تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
بلاگزتازہ ترینسفرنامہعلم و ادب

راستوں کا سفر (۱) —– فرح دیبا اکرم

by دانش ڈیسک 10/06/2019
written by دانش ڈیسک 10/06/2019
60

آپ کا دل اپنی پسندیدہ جگہ میں رہتے ہوئے گھبرانے لگے تو کچھ وقت کے لئے فاصلہ لینا بہتر ہوتا ہے اس طرح محبت اُکتاہٹ کا شکار ہونے سے بچ جاتی ہے اور آپ زندگی کے کچھ نئے زاویوں سے متعارف ہو جاتے ہیں۔

میں نے بھی کچھ دنوں کا سنیاس لینے کا سوچا لیکن کئی دن ایسے ہی گزر گئے کیوں کہ دو دوست ساتھ جا رہی تھیں اور ان کا پلاننگ فیز ختم نہیں ہو رہا تھا اس لئے ہم آج کل ہر چیز کی منصوبہ بندی کرتے ہیں پلان اے اور پلان بی بنا کر چلتے ہیں مگر میں ہمیشہ سے ذیادہ منصوبہ بندی سے گریز برتتی ہوں۔ شاید مجھ میں ذاتی سطح پر اس چیز کی کافی کمی ہے۔ لہذا ایک دن اپنی دوست سے کہا کل ہم جا رہے ہیں اور بلا بلا کار (یورپ میں کئی دوسری سفری سہولتوں کے ساتھ یہ ایک اچھا اضافہ ہے۔ آپ آن لائن بُک کرتے ہیں اور کار میں جتنی سیٹس ہوں اتنے لوگوں کو ڈرائیور کنفرم کر دیتا ہے، اس طرح راستے میں آپکو جہاں رکنا ہو وہ کچھ وقت کے لئے بریک دے دیتا ہے اور عام طور پر بس جتنے یا کبھی اس سے کم کرایے پر یہ کار مل جاتی ہے۔ مجھے ذاتی طور پر بس کی بجائے ایسے جانا زیادہ پسند ہے) پہ چلتے ہیں تاکہ ہم اس ملک سے دوسرے ملک تک جو دیہاتوں اور سباربز کی خوبصورتی ہے اسں سے محظوظ ہوتے جائیں۔ خیر بدھاپیشٹ سے زگرب جو کہ کروشیا کا دارلحکومت ہے ہم پانچ گھنٹوں میں پہنچ گئے۔ ہماری موٹروے جیسا ہائی وے ہے جس میں مختلف جگہوں پہ جانوروں کے لئے پُل بنائے گئے ہیں۔ اس لیے کہ ہائی وے کے دونوں اطراف چھوٹے چھوٹے جنگل ہیں جس میں مختلف اقسام کے جانور رہتے ہیں جنھیں ایک طرف سے دوسری طرف جانے کے لئے پُل بنا کر دئیے گئے ہیں تاکہ ان کی جان کو محفوظ رکھا جائے اور ہائی وے کی روانی بھی متاثر نہ ہو۔ ان پُلوں کے دونوں اطراف لوہے کی باڑ لگی ہوئی ہے جسے پودوں نے ڈھانپ لیا ہے۔

پورے راستے بہت خوبصورت لینڈ سکیپنگ ہے اور مٹی کے پہاڑوں کو چونکہ ملک ریاض نہیں ملا تو ان میں اسی حالت میں علاقائی فصلیں اُگائی گئی ہیں جو ہوا میں جھولتے ہوئی قدرت کا رقص کرتی بے حد اچھی لگتی ہیں اور کہیں تصویر نگاروں کا موضوع بنتی رہتی ہیں۔ کروشیا چونکہ شینجن میں نہیں ہے تو اس کے بارڈر پہ باقاعدہ چیکنگ ہوتی ہے اور داخلہ سٹیمپ پاسپورٹ پہ لگائی جاتی ہے اور اسی طرح واپسی پہ بھی چیکنگ کے بعد ایگزٹ مہر لگتی ہے۔ آپ کار میں ہیں یا بس میں اگر یورپی نہیں ہیں تو یہ سارا عمل دہرایا جاتا ہے لیکن بہت احسن اور عزت دارانہ طریقے سے یعنی آپکو دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری کے طور پر ٹریٹ نہیں کرتے۔ عام طور پہ شینجن ممالک کے درمیان ایسے فزیکل بارڈر موجود نہیں ہیں لیکن اگر وہ چاہیں تو رکھ بھی سکتے ہیں۔ بارڈرلیس شینجن ممالک اپنی چیزوں کی نقل وحمل، تجارت اور ٹرانسپورٹیشن باآسانی کرتے ہیں اسی طرح سوٹزرلینڈ یورپی یونین کا حصہ نہیں ہے وہ ایک نیوٹرل ملک ہے اور کسی بھی ہیونین یا گروپ کا حصہ نہیں اور نہ ہی کسی جنگ میں شامل ہوتا ہے لیکن یورپی یونین کے مطابق کچھ چیزیں سوئٹزرلینڈ اور یونین میں ایک جیسی رکھی گئی ہیں۔

خیر ہمارا ڈرائیور جو کہ کروشین تھا اور زگرب سے تعلق رکھتا تھا تو سوچا لوکل ہے کچھ گفتگو کرتے ہیں سفر بھی اچھا رہے گا۔ اس سے باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ کروشین لوگ بہت محب وطن ہیں لیکن جنوبی اور شمالی کروشیا کے لوگ فٹبال کی وجہ سے ایک دوسرے سے وقتاً فوقتاً ناپسندیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں خاص طور پہ جب ان دونوں کے درمیان فٹبال میچ ہوتا ہے لیکن یہی لوگ ایک ہو کر قومی ٹیم کو خوب سپورٹ کرتے ہیں جب کروشین ٹیم بین الاقوامی میچ کھیلتی ہے، اسی طرح سربین اور کروشین ایک دوسرے سے بہت نفرت کرتے ہیں حالانکہ آج کل کروشین نوجوان سربین فوک میوزک کے بُری طرح دلدادہ ہوئے پڑے ہیں اور دونوں ممالک کے لوگ ایک دوسرے کی الکوحل کو بہت شوق سے پیتے ہیں لیکن یہ نفرت یوگوسلاوین وار کی وجہ سے پیدا ہوئی تھی جو نسل در نسل آگے بڑھتی جا رہی ہے اور اب تک لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اس نفرت کے عنصر کو استعمال کرتے ہیں اس لئے یہ لوگ اپنے ہمسائیوں سے نفرت کرتے ہیں یعنی صرف انڈیا پاکستان نہیں دنیا میں دوسری جگہوں پہ بھی طاقت اور حکومت کے لئے پروپیگنڈا کیا جاتا ہے جس میں مختلف مفاداتی گروہ اپنے اپنے مفادات کی خاطر شامل ہوتے ہیں۔

مارکو نے بتایا کہ پچھلے سال وہ سالانہ چھٹیاں گزارنے چائنہ گیا تھا، اسے چائنیز بالکل پسند نہیں آئے جس کی بنیادی وجہ ان کا ایگریسو رویہ تھا دوسرا وہ بہت پُشی ہیں جہاں بھی قطار یا مارکیٹ میں ہوتے اپنے ساتھ والوں کو دھکیل کر آگے نکلنے کی کوشش میں لگے رہتے جیسے انکو پرسنل سپیس کا بالکل کوئی خیال نہ ہو اور یہ رویہ خاص طور پر بہت اذیتناک تھا۔

اس سلسلہ کی اگلی تحریر اس لنک پہ پڑھیے
Facebook Comments Box
زگربسفرفرح دیبا اکرمکروشیا
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ساحرہ —- مریم عرفان کا افسانہ
next post
پارلیمنٹ اور خواتین: ایک تاثر —— اے خالق سرگانہ

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...

22/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.