تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

 کرونا کے بعد کا پاکستان —- نعیم صادق

by دانش ڈیسک 10/04/2020
written by دانش ڈیسک 10/04/2020
79

پاکستان میں غربت، عدم مساوات اور غلط طرز حکمرانی کے لامتناہی سفر کے خاتمے کے لیے تین اہم رکاوٹوں کو عبور کرنا ہوگا۔ اس کی بڑھتی ہوئی آبادی کو محدود کرنا، اس کی حکمرانی کے تمام شعبوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانا اور اس کی غیر فعال بیوروکریسی میں کمی کرنا۔ ہمیں کرونا۔ 19 کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے کہ اس نے تیسرے کام کو سب سے پہلے انجام دیا ہے۔ گویا حکومتی مشنری 20 سیکنڈ کے صابن حملے کی زد میں آنے والے ایک وائرس کی طرح تھی۔ جو، 7 دن سے بھی کم وقت میں عملی طور پر تحلیل ہوکر رہ گئی، اور تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر رہ گئی ہے۔

فولاد کی طرح اکٹری ہوئی بیوکریسی مشینری جس نے 72 سالوں سے، ترقی کے لئے ہر راستے کومسدود کر رکھا ہے۔ ایک معمولی جھلی میں لپٹے جرثومے سے شکست کھا گئی ہے۔ ۔ پاکستان کو اپنے عام فراموش کردہ شہریوں کے لئے مدد اور چیزوں کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت کا احساس ہوا ہے۔ اس نے کافی فنڈز اور نیک توقعات جمع کیں ہیں۔ یہ دونوں ضروری چیزیں ہونے کے باوجود کافی نہیں ہیں۔ اس کی وجوہات بالکل سادہ ہیں۔ پاکستان کو ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ اس کے عام لوگ کون ہیں، ان کے نام کیا ہیں، وہ کہاں رہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں، اس کے پاس 60 ملین غیر رجسٹرڈ بچوں کے وجود کا بھی کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ اسے تو اس بات کا بھی علم نہیں کہ اس کے 25 ملین بچے جو اسکول کے نام سے بھی نا آشنا ہیں، کون سے ہیں اور وہ کہاں رہتے ہیں۔ یہ نہیں جانتا کہ اس کے بے گھر، بے روزگار، دھاڑی مزدور، گلیوں میں پھیری لگانے والے، پلمبر، معمار، چوکیدار، بس ڈرائیور، گھریلو ملازمین، کیشیئرز، اسٹریٹ چلڈرن اور مدد کے طالب دیگر افراد، کون ہیں، کتنےہیں اور کہاں ہیں۔ وہ جو گھر سے کام نہیں کرسکتے ہیں۔

اندھیر نگری اورمعاملے کی حقیقت یہ ہے کہ ہمیں حقائق کا علم نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اعداد و شمار ہمارے پاس ہیں۔ پاکستان 72 برسوں سے ایک ‘ڈیٹا لیس’ اعداد وشمار سےمحروم سوسائٹی رہا ہے۔ ہمارے ڈیجیٹل طور پر چیلنج شدہ بیوروکریسی نے پاکستان کو فارم اور فائلوں، فوٹو کاپیوں اور حلف ناموں، دستخطوں اور ٹکٹوں میں الجھایا ہوا ہے۔ آسان الفاظ میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ ڈیجیٹل ایج کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس طرح پاکستان کے پاس ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے۔ اس کی طرز حکمرانی اور عمل میں بنیادی تبدیلیاں کریں یا تاریخ کو فراموش کردیں۔

اگرچہ سیل فون ‘ایپس’ ایک محدود تجارتی یا ٹاسک پر مبنی فنکشن کا استعمال کرسکتا ہے، لیکن وہ قومی ڈیجیٹائزیشن پروگرام کے متبادل نہیں ہیں۔ پاکستان کو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ذریعہ انجام دیئے جانے والے ہر فنکشن کے لئے ڈیجیٹل، مربوط اور مشترکہ ڈیٹا بیس عملدرآمد کی ضرورت ہے۔ اس کا تعلق اساتذہ اور طلبہ، پیدائش اور اموات، کارکنوں اور آمدنی، زمین و محصول، ٹیکس اور لین دین، تنخواہوں اور پنشن، صنعت اور کارکنوں اور صحت اور اسپتالوں سے ہوسکتا ہے۔ ان کاموں کی فہرست لامتناہی ہے۔

حکومت کو ڈیجیٹلائزیشن کے تین بنیادی اصولوں کو عوامی طور پر مشتہر کرنا چاہئے۔ پہلی بات تو یہ کہ ، کسی بھی شہری کو کسی بھی خدمت، اجازت، منظوری، لائسنس، دستاویز یا ادائیگی دینے یا وصول کرنے کے لئے کسی سرکاری دفتر جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ دوسرا یہ کہ کسی بھی سرکاری دفتر کو دی جانے والی کسی بھی معلومات کو ریاست کے کسی دوسرے دفتر سے طلب یا استمال نہیں کیا جائے گا۔ تیسرا یہ کہ کسی کو بھی کسی دفتر میں، سی این آئی سی، ڈگری، نکاح نامہ، تصدیق نامہ یا حلف نامہ کی کاپی پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

بیوروکریسی میں کمی کرنے کا پہلے قدم کے طور پر، پاکستان کو گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو آدھا کرنا چاہئے اور انہیں ملازمت چھوڑنے کا آپشن دینا چاہئے۔ محض ان سرکاری ملازمیں کے لیے مختص سرکاری گاڑیوں کو فروخت کرنے سے تقریبا 200 ارب روپے آسانی سے مل جائیں گے، اس کے بجائے، ہزاروں آئی ٹی فارغ التحصیل افراد کو ملازمت دی جائے اور سیکڑوں نئے پیپر لیس اور ‘بیوروکریسی لیس’ مربوط ڈیجیٹل طریقہ کار تیار کرنے کے لئے ایک قومی آئی ٹی تنظیم تشکیل دی جائے۔

ہماری حکومت اگلے چند ہفتوں میں جو فیصلے کرے گی۔ اس سے آئندہ برسوں کے لیےہمارے ملک کی تشکیل نو ہوگی۔ ہمیں جلد اور فیصلہ کن اقدام کرنا چاہئے۔ نئے نظام کو معاشرے کے ہمارے سب سے نظرانداز، بے وسیلہ اور کمزور طبقے کی زندگیوں کو بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہئے۔ آبادی کو محدود رکھنا، بیوروکریسی اور رکاوٹیں پیدا کرنے والے "علماء”، "مفتیوں” اور "رویت ہلال” کا خاتمہ کرونا 19 کے بعد، پاکستان کی اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔ بہر حال، ہزار برس قبل موجود شہروں کے مبہم اورقدیم خیالات پر ایک جدید ریاست تعمیر نہیں کی جاسکتی ہے۔

Facebook Comments Box
Corona virus in PakistanCoronavirusfeaturedPakistanPakistan after coronavirusVirusاتا محمد تبسمپاکستان میں کوروناکرونا وایرسکورونا وایرسوبا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
تیسری دنیا: جمہوریت اور اسٹیبلشمنٹ کا تعلق —- کاشف منظور
next post
احسان دانش: انقلابی امنگوں کا مزدور شاعر (قسط دوم) —- افضل رضویؔ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.