تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
مزید

حرف سپاس: تحریر ’بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل‘ کی پذیرائی کا شکریہ ۔۔۔ ہمایوں مجاہد

by ہمایوں مجاہد تارڑ 09/03/2017
written by ہمایوں مجاہد تارڑ 09/03/2017
101

ملک پاکستان ہو یا امریکہ، ترقی یافتہ ممالک ہوں یا تیسری دنیا،  رائج الوقت تعلیمی نظام لیبر چائلڈ ہی کی ایک  مہذّبانہ شکل ہے۔ اس کا  بہیمانہ چہرہ بے نقاب کرتی ناچیز کی تحریر پر جو پذیرائی موصول ہوئی، اس کا شکریہ ادا کرنا واجب ہے۔ یہ  بھی کہنا ہے کہ یہ گردو غبار بہت زیادہ ہے۔  خاطر جمع رکھیں کہ اس  تحریر کی دو چار مزید اقساط   ‘زیر تعمیر’ ہیں۔ اب اس  موضوع کی جزئیات پر بات ہونی چاہیئے۔  تاکہ تعلیمی نظام کے ایک نئے ماڈل کی راہ ہموار ہوسکے.  اوّلین قسط پر  منسٹری آف ایجوکیشن سے  ایک دوست سہیل عزیز صاحب کا فون آیا۔ وہ ایک حد درجہ ذہین، روشن خیال ، کہنہ مشق،  مخلص و تجربہ کار ایجوکیشنسٹ ہیں۔  کہنے لگے آپ کا آرٹیکل آئندہ کی منصوبہ بندی میں ایک ریفرنس کا کام دے گا۔اُدھر آزاد کشمیر میں جمیل حسین  صاحب، ایک جوشیلے اور مخلص ماہر تعلیم، اپنا پہلا ادارہ اسی فارمیٹ پر کھڑا کرنے کے لیے پرعزم ہو گئے ہیں۔ کہنے لگے آپکا آرٹیکل پڑھ کر رو دیا۔ اور شکر ہے سکول کا آغاز کرنے سے قبل یہ آرٹیکل دیکھ لیا ۔ عنقریب اسلام آباد تشریف لائیں گے، اور جزئیات پر بات کرنا چاہیں گے۔ اِدھر پاک ترک سکول کے ہیڈ آفس سے ایک  ڈائریکٹر دوست شکیل احمد صاحب نے قدر افزائی کی۔  مضبوط لب و لہجہ کے مالک  اسد خاں صاحب کے کومنٹس نے، عثمان  بھائی اور عابدہ بہن و دیگر ان کے کومنٹس نے میرا حوصلہ کئی گنا بڑھا دیا ہے۔مالک کا جتنا شکر ادا کروں، کم ہے کہ اس نے بات کہنے کی ہمّت و توفیق  ارزاں کی۔

یہ کہنا غلط ہو گا کہ اس تحریر کی پہلی قسط پر موصول ہونے والا رسپانس مصنّف کے گمان میں  نہ تھا۔یہ بات اب  ایک تجربہ  بن کر حق الیقین کا درجہ پا چکی کہ ‘دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے’۔ نا انصافی اورجبر  پر مبنی فضاء  اور اس کے ذمّہ داروں  کو کوئی ایک آواز بھی  للکارنے  پر آ جائے، دوسری آواز یں  از خود ابھرنے لگتی  اور ہمرکاب ہو جاتی ہیں۔ یوں شب سیاہ کی  دبیز چادر  کا سینہ چاک ہونے لگتا ہے۔  پہلی آواز ، پہلی للکار، روشنی  کی پہلی کرن، نغمے کا پہلا بول  البتہ ناگزیر ہے۔  پہلا بول ، اوّلین سطر ہی ذرا سُر میں کہہ  دیں۔ گوشِ مشتاق  آس پاس میں، یہیں کہیں موجود ہے جو باقی کا نغمہ از  خود  سن لے گی۔

گوش مشتاق کی کیا بات ہے اللہ اللہ

سن رہا ہوں میں وہ نغمہ جو ابھی ساز میں ہے

چلتے چلتے  امجد اسلام امجد  کی وہ مشہور آزاد نظم سنا دوں تو ساری کیفیت  sum up ہو جائے گی.

کرو، جو بات کرنی ہے
اگر اس آس پہ بیٹھے، کہ دنیا
بس تمہیں سننے کی خاطر
گوش بر آواز ہو کر بیٹھ جائے گی
تو ایسا ہو نہیں سکتا
زمانہ، ایک لوگوں سے بھرا فٹ پاتھ ہے جس پر
کسی کو ایک لمحے کے لئے رُکنا نہیں ملتا
بٹھاؤ لاکھ تُم پہرے
تماشا گاہِ عالم سے گزرتی جائے گی خلقت
بِنا دیکھے، بِنا ٹھہرے
جِسے تُم وقت کہتے ہو
دھندلکا سا کوئی جیسے زمیں سے آسماں تک ہے
یہ کوئی خواب ہے جیسے
نہیں معلوم کچھ اس خواب کی مہلت کہاں تک ہے

کرو، جو بات کرنی ہے

امجد اسلام امجد

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ہمایوں مجاہد تارڑ

ہمایوں مجاہد تارڑ شعبہ تدریس سے وابستہ ہیں۔ اولیول سسٹم آف ایجوکیشن میں انگریزی مضمون کے استاد ہیں۔ بیکن ہاؤس، سٹی سکول ایسے متعدّد پرائیویٹ اداروں سے منسلک رہ چکے۔ ان دنوں بھی اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ادارے کے کیمبرج سیکشن میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔سوشل میڈیا پر خاصے ایکٹو رہے ہیں۔تاہم، کسی قلبی واردات کا شکار ہو کر نئے سال 2017 کے طلوع سے ٹھیک ایک روز قبل یہ غروب ہو گئے تھے۔ پردہ نشینی کی وجوہات میں ایک خاص وجہ ان کا ایک نئے تعلیمی ماڈل کا قیام پر کام کرنا تھا، جو خاصی مقدار میں ہو بھی چکا۔اِن دنوں اس انقلاب آفریں نئے ماڈل کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس موضوع پر ان کی تحریر 'بچوں کی تعلیم کا جبر: آزادی کا ایک ماڈل' دانش ویب سائٹ پر ہی ظاہر ہو کر اچھا رسپانس وصول کر چکی۔اندرون اور بیرون ملک مقیم کچھ احباب نے بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا، اور ان کےہمرکاب ہو جانے کا دم بھر ا ہے۔

previous post
منصفوں کی جیب میں، آخریہ کیا محفوظ ہے؟ خالد عرفان
next post
کامیابی اور طاقت کا حصول کیوں ضروری ہے؟ عاطف طفیل

Related Posts

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین...

16/07/2025

برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس...

08/09/2024

قوالی کا رحجان، پاکستانی و بھارتی فلموں کے...

15/04/2023

تعلیمات خواجہ معین الدّین چشتی اجمیری رح: ملفوظات...

04/02/2022

ناقدینِ تصوف اور اہل تصوف سے شکوہ —–...

21/11/2021

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.