بر صغیر میں سینما کی آمد کے بعد قوالی فلموں کا حصہ بنی۔ یہ اپنی روایتی اور ثقافتی پیش کش اور انفرادیت کے باعث سامعین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ناٹک منڈلیوں اور داستان گوئی کے بعد سنیما مذہب، ذات، جنس اور نسل سے قطع نظر عوام کے درمیان تفریح کا ایک بڑا ذریعہ تھا۔ فلموں میں موسیقی کو مختلف شکلوں میں شامل کرنا ایک رجحان بن گیا ہے، قوالی ان میں سے ایک ہے۔ اگرچہ موسیقی کو دراصل ناظرین کی طبیعت میں خوشگوار تبدیلی کے لیے برتا جاتا تھا تاکہ وہ زیادہ بہتر طریقے سے فلمی بیانیے کو سمجھ سکیں۔ قوالی کی صنف 1940ء کی دہائی سے بھارتی فلموں کا نمایاں حصہ رہی ہے، جب سے بھارتی فلم سازی کا سنہری دور شروع ہوا۔ برصغیر کے متنوع سماجی، ثقافتی اور مذہبی ورثے کی وجہ سے، یہاں تک کہ جنوبی ایشیائی باشندوں کے لیے بھی قوالی کو ایک خالص اسلامی مقدس گیت سمجھنا ایک عام بات ہے۔ قوالی، بہت سی مذہبی روایات کی طرح، نجی مقدس مقامات سے عوامی سیکولر مقامات تک پھیل گئی ہے۔ قوالیوں کو سب سے پہلے فلموں میں مسلم بیانیوں اور نظریات کے ساتھ استعمال کیا گیا تھا تاہم، کئی دہائیوں کے دوران فلمی قوالیوں کی موسیقی، منظر نگاری اور سیاق و سباق میں ڈرامائی طور پر تبدیلی آئی ہے۔
قوالی کی پیشکش کی ابتداء کا جائزہ لیا جاۓ تو تقسیم سے پہلے 1945ء میں سید شوکت حسین رضوی کی فلم "زینت” میں شامل قوالی "آہیں نہ بھریں شکوہ نہ کیا” سے اس روایت کا آغاز ہوتا ہے جس کی موسیقی میر صاحب نے ترتیب دی اور نور جہاں اور زہرہ بائ انبالے والے کی آوازوں میں اس کی ریکارڈنگ ہوئ۔ تقسیم کے بعد دونوں سینماؤں میں قوالی کو فلموں میں جگہ دی گئ اس حوالے سے قوالی کی ہندوستانی فلموں میں پیشکش کی تاریخ کے بارے میں بات کرتے ہوئے یہ معلوم ہوتاہے کہ اسماعیل آزاد قوال کی گائی ہوئی ’’ہمیں تو لوٹ لیا” سب سے پرانی قوالی تھی جو کہ 1958ء میں ریلیز ہونے والی فلم "الہلال” میں شامل کی گئی۔ محبوب خان نے اس فلم سے ہدایت کاری کا آغاز کیا۔ بعد میں وہ "ہندوستانی سنیما کے اہم فلم سازوں میں سے ایک کے طور پر مشہور ہوئے۔ منشی احسان لکھنوی نے شاعری لکھی اور پران سکھ نائک نے موسیقی ترتیب دی۔ اس فلم میں عرب و رومن جدوجہد کی آڑ میں تاریخ کے افسانوی ورژن کی تصویر کشی کی گئی ہے، جس میں رومی فوج کے ہاتھوں سلطنت عثمانیہ کے بیٹے کی گرفتاری اور اس کے نتیجے میں فرار بھی شامل ہے۔ 1960ء کی بھارتی فلم ’’ مغلِ اعظم‘‘ میں لتا منگیشکر کی گائی ہوئی ’’تیری محفل میں‘‘ بہت مقبول ہوئی۔ اسی سن کی ایک اور فلم’’ برسات کی رات‘‘ میں تو تین قوالیاں’’جی چاہتا ہے، نہ تو کارواں کی تلاش ہے، نگاہِ ناز کے‘‘ شامل کی گئیں۔ اس کے بعد بتدریج ہمیں بھارتی فلموں میں قوالی کی پیشکش دکھائی دیتی ہے۔ ’’ پردہ ہےپردہ، شرما کے اگر یوں پردہ نشیں، تیری محفل میں قسمت، ہے اگر دشمن زمانہ، اے میری زہرا جبیں، نگاہیں ملانے کو، جھوم برابر جھوم، جینا تو ہے اسی کا، محبت نہ ہوتی تو، چلی چلی ایسی ہوا، اے پردہ نشیں، شاہ کا رتبہ، دربار میں اوپر والے‘‘ اس دور کی مشہورِ زمانہ فلمی قوالیاں تھیں۔ ’’عرضیاں، خواجہ میرے خواجہ، آیا تیرے در پر دیوانہ، اللہ ہو تو پکیندا اے، اللہ اللہ تعریف تیری، اس شان کرم کا کیا کہنا، جی چاہتا ہے، دلہے کا سہرا، پیا حا جی علی ‘‘ وغیرہ وہ مقبول العام قوالیاں ہیں جونوے اور دو ہزار کی دہائی میں ہمیں بھارتی فلموں میں دکھائی دیتی ہیں۔ ’’کن فیکون، لوٹ لیا، بھر دو جھولی‘‘ وغیرہ دو ہزار دس کی دہائی میں بالترتیب بھارتی فلموں ’’راک سٹار، ڈیڑھ عشقیا اور بجرنگی بھائیجان ‘‘ میں دکھائی دیتی ہیں۔ فلم کی کہانی اور کرداروں کی نفسیاتی و روحانی کشمکش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قوالی ان تمام طرح کی واقعاتی کشمکش اور انفرادی جدو جہد کے ایک بہترین اظہاریے کے طور پر ناظرین پر اپنے اثرات قائم کرتی ہے۔ مثلا فلم ’’ویر زارا ‘‘میں قوالی کی پیشکش کے مناظر دیکھے جائیں تو وہ ایک درگاہ کے ہیں جس میں خوبصورت تالاب کنارے بیٹھے ہوئے قوال اپنے ہمنواؤں کے ساتھ ’’آیا تیرے در پر دیوانہ‘‘ کے اشعار گا رہے ہیں جبکہ اسی دوران فلم کے مرکزی کردار یعنی ہیرو اور ہیروئن کے جذباتی تعلق اور ان کے اندر پائی جانے والی کشمکش کو عمدہ طریقے سے قوالی کے ان بولوں کے بین بین پیش کیا جاتا ہے جو ناظرین پر بھرپور طریقے سے اثر انداز ہوتا ہے۔ ایسے میں قوالی کی پیشکش اپنے مناظر اور شاعری کے ساتھ عمدہ طریقے سے ہمارے سامنے آتی ہے۔
فلمی قوالی موسیقی کی ایک دلچسپ ذیلی صنف ہے کیونکہ وہ نہ صرف صدیوں پرانے صوفی ورثے کو بڑے پردے پر منتقل کرتی ہے بلکہ وہ اسے خاص طور پر جدید اور مقبول حیثیت عطاء کرتے ہوئے خاطر خواہ نمائندگی بھی دیتی ہےشاعری کے ساتھ عمدہ طریقے سے ہمارے سامنے آتی ہے۔
قوالی کو ایک ایسے اظہاریے کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جس کے ذریعے مختلف معنی اور پیغامات کا ابلاغ ہوتا ہے، اس میں زبان اور میڈیا دونوں شامل ہوتے ہیں۔ میڈیا ایک ایسا ذریعہ بن گیا ہے جس کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں کو کنٹرول کیا جاتا ہے۔ قوالی کا مقصد سامعین تک کچھ پیغام پہنچانا رہا ہے حالانکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی شکل اور انداز میں تبدیلی آئی ہے۔ یہ تبدیلی نہ صرف ثقافتی طور پر واقع ہوئی ہے بلکہ اسے بین الثقافتی طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ چونکہ قوالی کی بنیاد برصغیر سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے اس کے بہت سے اجزاء پاکستانی و بھارتی فلموں کی قوالیوں میں عام طور پر دیکھے جا سکتے ہیں لیکن برصغیر کی علیحدگی کے بعد اب تک اس کی پیشکش میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ بھارتی فلموں کی موسیقی، بشمول قوالی، اسلامی تصورات سے بہت زیادہ متاثر ہے۔ فلمی قوالی موسیقی کی ایک دلچسپ ذیلی صنف ہے کیونکہ وہ نہ صرف صدیوں پرانے صوفی ورثے کو بڑے پردے پر منتقل کرتی ہے بلکہ وہ اسے خاص طور پر جدید، مقبول اور سیکولر حیثیت عطاء کرتے ہوئے خاطر خواہ نمائندگی بھی دیتی ہے۔ ماہرلسانیات نے قوالی کی بدلتی ہوئی صورتحال کو دیکھا اور اس کے پیشروؤں کے مقابلے میں فلمی قوالی کے معنی اور کردار کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔
دونوں سنیما کی فلموں میں قوالی کو صنف موسیقی کے طور پر جگہ دی گئی ہے۔ فلم کے اسکرپٹ اور واقعات کے مطابق اس میں قوالی کا استعمال کیا گیا ہے۔ بھارتی فلموں میں اسکی پیشکش کا مشاہدہ کیا جائے تو کچھ جگہوں پر یہ مزارات کی زینت بنی ہے اور کچھ جگہوں پر اسے سالگرہ کی تقریبات، شادی بیاہ کی تقریبات، مذہبی تقریبات، ربیع الاول یا شب معراج جیسے سماجی اجتماعات میں استعمال کیا جاتا ہے۔ فلموں میں قوالی کو موقع کی مناسبت سے استعمال کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کی فلموں میں قوالی کو ابتدا ہی سے اہمیت دی جاتی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی پیش کش میں، شاعری میں اور موسیقی کے آلات کے استعمال میں جدت آتی گئی۔ بھارتی فلموں میں اب بھی قوالی دکھائی جا رہی ہے جبکہ ہاکستان میں اس کے رحجان میں کمی واقع ہوئی ہے۔ قوالی کو مسائل، جذبات، انحصار، بے بسی، خواہشات اور ان کی تکمیل کے لیے ایک طاقتور حربے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے سینما ؤں میں قوالی کی پیشکش کاگہرائی سے تجزیہ کرنے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہندوستانی فلموں میں قوالی کی صنف کو موسیقی کی دیگر اصناف کے درمیان برابری کا مقام دیا جاتا ہے اور اس کی پیش کش میں اسی تندہی، دلچسپی اور جدید تکنیک کو ملحوظِ خاطر رکھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر کئی قوالیوں میں روایتی آلات کے علاوہ جدید آلات کو بھی سٹوڈیو ایڈیٹنگ کرنے کے بعد شامل کیا گیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ موسیقی کی اس صنف کو اپنی ثقافت، جذبات اور معاملات کا ایک اہم اظہار سمجھتے ہوئے اسے فلموں میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ قوالی کو بھارتی فلموں میں باقاعدہ میوزیکل ٹریک کے طور پر شامل کیا جاتا ہے جس طرح دیگر گانے فلم کا حصہ ہوتے ہیں۔ پاکستانی فلموں میں قوالی زیادہ تر اپنے روایتی انداز میں پیش کی جاتی ہے اور ایڈیٹنگ کے بعد اس میں شاذ و نادر ہی کوئی اضافی آلات استعمال کیے جاتے ہیں۔ قوالی کے انداز اور اس کی پیشکش میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فنکار براہ راست فلم انڈسٹری سے وابستہ نہیں ہیں۔ جب کہ بھارت میں ان تمام شعبوں کے درمیان رابطہ ہے اور ہر طرح کے فنکاروں اور اداکاروں اور فلم انڈسٹری کے درمیان رابطے ہیں۔ اسی لیے یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے مقابلے میں بھارتی فلم اندسٹری میں بہت زیادہ تنوع ہے۔

1 comment
معلوماتی تحریر –
قوالی کا تصور امیر خسرو کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے اس ضمن میں تشنگی رہی