تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

بالغ رائے دہندگی ۔۔۔۔ عثمان سہیل

by عثمان سہیل 24/02/2017
written by عثمان سہیل 24/02/2017
95

بالغ رائے دہندگی احقرکے تصور کے مطابق جمہوری ملک بہت سی چھوٹی چھوٹی اکائیوں پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں حلقہ انتخاب کہتے ہیں۔ انہی اکائیوں سے بالغ افراد کی رائے (ووٹنگ) سے نمائندگان منتخب ہوکر متعلقہ بلدیاتی اداروں اور صوبائی و قومی قانون ساز اداروں میں بیٹھتے ہیں۔ اس تمہید کے بعد دو عدد مناظر دیکھتے ہیں۔ سندھ میں حالیہ بلدیاتی الیکشن کے ہنگام بلاول بھٹو زرداری صاحب نے سجاول ٹھٹھ کا دورہ کیا۔ دورہ کی میڈیا کوریج میں ایک ٹی وی چینل پر ایک مقامی نوجوان کا انٹرویو نشر ہورہا تھا۔ نیم پختہ مکان میں بھٹو صاحب مرحوم اور بے نظیر بھٹو مرحومہ کی تصاویر آویزاں تھیں۔ نوجوان کہ رہا تھا کہ وہ نہی جانتا کہ اب پیپلز پارٹی کو کون چلا رہا ہے لیکن ہمارا ووٹ بھٹو کا ہے۔ آئیے اب لاہور چلتے ہیں۔ میٹرو اورنج ٹرین کی زد میں آنے والی چند دکانات کے مالکان سے ایک ٹی وی چینل کی نمائندہ کی گفتگو چل رہی ہے۔ دکان دار اپنے جمے ہوئے کاروبار کے اکھڑنے پر پریشان اور حکومتی فیصلے سے نالاں ہیں۔ سخت جذبات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ دفعتاً نیوز چینل کے نمائندے نے دکان داروں سے استفسار کیا کہ انہوں نے آخری الیکشن میں کس پارٹی کو ووٹ دیا تھا۔ جواب ملا، مسلم لیگ نون کو۔ چینل کے نمائندہ نے پوچھا آئندہ کسے ووٹ دیں گے جواب ملا ہمارا ووٹ شیر کا ہے اسی کو دیں گے۔ ان دونوں گفتگوؤں کا حوالہ دینے کا مقصد بذات خود جمہویت یا بالغ رائے دہندگی پرتبرا یا باالفاظ دیگر ہفوات رقم کرنا نہی ہے۔ احقر فرد کی رائے اور قانون کے دائرہ میں فرد کی اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کے حق کا قائل ہے جس کی ہمارا آئین بھی ضمانت دیتا ہے۔ یہ قصے چھیڑنے کا مقصد جمہور سے متعلقہ چند زاوئیے سامنے لانا ہے۔ یہ زاوئیے نہایت دلچسپ ہیں۔ لیکن یہیں پر چند سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً احقر کا تعلق قومی اسمبلی کے جس حلقہ سے ہے یہاں سے منتخب ہونے والے موجودہ اور سابقہ دونوں معزز ممبران کی قانون سازی میں بامعنی شرکت کو چھوڑئیے ان کو اسمبلی کے فرش یعنی فلور آف دی ہاؤس بولتے ہوئے بھی کبھی نہی سنا گیا۔ ان حضرات میں دوسری مشترکہ قدر یہ ہے کہ ایک کو چھوڑ کر دو حضرات علاقہ میں بدمعاشوں کے ثقہ سرپرست تھے/ ہیں۔ ان میں سے ایک کا پہلے اکلوتا صاحبزادہ اور بعد ازیں وہ خود بھی انہی سرگرمیوں کے باعث مقتولین کی فہرست میں اپنے ناموں کا اندراج کروا چکے ہیں۔ ازبسکہ حالیہ معزز ممبر لشکر جھنگوی اور افغان جنگ کا تجربہ بھی رکھتے ہیں سو آپ موصوف کی صلاحیتوں کے بارے ظن و قیاس کے گھوڑے دوڑا سکتے ہیں۔ تاہم کیا ہم اس حقیقت سے انکار کر سکتے ہیں کہ یہ سبھی مروجہ و آزمودہ نظام کے تحت منتخب نمائندگان تھے یا ہیں۔ چنانچہ کیا ان کے انتخاب پر تنقید درحقیقت حلقہ ھذٰا کے شہریوں کی ملکی بندوبست میں شرکت کے احساس میں کمی کا باعث نہ ہوگی۔ کیا اس حلقہ سے باہر بیٹھے کسی فرد کی یہاں کے شہریوں کے انتخاب پر حرف زنی جائز ہوگی؟ آخر یہ چناؤ ان کا حق ہے۔ مروجہ "مقبول جمہوریت” یعنی پاپولر ڈیماکریسی کے تناظر مین اگر یہ نتیجہ اخذ کرنا چاہوں کہ سجاول، لاہور اور راقم کے حلقہ سے تعلق رکھنے والےشہری کی اکثریت اپنی زندگیوں کے مجموعی حالات کو ایک سے دس کے پیمانے پر پرکھتے ہوئے لازمی طور پر پانچ سے زیادہ مقدار میں مطمئن ہے۔ مقمح اور قانع جیسے مشکل الفاظ سےاغماض کرتے ہوئے سادہ الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ ایسے ہی جینے اور رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں سوال اٹھایا جاسکتا ہے آیا کسی باہر کے فرد کو ان کے انتخاب میں دخل و اثرانداز ہونے کا حق حاصل ہے؟ اگر ہے تو کس قدر ہے۔ یہاں ایک اور دلچسپ نکتہ بھی پیش کرنا چاہوں گا۔ میرا تعلق جس حلقہ سے ہے وہاں الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق سال دوہزار تیرہ میں ہونے والے قومی چناؤ کے وقت چار لاکھ سے کچھ زائد ووٹرز تھے۔ ان چار لاکھ میں سے قریب دو لاکھ گیارہ ہزاررائے دہندگان نے حق رائے دہی استعمال کیا جو کل درج شدہ کا لگ بھگ چوبیس فیصد (٪24) ہیں۔ ان چوبیس فی صد میں سے ستاون فی صد (٪57) نے موجودہ منتخب نمائندہ کے حق میں رائے دی یعنی چار لاکھ میں سے چورانوے ہزار۔ کیا سادہ منطق کی رو سے منتخب نمائندہ کو حلقہ انتخاب کا حقیقی نمائندہ سمجھا جاسکتا ہے؟ اب اس منطر کو مزید وسیع کرتے ہیں۔ سال دو ہزار تیرہ کے قومی چناؤ میں کل رائے دھندگان میں سے ٪55 نے حق رائے دھندگی استعمال کیا جس کا صوبائی منظر یوں ہے کہ صوبہ سندھ اور پنجاب میں نصف سے زائد جبکہ کے پی کے اور بلوچستان میں نصف سے کم اندراج شدہ رائے دہندگان نے اس عمل میں حصہ لیا۔ ان اعداد و شمار سے اندازے لگانے اور نتائج اخذ کرنے سے گریز کیا جاتاہے۔ اس مضمون کا مقصد بجز سوال اٹھانے کے کچھ نہی ہے۔ اپنی سیاسی وابستگی سے قطع نظر خامہ پرداز نے ہر ممکن کوشش کی ہے کہ اس موضوع پر اسلوب میں طنز اور دانستہ ابہام سے گریز کرتے ہوئے بات کی جائے۔ احقر کی دانست میں منطقی سوالات قائم کرنا اور ان کو ترتیب دینا وقت کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد ہی جوابات مہیا کرنے کی سمت پیش رفت ہوسکے گی۔ آخر میں، شاعر عصر جناب ظفر اقبال کی جزوی پیروی کرتے ہوئے، بطور مقطع ایک غیر متعلق بات۔ آئین پاکستان مجریہ انیس سو تہتر کے باب بنیادی حقوق، شق چودہ میں درج دو اہم نکات کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ اول فرد کے وقار اور نج کی چاردیواری کو کسی صورت پامال نہی کیا جائے گا۔ دوم شواہد حصول کیلئے کسی فرد پر تشدد نہی کیا جائے گا۔ کیا فی الواقعہ ایسا ہی ہے۔ کیا حکومتی ادارے فرد کو حاصل ان آئینی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں؟ بندہ عاجز کو گردان کٹوانے کا ہرگز شوق نہی ہے چنانچہ اتنی سی بات پر اکتفا کیا جائے۔ اللہ آپ کا اور میرا حامی و ناصر ہو۔ نوٹ: چناؤ سے متعلق دئے گئے اعداد و شمار الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔ 

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
عثمان سہیل

عثمان سہیل باقاعدہ تعلیم اور روزگارکے حوالے سے پیشہ و ور منشی ہیں اور گذشتہ دو دہائیوں سے مختلف کاروباری اداروں میں خدمات سر انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ایک عدد زدہ مضطرب روح جو گاہے اعداد کی کاغذی اقلیم سے باہر بھی آوارہ گردی کرتی رہتی ہے۔دانش کے بانی رکن ہیں۔

previous post
نفاذ اور اختیار ….. ثاقب ملک
next post
فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین(حصہ اول)

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.