہید بھائی کے نام کاعمرہ کرنا چاہتی تھیں۔ پھر ان کے ساتھ ایک معجزہ ہوا۔ وہ نہ صرف عمرہ کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ بلکہ ان کے ساتھ ایسا واقعہ آیا۔ جس کی توجیح ممکن نہیں۔ اس معجزے کے بارے میں طویل اقتباس پیش کرنا ضروری ہے۔
’’اس وقت مجھ پہ ایک مدہوشی، اک بے خودی، ایک جنون سوار تھا۔ جیسے میری روح رقص میں تھی! ساتواں چکر مکمل کرنے کے بعدمیں نے دھیان سے دیکھا تو میں خانہ کعبہ سے صرف دو لائنوں کی دوری پہ تھی۔ وہا ں اتنی دھکم پیل تھی کہ بیان سے باہر ہے۔ لاکھوں لوگوں کی دعاؤں کی دھمک سے پیدا ہونے والا طاقت کا مرکز و سرچشمہ عین یہی مقام تھا جہاں تک میں عالم وارفتگی میں پہنچ چکی تھی۔ میرے مالک۔ میرے محبوب۔ میرے ماہی کا صحن تھا۔ اس نے آواز دے کر مجھے بلایا تھا تو اب کس کی جرات تھی کہ مجھے اس چوکھٹ سے لگ کر حق عشق ادا کرنے سے روک سکتا! میں نے اللہ سوہنے کو مدد کے لیے پکارا اور ایک زوردار دھکے کے ساتھ اچھل کر غلاف کعبہ سے جا لگی! کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے میں نے اپنی دونوں ہتھیلیاں پوری طرح غلاف کعبہ پہ رکھیں۔ ماتھا، ہونٹ، سینہ، باری باری دونوں گال غلاف کعبہ سے لگا کر اس کی خوشبو اور تقدس کو اپنی روح تک محسوس کیا! اس کے بعد میری جو ہچکیاں بندھی ہیں، میں بیان نہیں کرسکتی۔ صرف غلاف کعبہ کو چومتی جاتی تھی۔ تیسرا کلمہ میرے دل کی گہرائیوں سے نکلتا آنسوؤں کی جھڑی کی صورت میرے جسم و جاں کے اندر باہر کی تمام کثافتوں کو دور کرتا چلا گیا۔ یہی شکرانہ تھا جو ادا کرتی ہوئی بکھرتی جارہی تھی کہ اس کیفیت سے کبھی نہ نکلوں۔ مگر اللہ سوہنے کے ساتھ میرے تخلیئے کو ایک آواز نے توڑ دیا۔ ارتکاز ٹوٹنے پر اب مجھے اپنے پیچھے کھڑے ہزاروں لوگوں کی چیخ و پکار بھی سنائی دی۔ وہ مجھے ہٹنے کو کہہ رہے تھے تاکہ کسی اور کو بھی موقع مل سکتا۔ مگر میں نے ان تمام آوازوں کو نظرانداز کرکے دوبارہ اسی کیفیت میں جانے کی کوشش کی۔ مگر ایک آواز نے مجھے چونکا دیا! ’’پہنچ گئیں ایں؟‘‘ میں سمجھی میرے کان بج رہے ہیں۔ سخت ناگواری سے میں نے اس آواز کو ان سنا کرنا چاہا۔ اس آواز نے پھر کہا، ’’توں پہنچ ای جانا سی جھلئے!‘‘ اب میں نے بری طرح ڈسٹرب ہو کر اپنے غلاف کعبہ پہ رکھے سر کو بائیں طرف موڑ کر آنکھیں کھولیں تو ایک مرد کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے تھا۔ ناقابل یقین! صرف ایک لمحے میں وہ چہرہ جیسے میرے ذہن کی اسکرین پر اتر آیا۔ چھوٹی چھوٹی داڑھی مونچھوں سے سجا عام سا سانولا صوفی نماچہرہ۔ عمرے بعد منڈائے گئے سر پہ چھوٹے چھوٹے بال اور سفید ٹوپی۔ کریم کلر قمیض اور بغیر بازؤں کا سویٹر۔ سب سے بڑھ کا آنکھوں کی چمک اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ یہاں تک کہ اس کے چمکیلے دانت تک مجھے یاد ہیں۔ وہ وہاں انتہائی سکون سے کھڑا تھا۔ یوں جیسے ساری دنیا فتح کر چکا ہو۔ جیسے اللہ سوہنے کا بہت خاص مہمان ہو۔ جیسے وہ وہاں اکثر آتا جاتا ہو کہ اسے میری طرف سے کوئی خوف نہیں تھا کہ وہ سب جلدی جلدی کہہ سن لے جو میں اللہ سے کہنا چاہتی تھی کہ پتہ نہیں زندگی میں یہ موقع پھر ملے نہ ملے۔ وہ ہر جلدی، ہر خوف سے بے فکر مسکرا رہا تھا۔ ’’یہاں تصویر نہیں کھنچوائے گی؟‘‘ اب وہ ہنسا۔ میرا دھیان پھر ٹوٹ گیا۔ ’’ویسے تو جہاں جاتی ہے سیلفیاں لیتی ہے۔ اصل جگہ تے اے ای وے سلفی لین دی!‘‘ وہ ہنسا۔ میں نے حیران ہوکر سوچا۔ اسے کیسے پتہ ہے کہ میں سفر پہ جاتی ہوں اور تصویریں بھی لیتی ہوں؟ مجھے ایک دھچکا سا لگا۔ اس نے ایک حیرت انگیز بات کی۔ ’’اپنا فون دے تیری تصویر لوں!‘‘ ہیں؟ کیا؟ میں بری طرح ڈسٹرب ہوگئی۔ ’’ہاں ہاں۔ بیگ سے کیمرہ نکال۔ میں تیری تصویر یں لوں۔ تو بھی کیا یاد کرے گی!‘‘ میں اتنی عاجز تھی کہ اس سے جان چھڑانے کے لیے میں نے اپنے بیگ سے فون نکالا۔ بیگ میرے دائیں طرف، میرے دوپٹے کے نیچے تھا اور اتنے رش میں کسی بائیں طرف کھڑے بندے کااسے دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ فون اسے پکڑا کر میں نے اپنا سر پھر اسی طرح دیوار کعبہ پہ رکھا کہ چند لمحے اور اللہ سوہنے سے دل لگالوں۔ کہ وہ پھر بولا۔ ’’چہرے سے دوپٹہ ہٹا۔ یہاں اللہ سوہنے کے گھر آکر کس سے پردہ کررہی ہے؟‘‘ اسی بے خودی میں میں نے آنکھیں کھولے بغیراپنی بائیں گال سے اپنا دوپٹہ ہٹا دیا۔ چند سیکنڈ بعد اس کی آواز آئی۔ ’’یہ لے اپنا فون۔ دھیان سے بیگ میں رکھ لے۔ پھرنہ کہنا کہ اللہ کے گھر میں کوئی میرا فون ٹھگ کرلے گیا۔ ‘‘ اس کے ہنسنے کی آواز آئی۔ عین اسی وقت مجھے زور دار دھکا لگا اور میں دیوار کعبہ سے کئی فٹ دور لوگوں کے ایک بپھرے ہوئے گروپ میں پھنس گئی۔‘‘
ثمینہ تبسم اس بھگڈر سے سلامت نکل آئیں۔ آب زم زم کے چند گھونٹ بھرے۔ انتہائی شکر احسان مندی سے خانہ کعبہ کودیکھا۔ عین اسی وقت تہجد کی اذان شروع ہوگئی۔ فجر کی نمازسے پہلے سحری کی رونقیں شروع ہوگئیں۔ ثمینہ کو جہاں جگہ ملی صبروشکرسے سحری کھائی۔ واپسی میں وہ راستہ بھی بھول گئیں۔ پیر سوج گئے تھے۔ وہ جیسے تیسے واپس ہوٹل پہنچیں۔ ان کی تینوں ساتھی خواتین بے خبر سو رہی تھیں۔ وہ خود کئی گھنٹے بے ہوشی کی نیند سوتی رہیں۔ اٹھیں تواچانک انھیں غلاف کعبہ کے ساتھ تصویروں کا خیال آیا۔ پہلے لگا کہ یہ تصویروں کی بات ان کا خواب ہو گا۔ پھر فون کادھیان آیا، جو بیگ میں موجود تھا۔ اسے دیکھ کر وہی ہنستی ہوئی آواز سنائی دی۔ ’’فون بیگ وچ رکھ لے۔ فیر نہ کہویں میں فون واپس نہیں کیتا!‘‘
ثمینہ تبسم کے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ انھوں نے سوچا۔ اگر وہ خواب نہیں تھا تو وہ تصویریں فون میں ہونی چاہئیں۔ بڑی بیتابی سے انھوں نے فون میں گیلری کھولی اور دھک سے رہ گئیں۔ ’’ ایک دو نہیں غلاف کعبہ کے ساتھ میری آٹھ تصویریں موجود تھیں۔ میری بے خودی، بے خبری، الجھن، آنسو، سب ان تصویروں میں موجودتھے۔ غلاف کعبہ پہ رکھے میرے ہاتھ اوردوسرے بے شمارہاتھ موجود تھے۔ غلاف کعبہ سے پورے وجود کے ساتھ لپٹی کھڑی میری والہانگی بھی موجودتھی! ایک تصویرمیں چہرہ ڈوپٹے سے ڈھکا ہوا تھا! دوسرے میں گردن بائیں طرف موڑ کر چہرے سے دوپٹہ ہٹا کر تصویر تھی جس میں میری ناگواری بھی نظرآرہی تھی۔ تووہ سب سچ تھا! یہ ایک ناقابل یقین بات تھی! اس صوفی کابڑی محبت سے کہنا ’’جھلیئے پہنچ گئیں ایں؟ توں ایتھے پہنچ ای جاناسی!‘‘ ایک کے بعد ایک ساری باتیں میرے کانوں میں گونجنے لگیں۔ اسے کیسے پتا تھا کہ لاکھوں کے اس ہجوم میں میں ایک پنجابی عورت وہاں موجود ہوں؟ جو پہلی بارآئی ہے؟ جو سفر کرتی ہے اور جگہ جگہ تصویریں لیتی ہے؟ یااللہ یہ کیسی معجزانہ بات ہے؟ یہ تصویریں کس نے کھینچی؟ کیسے کھینچی؟ انھی میں سے ایک تصویر ’’اللہ سوہنے میں حاضرہوں ‘‘ کے سرورق پر موجود ہے۔
اس روح پرور اور معجزانہ واقعے کے تفصیلی ذکر کے بعد کتاب کے بارے میں مزید کچھ بتانے کی گنجائش نہیں ہے۔ ہرقاری کو ’’اللہ سوہنے میں حاضرہوں‘‘ ضرور پڑھنا چاہئے۔ زبان و بیان کی سادگی، مصنفہ کا جوش و جذبہ اور انتہائی دلچسپ واقعات اور روحانی کیفیات شروع کرنے کے بعد کتاب کو ایک ہی نشست میں پڑھنے پر مجبور کر دے گی۔ کتاب کے مطالعے کے بعد ثمینہ تبسم کی دیگر کتب کی جستجو ہوتی ہے۔ عمدہ تحریر پر مصنفہ کو مبارک باد۔ شاہداعوان اور ایمل مطبوعات نے کتاب کو بہترین گٹ اپ میں شائع کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میرے بچپن کا رمضان —— غزالہ خالد
