تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

زمینی خوشیوں کا متلاشی: ڈاکٹر انور سجاد —— محمد حمید شاہد

by محمد حمید شاہد 17/06/2019
written by محمد حمید شاہد 17/06/2019
67

سپین کے دارالحکومت میڈ رڈ کے لگ بھگ وسط میں سپینش نیشنل آرٹ میوزیم ”پراڈو” واقع ہے۔ اس میں موجود یورپی دنیا کے عظیم اور قیمتی فن پارے آرٹ سے محبت کرنے والوں کو اپنی جانب کھینچتے رہتے ہیں۔ اسی میوزیم میں ڈچ مصور ہائر نیمس بوش (Hieronymus Bosch) کا ایک شاہکار ،(The Garden of Earthly Delights) ’’زمینی خوشیوں کا باغ‘‘ بھی ہر ایک کی توجہ کا مرکز ہے۔ دو چھوٹے اور ایک بڑے، تین پینلوں پر مشتمل یہ فن پارہ اپنے اندر اِتنا کچھ سمیٹے ہوئے ہے کہ مہینوں اس کے سامنے کھڑے ہو کراس میں موجود باریک اور جادوئی کام کو معنی پہناتے چلے جائیں، تب بھی اس کی تفہیم مکمل نہ ہو پائے گی۔ 87 X77انچ کے وسطی پینل پر دونوں بغلی پینلوں کو وسطی حصے پر اوندھا کریوں جوڑا جاسکتا ہے کہ اس کی پشت پر بنا ہوا کام بھی مکمل صورت میں سامنے آ جاتا ہے۔ وہاں ایک گلوب ہے جس میں دنیا کی تخلیق کا تیسرا دِن دِکھایا جارہا ہے۔ یہی وہ فن پارہ ہے جس کے وسیلے سے میں ڈاکٹر انور سجاد کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ ہوا یوں تھاکہ جب اُن کا ناول ’’خوشیوں کا باغ‘‘ آیا تو پہلے پہل اس کتاب کے نام نے توجہ کھینچی تھی۔ میں نے اسے حاصل کیا تو اُس کی پیشکش کے انداز سے متاثر ہوا۔ لگ بھگ ہر صفحے پر اوپر کی جانب ایک مضبوط ہاتھ کی گرفت میں ایک کمزور سا ہاتھ تھا جس کی انگلیاں تکلیف کی شدت کو سہہ لینے کے لیے اندر کی طرف موڑ لی گئی تھیں۔ کتاب کے عین آغاز میں، جہاں ’’پہلا لفظ ‘‘کا عنوان قائم کرکے صرف تین جملوں کی مختصر عبارت ٹکڑوں میں بانٹ کر ایک نظم کی صورت دس سطروں میں ترتیب دے لی گئی تھی، اس کے نیچے ایک عورت کا اسکیچ تھا۔ عورت کا منہ آسمان کی طرف اُٹھا ہوا تھا اور ایک چیخ اُس کے حلقوم کو چیرتی ہوئی نکل رہی تھی۔ جی چاہتا ہے، اس چیخ ہو جانے والی عبارت کو یہاں مقتبس کردوں:

’’ میں یہاں ایک ہوں۔
اگر خواہشوں، خیالوں اور لفظوں کو،
ٓآواز سے روشناس کرانا
خطرناک ہے
تو باہر سارا ہجوم، سارا شہر، سارا ملک، ساری کائنات
خطرناک ہے۔
اُنہوں نے اپنے مقدر پر لگی
جبر و استبداد کی مہریں
توڑ ڈالی ہیں۔‘‘

وہ ناول جو اپنی تیکنیک اور زبان کے شعری بہائو کی وجہ سے بالکل مختلف ہو گیا تھا، اس کے آغاز میں ہم ہائر نیمس بوش سے متعارف ہوتے ہیں اور اس کے معروف فن پارے ’’زمینی خوشیوں کے باغ‘‘ سے بھی۔ ڈاکٹر انور سجاد نے اپنے ناول کا نام ’’خوشیوں کا باغ‘‘ نہ صرف اس فن پارے سے لیا، کہانی کی تحریک بھی وہیں سے پائی تھی۔ 1981 میں چھپنے والے اس ناول میں مذہبی بربریت، عسکری اور ریاستی تشدد اور تیسری دنیا کے پس ماندہ سماج میں بے بسی کی تصویر ہو جانے والے ’’میں‘‘ کے کردار سے کہانی متشکل کی گئی ہے۔ جی، ایک ایسا کردار جو مادی آسائشوں پر دستر س رکھتے ہوئے بھی گھٹن کا شکار ہے۔ اس کی روح بے چین ہے اور اس کی ذات ایک شدید اکلاپے کا عذاب سہنے پر مجبور ہے۔

’’ جب سب ٹھیک ٹھاک ہے، جب میری زندگی میں مکمل طور پر رچائو ہے تو پھر میرے جسم میں چیونٹیاں کیوں رینگتی ہیں؟ مجھے ان کی سرسراہٹ صاف سنائی دیتی ہے۔‘‘ (خوشیوں کا باغ)

ڈاکٹر انور سجاد کے ایک اور ناول ’’جنم روپ‘‘ کا بھی یہاں ذِکر ہونا چاہیے، جس میںایک عورت مرکزی کردار ہو کر مردانہ سماج میں اس گھٹن کو نشان زد کر رہی ہے جو اُس کا جیون دوبھر کر رہی ہے :

’’عورت اگر مرد کے ساتھ قانونی طور پر منسلک نہ ہو تو اس کا کوئی بھرم نہیں ہوتا۔۔۔ سوچتی ہوں،انسانی کلچر دراصل مرد ہی کا کلچر ہے۔ عورت کا اگر کوئی کلچر ہے تو ذیلی طفیلی کلچر[ہے]۔ ’’ جنم روپ‘‘

انور سجاد کا کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے علامت اور تجرید کے وسیلوں کو برت کر اُردو افسانے میں بالکل الگ رجحان کی صورت گری کی۔ تاہم یہ بھی صورت واقعہ ہے کہ وہ علامت اور تجرید کی جانب ایک روشن صبح جست لگا کر نہیں پہنچ گئے تھے اُن کے افسانوں کے مجموعوں’’ پہلی کہانیاں‘‘، ’’ چوراہا‘‘، ’’استعارے‘‘ اور ’’آج‘‘ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ اپنے تخلیقی تجربات سے وابستہ رہ کر اس راہ پر آئے تھے۔ انور سجاد نے کہیں لکھا تھا کہ اُن کا مسئلہ یہ رہا ہے کہ وہ بدلتی ہوئی حقیقتوں کے ادراک کی کوشش میں، نئی صورت حال کے توسل سے رواں زندگی کے بارے میں اپنی فہم اور نقطہ نظر اور ہیئت کے درمیان جمالیاتی اعتبار سے ایک جدلیاتی توازن قائم ہو جائے۔ یہ توازن جہاں جہاں قائم ہوا ہے انور سجاد کے افسانے نے اپنے اثرات مرتب کیے ہیں۔

انور سجاد کے افسانے کے سب سے بڑے معترف شمس الرحمن فاروقی رہے ہیں۔ اُنہوں نے ان کی افسانہ نگاری کے بارے میں یہ جو کہہ رکھا ہے کہ انور سجاد اپنے کرداروں کو جسمانی یا ذہنی کیفیات کے ذریعے اسطوری فضا سے متعلق کر دیتے ہیں تو یہ بھی ایسی بات نہیں ہے جسے لائق اعتنا نہ سمجھا جائے۔ مثلاً ان کا افسانہ دیکھئے ’’پرومیتھیس‘‘، یا پھر ’’سنڈریلا‘‘ کو دیکھ لیں، اسی طرح ایک افسانہ ہے’’ پتھر لہو کتا‘‘ یا پھر ’’کیکر‘‘ ان سب افسانوں میں اسطوری تجسیم ہوتی ہے۔ روح عصر کو گرفت میں لینے کے لیے انہوں نے ہر ممکن وسیلہ اِستعمال کیا اور اِسی سے اپنے افسانے کی الگ دھج بنا ئی۔ روح عصر کا ذِکر ہوا تو میرا دھیان اُن کے افسانے ’’سیاہ رات‘‘ کی طرف ہو گیا ہے۔ اسی افسانے سے ایک ٹکڑا یہاں دے رہا ہوں:

’’تو ہوتا یوں ہے کہ جب لوگ اپنی کنواریوں کے بدن سے پھوٹتی چاندنی، اپنے پراسرارپانیوں کا نیل، اپنی زمین کی سوندھی باس، پھولوں کی قوسِ قزح کو رہن رکھنے سے انکار کر دیتے ہیں تو سات سمندر پار کے اِنسانی حقوق، اِنسانی عظمت و تکریم کے ٹھیکیدار اپنی مقامی پتلیوں کے ہاتھ مصوری کے ایسے شاہکار تخلیق کرواتے ہیں جن میں پس منظر اور سیاہ چادر کے پلو کی اوٹ کے مناظر، زمانے، موسم، آب و ہوا، حدود ابعہ کے مطابق بدلتے رہتے ہیں، لیکن پیش منظر وہی رہتا ہے۔‘‘ (سیاہ رات)

انور سجاد نے’’میں اور میرا فن‘‘ عنوان کی ذیل میں یہ بھی بتا رکھا ہے:

’’میں کہانی لکھتا ہوں اور اس کے لیے مجھے بہت محنت کرنا پڑتی ہے۔ غیب سے مضامین میرے خیال میں نہیں آتے کہ غائب اور میرے درمیان انسان موجود ہے۔ میں غیب کو ’انسانیا‘ سکتا ہوں،لیکن انسان کو ’غیبیا‘ نہیں سکتا۔ ‘‘ (میں اور میرا فن)

شاید اس مرحلے پر میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ پائوں گا کہ یہ کتنا بڑا سانحہ ہے کہ اپنے زمانے کا سب سے زیادہ زندہ شخص، جو ایک وجود میں کئی تخلیقی وجود رکھتا تھا، لاہور کی چونا منڈی کا ڈاکٹر، ایک رقاص جس نے باقاعدہ تربیت حاصل کی،ڈرامے لکھنے والا، اداکاری کے جوہر دکھانے والا، مصوری اور موسیقی کا رسیا، کہانیاں لکھنے اور ایک ہنگامہ برپا کرنے والا، ترقی پسند، روشن خیال، سیاسی کارکن اور عین اسی لمحے فکشن پر جدیدیت کے دروازے کھولنے والا، اول اول ادبی منظر نامے سے الگ ہوتاچلا جاتا ہے، اور اس کا سبب ایک عورت ہے حالاں کہ اس کا فن ہمیشہ عورت ذات کے ساتھ رہا ہے۔ ایک بڑے گھر اور سماجی مرتبے والاشخص تنگ دست ہو کر سماجی بے حسی کے چرکے سہتا ہے، پھر دُکھ جھیلتے اور بیماریوں سے لڑتے بھڑتے ہماری نظروں سے غائب ہو جاتا ہے۔ جی وہی انور سجاد جو کہا کرتے تھے کہ میں غیب کو ’انسانیا‘ سکتا ہوں،لیکن انسان کو ’غیبیا‘ نہیں سکتا، وہی ایسے زمانے میں مر کر غائب ہو گئے ہیں جس میں غائب ہونے کے بعد مر جانا یا مارا جانا ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔

یہ بھی ملاحظہ کیجئے:  ڈاکٹر انور سجاد —— شہزاد وریا
Facebook Comments Box
ڈاکٹر انور سجادمحمد حمید شاہد
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمد حمید شاہد

محمدحمید شاہد اردو کے معروف افسانہ نگار، ناول نگار اور نقاد ہیں ۔ آپ 23 مارچ 1957 کو پنڈی گھیب ضلع اٹک (پنجاب) پاکستان میں پیدا ہوئے ۔ پنڈی گھیب سے میٹرک کے بعد زرعی یونیورسٹی لائل پور(فیصل آباد) سے ایف ایس سے کے بعد ایگری کلچر مضامین میں گریجویشن کی اور ایک بنکار کی حیثیت سے بتیس سال عملی زندگی سے وابستہ رہے۔ اس عرصے میں اندرون ملک شہر شہر گھومے، دیہی زندگی کو قریب سے دیکھا اور کئی ممالک کا دورے بھی کیے ۔ محمد حمید شاہد کی ادبی زندگی کاآغاز یونیورسٹی کے زمانے سے ہی ہو گیا تھا ۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے مجلہ "کشت نو" کے مدیر رہے۔ پہلا افسانہ بھی اسی زمانے میں لکھا۔ پہلی کتاب " پیکر جمیل" بھی یونیورسٹی کے زمانے میں لکھی ۔ افسانوں کا پہلا مجموعہ "بند آنکھوں سے پرے "تھا جب کہ "جنم جہنم"،"مرگ زار"اور "آدمی" آپ کے افسانوں کے دیگر مجموعے ہیں۔ "محمد حمید شاہد کے پچاس افسانے" معروف بزرگ ادیب اور شاعر ڈاکٹر توصیف تبسم کا منتخب کردہ ہے جب کہ محمد حمید شاہد کے نائن الیون کے پس منظر میں لکھے ہوئے منتخب افسانوں کو "دہشت میں محبت" کے نام سے غالب نشتر نے مرتب کیا تھا۔ محمد حمید شاہد کا ناول"مٹی آدم کھاتی ہے" کے نام سے چھپا اور مقبول ہوا ۔ فکشن کی تنقید محمد حمید شاہد کی ترجیحات کا ایک اور علاقہ ہے ۔ "ادبی تنازعات"،"اردو افسانہ:صورت و معنیٰ"، "اردو فکشن: نئے مباحث"،"کہانی اور یوسا سے معاملہ " کے علاوہ "سعادت حسن منٹو:جادوئی حقیقت اور آج کا افسانہ" اس حوالے سے چند معروف کتب ہیں ۔ اردو نظم پر تنقید کی کتاب"راشد ،میراجی، فیض" کے علاوہ آپ کی نثموں کی کتاب لمحوں کا لمس اور بین الاقوامی شاعری کے تراجم پر مشتمل کتاب "سمندر اور سمندر" بھی بہت معروف ہیں۔ حکومت پاکستان نے محمد حمید شاہد کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کے لیے صدارتی سول ایوارڈ "تمغہ امتیاز" 2017 کو دیا۔

previous post
دی ریوننٹ کے سحر سے پلیٹوس کی پُراسراریت تک —– فرح دیبا اکرم
next post
تعلیم یافتہ دکھنے کے جدید طریقے: مولوی کو برا کہیں (۱) —- نعیم مشتاق

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

شعور کی انارکی یا ارتقاء کا شعور؟ —–...

12/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.