تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگز

سرکاری ملازمت کاحصول: کارِ دارد ——- اے وسیم خٹک

by دانش ڈیسک 30/10/2019
written by دانش ڈیسک 30/10/2019
81

کسی بھی سرکاری ادارے میں جب ملازمت کا اشتہار آئے تو سب سے پہلے ایک کام کریں کہ اُس ادارے کی ویب سائیٹ پر جاکر تلاش کریں کہ جو اشتہار دیا گیا ہے وہاں کوئی بندہ پہلے سے کام تو نہیں کر رہا۔ اُس ادارے میں جہاں آپ ملازمت کی کوشش کر رہے ہیں وہاں آپ کا کوئی بہت ہی عزیز اور جاننے والا تو نہیں جو آپ کا صحیح معنوں میں خیرخواہ ہے۔ تیسرا آپ کی کوئی سیاسی اپروچ تو نہیں کوئی ایم پی اے، کوئی ایم این اے جو آپ کے لئے ادارے کے بڑے سے بات کرلے۔ اور آپ کو ملازمت مل جائے۔ چوتھی اور آخری بات اگر آپ کے پاس اچھی خاصی تگڑی رقم موجود ہے جس کا استعمال کرکے آپ اپنے لئے سیٹ کنفرم کراسکتے ہیں تو شوق سے ادارے کا فارم ڈاون لوڈ کرکے اپنے ڈھیروں سرٹیفیکیٹ اور سی وی کے ساتھ ادارے کے نام بنک ڈرافٹ (جوکہ پانچ سو سے پانچ ہزار تک ہوسکتے ہیں)۔ ادارے کے نام بھیج دیں اور کال لیٹر کا انتظار کرلیں۔ آپ بھول چکے ہونگے اور ایک دن ڈاک خانے سے آپ کو لیٹر موصول ہوگا۔ یا پھر کورئیر سروس والا اپ کو کال کرے گا۔ کہ لیٹر موصول ہوا ہے۔ جہاں کا ایڈریس ہے وہاں ہماری سروس نہیں۔ آپ آفس آکر وصول کرلیں۔ اس کے بعد اگر پیسوں والا معاملہ ہے تو ادارے کے ٹاوٹ سے رابطہ کریں۔ جو ہر ادارے میں ہر حکومت میں مختلف ناموں سے موجود ہوتے ہیں۔ کچھ خفیہ اور کچھ عیاں ہوتے ہیں۔ اُن سے رابطہ کرلیں۔ اور پھر ٹیسٹ اور انٹرویو تک کا سارا سفر آپ کو وہ سمجھائے گا۔ اور آپ ایک دن اعلی تعلیم یافتہ پر فوقیت پاکر سرکاری ملازمت حاصل کرلیں گے۔

آگر کسی سیاسی بندے کی اپروچ ہے تو وہ ایک بندے سے ملاقات کا کہے گا کہ سب چیزیں مجھے وٹس اپ کرکے اُس بندے سے مل لو۔ اور بے فکر ہو جاو۔ پھر ایک دن آپ کو وائیٹ کالر جاب مل جائے گی جس کے آپ حقدار نہیں ہونگے۔ اگر اپ کا کوئی بندہ اُس ادارے میں ہے تو اُس کے گھر گرم گرم چکر لگائیں۔ اپنے خاندان کے بڑوں کو اُس کے پاس لے جائیں اور بے فکر ہوکر نیٹ فلیکس پر سیریز دیکھیں اور لمبی لمبی چھوڑا کریں۔ آپ کو اطلاع مل جائے گی کہ آپ کی جاب ہوگئی ہے اور پھر کسی دن اُس بندے کو اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھلائیں اور تاعمر اُس کا احسان مند رہیں۔ وہ کبھی کبھی یہ جتائے گا بھی مگر آپ نے احسان ماننا ہوگا اس لئے خاموش رہیں۔ کیونکہ موجودہ دور میں سرکاری ملازمت جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

اگر مندرجہ بالا مثالوں کے برعکس کوئی بات ہے تو خدا کے لئے اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ آپ ہزارباراپلائی کریں۔ آپ کو منہ کی کھانی پڑے گی۔ کچھ لوگ میرٹ میرٹ کا ورد کریں گے کہ یہ فضول بات ہے۔ تو میں اُن کی قدر کرتا ہوں مگر یہ باور ضرور کراتا ہوں کہ یہ ہزاروں میں پانچ یا دس کیس ہونگے۔ جن کو میرٹ پر نوکری ملی ہوگی۔ غریب کے بیٹے کو یا بیٹی کو بہت کم آپ لوگوں نے اعلی پوزیشنوں پر دیکھا ہوگا۔ ڈاکٹر کا بیٹا ڈاکٹر، انجینیر کا بیٹا انجینیر، آرمی آفیشل کا بیٹا آرمی میں اچھے عہدے پر ہوگا۔ بہت کم غریب کے بچے اعلی پوزیشنوں پر ہونگے۔ بزنس مین کا بیٹا بزنس مین ہی بنے گا۔ یہ اب کا حال نہیں ہے۔ یہ برسوں سے اس ملک کی ریت چلی آرہی ہے۔ جس میں میرٹ کا ستیاناس ہورہا ہے۔ ہر ادارے میں خواہ وہ سرکاری ہے یا پرائیویٹ بغیر سفارش اور اپروچ کے انٹری ہی ناممکن ہے۔جس ادارے میں بھی شروعات کرنی ہوگی کسی کا سہارا لازمی ہے۔ صحافت میں این جی اوز میں یا پرائیویٹ فرمز میں ہر جگہ کسی نہ کسی کو سیڑھی بنانا ہوگا۔ یعنی جو ڈگری آپ یونیورسٹی سے لاکھوں خرچ کرکے حاصل کر چکے ہیں وہ بے وقعت لگے گی۔ مگر دوسری بات یہ ڈگری بے وقعت نہیں بلکہ اندر جانے کی ایک کڑی ہے۔ جہاں آپ کسی کے سہارے اندر آئے ہیں کل کو آپ کے سہارے بھی کسی کو اندر آنا ہے یعنی احسان چکانا ہے۔ اور یہ سارا چکر چلتا رہتا ہے۔

میری اس تحریر کا مقصد آپ سب کا دل توڑنا نہیں۔ بلکہ حقیقت کی جانب نظر کرانا ہے کہ جہاں واپڈا کے خیبر پختونخوا میں چارسو پوسٹوں کے لئے سات لاکھ ماسٹر ڈگر ی ہولڈرز کے ڈاکومنٹس موصول ہوتے ہیں۔ جہاں کسی یونیورسٹی میں پندرہ بیس وزٹنگ لیکچررز کے لئے دوہزار ایم فل طالبات کے ڈاکومنٹس آتے ہیں اور میل کے ہزاروں میں ہوتے ہیں۔ جہاں سات ہزار سے زیادہ پی ایچ ڈی بے روزگار پھر رہے ہوں وہاں کیا میں امید کا راگ الاپ کر اچھا لگوں گا۔ خیر چھوڑیئے۔ اخبار کھنگالئے کوئی جاب آئی ہو تو اُس کے مطابق چیک کیجِئے اور اپلائی کرکے اپنا حق ادا کیجئے۔ باقی اللہ پر چھوڑ دیجیے کیونکہ اللہ بڑا کارساز ہے ہوسکتا ہے جس ادارے میں آپ جاب کے لئے اپلائی کر رہے ہوں وہاں کوئی خود سر اور سر پھرا بیٹھا ہو جو میرٹ پر یقین رکھتا ہو۔ اور آپ کو سرکاری ملازمت مل جائے۔

Facebook Comments Box
Government JobsJobجابسرکاری ملازمسرکاری ملازمتملازمت
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
اِقبال کا فلسفۂِ زمان و مکان ——– منیر احمد خلیلی
next post
روحانیت اور اسپارک پلگ ——– عمران شبیر تاجی

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

07/12/2025

10/11/2025

16/07/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.