تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
آپ بیتی، خاکہ، تذکرہعلم و ادب

راجہ رام موہن رائے: برصغیر کا محسن ۔۔۔ محمد آصف

by ویب ڈیسک 26/03/2017
written by ویب ڈیسک 26/03/2017
76

صحافت کو معاشرے کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے کہ لوگوں کے سیاسی اور سماجی شعور میں اخبار ایک بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ جابر حکمران ہمیشہ پریس کے خلاف رہے ہیں۔
ہندوستان میں پہلا انگریزی اخبار 1780 میں ہکی نامی انگریز نے کلکتہ سے شائع کیا۔جس کا نام بنگال گزٹ رکھا کیا۔اس سے پہلے ایک اخبار جاری ہوا جس میں فقط کمپنی کی خبریں شائع ہوتی تھیں۔

ہکی نامی انگریز کمپنی اور اس کے ملازمین کا زبردست جانی دشمن تھا جو کمپنی کے خلاف خبریں نمک مرچ لگا کر شائع کرتا جس کی پاداش میں وہ دوبار جیل گیااور آخر کار ملک بدرکردیا گیا۔ یہ دور انقلابِ فرانس کا تھا۔ برطانوی حکومت کے چنیدہ لارڈ کارنوایس اور وارن ہسٹنگیز کے زمانے میں اکادکا سختیاں ہوئیں مگرلارڈ ویلزلی نے اپنے ہی ہم وطنوں کی پریس آزادی چھین لی۔ تب ہندوستانیوں کو بھی احساس ہوا اور کلکتہ سے بنگلہ زبان کے تین روزنامے شائع ہونے شروع ہوئے۔ مگر اردو یا فارسی میں کسی بھی شخص کو توفیق نہ ہوئی کہ وہ اس زمہ داری کو اپنے سر لیتا۔
ایسے میں ایک صاحبِ بصیرت اٹھا اور معاشرے میں روشنی پھیلانی شروع کی۔
آپ چوبیس مئی 1772 کو رادھا نگر بنگال میں پیدا ہوئے۔ آپ کا خاندان پانچ نسلوں سے مغل حکمرانوں سے وابستہ تھا۔ یہ برصغیر میں فارسی اخبار "مراۃ الاخبار”شائع کرنےوالے سب سے پہلے شخص تھے، بنگالی، فارسی، سنسکرت اور عربی پر زبردست عبور رکھتے تھے۔ اسلام اور عیسائیت نے ان کی ذہن پر بہت اثر کیا، ان کی کوششوں سے ہندووں میں ستی کی رسم ختم کرنے کی کوشش بھی کی گئی، مورتی پوجا کی مخالفت کی اور خُدا کی وحدانیت کے لیے بہت کام کیا۔ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں وہ برصغیر کے سب سے بڑے مصلح قوم، عربی فارسی کے عالم اورمغربی تمدن کے پاسدار تھے۔ قرآن شریف، فقہ اسلامی، دینیات اور علمِ مناظرہ پر عبوررکھتے تھے ارسطو کی تصانیف کے عربی تراجم اور معتزلہ کی کتب کے مطالعے کا شوق رکھتے تھے۔ سولہ برس کی عمر میں کتاب لکھی جس مین ہندووں پر زبردست تنقید کی گئی۔ کتاب کا مسودہ جب باپ کے ہاتھ لگا اور کشیدگی اتنی بڑھی کہ گھر چھوڑنا پڑا۔ کلکتہ میں رہتے ہوئے آپ نے محسوس کیا کہ مغربی تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں تو انگریزی زبان سیکھ لی۔ پندرہ سال تک کمپنی کی ملازمت کے بعد پنشن لے لی اور باقی سارا وقت سماجی کاموں میں صرف کرنے لگے۔
کمپنی نے سنسکرت کالج قائم کیا مگر اس کی سب سےزیادہ شدت سے مخالفت کرنے والے یہی شخص تھے۔ کیوں کہ آپ جانتے تھے کہ اس کالج میں طالب علم دوہزار سال پرانی باتیں سیکھیں گےجس میں رعونت آمیز موشگافیوں کا اضافہ ہوگیا ہے۔اگر برطانوی حکومت کا مقصد دیسی آبادی کی اصلاح و ترقی ہے توآزادخیال نظامِ تعلیم کو فروغ دینا زیادہ مناسب ہوگا جس میں فطرت، ریاضی، منطق اور دوسری مفید سائنسیں پڑھائی جائیں۔ مگر برطانوی حکومت نے اس شخص کی رائے مسترد کر دی اور سنسکرت کالج قائم ہوگیا۔ ایسے میں اس باہمت شخص نے مخیر افراد اور مشنریوں کی مدد سے کئی سکول کھولے اور انگریزی کتابوں کی اشاعت و فروخت کی غرض سے "اسکول بک سوسائٹی”قائم کی جس نے دوسال کی عرصے میں اکتیس ہزار سے زائد انگریزی کتابیں فروخت کیں جبکہ سرکاری کمیٹی تین سال میں اتنی بھی فروخت نہ کر سکی کہ طباعت کے اخراجات ہی مکمل ہوپاتے۔
برصغیر میں تازہ افکار کی نمود اگر سب سے پہلے بنگالیوں ہوئی تو یہ اس شخص کی صحافتی اور تعلیمی سرگرمیوں کا ہی فیض تھا۔
اس بابغہِ روزگار شخص کا نام راجہ رام موہن رائے تھا جو کہ ہندو تھا مگر مسلمانوں کی تکالیف اور آنےوالے وقت کا نبض شناس تھا۔ اس کو راجہ کا خطاب اکبرشاہ ثانی نے دیا تھا جسے انگریزوں نے کبھی قبول نہ کیا۔انھی کی وجہ سے لفظ "ہندوازم” کو انگریزی زبان میں داخل کیا گیا۔ بنگال کی نشاطِ  ثانیہ میں راجہ رام موہن رائے کو سب سے پُراثر شخصیت مانا گیا۔ آپ نے انڈینز اور ہندوازم کے حقوق کے لیے کوشش اور برطانوی حکومت سے قربت کی وجہ سے "انڈیا کی نشاطِ ثانیہ کے باپ” کا درجہ پایا بچوں کی جبری شادی، اور ستی کی رسم کے خلاف اعلانِ جنگ رکھا۔عورتوں کے مساوی حقوق کے لیے کوشش کی۔
روشنی کا یہ مینار 27 ستمبر 1833 کو گُل ہوگیا جب آپ ایک سرکاری دورے پر برطانیہ گئے اور وہیں دفن کئے گئے ساڑھے نوسال بعد ایک بار پھر آپ کو ایک نئی جگہ دفن کردیا گیا۔

Facebook Comments Box
صحافت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
کتنی تصویروں کے ساتھ آئی ہے شامِ زندگی –انور عباسی کی آپ بیتی حصہ 3
next post
فیل ہونا بھی ایک نعمت ہے: خبیب کیانی

Related Posts

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

ڈاکٹر ناصر عباس نیر کی افسانہ نگاری

11/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.