تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادب

سیاست کی درس گاہ: سٹی کالج حیدرآباد  -12 —- عطا محمد تبسم

by دانش ڈیسک 20/11/2021
written by دانش ڈیسک 20/11/2021
384

سٹی کالج میں پڑھائی کم اور سیاست زیادہ ہوتی تھی۔ یہ سیاست کی بہترین درسگاہ تھی۔ جس نے حیدرآباد کو بہت اچھے نوجوان سیاست دان دیئے۔ شہر کے وسط میں سندھی، مہاجر طلبہ کے لیے یہی ایک شام کا کالج تھا، نور محمد ہائی اسکول میں مسلم کالج اور تلک چاڑی پر سچل سرمست کالج بھی تھے۔ لیکن شہر کے طلبہ کی اکثریت سٹی کالج میں جاتی، یہاں بڑی تعداد کو فیس کو رعایت بھی مل جاتی، عبدالرحیم ڈیتھو کالج کے پرنسپل تھے، بہت خلیق، محبت کرنے والے، وہ برسہا برس کالج کے پرنسپل رہے، طلبہ بھی ان کا بہت احترام کرتے۔ مجھے سٹی کالج یونٹ کا ناظم بنادیا گیا۔ جس میں لاء کالج اور کامرس کالج بھی شامل تھے، ہم ایک دیوار گیر پوسٹر پر ہاتھ سے لکھ کر ایک اخبار نکالا کرتے تھے، جس کا نام نوائے طلبہ تھا۔ بعد میں یہ سائیکلو اسٹال پر بھی نکالا گیا۔ ہمارے مقابلے پر الیاس شاکر بھی ایک دیواری اخبار نکالا کرتے تھے، اس میں وہ چٹکلے اور فقرے بھی کستے۔ ” بچوں کی فوج۔ ناظم کی موج” اور ایسے ہی جملے جس میں کھالوں کا حساب مانگا جاتا تھا۔ اور ہم جوابا لکھتے” کھال دو- حساب لو”۔ الیاس شاکر، اسماعیل کامریڈ، صلاح الدین قریشی، حاذق شیخ، لیق احمد، محمد علی عادل، نسیم السحر، ایوب باقر، ملا رونق، اقبال کے کے، ظہیر حسنین، شاہد پرویز، سردار قریشی، اس وقت طلبہ سیاست میں فعال تھے۔ اس کالج میں ہمارا تعارف انوار احمد زئی صاحب سے ہوا۔ وہ سٹی کالج میں لیکچرار تھے، اور طلبہ میں بہت مقبول تھے، بعد میں ان سے بہت اچھی دعا سلام اور تعلقات رہے۔ انوار زئی صاحب طلبہ میں پڑھائی کا شوق بڑھاتے، اور اپنی خوبصورت گفتگو سے طلبہ کو مسحور کردیتے۔

مجھے یہاں نئے دوست ملے، کتاب سے تعلق جڑا، تقریر کرنا سیکھی، سیاست کو قریب سے سیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں میری زندگی میں انقلاب لانے والی شخصیت نسیم السحر کی تھی۔ شیروانی میں ملبوس خلوص و محبت کا پیکر، جن سے مل کر زندگی سے پیار ہوجائے۔ وہ سٹی کالج یونین کے جنرل سیکریٹری تھے۔ شعلہ بیانی ان کی تقاریرکا خاصہ ہوتی اور ان کی تقریر کے دوران جوش و جذبے سے دل دھڑکتے تھے۔ نسیم السحر راجپوت ہیں، ٹنڈوجام میں ان کا آبائی گھر تھا۔ انھوں نے میرے ذوق مطالعہ کو سنوارا، اور ہر اہم موقع پر میری رہنمائی کی۔ ان کی محبت رہنمائی قربانی اور ایثار کی داستان آگے آئے گی۔ اسلامی جمعیت طلبہ حیدرآباد میں طلبہ کی منظم اور مقبول جماعت تھی، شہر کے اہم کالجوں میں اس کی منتخب یونین تھے۔ اس لیے جمعیت نے اسٹوڈینس کونسل بنائی تھی، جس میں تمام کالجوں کے منتخب نمائندوں کی نمائندگی تھی۔ بھٹو صاحب جب حیدرآباد سرکٹ ہاؤس میں آئے تو انھوں نے طلبہ کے وفد سے ملاقات کی۔ جس میں بھٹو ناراض بھی ہوئے۔

اس زمانے میں پیپلز پارٹی نے طلبہ میں کام کرنے کے لیے ایک تنظیم "نوپس” بنائی تھی۔ جس کو غلام مصطفے جتوئی براہ راست احکامات و ہدایات دیا کرتے تھے۔ نوپس میں الیاس شاکر بھی تھے اور انھوں نے اس کا ایک دفتر گول بلڈنگ میں قائم کیا تھا۔ جہاں 23 سرکلر بلڈنگ میں جمعیت کا دفتر پہلے سے قائم تھا۔ یہاں نیشنل لیبر فیڈریشن کا دفتر بھی تھا۔ جہاں رانا محمود علی خان روزانہ بیٹھا کرتے تھے، بعد میں یہاں جسارت کا دفتر بھی قائم ہوا۔ ظہیر احمد حیدرآباد میں جسارت کے نمائندے تھے۔ جمعیت نے مجھے سیکریٹری اطلاعات کی ذمہ داری بھی دے دی، میرے پیش رو اس وقت سید وجاہت علی تھے۔ جو بعد میں طویل عرصے گورنر سندھ کے پی آر او کے منصب پر فائز ہوئے۔ میں جمعیت کی خبر کا پریس ریلز ہاتھ سے لکھتا۔ اس کی مزید کاپیاں بنانے کے لیے کاربن پیپر رکھ کر کاپیاں بنائی جاتی۔ فوٹو اسٹیٹ کی سہولت اس زمانے میں ناپید تھی۔ اقابل حامد جنگ کے نمائندے تھے، عبدالرحمن امرتسری مشرق کے نمائندے تھے۔ مبین صاحب حریت، عثمان اجمیری نوائے وقت، کے نمائندے تھے۔

سٹی کالج میں پڑھائی کم اور سیاست زیادہ ہوتی تھی۔ شہر کے وسط میں سندھی، مہاجر طلبہ کے لیے یہی ایک شام کا کالج تھا، نور محمد ہائی اسکول میں مسلم کالج اور تلک چاڑی پر سچل سرمست کالج بھی تھے۔ لیکن شہر کے طلبہ کی اکثریت سٹی کالج میں جاتی، یہاں بڑی تعداد کو فیس کو رعایت بھی مل جاتی، عبدالرحیم ڈیتھو کالج کے پرنسپل تھے، بہت خلیق، محبت کرنے والے، وہ برسہا برس کالج کے پرنسپل رہے، طلبہ بھی ان کا بہت احترام کرتے۔ مجھے سٹی کالج یونٹ کا ناظم بنادیا گیا۔ جس میں لاء کالج اور کامرس کالج بھی شامل تھے، ہم ایک دیوار گیر پوسٹر پر ہاتھ سے لکھ کر ایک اخبار نکالا کرتے تھے، جس کا نام نوائے طلبہ تھا۔ بعد میں یہ سائیکلو اسٹال پر بھی نکالا گیا۔ ہمارے مقابلے پر الیاس شاکر بھی ایک دیواری اخبار نکالا کرتے تھے، اس میں وہ چٹکلے اور فقرے بھی کستے۔ ” بچوں کی فوج۔ ناظم کی موج” اور ایسے ہی جملے جس میں کھالوں کا حساب مانگا جاتا تھا۔ اور ہم جوابا لکھتے” کھال دو- حساب لو”۔ الیاس شاکر، اسماعیل کامریڈ، صلاح الدین قریشی، حاذق شیخ، لیق احمد، محمد علی عادل، نسیم السحر، ایوب باقر، ملا رونق، اقبال کے کے، ظہیر حسنین، شاہد پرویز، سردار قریشی، اس زمانے میں طلبہ سیاست میں فعال تھے۔ اس زمانے میں ہمارا تعارف انوار احمد زئی صاحب سے ہوا۔ وہ سٹی کالج میں لیکچرار تھے، اور طلبہ میں بہت مقبول تھے، بعد میں ان سے بہت اچھی دعا سلام اور تعلقات رہے۔ انوار زئی صاحب طلبہ میں پڑھائی کا شوق بڑھاتے، اور اپنی

۔ سٹی کالج 1951ء کے دوران ایک تنظیم ’’ریناساں ایجوکیشنل سوسائٹی ‘‘ نے قائم کیا تھا۔ اس کے محرک اس سوسائٹی کے بانی حیدر آباد کے معروف سی ایس پی آفیسر ایس کے رحیم تھے۔ مشہور قانون دان، دھرم داس اس تنظیم کے سرپرست تھے۔ دیگر عہدے داروں میں معروف ادیب و شاعر، براڈ کاسٹر الیاس عشقی اور احمد عبدالقیوم بھی شامل تھے۔ ” سٹی کالج ” کے نام سےابتدائی طور پر’’اسٹیشن روڈ‘‘ پر واقع این ٹی ہوپ فل اسکول کی عمارت میں شام کا پہلا کالج قائم کیا گیا تھا۔ اس کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ ملازمت پیشہ افراد یا محنت کش دن بھر رزق حلال کمانے کے بعد شام کو تعلیمی سلسلہ جاری رکھ سکیں۔

اس کالج سے لا تعداد فارغ التحصیل طلبا نے سیاست، علم و ادب فن و ثقافت اور مختلف شعبوں میں سٹی کالج کا نام روشن کیا۔ کالج کا ہفتہ طلبہ اور کل پاکستان بین الکلیاتی مباحثے شہرت رکھتے تھے۔ جن میں پاکستان کے دور دراز علاقوں اور صوبوں کے طلبا شرکت کرنے کواپنےلئے اعزاز تصور کرتے تھے۔ یہ مباحثے اردو، سندھی اور انگریزی زبانوں میں کسی وقفے کے بغیر ہفتوں جاری رہتے تھے۔ کالج کے تحت منعقد ہونے والی کلاسیکل میوزک کانفرنس اور مشاعرے بھی بہت شہرت رکھتے تھے۔ اس کے پرنسپل ممتاز ادبی شخصیات رہی۔ جن میں مرزا عابد عباس، پروفیسر عبدالستار شیخ، پروفیسر سید قوی احمد، پروفیسر عبدالرحیم ڈیتھو، پروفیسر عظیم عبدالکریم عباسی اور پروفیسر انوار احمد زئی کے نام نامی شامل ہیں۔ 6 ؍جولائی 1975 کوایک گروپ تفریح کے لئے بس میں شمالی علاقہ جات کی دلہن مری کی چھانگلہ گلی پہنچا تو بس ایک پہاڑی کا موڑ کاٹنے کے دوران بس گہری کھائی میں جا گری۔ بس میں 60سے زائد طلبا سوار تھے، جن میں سے 46طلبا اپنے خالق حقیقی سے جا ملے جبکہ دیگر شدید زخمی ہوئے۔ اس میں ہمارے بہت سے دوست بھی جان بحق ہوئے۔ پورے ملک میں سوگ رہا۔ شہر کے ہر محلے اور گلی سے کوئی نہ کوئی جنازہ اٹھا تھا۔ ہم کئی دن تک سوگواری کے عالم میں رہے۔

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ دیکھیں

اس سلسلہ کی پچھلی قسط اس لنک پہ پڑھیے

Facebook Comments Box
سٹی کالج حیدرآباد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
بہرے ہو جاو —– خبیب کیانی
next post
ناقدینِ تصوف اور اہل تصوف سے شکوہ —– سراج الدین امجد

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.