تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

فکر مودودی اور جماعت اسلامی: تجزیہ ۔ مجاہد حسین(حصہ اول)

by مجاہد حسین 24/02/2017
written by مجاہد حسین 24/02/2017
141

رومی سلطنت کا شیرازہ بکھرنے کے بعد براعظم یورپ مختلف ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔ چھوٹی بڑی یہ ریاستیں کئی صدیوں تک باہمی آویزش کا شکار رہیں۔ آپسی نفرتوں اور قومی عصبیتوں کا یہ عفریت پہلی جنگ عظیم کی صورت اپنی مکروہ ترین شکل میں سامنے آیا اور انسانی وجود کے منفی پہلوؤں کی خوراک پہ پلتا دو کروڑ انسانوں کو نگل گیا۔ کوئی گھرانہ اس کے برے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا۔ سماجی ڈھانچہ ہل کے رہ گیا اور معاشی طور پر بہت سے ممالک کئی دہائیاں پیچھے چلے گئے۔

یورپ کے دانشور انسانی سرشت کے اس خونخوار پہلو کو دیکھ کر خوفزدہ ہو گئے اورانسانی تاریخ میں پہلی بار بڑے پیمانے پر ایک ایسی فکری تحریک نے جنم لیا جس کا مقصد انسانی سماج سے جنگ کا خاتمہ تھا۔ دانشوروں کی ایک کھیپ سامنے آئی جنہوں نے انسانی ذات کے ان سرچشموں کو دریافت کرنے کا عزم کیا جہاں سے لہو بہانے کی لذت جنم لیتی تھی۔ یہ اچھوتا طرز فکر تھا کیونکہ تہذیب انسانی کے طویل سفر میں اگرچہ بہت سے مثبت مرحلے طے ہو چکے تھے مگر کسی نہ کسی فلسفے کے تحت جنگ ایک لائق تحسین عمل ہی سمجھا جاتا تھا۔ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ جنگ کی ہر صورت سے بیزاری نے ایک فکری تحریک کی صورت اختیار کر لی۔ اس تحریک کا سرخیل برٹرینڈ رسل تھا جس نے پہلی جنگ عظیم کی ہولناکی کا مشاہدہ کرنے کے بعد اپنی تمام عمر یہ دریافت کرنے میں صرف کر دی کہ کیسے انسان کی وحشی جبلتوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
رسل کے علاوہ بہت سے دیگر مفکرین نے بھی اسی موضوع پر طویل عرق ریزی کی۔ تاہم یہ سوچ صرف دانشوروں تک ہی محدود رہی، عوامی سطح پر اس سوچ کو بہت زیادہ پذیرائی نہ مل سکی جو ایک فطری امر تھا کیونکہ انسان روز آفرینش سے ہی قتل و غارت کی جبلت کے ہاتھوں کھلونا بنا رہا۔ انسانی تہذیب نے ہزاروں سال کے سفر میں قتل و غارت کو اپنی فطرت کا ایک جزو لا ینفک ہی سمجھا تھا۔ اس کا ایک ثبوت قدیم دور سے لکھی جانے والی وہ رجزیہ شاعری ہے جس میں جنگ کی عمومی طور پر تحسین کی گئی ہے اورانسانی خون بہانےپر کسی نہ کسی بہانے اظہار تفخر کیا گیا ہے۔ اس سے نجات کے لئے پہلی جنگ عظیم کی تباہی ناکافی تھی۔
اس کے بعد دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی اور چند سالوں میں ہی چھ کروڑ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس عظیم تباہی کے نتیجے میں سماجی اقدار تباہ ہو گئیں ، خاندانی نظام بری طرح متاثرہوا اور بے شمار ممالک معاشی بربادی کا شکار ہو گئے۔ یہ پہلا موقع تھا جب عوامی سطح پر بھی جنگ سے بیزاری کی ایسی طاقتور لہر اٹھی جس کا اثر آج بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ پچھلے ستر سالوں میں یورپی ممالک کی آپس میں کوئی جنگ نہیں ہوئی تو اس کے پیچھے یہی عوامی دباؤ کارفرما ہے۔
دو بڑی جنگوں کی صورت میں انسانیت نے قربانی دی جس کی وجہ سے پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ شائد یہ ادارہ ایک قصہ پارینہ بن جائے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغربی ریاستیں عمومی طور پر یہ کوشش کرتی رہیں کہ وہ کسی نئی آویزش سے دور رہیں۔ وہ جان گئی ہیں کہ معاشی ترقی اور علم وتحقیق کے لئے معاشی استحکام امرلازم ہے۔

ایک ایسے دور میں جب دنیا جنگ کی خون آشام وادی سے گزرکر امن کی پرسکون نگری کا رخ کر رہی تھی، مولانا مودودی صاحب "الجہاد فی الاسلام” لکھ رہے تھے جس میں مدافعانہ جنگوں کے تصور کو رد کر کے اس نظرئیے کی تبلیغ کی گئی کہ مسلمان پوری دنیا پر حکمرانی کرنے کے لئے آئے ہیں اور اس ارفع مقصد کے حصول کے لئے جارحانہ جنگ ایک مقدس ذریعہ ہے۔ ان کے طاقتور قلم کے زیراثر مسلمان مفکرین کی ایک پوری نسل سامنے آئی جنہوں نے جنگ وجدل کو ایک رومانوی تصور کی شکل دی۔ جس وقت مغربی دانشورعوام کی جنگی جبلتوں کو امن کی لوریوں سے سلا رہے تھے، ہمارے اسلامی مفکر قتال کے رجزیہ نغمے گا کر عوام کے تخریبی جذبوں کو مہمیز دے رہے تھے۔ اسلامی فکر روح عصر کی پکار پر کان دھرنے میں بری طرح ناکام رہی۔

مسلمان معاشروں میں یہ سوچ آج بھی عام ہے کہ زوال کی اتھاہ گہرائیوں سے ابھرنے کا واحد راستہ جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ اس رجعت پسندانہ سوچ نے مسلمانوں کی کئی نسلوں کو سائینس اور دیگر سماجی علوم کے اس راستے سے دور کر دیا جس پر چل کر وہ حقیقی طور پر سر اٹھا کر چلنے کے قابل ہو سکتے تھے۔ نسیم حجازی کی مقبولیت کی وجہ بھی یہی جنگجویانہ طرز فکر تھا جو مسلمان معاشرے کی جڑوں میں سرایت کر چکا تھا۔ افغانستان کی جنگ بھی اسی فلسفے کے تحت لڑی گئی اورآج بھی بہت سی جگہوں پر جو فساد فی الارض بپا ہے، اس کے پیچھے یہی فکر کارفرما ہے۔

اس وقت مسلمان پورے کرہ ارض پر پھیلے ہوئے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود ان میں نہ ہی کوئی سائنسدان پیدا ہو رہے ہیں اور نہ ہی سماجی علوم میں کوئی تخلیقی کام ہو رہا ہے۔ اس قحط الرجال کے پیچھے دیگر وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم آج بھی جنگ و جدل کے ذریعے دنیا پر اپنی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہماری جبلتیں آج بھی رجزیہ نغموں کی دھن پہ جھومتی ہے۔ اب جبکہ ہم مغرب پر حملہ آور ہونے کے قابل نہیں رہے تو کئی دہائیوں سے انسانی لہو کے لئے بیقرار ہماری روحیں ہمارے اپنے اوپر حملہ آور ہو چکی ہیں۔ تقریباً ہر قابل ذکر مسلم ملک خانہ جنگی کا شکار ہے اور اس ساری تخریب کا سرا کسی نہ کسی درجے میں مولانا مودودی مرحوم کی تحریروں سے جا ملتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
مجاہد حسین

مجاہد حسین خٹک کو سچائی کی تلاش بیقرار رکھتی ہے۔ تاریخ اور سماجی علوم میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اعتدال کا تعلق رویوں سے ہے، فکر کی دنیا میں اہمیت صرف تخلیقیت کی ہے۔ اسی لئے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ مختلف موضوعات کا جائزہ لیتے ہوئے سوچ کے نئے زاوئیے تلاش کئے جائیں۔

previous post
بالغ رائے دہندگی ۔۔۔۔ عثمان سہیل
next post
امریکہ کا جنگی جُنون اور دنیا کا مستقبل ۔ ادریس آزاد

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.