وحید مراد اور ہمارا عہد: قومی تھیٹر —- قسط 2 — خرم علی شفیق

0
  • 134
    Shares

پچھلی قسط (اس لنک پہ دیکھئے) پر جتنے تبصرے آئے اور جتنی پسند کی گئی اُس کے لیے میں آپ سب کا شکرگزار ہوں۔ بعض تبصرہ کرنے والوں نے کچھ نئی معلومات بھی فراہم کی ہے، جس کے لیے خاص طور پر شکریہ! ایک سوال بھی پوچھا گیا ہے کہ میں نے لکھا کہ وحید مراد کراچی میں پیدا ہوئے لیکن وِکی پیڈیا کے مطابق وہ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے تو درست کیا ہے؟ عرض ہے کہ کتاب کے انگریزی ایڈیشن میں فٹ نوٹ میں ہر بات کے ساتھ حوالہ بھی دیا گیا تھا اور جب اُردو ایڈیشن کتابی صورت میں آئے گا تو انشأاللہ اُس میں بھی فُٹ نوٹ ضرور ہوں گے۔ وحید مراد کے پاسپورٹ میں اُن کا مقامِ پیدایش کراچی لکھا ہے۔ اس لیے جب تک کوئی دستاویزی ثبوت نہ ملے کہ وہ سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، اُس وقت تک کراچی ہی مقامِ پیدایش تسلیم کیا جائے گا (سیالکوٹ والے دوست اگر مہربانی کریں تو اُس زمانے کے رجسٹرِ پیدایش سے تصدیق کر کے فراہم کر سکتے ہیں)۔ اب آئیے اس قسط کی طرف جس کا آپ کو انتظار ہے۔ مصنف


نثار مراد کے فلمی شعبے سے وابستہ ہونے پر اُن کے والد نے کس ردِ عمل کا اظہار کیا؟ وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ سنی سنائی روایات جمع کرنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے لیکن میرے خیال میں زیادہ مفید ہو گا کہ اس کی بجائے ہم صرف دو باتیں ذہن میں رکھ لیں۔ پہلی جو سب کو معلوم ہے، یعنی اُس زمانے میں تھیٹر، فلم اور تفریحات سے وابستہ پیشوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ دوسری بات، جو پوری طرح سے شاید کسی کو بھی معلوم نہیں، یہ ہے کہ اُسی زمانے میں ایک اور چیز بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی، جو ’’قومی تھیٹر‘‘ تھی۔

وحید مراد، والدین کے ساتھ

۱۸۸۴ء میں سر سید نے پنجاب کا دورہ کیا اور امرتسر گئے تو دیکھا کہ سرکاری باغ میں ایک بڑا ہال تھیٹر کے طور پر بنایا گیا ہے۔ جب انگریزوں کو کسی اچھے مقصد کے لیے پیسہ جمع کرنا ہوتا ہے تو معزز انگریز گھرانوں کے مرد و عورت ڈرامہ اسٹیج کرتے ہیں اور ٹکٹ لگا کر چندہ اکٹھا کیا جاتا ہے لیکن صرف گوروں کو داخلے کی اجازت ہوتی ہے۔ سر سید نے کہا کہ اگر علیگڑھ کالج کمیٹی کے’’مقدس مقدس ممبر‘‘ بھی اسٹیج پر گا کر، ساز بجا کر اور مسخرہ پن کر کے’’اپنی قوم کی بھلائی کے لیے روپیہ جمع کر یں تو دنیا میں کوئی قومی عزت ایسی نہیں ہے جو اس پارٹی کو نصیب نہ ہو اور عقبیٰ میں کوئی اعلیٰ سے اعلیٰ رُتبہ ثواب کا ایسا باقی نہ رہے جو یہ پارٹی حاصل نہ کرے۔‘‘

لیکن اُن کے خیال میں قوم ابھی تیار نہیں تھی۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ اسی شہر میں مسلمانوں نے بھی تھیٹر بنایا ہے جہاں قومی موضوعات پر نصیحت آمیز ڈرامے ہوتے ہیں تو اُنہوں نے کہا، ’’تھیٹرمیں ایک لازمی امر یہ ہے کہ نصیحت آمیز باتوں اور بداخلاقی کے عیوب دکھانے کے ساتھ ایسی باتیں بھی ہوتی ہیں جو بداخلاقی یا بدنفسی کو بھی یاد دلاتی ہیں یا سکھاتی ہیں۔ پس تھیٹر ایسے ملک میں ہونا چاہیے کہ جہاں تعلیم نے اور سوسائٹی نے لوگوں کے دل پر ایسا اثر کر دیا ہو کہ اُن کے دل پہلی قسم کی باتوں سے مؤثر اور دوسری قسم کی باتوں سے ذہول کرنے کے قابل ہیں۔ ہندوستان کی حالت ایسی نہیں ہے۔ یہاں مفید کام تو کوئی نہیں کرتا، پھر اگر تفریح ہی تفریح ہو تو کیا ہو گا؟ …پہلے ملک کی حالت درست کر لو تب تھیٹر بناؤ۔‘‘ یہ سن کر اُن کے ساتھی تھیٹر دیکھنے سے باز رہے لیکن دوسروں سے معلوم کر کے انہوں نے جو کچھ لکھا وہ یاد رکھنے کے قابل ہے:

’’لوگوں نے بیان کیا کہ اُس تھیٹر میں مسلمانوں کے قومی تنزل کی بھی نقل [تمثیل] ہوتی ہے اور ’’مسدسِ حالی‘‘ کے بند گائے جاتےہیں۔ اس نقل میں ایک مقام نہایت مؤثر آتا ہے اور لوگوں کے دل پر بہت اثر کرتا ہے۔ ایک پردہ کھولا جاتا ہے جس میں سمندر لہریں مارتا ہوا اور ایک جہاز جس میں لوگ سوار ہیں طوفان میں آیا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس وقت ’’مسدسِ حالی‘‘ کا یہ بند گایا جاتا ہے:

جہاز ایک گرداب میں پھنس رہا ہے
پڑا جس سے جوکھوں میں چھوٹا بڑا ہے
نکلنے کا رستہ نہ بچنے کی جا ہے
کوئی اُن میں سوتا کوئی جاگتا ہے

جو سوتے ہیں وہ مستِ خوابِ گراں ہیں
جو بیدار ہیں اُن پہ خندہ زَناں ہیں

کوئی اُن سے پوچھو کہ اے ہوش والو
کس اُمید پر تم کھڑے ہنس رہے ہو
بُرا وقت بیڑے پر آنے کو ہے جو
نہ چھوڑے گا سوتوں کو اور جاگتوں کو

بچو گے نہ تم اور نہ ساتھی تمہارے
اگر ناؤ ڈوبی تو ڈوبیں گے سارے

’’گانے والا یا گانے والی ان بندوں کے گانے میں موقع بہ موقع اُس جہاز کی طرف، جو ڈوبنے کو ہو رہا ہے، اشارہ کرتی جاتی ہے۔ اس کا ایسا سماں بندھ جاتا ہے کہ لوگوں کی آنکھوں میں سے آنسو نکل پڑتے ہیں۔‘‘

دو برس بعد حالی نے مسدس کے دوسرے ایڈیشن کے دیباچے میں بھی اِس ’’قومی تھیٹر‘‘ کا ذکر کیا۔

۱۸۹۳ء میں علیگڑھ کالج کے اُن طلبہ کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی ضرورت پیش آئی جن کے گھر والے ان کی فیس ادا نہیں کر سکتے تھے تو شہر میں اشتہار تقسیم ہوا، ’’سر سیّد تھیٹر اور ممتاز اصحاب کا ایکٹنگ‘‘۔ لوگ ٹکٹ خرید کر آئے۔ پردہ اُٹھا تو ضلع کے نواب صاحب ایک سپہ سالار کے رُوپ میں اور کالج کے بارہ لڑ کے سپاہیوں کے کردار میں سامنے آئے۔ کسی نے اپنا نام قوم، کسی نے اسلام وغیرہ بتایا۔ پھر عربی لباس میں اور ہاتھ میں عصا لے کر سر سید آئے، اور حاضرین کو مخاطب کر کے کہا:

بچپن کی ایک یادگار تصویر

’’لیڈیز اینڈ جنٹلمین! کون ہے جو آج مجھ کو اسٹیج پر دیکھ کر حیران ہوتا ہو گا؟ وہی جن کے دل میں اپنی قوم کا درد نہیں ہے۔ وہی جن کا دل جھوٹی شیخی اور جھوٹی مشیخت سے بھرا ہوا ہے۔ آہ اُس قوم پر جو اُن باتوں کو جن سے انسان کو شرم اور حیا اور غیرت ہونی چاہیے، اپنی شیخی اور اپنے افتخار کا باعث سمجھے۔ آہ اُس قوم پر جو قوم، انسان کی بھلائی کے کاموں کو جو نیک نیتی سے نیکی کے لیے کیے جاویں، بے عزتی کا کام سمجھے۔ آہ اُس قوم پر جو خدا کو دھوکا دینے کے لیے مکر یا پندار کے کالے سُوت سے بنے ہوئے تقدس کے برقع کو اپنے منہ پر ڈالے مگر اپنی بدصورتی اور دل کی برائی کا کچھ علاج نہ سوچے۔ آہ اُس پر جو قوم کو ذلت اور نکبت کے سمندر میں ڈوبتا دیکھے اور خود کنارے پر بیٹھا ہنستا رہے۔ اپنے گھر میں کھُلے خزانے ایسی بے شرمی اور بے حیائی کے کام کرے جس سے بے شرمی اور بے حیائی بھی شرما جاوے لیکن قوم کی بھلائی کے کام کو شرم و نفرین کا کام سمجھے۔ اے رئیسو اور دولتمندو! تم اپنی دولت و حشمت پر مغرور ہو کر یہ مت سمجھو کہ قوم کیسی ہی بدحالت میں ہو، ہمارے بچوں کے لیے بہت کچھ ہے۔ یہی اُن لوگوں کا خیال تھا جو تم سے پہلے تھے مگر اب اُنہی کے بچوں کی وہ نوبت ہے جن کے لیے آج ہم اِس اسٹیج پر کھڑے ہیں۔‘‘

تھوڑی اور تقریر کے بعد حافظ شیرازی کی غزل گائی۔ پھر کالج کے معززین اور اَساتذہ نے اسٹیج پر آ کر گیت گائے اور بہروپ بھرے۔

دس بارہ برس بعد جو نوجوان قوم کے سامنے اُبھرے، اُن میں سے اقبال نے یہ رسم شروع کی کہ قومی جلسوں میں اپنی نظمیں گا کر سناتے تھے، جسے ’’ترنم سے پڑھنا‘‘ کہا گیا لیکن بہرحال یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ’’ترنم‘‘ کا رواج اُن سے پہلے نہیں تھا اس لیے اُس زمانے کے ایک بزرگ شاعر نے ایک مصرعہ کہا جو بہت مشہور ہوا، ’’نظمِ اقبالی نے ہر اِک کو گوّیا کر دیا‘‘! اقبال کے ہمعصروں میں آغا حشر کاشمیری بھی تھے، جو ایک طرف اسلامی تاریخ پر لیکچروں اور اپنی نظموں سے قومی جلسوں کی رونق بڑھاتے تھے اور دوسری طرف ایک ڈرامہ نگار کی حیثیت میں ’’اُردو کے شیکسپیئر‘‘ کہلاتے تھے (آج کل اِس لقب کا مذاق اُڑایا جاتا ہے لیکن میری رائے میں یہ لقب بالکل مناسب ہے)۔ انہوں نے کچھ وقت لاہور میں بھی گزارا جہاں اقبال سے دوستی ہوئی۔ ۱۹۱۳ء میں جب حیدرآباد دکن کے وزیراعظم لاہور آئے تو اقبال اُنہیں بھی حشر کے تھیٹر میں لے گئے۔

امرتسر کے قومی تھیٹر اور سر سید کے ڈرامے کی طرح حشر کے کرداروں کو بھی علامتی سمجھا جا سکتا ہے۔ ’’نیک پروین‘‘ کا ہیرو ہمیں اُس زمانے کے ہندوستانی مسلمان کی علامت معلوم ہو گا اگر ہم اُس کے اِس مکالمے پر غور کریں،

’’تم چاہتے ہو کہ میں گھر چلوں مگر پہلے یہ بتاؤ کہ میرا گھر اب کہاں ہے؟ نہیں میرا کوئی گھر نہیں ہے۔ میں نے گھر کی رونق، گھر کی دولت، گھر کی اطمینان بخش زندگی، سب شراب اور جوئے میں غارت کر دی۔ اب گھر کی جگہ صرف مٹی اور پتھر سے بنی ہوئی چاردیواری ہے جس پر خوفناک مستقبل اپنے سیاہ پر کھولے ہوئے منڈلا رہا ہے۔‘‘ بوڑھا نوکر جواب دیتا ہے، ’’آپ کے دل میں محبت، آنکھوں میں مروت، ہاتھوں میں سخاوت، باتوں میں شرافت، قول میں صداقت، غرض وہ تمام خوبیاں جن سے گوشت اور پوست کا مجموعہ شریف انسان کہلاتا ہے، پورے جاہ و جلال کے ساتھ آپ میں موجود ہیں… مگر آپ نے اُن سے کام لینا چھوڑ دیا ہے۔‘‘

کیا یہ وہی باتیں نہیں جو اُس زمانے میں اقبال اپنی نظموں ’شکوہ ‘، ’جوابِ شکوہ‘ اور ’طلوعِ اسلام‘ کے ذریعے قوم کو سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے؟ مثلاً:

سبق پھر پڑھ صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

حشر کے بعد آنے والے نوجوانوں میں سے حکیم احمد شجاع کا تعلق اُس گھرانے سے تھا جس کی بیٹھک میں ہونے والے مشاعرے میں پہلی دفعہ اقبال ایک غزل سنا کر شاعر کے طور پر متعارف ہوئے۔ بعد میں اسی گھرانے میں ڈرامے بھی اسٹیج کیے گئے جو صرف خاندان کے افراد کے لیے ہوتے تھے۔ شجاع نے اقبال کے ساتھ مل کر اُردو کی نصابی کتابیں مرتب کیں، جس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ انہوں نے حشر سے ڈرامہ نگاری بھی سیکھی۔ ۱۹۲۲ء میں سپرہٹ ڈرامہ ’’باپ کا گناہ‘‘ لکھا (اس ڈرامے نے اگلے پچاس برس میں ارتقأ کے کئی مراحل طے کرنے بعد فلم ’’انجمن ‘‘ کی صورت اختیار کی، جسے وحید مراد اپنی بہترین فلم قرار دیتے تھے)۔ شجاع نے پاکستانی فلمی صنعت کو جنم دینے میں جو حصہ لیا، اُس کا ذکر کسی اور قسط میں آئے گا۔

اقبال نے بالِ جبریل میں سنیما کو ’’دوزخ کی مٹی‘‘ اور ضربِ کلیم میں تھیٹر کو ’’کاروبارِ لات و منات‘‘ قرار دیا۔اِس پر غور کرنا چاہیے لیکن یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ اُنہوں نے خام فلم (نیگٹو) خریدنے کے سلسلے میں خط کتابت بھی کی تھی (اقبالیات کی کسی کتاب میں اس کا ذکر نہیں ملتا لیکن میں اپنی آیندہ تصنیف ’’اقبال کی منزل‘‘ میں پوری تفصیل پیش کر رہا ہوں)۔ کاسموپولٹن فلم کمپنی کے اعزازی مشیروں میں اقبال کے معزز احباب شامل تھے، اور اقبال نے کمپنی کے نام سَنَد جاری کی تھی جو کئی کتابوں میں نقل کی جا چکی ہے:

’’اگر ہندوستان میں اِس قسم کی فلمیں تیار کی جا سکیں جو معصیت کاری اور فسق و فجور کی اشاعت کا کام نہ کریں بلکہ ان کا مقصد ملک کی صحیح خدمات کرنا اور نوجوانوں میں حقیقی جذبات بیدار کرنے ہوں، اخلاق کا کوئی بلند معیار پیش کرنا ہو، حب الوطنی کے پاکیزہ خیالات کی نشر و اشاعت پیشِ نظر ہو تو یقیناً ایسی فلمیں ملک و قوم کے لیے مفید ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر اِس قوم کی کوئی کمپنی اِس بلند مقصد کو لے کر کام کے لیے اُٹھے تو بے شبہ وہ ملک کی خدمت کرے گی۔‘‘

ایک اور بات جسے میں شاید پہلی دفعہ منظرِ عام پر لا رہا ہوں، وہ یہ ہے کہ اقبال، پنجاب فلم سینسر بورڈ کے ممبر بھی تھے۔ اُن کے نام جاری ہونے والا پاس ابھی تک محفوظ ہے جسے دکھا کر وہ کسی بھی سنیما میں فلم دیکھ سکتے تھے۔

علامہ اقبال کا سنیما پاس

چنانچہ سنیما کے بارے میں اقبال کی حتمی رائے یہی سمجھی جا سکتی ہے کہ ایک قسم کا سنیما ’’دوزخ کی مٹی‘‘ ہے اور دوسری قسم کا سنیما ’’ملک کی خدمت‘‘ ہے۔ حالی نے اسی قسم کی رائے شاعری کے بارے میں دی تھی جب ایک طرف کہا، ’’جہنم کو بھر دیں گے شاعر ہمارے‘‘، اور دوسری طرف قومی شاعری کی بنیاد رکھ دی۔

اس کے بعد یہ سوال کم اہم رہ جاتا ہے کہ نثار کے والد نے اُن کے فلمی شعبے میں جانے پر کیا ردِ عمل ظاہر کیا اور نثار کیا سوچ کر اِس شعبے کی طرف متوجہ ہوئے۔ اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ خواہ کوئی بھی اتفاق اُنہیں فلم کی طرف لے گیا، کیا اُن کے اُس طرف جانے کی وجہ سے وہ سنیما وجود میں آ سکا جو علیگڑھ تحریک کے مقاصد میں سے تھا اور جس کا خواب اقبال نے دیکھا تھا؟

یہی سوال اُٹھانے کے لیے اِس قسط میں ’’قومی تھیٹر‘‘ کی تفصیل بیا ن کرنی پڑی۔ اُمید ہے کہ سوال کی اہمیت کی وجہ سے یہ’’خلش‘‘ آپ کے لیے قابلِ برداشت ہو جائے گی کہ ہیرو کی ’’انٹری‘‘ دیر سے ہے (جنہوں نے فلم ’’خلش‘‘ دیکھی ہے، اُنہیں یاد ہو گا کہ اُس میں بھی وحید کا کردار کچھ دیر کے بعد نمودار ہوتا ہے)۔ بہرحال، اب اگلی قسط میں ہیرو بھی آ رہا ہے، لیکن چونکہ ’’زندگی ایک سفر ہے ‘‘، اِس لیے ہم ہیرو کے بچپن سے شروع کریں گے۔


اگلی قسط، ’’وحید مراد کا بچپن‘‘، اُن کے بچپن، ابتدائی تعلیم اور گھر کے بعض حالات کے بارے میں اس لنک پہ ملاحظہ کیجئے۔


’وحید میراد اور ہمارا عہد‘‘، خرم علی شفیق کی انگریزی کتاب کا اضافہ شدہ اُردو ایڈیشن ہے۔ یہ کتابی صورت میں شائع ہونے سے پہلے قسط وار پیش کیا جا رہا ہے۔ مصنف کی شہرت تو ماہر اقبالیات کے طور پر ہے مگر قارئین اس تحریر میں انکا یہ خوبصورت رنگ بھی دیکھ سکیں گے۔ دانش کے قارئین، وحید مراد کی برسی کے موقع پہ شروع ہونے والے اس سلسلہ کی دو اقساط ہر ہفتہ ملاحظہ کرسکیں گے۔

یہ ایک ادبی سوانح ہے جس میں وحید مراد کے حالاتِ زندگی کے علاوہ ایک مصنف، فلمساز اور اداکار کے طور پر اُن کی خدمات کا تجزیہ قومی تاریخ کے ایک اہم باب کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: