تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علم و ادبکتابوں پر تبصرے

پیچ و تاب زندگی، بریگیڈیئر صولت رضا کا حیات نامہ

تبصرہ و تعارف: نعیم الرحمٰن

by دانش ڈیسک 26/08/2023
written by دانش ڈیسک 26/08/2023
388

بریگیڈیئر(ر) صولت رضا کافی کوتاہ قلم ہیں۔ انہوں نے کاکول کی فوجی اکیڈمی میں لیفٹینی کی تربیت کے بارے میں اپنی پہلی کتاب ’’کاکولیات‘‘سے اپنے قلم اور شگفتہ اسلوب کی دھاک بٹھا دی تھی۔ فوجی مزاحیہ ادب میں یہ کتاب ایک خوب صورت اضافہ ثابت ہوئی۔ لیکن کاکولیات میں وعدہ اور کتاب کے تیس سے زائد ایڈیشنز کی اشاعت کے باوجود صولت رضا کی خودنوشت کا دوسرا حصہ ’’پیچ وتاب زندگی ‘‘شائع ہونے میں نصف صدی بیت گئی۔ کاکولیات اور پیچ و تاب زندگی دونوں عام خود نوشتوں کے مقابلے میں مختصر لیکن پراثر ہیں۔ اس دوران انہوں نے کالم نگاری کی اور ان کے پچاس منتخب کالم ’’غیر فوجی کالم‘‘ کے عنوان سے اشاعت پذیر ہوئے۔

بریگیڈیئرصاحب کی تین کتب کی طویل مدت میں اشاعت سے یہ بات تو ثابت ہوگئی کہ وہ زود نویس نہیں ہیں۔ لیکن ان کی تحریر برمحل، بامقصد، پراثر اور شگفتگی کے معیار پر ضرور پوری اترتی ہے۔ کاکولیات کے ذریعے بریگیڈیئر صولت رضا نے پاک فوج سے تعلق رکھنے والے مزاح نگاروں میں جگہ بنالی۔ بریگیڈیئر صدیق سالک نے کس شاندارانداز میں انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ ’’

صولت رضا کی فوجی زندگی کا بیشتر حصہ پہاڑوں پر گزرا ہے۔ اس کا پہلا پڑاؤ کاکول تھا جس کی روداد ’’کاکولیات‘‘ ہے۔ اس کی دوسری اڑان بلوچستان کی طرف تھی جس کی آنچ کسی اور رنگ میں ظاہر ہوگی۔ کاکول ایک کٹھالی ہے جہاں کچے لوہے کو پگھلا کر ملک کے دفاعی حصار کے قابل اعتماد ستون تیار کیے جاتے ہیں۔ اس کٹھالی نے سارا کھوٹ نکال کر ایک ننھا منا لیفٹین تراش دیا جو بالکل خالص ہے۔ اگر کاکول کی سنگلاخ زمین پر پاؤں مار مار کرصولت کا قد گھس گیا ہے تو اسے فکر نہیں ہونی چاہیے کیونکہ ’’کاکولیات‘‘ نے اس کا ادبی قد اونچا کر کے اس کی تلافی کردی ہے۔ ‘‘. Hayley onlyfans leak

صولت رضاکی کتاب ’’غیر فوجی کالم‘‘ کے بارے میں معروف صحافی سرور منیر راؤ کہتے ہیں۔ ’’اس کتاب میں موجود پچاس کالم پاکستان کی سیاسی، عسکری اور عدالتی تاریخ کی ایک ایسی پتھالوجی رپور ٹ اور ایکسرے ہے کہ قاری انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ یہ کتاب ایک مستند ریفرنس بک کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فوجی افسر نے غیر فوجی کالم لکھ کربڑے بڑے جغادری لکھاریوں کو ساحر لدھیانوی کی زبان میں ’محبت کا اڑایا ہے مذاق‘ یا ہم ’صحافیوں‘ کومحبت کی نشانی دی ہے۔ ‘‘

ایک طویل مدت بعد بریگیڈیئر صولت رضاکی نامکمل خودنوشت ’’پیچ وتاب زندگی‘‘ کی اشاعت مجیب الرحمٰن قومی ڈائجسٹ کی مرہون منت ہے۔ جس کے جنوری 2021ء کے شمارے میں ان کا طویل انٹرویو شائع ہوا۔ راولپنڈی میں مقیم صولت رضاسے لاہور سے عبدالستار اعوان نے سوال و جواب کیے۔ انٹرویو کی اشاعت کے بعد احباب نے اسے کتابی صورت میں شائع کرنے پراصرار کیا۔ ابھی اس پر غور جاری تھا کہ کرونا نے گھر لیا۔ ان کی اہلیہ طویل عرصہ تک ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں زیر علاج رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نئی زندگی عطا کی اور دونوں کے کرونا ٹیسٹ منفی آگئے۔ جس کے بعد صولت رضا روزمرہ امورکی انجام دہی کرنے لگے۔ ان کی اہم ترجیج خودنوشت کو پبلشر قلم فاؤنڈیشن کے روح رواں علامہ عبدالستارعاصم کے سپرد کرنا تھا۔ مصنف کا کہنا ہے۔ ’’کاکولیات‘‘ اور’’غیرفوجی کالم‘‘ کے بعد یہ کتاب میری تیسری قلمی کاوش ہے۔ سچی بات ہے کہ انٹرویو پرمبنی اس کتاب میں مذکور چند واقعات اور کچھ شخصیات کو ’بے نقاب‘ کرنے سے حتی الوسع گریز کیا گیا ہے۔ میرے نزدیک اس کتاب کا ہر باب ایک الگ کتاب کا تقاضا کرتا ہے۔ اللہ کریم نے مہلت دی توچندابواب کو’ایکسٹینشن دینے کی کوشش کروں گا۔ فی الحال آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے بانی چیئرمین ماس کمیونی کیشن ڈیپارٹمنٹ نیشنل یونیورسٹی آف مارڈرن لینگویجز نمل اسلام آباد کی حیثیت سے اور بعدازاں چیف آپریٹنگ آفیسر سچ ٹی وی کے طور پر بیتے ایام کو بقلم خود سمیٹ رہاہوں تاکہ زندگی کے ملازمانہ ادوار کا تذکرہ مکمل ہوسکے۔ ‘‘

معروف صحافی اور دانشورمجیب الرحمٰن شامی نے کتاب اور صاحب کتاب کا تعارف ’’پوری قوم کی کہانی‘‘ کے عنوان سے کرایا ہے۔ ’’بریگیڈیئرصولت رضا صحافت میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے اورکچھ عرصہ میدان صحافت میں جوہر دکھانے کے بعد فوج کی محبت میں ایسے مبتلا ہوئے کہ کمیشن حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا اور وہ کاکول جا پہنچے۔ ان کا دماغ تو صحافت میں اٹکا رہا لیکن دل فوج کی نذر ہوگیا۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ بننے کے بعد آئی ایس پی آر نے انہیں اپنی طرف متوجہ کرلیا اور وہ وہاں رونق افروز ہوگئے۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ صحافت اور اہل صحافت سے رابطہ بحال ہوگیا۔ پاک فوج کا کوئی اور افسر یا میدان صحافت کا کوئی اور مجاہد دونوں شعبوں سے اس طرح تعلق کا اعزاز حاصل نہیں کرسکا۔ آئی ایس پی آر میں انہیں جنرل ٹکاخان سے لے کرجنرل پرویزمشرف تک تمام فوجی سربراہوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف نے توحکومت بھی سنبھال لی تھی، یوں معاملات کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں انہوں نے ریٹائرمنٹ لے لی کہ ان کے ایک ہم سبق میجرجنرل بن کرآئی ایس پی آرکے سربراہ مقرر ہوگئے۔ بعد میں نمل یونیورسٹی میں شعبہ صحافت کی بنیاد رکھی، یہاں سے رخصت ہوئے تو ایک نجی ٹی وی چینل کے افسراعلیٰ مقرر ہوگئے۔ صحافی کے طور پرعملی زندگی کا آغاز کیا تھا اور صحافت ہی کے کوچے میں آخری پڑاؤ ڈالا۔ پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا۔ فوج سے ان کو ریٹائرمنٹ مل گئی لیکن قلم سے تعلق برقرار ہے۔ دنیائے اد ب وصحافت کے وہ فیلڈ مارشل ہیں۔ ‘‘

’’کاکولیات‘‘ کے برخلاف ’’پیچ و تاب زندگی‘‘ میں صولت رضا کا شگفتہ انداز نظرنہیں آتا۔ اس کی ایک وجہ تویہ ہے کہ یہ کتاب ایک انٹرویو کو تحریری شکل دی گئی۔ اس لیے مصنف کا روایتی انداز برقرار نہیں رہ سکا۔ دوسرے یہ ان کی عام زندگی کا قصہ ہے، جو سنجیدگی کا متقاضی تھا۔ بہر حال کتاب انتہائی دلچسپ حقائق پر مبنی ہے۔ ایک سو چوالیس صفحات پرمبنی کتاب کو آٹھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جن کے عنوانات سے موضوع کاعلم ہوجاتا ہے۔ پہلا باب ’’رضی کے ابا‘‘ اور دوسرا ’’شعبہ صحافت پنجاب یونیورسٹی‘‘ ہے۔ جس کے بعد اگلے چند ابواب ’’لیفٹینیات‘‘، ’’کپتانیات‘‘، ’’میجریات‘‘، ’’کرنیلیات‘‘ اور’’معرکہ کارگل‘‘ صولت رضا کی فوجی زندگی ہی سے متعلق ہیں۔ جبکہ آخری باب ’’الوداع ہلال روڈ‘‘کتاب ک اذیلی عنوان بھی ’’لائنز ایریا سے ہلال روڈ تک‘‘ کو واضح کرتا ہے۔

صولت رضاکی پیدائش پشاور کی ہے جہاں ان کے والد سید رفاقت حسین سرکاری ملازمت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ لیکن ابتدائی یادیں مشرقی پاکستان کے شہر کومیلا کی ہیں۔ ان کے والد جو ملٹری انجینئرنگ سروسزمیں ملازم تھے۔ پشاور سے ان کا تبادلہ کومیلا چھاؤنی ہوگیا۔ صولت رضا کا گھریلو نام رضی تھا اور ہماری معاشرتی روایات کے مطابق ان کی والدہ شوہرکو’رضی کے ابا‘ کہہ کر بلاتی تھیں۔ دو سال بعد رضی کے ابا کی پوسٹنگ کراچی ہوگئی، جہاں رہائش کے لیے سرکاری کوارٹر ٹیونیشیا لائنز میں الاٹ ہوا۔ اس کے قریب ہی جٹ لائنز اور جیکب لائنز واقع ہیں۔ جیکب لائنز میں مصنف کے نانا سیدرفیق احمد قیام پذیر تھے۔ ڈی بی ہائی اسکول لائنز ایریا میں صولت رضا نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ نویں کے امتحان سے قبل انہیں ٹائیفائیڈ ہوگیا اوراسی حالت میں امتحان کا نتیجہ واضح تھا۔ اس دوران رضی کے ابا کا تبادلہ لاہور ہوگیا۔ ماڈل ٹاؤن ہائی اسکول میں دسویں جماعت میں داخل کیے گئے۔ اسکول میں دہم اور گھر پر نہم کی تیاری کرکے میٹرک پاس کیا۔

’’پیچ و تاب زندگی‘‘ بھی بریگیڈیئر صولت رضاکی عسکری زندگی سے ہی متعلق ہے۔ جبکہ پرائیویٹ یونیورسٹی اور ٹی وی چینل کی یادوں کو انہوں نے آئندہ کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ’’کاکولیات‘‘ سے’’پیچ و تاب زندگی‘‘ تک پہنچنے میں سینتالیس برس لگ گئے، تو کیااگلی کتاب کے لیے بھی عمرخضر درکار ہوگی۔ صحافت میں ماسٹرزکی ڈگری کے لیے صولت رضانے پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لیا توان کے اساتذہ میں ڈاکٹرعبدالسلام خورشید پروفیسر مسکین حجازی، پروفیسر وارث میر اور پروفیسر مہدی حسن جیسے بابغے شامل تھے۔ شعبہ صحافت سے جان پہچان کے دورمیں پروفیسر مسکین حجازی، انہیں اور ہم جماعت اجمل ملک کو نوائے وقت لے گئے اور سینئر نیوز ایڈیٹر سید ظہورعالم شہید کے سپرد کر دیا۔ ان کی ڈیوٹی شام چھ بجے سے رات دو بجے تک لگی اور تنخواہ دو سو روپے طے ہوئی۔ جو اس دور کے لحاظ سے کسی ٹرینی کے لیے خاصی معقول تھی۔ قدم جمنے پرصولت رضا نے باقاعگی سے’’کیمپس ڈائری‘‘ لکھنا شروع کردی جس میں یونیورسٹی میں منعقدہ تقریبات، تعلیمی مسائل اور دیگر امور کا تذکرہ ہوتا تھا۔ جس سے صحافت کے باہر بھی پذیرائی ملنا شروع ہوگئی۔ پڑھائی اور نوکری ایک ساتھ جاری رہی۔ کبھی کبھار رپورٹنگ کا موقع بھی مل جاتا تھا۔ ایم اے صحافت کے آخری سال میں چند ہم جماعتوں کے ساتھ مشرقی پاکستان کی سیربھی کی۔ انیس سوستر کے الیکشن بھی دیکھنے کا موقع ملا۔ سیاستدانوں کی باہمی کشمکش بھی دیکھی۔ مارشل لاء حکومت آزاد اورغیر جانبدارانہ انتخاب کرانے پر پھولے نہیں سما رہی تھی لیکن انتخابات کے نتائج پر عمل نہیں کرارہی تھی۔ مارچ انیس سو اکہتر میں قومی اسمبلی کا مجوزہ اجلاس ملتوی ہونے کے بعد مشرقی پاکستان کے شہریوں کو یقین ہوگیا کہ انہیں جان بوجھ کر اقتدار سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ سقوط ڈھاکا کے بعد بھی بھٹو، ملٹری الائنس برقرار رہا اور مغربی پاکستان کو پاکستان تصور کرتے ہوئے اقتدار بھٹوکے حوالے کر دیا گیا۔ اس کار خیر میں لیفٹیننٹ جنرل گل حسن وار ایئر مارشل رحیم خان پیش پیش تھے۔ جبکہ بھٹو صاحب نے اقتدار مستحکم کرنے کے بعدگل حسن اور رحیم خان کو غیر رسمی انداز سے رخصت کیا۔

بریگیڈیئر صولت رضانے19اگست 1972ء کو ملٹری اکیڈمی کاکول سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد31جولائی 2003ء میں آئی ایس پی آر سے بطور بریگیڈیئر قبل از وقت ریٹائرمنٹ لی۔ ملٹری کی اکتالیس سالہ سروس میںگل حسن، ٹکاخان، ضیاالحق، مرزا اسلم بیگ، آصف نواز، عبدالوحید کاکڑ، جہانگیر کرامت اورمشرف آٹھ فوجی سربراہان کے ادوار کا مشاہدہ کیا۔ اس دوران صولت رضا کو کئی سربراہان مملکت اور وزرائے اعظم کا دور دیکھنے کا بھی موقع ملا اور ملک میں سیاسی اتار چڑھاؤ بھی ان کی نظر سے گزرے۔ جن کا تذکرہ انہوں نے اپنی مختصر نویسی میں کیا ہے۔ جو دلچسپ بھی ہے اور چشم کشا بھی، جس میں قاری کوکئی نئے پہلو جاننے کا موقع ملتا ہے۔

یہ اقتباس دیکھیں۔ ’’لیفٹیننٹ جنرل امیرعبداللہ نیازی کی قیادت میں ایسٹرن کمانڈ نے بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ کمان کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ بھارت واضح برتری کے ساتھ ہر محاذ پرموجود تھا۔ پاکستانی افواج کے لڑاکا دستے پینتیس ہزارکے لگ بھگ تھے۔ سول آرمرڈفورسز، پولیس اوررضاکار وغیرہ بھی تھے۔ جنگی قیدیوں کی تعداد نوے ہزار تھی۔ جنہیں مرحلہ وار بھارت منتقل کر دیا گیا۔ جنگ ستمبر پینسٹھ کے دوران عوام کو خوش کرنے کے لیے ایسی کہانیاں عام کردی گئی تھیں کہ فلاں پل پر جب دشمن کے جہازبمباری کررہے تھے تو ان کے پائلٹس نے دیکھا کہ سبزچوغے والے بابے بم کیچ کرکے ادھرادھر پھینک رہے تھے۔ ایک روز سینکڑوں شہری ایک ہسپتال میں بھارتی فوج کے گرفتار رخمی فوجیوں کودیکھنے امنڈآئے جن کے بارے میں یہ بات مشہورہوگئی تھی کہ ان کے جسموں پر تلوارکے زخم آئے ہیں۔ ڈاکٹروں نے بڑی مشکل سے لوگوں کو قائل کیا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ یوں ہم جناتی کہانیوں کا من وسلویٰ نوش جاں کرکے میٹھی نیند سوتے رہے تھے کہ 1971ء سر پر آن پہنچا۔ سیاسی اور ابلاغی میدان میں ہماری تیاری صفر تھی، لہٰذا دنیا میں ہماری رسوائی ہوئی۔ اور سبق یہ ملا کہ سیاسی، عسکری، معاشی اور ابلاغی حقائق سے آنکھیں بند کر کے فاتحانہ پیش قدمی کی امید کرنا خود فریبی کے مترادف ہے۔ ‘‘

مصنف نے یحییٰ خان کے دور میں صحافیوں کی ایک ملک گیر ہڑتال کا ذکر کیا ہے۔ جب نوائے وقت کی انتظامیہ نے اجمل ملک اورصولت رضا سمیت کئی صحافیوں کو برطرف کر دیا۔ برطرفی کے بعد لاہور کے صحافیوں نے دواخبار جاری کیے۔ ’’جاوداں‘‘ اور’’آزاد‘‘، جاوداں ظہور عالم شہید صاحب اور ان کے رفیق کار بشیر احمد ارشد نکال رہے تھے۔ صولت رضا بھی اس کی ٹیم میں شامل تھے۔ معاشی لحاظ سے یہ بڑا کڑا وقت تھا۔ ہم زیادہ تر پیدل چلتے۔ ایک روز والد نے صولت رضا کو خوب لتاڑا۔ پروانہ ملازمت پر تنخواہ چار سو پچیس روپے درج تھی لیکن کئی ماہ سے محض ایک ماہ یا پندرہ دن کی تنخواہ کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ دوست احباب سے ادھار لے کر کام چل رہا تھا۔ والد صاحب کو تشویش تھی کہ میں تنخواہ کی رقم اجاڑ رہا ہوں۔ ستر اکہتر میں یہ معمولی تنخواہ نہیں تھی۔ ’رضی کے ابا‘ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے کہ کرہ ارض پر کوئی ایسی ملازمت بھی ہوسکتی ہے جہاں صبح سے شام تک کام کرنے کے باوجود ایک روپیہ تنخواہ نہ ملے۔ اس سے یہ علم ہوتا ہے کہ کارکن صحافیوں کے حالات اس دور میں بھی اتنے ہی دگرگوں تھے جتنے کہ آج ہیں۔ تنخواہ جب بھی وقت پر نہیں ملتی تھی اور آج بھی بیشتراداروں میں یہی صورت حال ہے۔

دسمبر1971ء کے پہلے ہفتے میں آئی ایس ایس بی کوہاٹ سے صولت رضا کو کال آگئی۔ فائنل انٹرویو میں بورڈ کے سربراہ نے پوچھا کہ ایم اے جرنلزم اور ورکنگ جرنلسٹ فوج میں کیا کرے گا؟ فوج میں اگر آنا ہی تھا تو گریجوایشن کے بعددرخواست دے سکتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا اگراخبارکی ملازمت میں باقاعدہ تنخواہ ملتی تو وہ کمیشن کے لیے اپلائی نہ کرتے۔ انہیں کامیابی کا لیٹر بھی ان حالات میں وصول ہوا کہ اگلے روز ماڈل ٹاؤن لاہور واپسی ہوئی توہرطرف فضا سوگوارتھی۔ سقوط ڈھاکا ہوچکا تھا۔ 16دسمبر1971ء ہماری قومی اور ملی تاریخ کے سیاہ ترین دن مجھے کسی نے بھی مبارک باد دی نہ ہی شاباشی۔ ہرطرف اداسی، غم اورحسرت ویاس کا بسیرا تھا۔ میرے والد کی مشرقی پاکستان سے بے پناہ خوشگوار یادیں وابستہ تھیں۔ ایسے عالم میں گھر والوں نے مجھے پی ایم اے کاکول روانہ کیا۔

’’لیفٹنیات‘‘ میں صولت رضا بتاتے ہیں۔ ’’تربیتی رگڑے کے دوران ایک کورس میٹ کہیں سے پکوڑے سموسے لے آئے۔ اخباری کاغذ کا لفافہ تھا۔ بہت دنوں اخبار کا ٹکڑا نظر آیا۔ میں نے سموسے رکابی میں رکھ دیے اور لفافہ پڑھنا شروع کر دیا۔ اچانک ایک اشتہار پر نظرپڑی جس میں پاک فوج کے لیے پی آراوزکی آسامیاں مشتہر کی گئی تھیں۔ مطلوبہ تعلیم ایم اے صحافت تھی۔ میں نے اخباری ٹکڑا سنبھال لیا اوراگلے روز اشتہارمیں دیے پتہ پر ایک خط لکھ دیا۔ ایک ہفتے کے بعدجواب اوراس کے ہمراہ آرمی کمیشن فارم آگیا۔ میں نے کسی سے مشورہ کیے بغیرفارم پرکیا اور روانہ کر دیا۔ چند روز بعدکلاس میں آواز گونجی۔ ’ سیکنڈ لیفٹیننٹ صورت رضا کو کمانڈنٹ بلا رہے ہیں۔‘ یہ بلاوا انتہائی تشویش ناک تھا۔ دفتر میں قائم مقام کمانڈانٹ لیفٹننٹ کرنل غلام حسین بیٹھے تھے۔ انہوں نے مجھے دیکھتے ہی ڈانٹ ڈپٹ شروع کردی۔ جس کے دوسران ہر دوسرے جملے میں فرمارہے تھے، ’تم فوج میں رہنے کے قابل ہی نہیں ہوو، کبھی کمیشنڈ افسر بھی دوبارہ کمیشن کے لیے اپلائی کرتا ہے۔ میں نے کہاکہ سر! مجھے فارم جی ایچ کیو کی متعلقہ برانچ نے بھیجے تھے اورمیں نے خود کو سیکنڈ لیفٹیننٹ لکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی کلرک ہوگا تمہاری طرح کا، جسے ضابطوں کاعلم نہیں۔ اب ہم تمہارے خلاف ضابطے کی کارروائی کریں گے۔ ایک انکوائری افسر مقررکردیا گیا ہے۔ تم اپنا تحریری جواب چوبیس گھنٹے میں جمع کراؤ اینڈ گیٹ آؤٹ۔ ‘‘

آئی ایس پی آر کے لیے اپلائی کرنے پرصولت رضا کوفوج میں اسی قسم کے رویے کاسامناکرنا پڑا۔ لیکن بہرحال وہ فوج کے متعلقہ شعبے میں پہنچ ہی گئے اور یوں فوج میں بھی ان کی صحافت سے وابستگی قائم رہی۔ آئی ایس پی آر میں عارضی ڈیوٹی کاحکم نامہ موصول ہوگیا۔ ایڈجوٹنٹ عسکری روایات کے مطابق یونٹ سے رخصتی کا ’پہلا بلاوا‘ پرعمل پیراتھے۔ آئی ایس پی آر روانگی کی خوشی اپنی جگہ لیکن فیلڈ رجمنٹ آرٹلری سے پیشہ ورانہ علیحدگی کا دکھ اور افسوس بیان سے باہر تھا۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے یونٹ میں شمولیت اختیارکی تھی۔ اب لیفٹیننٹ تھا۔ یونٹ میں چند روز اس انداز میں گزرے کہ ہر لمحہ الوداعی تھا۔ یونٹ کا بڑا کھانا ہوا۔ مصافحے اور معانقے کا دور چلا۔ گرم جوشی کے یہ لمحات زندگی بھر کا عظیم سرمایہ بن گئے۔

فوج کے کسی یونٹ میں شامل فرد کی رخصتی کا یہ منفرد انداز بھی بڑا دلربا ہے۔ ’’کپتانیات‘‘ میں لکھتے ہیں۔ ’’وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو نے بلوچستان کی صوبائی حکومت برطرف کردی تھی۔ مری اور مینگل قبائل سراپا احتجاج تھے۔ متعدد بلوچ رہنماؤں کو گرفتار کرکے مختلف جیلوں میں نظربند کردیا گیا۔ کراچی کور کا ٹیکٹیکل ہیڈ کوارٹر کوئٹہ منتقل کردیا گیا۔ کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اکبرخان اس آپریشن کی قیادت کررہے تھے۔ میرے کوئٹہ پہنچتے ہی ابلاغی مصروفیات کا انبار تھا۔ بلوچستان میں آئی ایس پی آرافسر کی حیثیت سے مری، بگٹی اور مینگل قبائل کے زیرنگیں علاقے دیکھے اور وہاں کے عوام سے ملنے کے وسیع مواقع حاصل ہوئے۔ بعض مقامات پر فوجی دستوں کومشکلات کا سامنا ہوا تاہم ریاست سے کون کب تک لڑسکتاہے؟ سینکڑوں سورش پسند گرفتار ہوئے۔ اکثرحالات حاضرہ سے قطعی نابلداپنے سردار کے غلام تھے۔ جوحکم ملاسر تسلیم خم کردیا۔ ‘‘

صولت رضا راولپنڈی پہنچے تو اٹک قلعے میں جاری فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی سرکاری کوریج کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ اس کارروئی میں متعدد فوجی افسران بھٹو حکومت کے خلاف بغاوت کے الزام میں کورٹ مارشل کا سامنا کر رہے تھے۔ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے سربراہ میجرجنرل ضیاالحق تھے۔ لنچ ٹیبل پر ضیاالحق بے تکلف گفتگو کرتے۔ ایک روزانہوں نے صولت رضا کو مال روڈراولپنڈی سے ان کی وردی ٹیلرسے لانے کی درخواست کی اوریہ ذمہ داری انجام دینے پر بہت خوش ہوئے اور آرمی چیف بننے پر بھی انہیں یاد رکھا۔

بریگیڈیئر کمانڈر محمدعثمان حسن کو بلوچستان کے بارے میں وسیع معلومات حاصل تھیں۔ مقامی افراد بھی ان سے ملنے آتے تھے۔ صولت رضا کی تجویز پرانہوں نے روزانہ کے واقعات ڈائری میں قلم بند کرنا شروع کردیے۔ آپریشن مکمل ہونے کے بعد یہ ڈائری بعنوان ’’بلوچستان۔ ماضی، حال اور مستقبل‘‘ کراچی سے شائع ہوئی۔ اکثر مبصرین کے مطابق اس کتاب کی بدولت بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں کے حالات و واقعات سے پہلے مرتبہ براہ راست آگاہی ہوئی۔ بریگیڈیئر عثمان ریٹائر ہونے کے بعد بلوچستان میں صوبائی سیکریٹری کے عہدے پر بھی تعینات رہے اور انہوں نے مزید دو کتابیں بھی مرتب کیں۔ بلوچستان کے مسائل، ترقیاتی منصوبہ بندی اور دیگر معاملات پر انہیں خاصا عبور تھا۔

اسی تقرری کے دوران صولت رضاکی شادی تایا کی بیٹی سے ہوگئی۔ بارات حیدرآباد کے مشہور مینٹل ہسپتال گدو بندر گئی۔ جہاں دلہن کے بھائی بحیثیت میڈیکل افسر تعینات تھے۔ یہاں ایک بھاری بھرکم شخصیت دس پندرہ افراد کے جلو میں چہل قدمی کرتی دکھائی دیتی۔ استفسار پر معلوم ہواکہ ایک پیرصاحب ہیں۔ نامعلوم وجوہ کی بنا پر ان کا ذہنی توازن بگڑ گیا ہے اورپاگل خانے میں زیرعلاج ہیں۔ مرید دن میں زیارت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ اس سے ہماری معاشرتی بوالعجبی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ پاگل خانے میں زیرعلاج پیرکی بھی مرید زیارت کرتے ہیں۔ 6فروری1976ء بھٹوصاحب نے متعدد سینئرلیفٹیننٹ جنرلز کو نظرانداز کرکے جنرل ضیاالحق کو چیف آف آرمی مقرر کردیا۔ کوئٹہ کے کور ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹرمیں سناٹا تھا۔ تقرری غیرمتوقع تھی۔ لیفٹیننٹ جنرل اکبرخان کو آرمی چیف مقرر ہونے کی بہت توقع تھی۔ شاید انہیں جنرل ٹکا خان نے بھی امید دلائی تھی۔ انہوں نے فوری طور پر ریٹائرمنٹ کی درخواست دیدی جو منظور ہوگئی۔

یہ پاکستان کا المیہ ہے کہ ہرحکمران نے اپنا آرمی چیف لگانے کی کوشش میں میرٹ کاخون کیا اوراس کانقصان بھی اٹھایا۔ سب سے بڑا بلنڈر نے بھی ذوالفقارعلی بھٹو نے کیا اور انہوں نے اس کی قیمت اپنی جان دیکر ادا کی۔ جنرل ضیاالحق کی بطورآرمی چیف کوئٹہ آمد پرصولت رضا بھی استقبالیہ قطار میں موجودتھے اورانہوں نے فاصلے سے انہیں پہچان کر کہا۔ ’’صولت رضاآپ کہاں؟ قائمقام کور کمانڈر نے کہا۔ سر یہ میرا پی آراو اور آئی ایس پی آرافسرہے۔ ‘‘یہاں مصنف نے ضیاالحق کی منافقت کا ایک واقعہ بھی قلم بند کیا ہے۔ لنچ سے قبل افسر بھٹوصاحب کی قادرالکلامی سے محظوظ ہورہے تھے۔ بھٹوصاحب کے آبدارنے مشروب مغرب سے بھراگلاس ان کی خدمت میں پیش کیا۔ کسی طرف سے آواز آئی۔ آرمی میس میں اسے نوش جاں کرنے پر پابندی ہے۔ بھٹونے گرج کرپوچھا۔ کس نے لگائی ہے؟ ویئراز ضیا؟ جنرل ضیاالحق کچھ فاصلے پر مہمانوں سے محوگفتگو تھے۔ وہ فوراً حاضر ہوگئے۔ بھٹونے پابندی کے متعلق پوچھا تو بولے میس میں پابندی ٹکاخان کے دورسے ہے۔ بھٹونے گلاس لہراتے ہوئے کہا کہ میں تو پی رہا ہوں۔ اس موقع پرضیاالحق نے تاریخی جملہ کہا۔ جناب آپ قانون سے بالاتر ہیں۔

اس واقعے سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ ضیاالحق نے کس طرح آرمی چیف کاعہدہ میرٹ کے بغیر سنبھالا اور پھر محسن کشی کی۔ ایک مرتبہ سب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نے پولیس کے ذریعے کوئٹہ کے مخصوص بازار پرچھاپہ پڑوایا۔ وہاں موجود تمام مرداورعورتوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ صولت رضاکوحکم ہواکہ اس کی بھرپور تشہیر ہونی چاہیے۔ ضیاحکومت میں اسلام پسندی کی رو چل پڑی تھی۔ ہر چھوٹا بڑا اہلکارایسا عمل بجالانے کے لیے کوشاں رہتاجس سے اس کی اسلام پسندی کا شہرہ ہو جائے۔ دفتر پہنچے تو پچاس ساٹھ عورتیں منہ چھپائے بیٹھیں تھیں۔ گرفتار مرد جیل بھیج دیے گئے تھے۔ پتہ چلا، بریگیڈیئر صاحب گرفتارخواتین کو نیک راہ اپنانے کی تلقین کریں گے اور انہوں نے دینی احکامات بیان کرنے شروع کردیے اور تقریر کا اختتام اس بات پرکیا کہ آپ سب کویہ سلسلہ ترک کرکے شادیاں کرنی چاہئیں۔ ایک بلند قامت خاتون نے بریگیڈیئر صاحب کو مخاطب کرکے کہا۔ آپ نے بہت اچھی باتیں کیں، واقعی ہمیں شریفانہ زندگی گزارنی چاہیے۔ سب سے اچھی تجویز شادی کی ہے، یہ ایک نیک عمل ہے، اس سے سارا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اس نیکی کا آغاز آپ میرے ساتھ شادی سے کریں اورماتحتوں کو بھی حکم دیں کہ زمین پر بیٹھی عورتوں میں سے ایک سے شادی کریں۔ اللہ اللہ خیرسلا۔ سب مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر سب کو جیل بھیجنے کاحکم دے کرچلے گئے۔

ْبریگیڈیئر صولت رضا نے ازدواجی زندگی کے بارے میں کیا لطیف تبصرہ کیا ہے۔ ’’کوئٹہ میں بسرکیے شب وروز آج بھی تنہائی میں گدگداتے ہیں۔ اس شہرمیں ہی ہماری بیچلر لائف کا خاتمہ ہوا۔ شادی شدہ افسر کی حیثیت سے باوردی سرکاری فرائض کی انجام دہی ایک علیحدہ واردات ہے۔ زندگی میں اچانک ایک ایسی شخصیت سے احکامات موصول ہونا شروع ہو جاتے ہیں جہاں حکم عدولی کی گنجائش نہیں۔ سرکاری ڈیوٹی کے عوض تنخواہ ملتی ہے جبکہ گھر کی حکومت میں تنخواہ دے کر احکامات وصول کرتے ہیں۔ ‘‘

میجر کا رینک صولت رضاکولاہور تعیناتی کے ساتھ ملا۔ چھ برس لاہور میں گزارنے کے بعد انہیں صدیق سالک نے گورنر ہاؤس بلایا اور کہا کہ ’’آپ نے کل کراچی جانا ہے، دو تین ہفتے کے لیے، پھر ہم مستقل انتظام کرلیں گے۔‘‘ فوج میں اس طرح بھی پوسٹنگ ہوتی ہے۔ کراچی ان کے لیے انجان شہرنہیں تھا۔ ان کا بچپن اسی شہر میں بسر ہوا تھا۔ ان کی کراچی تقرری کے دوران جنرل شمیم احمدخان کی جگہ جنرل آصف نواز کورکمانڈرمقرر ہوئے۔ یہی سترہ اگست انیس سواٹھاسی کو انہیں سانحہ بہاولپور کی خبر ملی۔ حکم ملاکہ تمام افسر اپنے دفاترمیں موجود رہیں اورلائٹس آف نہیں کی جائیں گی۔ جنرل ضیاالحق کی المناک رحلت پر پوری قوم اورخاص طور پر افواج پاکستان سوگوار تھیں۔ جنرل مرزا اسلم بیگ آرمی چیف تعینات ہوگئے۔ صدر مملکت کاعہدہ چیئرمین سینیٹ غلام اسحٰق خان نے سنبھال لیا۔

اس دور میں کراچی میں سیاسی اور لسانی فسادات عروج پر تھے۔ الطاف حسین کے زیرقیادت ایم کیو ایم خاص طور پرسرگرم تھی۔ ان کے کارکن اپنے علاقوں میں سیاسی کم انتقامی روپ میں زیادہ دکھائی دے رہے تھے۔ اس طرزعمل پردیگرجماعتیں خاص طور پر پیپلزپارٹی سب سے زیادہ مشتعل تھی۔ اے پی ایم ایس او اور پی ایس ایف نے ایک دوسرے کے حامی اور سرکردہ نوجوانوں کو اغوا کرنا شروع کردیا۔ انہیں ٹارچر سیلز میں رکھا جاتا جہاں اذیت رسانی کاسامان موجود تھا۔ لیفٹیننٹ جنرل آصف نواز نے سول انتظامیہ کی درخواست پرفیصلہ کن اقدام کا فیصلہ کیا اور دونوں متحارب گروپس اوران کی سرپرست جماعتوں کو زخمی قیدیوں کے تبادلہ پرآمادہ کرلیا۔ اس نیک کام کے لیے آئی ایس پی آرآفس کے سامنے پارکنگ کی جگہ مقررکی گئی۔ دونوں جماعتوں کے رہنماصولت رضا کے آفس میں جمع ہوئے۔ معاہدے کے مطابق زخمی قیدی کور ہیڈکوارٹر پہنچنا شروع ہوگئے۔ جنرل آصف نواز نے دفتر طلب کرکے حکم دیا کہ پی آر او کوئی خبر تصویر وغیرہ اخبار میں نہیں آناچاہیے۔ صبح کے اخبار خبرسے خالی تھے۔ میں نے ازخود خبر تیار کی اورچند تصاویرکے ساتھ قومی اخبارتک پہنچا دی۔ چند گھنٹوں بعد چیختی، چنگھاڑتی سرخیوں کے ساتھ اخبارجب عام ہوا تو کراچی دم بخود رہ گیا۔ روشنیوں کے شہرمیں سیاست میں ایسی نفرت انگیز واردات جس کے باعث بیسیوں نوجوان زندہ نہ مردہ حالت میں ہسپتالوں میں کراہ رہے تھے۔ بعض کے مخصوص اعضا کا ڈرل کیا گیا تھا۔ مخالف کی کمراورچھاتی پر ڈرل مشین سے حریف تنظیم کا نام کندہ کردیا۔ مصالحت کرانے والے سینئر افسروں نے یری حرکت کو پسند نہیں کیا۔ کچھ دیر بعد کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل آصف نوازکے آفس میں طلبی ہوگئی۔ انہوں نے تلخ لہجے میں کہاکہ پی آراو یہ سب کیا ہے؟ میرا جواب واضح تھا کہ سر! یہ خبر اور تصاویر میں نے خود پہنچائی ہے۔ کورکمانڈر نے سوال کیا۔ کوئی ٹھوس دلیل؟ میں نے کہا کہ سر! یہ میراایک پروفیشنل کے طور پر آرمی کا امیج کی سربلندی کی خاطر فیصلہ تھا۔ تشدد اورلاقانونیت میں ملوث افرادکی پردہ پوشی بھی شریک جرم ہونے کے مترادف ہوگی۔ دو تین روز کے وقفے سے ان دونوں جماعتوں نے یہ سانحہ بھی فوج کے ذمہ ڈال دینا ہے کہ زخمی بچے سرکاری عقوبت خانوں سے برآمد ہوئے ہیں۔ ہم نے کور ہیڈکوارٹرز سے اٹھائے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل آصف نواز نے میری معروضات سے اتفاق کیا۔

جنرل اسلم بیگ کی جگہ آصف نوازکی بطور آرمی چیف تقرری کا اعلان چند ماہ قبل کردیا گیا۔ جنرل آصف نواز کا ایک اہم فیصلہ چند بااثر سیاسی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افسروں کو سول سروس میں شمولیت کی اجازت سے انکار تھا۔ اس زمانے میں نوازشریف نے قومی اسمبلی کے بعض ارکان کویقین دلایا تھا کہ ان کے جو بیٹے، داماد، بھتیجے، بھانجے جو فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں، سول سروس میں ٹرانسفر کر دیے جائیں گے۔ لیکن جنرل آصف نواز نے دوٹوک الفاظ میں اعتراض اٹھا دیا اور آرمی چیف کی یہ حکم عدولی حد درجہ منفی تاثر کے ساتھ محسوس کی گئی۔ کراچی کے حالات پر قابو پانے کے لیے جنرل آصف نواز نے ملٹری آپریشن کا فیصلہ کیا۔ صدر اور وزیراعظم اس کی ہر بریفنگ میں شریک ہوئے۔ لیکن اس پر حکومتی ارکان نے اعتراضات اٹھا دیے۔ اس آپریشن کا فیصلہ تین گھنٹے کی میٹنگ کے بعد ہوا۔ جس میں صدر، وزیراعظم سمیت تمام آفیسرشریک ہوئے۔ جس کی پریس ریلیز جاری کرنے کے لیے صولت رضا کو نیچے سے اوپر تک ناقابل فراموش مراحل سے گزرنا پڑا۔

کراچی کے حوالے سے صولت رضا’’پیچ و تاب زندگی‘‘ میں رقم طراز ہیں۔ ’’کراچی سیاسی، معاشی اورسماجی لحاظ سے بھی تقسیم در تقسیم کا شکار رہاہے۔ فرقہ واریت ایک اور عفریت ہے جس میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ معاشی لحاظ سے طاقتور اقلیتی برادری جن میں پارسی، مسیحی اور ہندو سرفہرست ہیں، دنگا فساد اور بے یقینی کی فضا سے بہت جلد پریشان ہوجاتے ہیں، اس لیے ترک وطن کرنے والوں میں زیادہ ہیں۔ کراچی آپریشن کے دوران کراچی کارڈ کی دعویدار صرف الطاف حسین کی ایم کیو ایم نہیں تھی بلکہ آفاق احمد، ڈاکٹر سلیم حیدر اور دیگرجماعتوں میں شامل اردو بولنے والے رہنما بھی اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ ایم کیو ایم ہیڈکوارٹر نائن زیرو سیاست کم اور امن دشمن کارروائیوں کے لیے زیادہ استعمال ہوتا رہا۔ ‘‘

جنرل آصف نوازکے بارے میں لکھتے ہیں۔ ’’جنرل آصف نوازنے کمان سنبھالنے کے بعدابلاغ عامہ کے سارے معاملات آئی ایس پی آر کی صوابدید پر چھوڑدیے۔ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کبھی اپنی خبر یا تصویر کے حوالے سے بھی ڈانٹ ڈپٹ کی ہو۔ جنرل آصف نواز آرمی ہاؤس کے کشادہ لان میں تنہا جاگنگ اور واک کرتے ہوئے دل کے درد سے بے ہوش ہوگئے۔ اسٹاف کار میں انہیں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی پہنچایا گیا۔ لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ صدرغلام اسحٰق خان نے کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل عبدا لوحید کاکڑ کو چیف آف آرمی اسٹاف مقرر کردیا۔ ‘‘

بریگیڈیئر صولت رضا نے اپریل 1996ء سے اگست 1997ء تک کروشیا اورسربیاکے مابین متنازعہ علاقے برانیہ میں اقوام متحدہ کے امن مشن میں خدمات انجام دیں۔ اس کی یادیں دہراتے ہوئے تحریرکرتے ہیں۔ ’’مارشل ٹیٹو کے انتقال کے بعد یوگوسلاویہ میں مذہبی، علاقائی اور لسانی تضادات نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ میڈیا نے بھی اس سلسلے میں منفی کردار ادا کیا۔ بوسنیا کی مسلم آبادی کا الگ تشخص ہے۔ انہوں نے سرب اورکروئٹ دونوں جانب سے ڈھائے مظالم کا سامنا کیا۔ ہم سے پہلے بھی پاک افواج کے دستے یو این کے پرچم تلے شورش زدہ علاقوں میں قابل تعریف خدمات انجام دے چکے تھے۔ سابق یوگوسلاویہ میں گزرے روزوشب میری زندگی کا منفرد تجربہ تھا۔ ‘‘

یو این امن مشن کے بعد آئی ایس پی آرڈائریکٹوریٹ نے صولت رضاکوراولپنڈی میں تعینات کردیا۔ جہانگیرکرامت کے بعد جنرل پرویز مشرف کوآرمی چیف مقرر کر دیا گیا۔ اس دور میں لائن آف کنٹرول، ورکنگ باؤنڈری اورسیاچن کے علاقے میں کشیدہ صورتحال پر خاص نظر رہتی تھی۔ جی ایچ کیو بریفنگ میں دوتین مرتبہ وزیراعظم نواز شریف بھی شریک ہوئے۔ بعدازاں کارگل کا محاذ کھل گیا اور صولت رضا کو اسکردو بریگیڈ ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کو کہا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں جنگ کارگل ایک عالمی خبر بن گئی۔ دنیا کا ہر میڈیا اس جانب متوجہ ہوگیا۔ جنگ کارگل کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ چند ایک عسکری فیصلے اور کچھ سیاسی فیصلے کیے گئے۔ جنگ کسی طور اختتام کو پہنچی تو تجزیہ شروع ہوگئے۔ یہ اقتباس ملاحظہ کریں۔

’’نوازشریف سے منسوب یہ بیانیہ عام کیا گیا کہ معرکہ کارگل ان کی اجازت کے بغیر شروع کیا گیا۔ اول تویہ بات ممکن ہی نہیں کہ وزیراعظم کی مرضی کے بغیراس قسم کی کارروائی عمل میں لائی جاسکتی تھی۔ ہائی کمان میں یہ تاثرعام تھا کہ نوازشریف عسکری معاملات اور خاص طور پر بھارت سے نبردآزمائی کی تاریخ سے آشنائی کا تاثر نہیں دیتے۔ پرویز مشرف کے علاوہ متعدد سینئرافسران نے گواہی دی کہ وزیراعظم کو کئی بار حساس امورسے آگاہ کیا گیا۔ ‘‘

میاں نوازشریف نے جس طرح جنرل پرویزمشرف کوفارغ کرنے کی کوشش کی، اس کے بارے میں لکھتے ہیں۔ ’’نواز شریف نے یہ حقیقت فراموش کردی کہ وہ چند برس پہلے جنرل جہانگیر کرامت کو مدت ملازمت مکمل ہونے سے قبل محض روایتی گفتگو کرنے کی پاداش میں رخصت کرچکے ہیں۔ جنرل پرویزمشرف بھی چوکس تھے۔ انہیں سری لنکا کے سرکاری دورے پرروانہ ہوناتھا۔ انہیں فارغ کرکے اپنی مرضی کاایک اورآرمی چیف تعینات کرنا مقصود تھا تواس کا ایک شریفانہ طریقہ بھی موجود تھا۔ بارہ اکتوبر کو میں اپنے گھر پہنچا تھا کہ آئی ایس پی آر سے میجرعتیق الرحمٰن کی کال آئی۔ انہوں نے نئے آرمی چیف جنرل ضیاالدین کی تقرری کی پی ٹی وی سے نشر ہونے والی خبرکی اطلاع دی۔ اسی دوران میجرجنرل راشد قریشی نے مجھے جی ایچ کیو میں براجمان ہائی کمان کے فیصلے سے آگاہ کیا اور ضروری ابلاغی ہدایات دیں۔ جس کے مطابق جنرل پرویزمشرف ہی آرمی چیف ہیں۔ نوازشریف، جنرل پرویزمشرف اورجنرل ضیاالدین بٹ نے وطن عزیز کو شدید بحران سے دوچار کر دیا تھا۔ خدانخواستہ فوج کی مختلف فارمیشنز متضاد احکامات کی پیروی کرتے ہوئے آپس میں الجھ جاتیں توصورتحال سیاسی اور عسکری لحاظ سے انتہائی خوف ناک ہوسکتی تھی۔ ‘‘

جولائی دوہزارایک کوصولت رضا کو بریگیڈیئر کے عہدے پرترقی دیدی گئی۔ آئی ایس پی آر میں میجرجنرل راشدقریشی کی جگہ بریگیڈیئر شوکت سلطان کو میجر جنرل کے رینک پر ترقی دیکر تعینات کردیا گیا۔ نئے ڈی ان کے کورس میٹ تھے۔ انہوں نے ایک ساتھ ہی پی ایم اے کاکول میں ٹریننگ مکمل کی تھی۔ عسکری روایات کے مطابق کورس میٹ یا جونیئر کی کمان میں فرائض منصبی انجام دینے کے بجائے ریٹائرمنٹ کوترجیح دی جاتی ہے۔ یوں 19 اگست1972ء کوکاکول اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد31جولائی2003ء کوبحیثیت بریگیڈیئر ریٹائر ہوگئے۔ اس وقت عمر اکیاون برس تھی۔ نو برس مزید سرکاری ملازمت کرسکتے تھے، لیکن انہوں نے نمل یونیورسٹی اور پرائیویٹ ٹی وی چینل پر جاب کوترجیح دی۔

’’پیچ و تاب زندگی‘‘ مختصرلیکن دلچسپ اورجامع خود نوشت ہے۔ جس میں بریگیڈیئر صولت رضا نے اختصارکے باوجود اپنے اکتیس سالہ فوجی کیریئر اوراس دوران پیش آنے والے مختلف واقعات کو عمدگی سے بیان کیا ہے۔ ایک بہت عمدہ خود نوشت کی تحریر پر مصنف اور شاندار اشاعت پر قلم فاؤنڈیشن مبارک باد کی مستحق ہے۔

Facebook Comments Box
پیچ و تاب زندگی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کائنات کو ’مسخر‘ کرنے سے ’اخروٹ‘ توڑنے تک کا سفر —- ڈاکٹر محمد زوہیب حنیف
next post
کینسر کا ایک منفرد علاج: ایکس فیکٹر (X-Factor)

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.