تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

سیکولرازم اور ریاست: ایک متبادل بیانیہ —– ذیشان ہاشم

by Editor2 28/11/2018
written by Editor2 28/11/2018
119

میرےخیال میں ہمارے لیے اول یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ریاست کیا ہے اور ہم اسےکیوں قائم کرتے ہیں؟

ہمارے سماج کی بنیادی اکائی فرد ہے جو اپنی ذات میں ایک مکمل اور تنہا شناخت رکھتا ہے۔ فرد کی فطرت آزادی پر قائم ہے جب فرد سےاسکی آزادی چھینی جاتی ہے تو وہ انحراف کرتا ہے یوں سماج منتشر ہو جاتا ہے۔ فرد اپنی زات میں مکمل ہے مگر اپنی ضروریات کی تکمیل کےلیے اسے دوسرے انسانوں کےساتھ تعاون و تبادلہ کی اساس پر ایک منصفانہ اشتراک قائم کرنا ہوتا ہے۔ یہ منصفانہ اشتراک ریاست کی تشکیل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

دراصل شہریوں سے معاشرہ وجود میں آتا ہے جبکہ ریاست ایک مادی تصور ہے اس کا قیام بھی مادی ہے اس سےمنسوب آرزوئیں اور خواہشات بھی مادی ہیں اور اس کا انتظام بھی، یہ کسی بھی سبب سے مذہب کا نہ بنیادی موضوع ہو سکتی ہے اور نہ مقصد۔ ریاستی انتظام اور اسے چلانےکا مقصد بنیادی طور پر شہریوں کی مادی خوشحالی کے لیے بہتر امکانات کی جستجو اور اس کےلیے مادی سہولیات بہم پہنچانا ہے اور اس اصول پر یقین رکھتا ہے کہ آئینی طور پر تمام شہری مذہب اور عقائد کی تفریق سے ماورا برابر کےشہری ہیں۔

دوسری جانب اگر ایسی ریاست قائم ہوجائے جو شہریت کی تعریف اور قانون سازی کےلیے کسی دینیاتی اصولوں کی محتاج ہوگی تو درج زیل مسائل سامنے آسکتے ہیں۔

سیکولر کسی دینیاتی اصول کا پابند نہیں اس کا مقصد شہریت کی بنیاد پر مساوات قائم کرنا شہریوں کی مسرت اور خوشحالی کے لیے فکری اور عملی آزادی کےساتھ مواقع کی تلاش میں مدد کرنا اور انہیں بہتر نتیجےکی بنیاد و ضمانت پر لاگو کرنا ہے۔

1۔ شہریت کی تعریف کفر و ایمان کی تعریف سے منسوب ہو گی۔۔۔۔ یا دوسری صورت میں درجہ اول اور درجہ دوم کی شہریت کی تقسیم پائی جائیگی۔ مثال کےطور پر زمی۔ ریاست کےمذہب سے جُڑے لوگ نہ صرف قانونی طور پر اول درجےکےشہری ہونگے بلکہ ریاست انھی کی نمائندنگی کرےگی۔ جبکہ اقلیتیں دوسرے درجے کےشہری سمجھی جائیں گے۔

2۔ کسی خاص مسلک کےشارحین کی شرح ہی قانون سازی میں اول معیار بنے گی۔ اگر ان میں اختلاف ہوتا ہے تو اس کو حل کرنے کا کوئی باقاعدہ ضابطہ موجود نہ ہو گا۔ دینیاتی یا مذہبی ریاست اپنے اصول دینیات یا مذہب کےایک خاص متن سے اخذ کرتی ہے۔ متن کی تشریح میں اختلاف پہلے دن سے چلا آرہا ہے اور اس کے پُرامن حل کی ابھی تک کوئی صورت نہیں جب تک کہ اختلاف کو ریاست اپنی طاقت سے دبا نہ دے۔ اس چیز کا قوی امکان پایا جاتا ہے کہ ایک دینیاتی ریاست کے مخصوص تصور کی پابند ریاست میں قانون کی تشکیل و تشریح میں دینیات کے شارحین اور پارلیمان میں ایک مستقل نزاع پائی جائے گی اور یوں ریاست اپنے بنیادی مقاصد یعنی عوام کی منفعت اور مسرت سے ہٹ کر متن کےمعانی اور مفہوم کو سلجھانے اور اس کے نفاذ کے بعد اس کےاچھے اور برے نتیجے میں تسلسل کی ضد میں جکڑی رہے گی۔ کیونکہ ایک دینیاتی ریاست دین کے ایک مخصوص تصور اور دائرے سے باہر نہیں جا سکتی، اب یہ تصور اور دائرہ متن کے شارحین کی شرح ہی متعین کرے گی۔

3۔ ایک دینیاتی ریاست میں لوگوں کو ان اصولوں کی اتباع میں جبر برتا جاتا ہے جن اصولوں کی بنیاد پر وہ ریاست قائم ہوئی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ لوگ آزاد فطرت پسند واقع ہوئے ہیں جب ان کی ضروریات و خواہشات اس مخصوص نظام میں ممکن نہ ہونگی تو پھر وہ انحراف کریں گے جس کےنتیجے میں ریاست اپنے مذہبی اصولوں کی پاسداری کروانے کی کوشش میں عملی اور نظریاتی آمریت قائم کرے گی۔

یہ بھی پڑھئے: سیکولرازم: چند بنیادی غلط فہمیاں — انوار احمد
اور یہ بھی سیکولر ریاست: غیر جانبداری کا سراب — نور الوہاب

 

مگر سیکولر کسی دینیاتی اصول کا پابند نہیں اس کا مقصد شہریت کی بنیاد پر مساوات قائم کرنا شہریوں کی مسرت اور خوشحالی کے لیے فکری اور عملی آزادی کے ساتھ مواقع کی تلاش میں مدد کرنا اور انہیں بہتر نتیجےکی بنیاد و ضمانت پر لاگو کرنا ہے۔ اگر کوئی پالیسی عوام کو فائدہ نہیں دے رہی تو سیکولر ریاست بغیر کسی شش و پنج یا حلال و حرام کی بحث کے،اسے ممنوع قرار دے کر شہریوں کی فلاح کے لئے نئے امکانات تلاش کرتی ہے،انہیں نافذ کرتی ہے اور یوں سماج کا روشن سفر جاری رہتا ہے۔

سیکولر ریاست میں تمام مذاہب کے لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہوتی ہے اور ریاستی انتظام و انصرام تمام مذہب کے ماننے والوں کی نہ صرف برابر حفاظت کرتا ہے بلکہ ان کے حق تبلیغ کی بھی حمایت کرتا ہے۔

جمہوریت کا تصور ہی شہریت کی مساوات اور شہریوں کی خواہش کی اولیت سے متعلق ہے، تمام شہری برابر ہیں، اور ان میں سے کسی کو بھی رنگ،نسل،مذہب یا نظریہ کی بنیاد پر امتیاز کا نشانہ نہیں بنایا جا سکتا ۔۔۔۔اگر ہم پاکستان میں فرقہ واریت اور مذہب کے نام پر ظلم و بربریت سے چھٹکارا چاھتے ہیں،تو ہمارے پاس سیکولر ازم کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ چونکہ تمام شہری برابر ہیں اس لئے تمام شہریوں کو سرکاری سہولیات سے مستفید ہونے کا برابر حق حاصل ہوتا ہے اور اس سلسلے میں کوئی بھی امتیاز قابل قبول نہیں۔

سیکولر ازم الحاد نہیں، بلکہ یہ تمام مذاہب کا احترام کرتا ہے اور ان کے ماننے والوں کو سماج میں باوقار اور پرامن رہنے کا انتظام کرتا ہے، یہ ایک فریم ورک ہے جو سیاست، تعلیم، قانون نیز ہر شعبہ میں مساوات کو یقینی بناتا ہے۔

سیکولر ازم اختلاف رائے کو کفر یا بغاوت نہیں سمجھتا، بلکہ یہ مکالمہ اور آزادی اظہار رائے کو بہتر مستقبل کے بہترین امکانات کی تلاش اور ان کو پانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھتا ہے، اس لئے ان کی قدر کرتا ہے، اسے سہولیات بہم پہنچاتا ہے تاکہ خیالات میں افزائش اور ان میں باہم مقابلہ پیدا ہو اور بہتر ین چیز ابھر کر سامنے آئے۔۔۔۔اس کا ماننا ہے کہ حقوق لوگوں کے ہوتے ہیں، نظریات کے نہیں۔

(مصنف کی کتاب "غربت اور غلامی ۔۔خاتمہ کیسے ہو” سے انتخاب)

یہ بھی ملاحظہ کریں:

https://www.youtube.com/watch?v=QwD14tHTVLM&t=836s

Facebook Comments Box
featuredاصول دینیاتذیشان ہاشمریاستسیکولرسیکولر ریاستسیکولرزمغربت اور غلامیلبرلمذہب
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Editor2

previous post
وحید مراد اور ہمارا عہد: قومی تھیٹر —- قسط 2 — خرم علی شفیق
next post
والٹر آئیزیکسن کی مشہور عالم کتاب The INNOVATORS ‎ —– حصہ اول

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.