تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبفکشن

ساحرہ —- مریم عرفان کا افسانہ

by دانش ڈیسک 10/06/2019
written by دانش ڈیسک 10/06/2019
60

وہ اور اس کی بیوی ایسے ہی تھے جیسے بارش میں نکلی دھوپ یا پھر بہت کچھ یا شاید کچھ بھی نہیں۔ معید احمد اور ساحرہ وقار جیسے ایک ستارہ رات کو نکلا اور دوسرا دن کو۔ دو متضاد لوگ ایک پلیٹ فارم پر کھڑے گاڑی کا انتظار کرتے رہے۔ گاڑی آئی دونوں سوار ہوئے لیکن سٹیشن بدل گئے۔ ساحرہ اپنے نام کی طرح تھی مسحور کر دینے والی، سحرانگیز، جادو پھونک دینے والی جو اس کی زندگی میں آئی تو سب کچھ الٹ پلٹ ہوگیا۔ اس کے مساموں سے پھوٹنے والی خوشبو، اس کے گورے ہاتھوں پر لگی مہندی اور گردن میں پڑی سونے کی زنجیر کے بل معید کو کروٹیں بدلنے پر مجبورکرنے لگے۔ وہ اس کی زندگی میں آ تو گئی لیکن ایسے جیسے کوئی کشتی بادبان کے بغیر سمندر میں اترتی ہے یا پھر جیسے کوئی مسافر نقشے کے بغیر سفر کو نکلے تو نہ منزل ملے اور نہ واپسی کا راستہ۔ وہ بہت عجیب دن تھے جو دونوں کو اکٹھے جینا پڑے۔ گھر کا بڑا لڑکا معید احمد دھان پان سی ساحرہ کے آگے پدی کا شوربہ تھا۔

ٹھنڈی سڑک جیسی ساحرہ پر کبھی سورج نہیں اگا بس سائے ہی تنے رہے اور معید احمد ایسا الاؤ جس کی تپش سونگھ کر کچی مٹی بھی اپنا اثرچھوڑ دے۔ معید کی ان دنوں عجیب حالت تھی۔ کام میں من لگتا اور نہ گھر میں سکون ملتا جیسے سب کچھ اتھل پتھل ہوگیا ہو۔ ساحرہ اس کے دماغ میں تیز نشے کی بو بن کر گھس چکی تھی، اس کے نتھنے اس بو کی کاٹ سے چھلنی تھے۔ سب ٹھیک چل رہا تھا لیکن معید کے لیے ابھی بھی کچھ کمی تھی۔ اسے ملازمت میں ترقی سے زیادہ ساحرہ کے خواب آتے تھے۔ یہ خواب جاگتے میں سانپ کی طرح دل کے سنگھاسن پر کنڈلی مار لیتے۔ وہ اس وقت کیا کر رہی ہوگی۔ کیا سوچ رہی ہو گی۔ تیار ہوکرکیسی دکھے گی، جب گھر جاؤں گا تو کیسے ملے گی۔ ایسی سوچیں معید کو فائلوں کے ڈھیر پر مسکراتی ملتیں لیکن گھر لوٹنے پر وہ معید کو ایسے ملتی جیسے کوئی زبردستی کا سودا ہو۔ یا دروازے پر آیا پھیری والا، جسے سودا بیچنے کے سوا کوئی سروکار نہیں۔ پیشانی پر تناؤ، کھنچے ہوئے ہونٹ اور پھیکی سی مسکراہٹ۔ بعض اوقات تو سردمہری کی آنچ اسے گھرکی دہلیز پر ہی جلا کر خاک کر دیتی۔

معید احمد دیگ میں پک پک کر ختم ہونے لگا تھابس اک آس تھی کہ شاید اسے ساحرہ پوری مل جائے۔ پھر وہی روایتی قصے اور گلے شکوے شروع ہوگئے۔ الگ گھر چاہیے، جہاں میں آزادی سے رہ سکوں، پرندے رکھوں، چھوٹے سے کچن میں شام کی چائے بناؤں، جہاں صبحیں میری مرضی کی محتاج ہوں اور راتیں تمہاری۔ بس وہ کچھ ایسا ہی کہا کرتی تھی جادو جو آتا تھا اسے۔ ساحرہ جانتی تھی کہ جس پر سحرچلتا ہے وہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہو پاتا۔ تو پھر گھٹنوں کے بل کھڑا معید اس کے قد کے برابر کیسے ہو جاتا۔ ساحرہ اس کے لیے کھجور کا درخت بن چکی تھی جو دھوپ میں سایہ نہیں دیتا یا شاید پاپولر کے پیڑکی طرح جس پر پھول بھی نہیں لگتا۔ ویسے ہی ساحرہ اپنے قد کی دھوپ میں ٹنڈ منڈ کھڑی رہی۔ پھر راستے بدل گئے۔ ایک ٹریک پر دونوں ٹرینیں کانٹا بدلنے سے الگ ہو گئیں۔ معید احمد زندگی میں شاید پہلی بار تکیے میں منہ دے کر رویا۔ جیسے کوئی نئی نویلی بیوہ اپنے گہنے توڑتی ہے ویسے ہی ایک جوان نے اپنے اندر کے مرد کو ٹوٹتے دیکھا۔ زندگی کی گاڑی پٹری کے کانٹے بدلنے سے کبھی نہیں رکتی ویسے ہی معید کی زندگی کو بھی چلتے رہنا تھا۔ ماں کا کہنا تھا کہ ساحرہ جیسی پچھل پیری اس کے لیے منحوس تھی۔ وہ ابلتے ہوئے دودھ پر آئی جھاگ جیسی تھی جو ایک ابال آنے پر چمچ ہلانے سے حل ہوجائے اور ٹھنڈی ہونے پر پتیلی کے پیندے اور دیواروں سے چپکے۔ معید کو لگتا تھا جیسے ساحرہ چیونگم بن کر اس کے جسم سے چپک گئی ہے۔ جسے وہ کبھی برف مل کر اتارتا اور کبھی چھری سے چھیلنے کی کوشش کرتا مگر سب بے سود۔

مرد کی زندگی میں دو عورتیں ایسے ہی ہیں جیسے ایک قبرپر دوسری قبر۔ بندہ فاتحہ کس پر پڑھے۔

معید دو سال تک خود کو سہلاتا رہا۔ زیادہ تنگ ہوتا تو پچھل پیری کے قدموں کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوتا۔ شاید وہ کہیں نظر آجائے، اپنے گھر کی دہلیز کے باہر ہی سہی لیکن کبھی ایسا ہوا نہیں۔ پھر وقت نے سب بھر دیا۔ درختوں کی چھال اترگئی۔ زردیاں سبز ہوگئیں اور معید کے چہرے پر ساحرہ کے دکھ کو دوسرے سہرے نے چھپا لیا۔ اس کی جگہ باکرہ نے لے لی۔ یہ ہر عورت اپنے نام جیسی کیوں ہوتی ہے۔ معید کی سمجھ سے باہر تھا۔ ساحرہ کی آنکھوں میں تو کالا جادو تھا اور باکرہ کی آنکھوں میں چکا چوند چاندنی کی طرح شفاف اور بہتی روشنی جس نے معید کے تنور کو دہکا دیا۔ باکرہ کا اندر باہر ایک تھا۔ اس کی آنکھیں ساحرہ کی آنکھوں کی طرح چغلیاں نہیں کھاتی تھیں۔ باکرہ نے معید کو پاؤں پاؤں چلنا سکھایا، وہ اس کا ہاتھ تھامے آگے بڑھ رہا تھا۔ اب دن معید کی مرضی سے پروان چڑھتے اورراتیں بھی اسی کے تابع تھیں۔ معید کو انتہا چاہیے تھی سو باکرہ کی صورت میں مل گئی۔

مرد کی زندگی میں دو عورتیں ایسے ہی ہیں جیسے ایک قبرپر دوسری قبر۔ بندہ فاتحہ کس پر پڑھے۔ معید کی سمجھ میں بھی نہیں آتا تھا سو اس نے فاتحہ پڑھنا ہی چھوڑ دی۔ باکرہ اپنے حصے کی کامیابی اور رزق لائی، بے چینی جو نہ تھی اس میں، فرار نہیں تھا، اضطراب نہ تھا وہ پرسکون تھی۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا لیکن ایک دن معید کے سینے میں جیسے کسی نے چھرا گھونپ دیا۔

وہ بھی عام سا دن تھا جب گھر کی لڑکیاں خریداری کے لیے نکلیں۔ معید کی جمائی ابھی پوری بھی نہیں ہوئی تھی کہ بہن نے گاڑی کا دروازہ دھڑ سے بند کیا اور پھر لفظوں کا بارود اس کی زبان سے تڑا تڑ گولیاں برساتا رہا۔ ایک کے بعد دو، دو کے بعد تین اور پھر پوری رائفل خالی ہوگئی۔ ’’ساحرہ کی شادی ہوگئی ہے‘‘۔

اس سے آگے کیا کہا گیا کہ اسے کچھ خبر نہیں۔ وہ گھر پہنچنے کے بعد بستر پر نڈھال ہوکر گر گیا جیسے اس کے بدن میں سوئیاں کھبی ہوں اور وہ آئی۔ سی۔ یو میں پڑا ہو۔ اس سچ نے چھرا ہی تو گھونپا تھا اس کے سینے میں اور لفظوں کی تلخی نے سچائی کا زہر رگوں میں انڈیل دیا۔ جس کی آنکھیں اس کے کمرے کے دروازے پر گڑی تھیں وہ ملک ہی چھوڑ کر چلی گئی۔ عورت اور مرد کے ملاپ کا فلسفہ بھی بڑا مضحکہ خیز ہے۔ مرد کی دوسری شادی ’’پین کلر‘‘ ہوتی ہے اور پہلی شادی ساحرہ اور معید جیسی۔ ساحرہ کسی سے مکمل نہیں ہوتی اور مرد کو مکمل عورت چاہیے آدھی نہیں۔

Facebook Comments Box
افسانہعورتمریم عرفان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
ڈاکٹر انور سجاد —— شہزاد وریا
next post
راستوں کا سفر (۱) —– فرح دیبا اکرم

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.