تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسماجیکالم

ایک دانشور کی فکر انگیز فکر مندی ——- محمد اویس حیدر

by دانش ڈیسک 28/11/2019
written by دانش ڈیسک 28/11/2019
84

معاشرہ کس قدر خراب ہو چکا ہے۔ کسی کو کسی کی بھی فکر نہیں، اور یہی فکر مجھے دن رات ستائے رکھتی ہے۔ میں جب پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس بچوں کو کوڑا اٹھاتا دیکھتا ہوں تو مجھ سخت کوفت ہوتی ہے۔ مجھے ان کے والدین پر بے انتہا غصہ آتا ہے۔ معاشرے میں ہوتی ناانصافیاں دیکھ کر میرا خون کھولنے لگتا ہے۔ میں دن رات سوچنا ہوں اور لکھ لکھ کر سب ٹھیک کر دینا چاہتا ہوں۔ میں اپنے دائیں بائیں دیکھتا ہوں تو مجھے ہر سمت جہالت ہی جہالت نظر آتی ہے۔ اخبار پڑھتا ہوں تو سب کے بیانات اور کالم نگاروں کی باتیں مجھے مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہیں۔ سڑک پر چلتے وقت راستے میں پڑے کنکر دیکھ کر میں صفائی پر معمور عملے کو دو تین گالیاں دینا نہیں بھولتا۔ مجھے ہر انسان خود غرض نظر آتا ہے۔ کوئی کسی کی اصلاح نہیں کرنا چاہتا کوئی کسی کی مدد کرنا نہیں چاہتا۔۔۔

میں یہ سب سوچ سوچ کر ہلکان ہو جاتا ہوں، پھر میں دن رات لکھنے لگتا ہوں۔ کوئی چلتا راہ گیر اگر میرے قیرب آکر مجھ سے کسی مدد کا تقاضا کر دے تو مجھے اس کے اس رویے سے سخت نفرت ہوتی ہے۔ کیونکہ میری دانش مجھے سمجھاتی ہے کہ لوگوں نے لوٹنے کے بے شمار طریقے سیکھ رکھے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ میں احمقوں کے شہر اور بے وقوفوں کے ملک میں رہتا ہوں۔۔۔ اور اسی لیے میری تیوری ہر وقت چڑھی رہتی ہے۔ کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ آسانی سے مجھ سے بات کر سکے۔ کیونکہ مجھے لوگوں کو ان کی اوقات میں رکھنا آتا ہے۔ میری دانشمندانہ تحاریر کو لوگ شوق سے پڑھتے ہیں جو میں انہی کی جہالت دور کرنے کے لیے لکھتا ہوں۔ میں ایک مفکر ہوں، دانش ور ہوں، اپنی عقل و دانش سے لوگوں کی اصلاح کرنے والا ہوں، میرے لکھے الفاظ قدر و قیمت میں انمول ہو جاتے ہیں۔

ایک روز ایک لمبے سفر پر جاتے ہوئے ایک انجان اور اپنی اطراف کو لے کر ویران قسم کی مین روڈ پر عین اس وقت جب مجھے شدید بھوک بھی لگ رہی تھی اور میری نظریں مسلسل کسی ریسٹورنٹ کی متلاشی تھیں، میری گاڑی اچانک بند ہو گئی۔ میں شدید پریشانی میں باہر نکلا اور کسی طرح ہمت کر کے گاڑی کو سائیڈ پر لگایا اور جیب سے فون نکال کر مکینک کی سروس دینے والی کمپنی کو کال کی۔ اب گاڑی کے ٹھیک ہونے میں کچھ وقت تو لگنا تھا جبکہ میرے پیٹ میں سخت بھوک کے مروڑ اٹھ رہے تھے۔ میں نے دائیں بائیں غور سے دیکھا تو سامنے کی ڈبل سڑک پار کرنے کے بعد مجھے ایک ڈھابا نما ہوٹل مل گیا۔ گو کہ وہ ہوٹل اس قابل تو نہیں تھا کہ میں وہاں کھانا کھاتا مگر بھوک کے ہاتھوں مجبور قدم خود بخود اس کی جانب بڑھ گئے۔ لکڑی کے خستہ سے بینچ پر کچھ مزدور قسم کے لوگ تندوری روٹیوں کے ساتھ چنے اور کچھ دیگر سالن کھانے میں مصروف تھے۔ مجھے انہیں دیکھ کر انتہائی کوفت ہوئی مگر پھر بھی اسی کیفیت میں مجھے ان کے ساتھ بیٹھنا پڑا۔ وہ لوگ کھانے کے ساتھ ساتھ آپس میں خوش گپیوں میں بھی مصروف تھے۔ دوکاندار خود بھی ان کے ساتھ بے تکلفانہ انداز میں انتہائی بےمقصد باتیں کر رہا تھا۔ کبھی وہ لوگ جاہلانہ لطیفے سنا کر ہنسنے لگتے تو کبھی ایک دوسے کے ساتھ مذاق میں کی گئی کسی اور بات پر۔

کیسے بے وقوف لوگ ہیں۔ میں نے دل میں سوچا۔ نہ انہیں کوئی ملکی حالات کی فکر ہے اور نہ ہی اپنی حالت کی۔ یہاں بیٹھے صرف ڈنگروں کی طرح کھانا کھا رہے ہیں اور کس قدر فضول اور بے معنی گفتگو کر رہے ہیں۔ جانے اس ملک سے جہالت کب ختم ہوگی۔ کب لوگوں میں احساس پیدا ہو گا۔۔۔ اور ان میں علمی شعور اجاگر ہو گا۔

میں انکی جہالت اور ملک کے برے حالات لے کر ان میں موجود بے حسی پر اندر ہی اندر کڑھ رہا تھا۔

وڈے پائین کی خدمت کریے تواڈی؟ مطلب کی کھانا پسند کرو گے تسی؟
دوکاندار نے چنوں کے پتیلے پر چمچہ مارا اور پھر ہونٹوں کو پھیلا کر بھدے سے دانت دکھاتے ہوئے مجھ سے پوچھا

جو بھی چیز اچھی پکائی ہے لے آو۔ میں نے ماتھے پر تیوری چڑھا کر جواب دیا
اس نے چنوں سے بھری ایک پیالہ نما پلیٹ میں ابلا انڈا ڈال کر پلیٹ میرے آگے رکھ دی۔ اور ساتھ ہی تین عدد تندوری روٹیاں بھی۔ مجھے اس کے برتن دیکھ کر نفرت سی ہوئی مگر اس سے پہلے کہ میں اسے اس بات پر کچھ کھری سناتا میرے ہاتھ غیر ارادی طور پر سالن اور روٹی کی جانب چلنے لگے۔ شائد مجھ میں ابھی مزید بھوک براداشت کرنے کی سکت نہیں ہو رہی تھی۔ یہاں تک میں پورا سالن اور تمام روٹیاں چٹ کر گیا۔

کھانا کھا چکنے کے بعد میں پیسے دینے دکاندار کے قریب گیا اور از روئے اصلاح و تعلیم اس سے پوچھا کہ ملکی حالات اتنے خراب ہیں، لوگ مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں شدید پریشان ہیں، بے حسی اپنے عروج پر ہے، جرائم ہیں کہ کس قدر بڑھ چکے ہیں۔۔۔ کیا تمہیں نہیں لگتا کہ تم لوگ جو یہاں فضول قسم کی گفتگو میں وقت برباد کرتے ہو، تمہیں کچھ دانش مندی یا کم از کم کوئی طریقہ اور شعور بھی سیکھنا چاہیے تاکہ تم اس فضول گفتگو کی جگہ لوگوں کو علمی مباحث کے زریعے کچھ سکھا سکو، ان میں بہتری لا سکو۔۔۔ اس طرح معاشرے کی بہتری میں تمہارا بھی کچھ حصہ شامل ہو سکے؟

اے دے نال اینا مزدوراں تے باقی کم کر والیاں نوں کی فیدہ ہوئے گا؟
میری توقع کے عین مطابق اس جاہل کو میری بات بالکل سمجھ نہیں آئی تھی۔ میں بھی اب اسے مزید کچھ سمجھانا نہیں چاہتا تھا۔

چھوڑو، کتنے پیسے ہوئے؟ میں نے پوچھا
چالیس روپے
چالیس روپے؟ اتنے کم پیسے۔۔۔ کیوں؟ میں نے حیرانی سے پوچھا
صاب جی مرشداں دا آڈر اے کہ ساری خیر لوکاں دی خدمت وچ اے۔۔۔ تاں کر کے ای میں نہ ہون دے برابر منافع رکھ کے سالن روٹی ویچنا واں۔ اے لوگ وی ہسدے ہسدے آندے نے تے خوشی خوشی کھا پی کے چلے جاندے نے، میرے کار دا چولہا وی بلدا ریندا وے تے مرشد ہوری وی راضی رہندے نے۔ جد سارے راضی نے تے اللہ وی ضرور ای راضی ہووے گا۔

عجیب جاہل انسان ہے؟ اتنی کم کمائی پر اس کے گھر والے اس احمق شخص سے کتنے تنگ رہتے ہوں گے، مگر اس بے وقوف میں اتنی عقل کہاں جو ایسی سیدھی بات کو بھی سمجھ سکے۔۔۔ کچھ نہیں ہو سکتا ان لوگوں کا۔ میں نے چالیس روپے دیتے وقت چشمِ تصور میں اس کے بد حال گھر والوں کو دیکھا اور اس کی اس بے حسی پر اپنی آئندہ تحریر کے لیے ایک نئی فکر مندی لے کر وہاں سے چل پڑا۔

Facebook Comments Box
Daanishwarبیمار معاشرہجعلی دانشوردانشدانشورغریب لوگقناعت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
کتے، ٹڈی دل اور سندھ کے عوام ——- سید مظفر الحق
next post
انواسی از محمد حفیظ خان ——- علی عبد اللہ

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.