ربا اور سود میں فرق (پہلی قسط) ۔۔۔۔۔۔۔۔ محمد انور عباسی 

0
  • 309
    Shares

انگلش اور اردو میں شایع ہونے والی میری کتاب ’’بینک انٹریسٹ، منافع یا ربا‘‘ پر چند دن قبل سوشل میڈیا پر کچھ ایسے تبصرے دیکھنے کو ملے جس سے معلوم ہوا کہ کتاب میں مذکور دلائل پر نقد کرنے سے جان بوجھ کر اعراض کیا گیا ہے۔ تبصرے ملاحظہ ہوں:

۱۔ ’’مفتی تقی عثمانی صاحب نے ’سود پر تاریخی فیصلہ‘ میں بینک انٹرسٹ کو شرعی دلائل کی روشنی میں سود واضح کیا گیا ہے۔ ایک نسبتاً غیر معروف سکالرکی ان کے سامنے کیا حیثیت ہے۔‘‘

۲۔ ’’ اس کتاب میں متعدد غلطیاں جمع کر دی گئی ہیں۔‘‘

۳۔ اور تمام دلائل سے جان چھڑانے کے لئے بہترین تبصرہ (یا علاج): ’’ بنیادی مسئلہ اپروچ اور منہج کا ہے۔ قرآن اور حدیث کو ایک دوسرے سے الگ نہ کیا جائے، احادیث ربا کو آیت ربا کی تفسیر مانا جائے، تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ بینک انٹرسٹ کو ربا سے خارج سمجھا جائے۔‘‘

۴۔ ’’ کوئی تبصرہ نہیں۔ اس کا تو مطلب یہ ہوگا کہ پیر مودودی کے علم سے ان کا علم زیادہ ہے۔ (لہذا) عباسی کو مینٹل ہسپتال منتقل کیا جائے۔‘‘

امر واقعہ یہ ہے کہ یہ ساری بحث اس لیے جاری ہے کہ ہم بحیثیت مسلمان اس قبیح گناہ سے بچ سکیں جس کو قرآن مجید میں سنگین ترین قرار دیا ہے۔ اسی کی نشاندہی کی کوشش کرتے ہوئے ہم ان پگڈنڈیوں کی طرف نکل آئے اور جن کی ہلکی سی مشابہت بھی ہمیں نظر آئی اور ان پر سفر کرتے ہوئے ان بے شمار سوالات و جوابات کی کانٹے دار جھاڑیوں میں الجھ گئے جن کی طرف ہم نے اشارہ کیا ہے۔ چنانچہ ہم اصل شاہراہ کی طرف متوجہ ہو کر اصل سوال کی طرف آتے ہیں۔ اصل سوال تو صرف ایک ہے کہ ’ربا‘ کیا ہے جس کی اتنی شدت سے قرآن میں ممانعت آئی ہے، نہ صرف قرآن بلکہ تمام الہامی مذاہب اور فلاسفہ میں اس کو قابلِ نفرت اور سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔

گزشتہ صدی کے وسط میں ،جب استعمار کے قبضے سے مسلمان ابھی پوری طرح آزاد نہیں ہوئے تھے، دنیائے اسلام میں آزادی کی تحریکیں سامنے آنا شروع ہو چکی تھیں۔ ان ہی تحریکوں میں وہ تحریکیں بھی شامل تھیں جو قومیت کی بنا پر نہیں،بلکہ اسلام کو بنیاد بناکر استعمار کے نقشِ پا ختم کر کے اپنے اپنے ممالک میں انقلاب کی نیو ڈال رہی تھیں۔ یہ تو صاف ظاہر تھا کہ استعمار تجارت کے ذریعے سرمائے کے بل بوتے پر مسلم ممالک پر قابض ہوا تھا۔  یہ بھی واضح تھا کہ سرمائے کی منتقلی و کشش میں نظامِ بینکاری کا بہت بڑا دخل تھا اور اس کا وجود و بقاکا انحصار سود پر تھا اور ہے۔ ان حالات میں ان تحریکوں نے یہ ضروری سمجھا کہ اگراستعمار پر ضرب لگانی ہے تو اس کی بنیاد پر تیشہ رکھنا پڑے گا۔ اس کی قوت و شان کو اگر ختم کرنا ہے تو اس کے بغیر ممکن نہیں کہ سرمایہ ساز کارخانوں (بینکوں)کی موجودہ حیثیت کو ختم کیا جائے۔ یہ تھے وہ حالات جن میں وہ دلائل تلاش کئے گئے جن کے بل بوتے پر بینک کے سود کو ’ربا‘ قرار دے کر حرام قرار دیا گیا۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ اس دور میں عقلی و نقلی اور بڑے سائنٹیفک انداز میں سود کے خلاف دلائل سامنے آئے۔ آج کے دور کے اہلِ علم کی یہ ایک بڑی علمی خدمت ہو گی کہ درست تناظر میں ربا اور سود کے بارے میں اصل سوال کو سامنے لائیں۔

ہمارے نزدیک اصل سوال تب ہی سامنے آسکتا ہے جب ہم ربا اور سود کے متعلق علمائے کرام کے تمام دلائل کا جائزہ لیںگے۔

علمائے کرام نے سود کو ’ربا‘ قرار دینے کے لیے اس کے خلاف جو دلائل فراہم کیے ہیں وہ درج ذیل ہیں:
(۱) ربا کی تعریف اور لغوی بحث
(۲) معاشی، معاشرتی اور اخلاقی مفاسد۔

(۱) ربا کی تعریفیں: ہم نے دنیائے اسلام کی چار نمائندہ تعریفوں کا چنا ہے۔ تمام علمائے کرام کم و بیش ان پر متفق ہیں:

(الف۔۱) سید ابوالاعلی مودودیؒ:  آپ نے اپنی تعریف مسندحارث بن اسامہ اور بیھقی کی روایت پر رکھی ہے آپ کے الفاظ میں ’’لغت اور قرآن کے بعد تیسرا اہم ترین ماخذ سنت ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے احکام کا منشا معلوم کیا جا سکتا ہے۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیںکہ علتِ حکم مجرّد زیادتی کو قرار دیا گیا ہے۔ حدیث میں ہے  ۔ کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربوٰ (البیھقی) اور کل قرض جر بہ نفعا فھو ربوٰ۔ (مسند حارث بن اسامہ)  یعنی ہر وہ اضافہ جو قرض پر حاصلہ ہو ربا ہے۔ آپ کے ارشاد کے مطابق’’  امت کے تمام فقہا نے بالاتفاق اس حکم کا منشا یہی سمجھا ہے کہ قرض کے معاملہ اصل سے زائد جو کچھ بھی لیا جائے وہ حرام ہے‘‘ نیز یہ کہ ’’قرآن جس چیز کو حرام کر رہا ہے اس کے لیے وہ مطلق لفظ ’الربوٰ‘ استعمال کرتا ہے جس کا مفہوم لغتِ عرب میں مجرّد زیادتی ہے۔‘‘ (سود، ص ۲۶۵،۲۶۶،۲۶۷)۔ اس سے چند چیزیں واضح ہوتی ہیں: ٭ربا قرض کے معاملے میں ہوتاہے۔ ٭راس المال پر مجرّد اضافہ یا زیادتی ربا ہے۔ اس کے لیے پیشگی شرط ضروری نہیں۔ ٭متعین اور فکسڈ اضافہ نہ ہو پھر بھی وہ ربا ہو گا۔

بعض لوگوں نے جب اس روایت پر ضعیف سند کے حوالے سے اعتراض کیا کہ قابلِ قبول نہیں تو آپ نے فرمایا: ’’بعض لوگ اس حدیث اس حدیث پر اس دلیل سے کلام کرتے ہیں کہ اس کی سند ضعیف ہے۔ لیکن جو اصول اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے اسے تمام فقہائے امت نے بالاتفاق تسلیم کیا ہے۔ یہ قبولِ عام حدیث کے مضمون کو قوی کر دیتا ہے، خواہ روایت کے اعتبار سے اس کی سند ضعیف ہو۔‘‘ (سود، ص ۲۶۶) ۔

(الف۔۲) مولانا محترم نے ربا کی ایک اور تعریف بھی کی ہے جو پہلی سے مختلف ہے۔ اس میں راس المال پر مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعین کے ساتھ اضافے کو ربا قرار دیا گیا ہے۔ آپ رقمطراز ہیں: ’’قرض میں دیئے ہوئے راس المال پر جو زائد رقم مدت کے مقابلہ میں شرط اور تعین کے ساتھ لی جائے وہ ’سود‘ ہے۔ راس المال پر اضافہ ، اضافہ کی تعین مدت کے لحاظ سے کئے جانا اور معاملہ میں اس کا شرط ہونا یہ تین اجزائے ترکیبی ہیںجن سے سود بنتا ہے۔‘‘ (سود، ص ۱۵۳، تفہیم القرآن جلد اول، سورۃ البقرہ، حاشیہ ۳۱۵)۔ اس تعریف کے مطابق :

٭ راس المال پر مجرّد اضافہ ربا نہیں،بلکہ اضافہ مدت کے لحاظ سے ہو اور اس کا شرط ہونا۔ ٭اگر مدت کے تعین کے ساتھ اضافہ کی شرط نہ عائد کی گئی ہو تو وہ اضافہ ربا نہیں ہوگا۔

(۲) ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی:  ڈاکٹر صاحب، مولانا مودودیؒ کی پہلی تعریف سے بالکل اتفاق نہیں کرتے، بلکہ اس فکر پر سخت تنقید کرتے نظر آتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ سطور میں ذکر کیا گیا ہے۔اسی کی تائید محمد ایوب صاحب ان الفاظ میں کرتے ہیں: ’’قرض ادا کرتے وقت کسی پیشگی شرط کے بغیر اصل رقم سے زائد دینا قابلِ ستائش اور سنتِ رسولﷺ کے مطابق ہے۔ حضرت جابرؓ  کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ ان کے مقروض تھے۔ آپﷺ نے مجھے ادائیگی کی اور اصل سے زیادہ رقم دی (مسلم، ۱۹۸۱، ۱۰م ص ۲۱۹، نسائی ص ۲۸۳، ۲۸۴، ابن قدامہ، ص ۳۲۰،۳۲۱)۔ اسی طرح رسول اللہﷺ نے ادھار میں لیے گئے ایک اونٹ کی ادائیگی کے لیے ایک بہتر اونٹ دینے کا حکم دیا کیونکہ ادائیگی کے وقت مطلوبہ عمر کا اونٹ دستیاب نہ تھا۔ ‘‘  (اسلامی مالیات، ص۔۲۱۸)۔
اس موقف کے لازمی نتائج:

٭فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند نہیں بنایا، جیسا کہ مولانا محترم کا ارشاد ہے۔ ٭مطلقاً ہر اضافہ ربا نہیں، بلکہ وہی اضافہ ربا ہے جو قرض کو پیشگی نفع کے ساتھ مشروط کرتا ہو۔ ٭دورِ جاہلیت کا ربا جائز ہو جائے گا، کیونکہ وہاں بسا اوقات پیشگی مشروط نہیں ہوتا تھا۔

(۳) مفتی محمد شفیعؒ:  مفتی صاحب علیہ الرحمہ ربا کی تعریف کرتے ہوئے رقمطراز ہیں: ’’ اصطلاحِ شریعت میں ایسی زیادتی کو ’ربا‘ کہتے ہیں جو بغیر کسی مالی معاوضہ کے حاصل کی جائے۔ اس میں وہ زیادتی بھی داخل ہے جو روپیہ کو ادھار دینے پرحاصل کی جائے کیونکہ مال کے عوض معاوضہ میں تو راس المال پورا مل جاتا ہے۔ جو زیادتی بنام سود یا انٹرسٹ لی جاتی ہے وہ بے معاوضہ ہے۔‘‘ (سود، ص،۱۵۔۲۲)۔

اس تعریف کے اجزائے ترکیبی کے لازمی نتائج: ٭اس میں قرض کا لفظ غائب ہے (اگرچہ مفتی صاحب مرحوم کی دوسری تعریف میں یہ لفظ پایا جاتا ہے)۔ ٭ اس تعریف کے مطابق ایسی زیادتی یا بڑھوتری کو ’ربا‘ کہا گیا ہے جو بغیر مالی معاوضہ کے حاصل کی جائے۔ یہ تعریف صاف بتا رہی ہے کہ روپیہ ادھار دینے سے جو بڑھوتری حاصل ہو رہی ہے وہ تو ہے ہی ربا، اس کے علاوہ بھی ’بغیر کسی مالی معاوضہ‘  کے حاصل ہونے والی زیادتی ہوتی ہے جو ربا ہے۔ اب درج ذیل مثالوں پر اس تعریف کا اطلاق کے بعد جو نتیجہ حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے: (۱) ایک فرد نے کسی جوائنٹ اسٹاک کمپنی کے ایک ہزار روپے کی مالیت کے شیرز خرید رکھے ہیں۔ اسے ہر سال بغیر کسی محنت کے کمپنی کی طرف سے منافع کے نام سے دو سو روپے کا اضافہ ملتا ہے۔ اس تعریف کی رو سے یہ دو سو روپے کا اضافہ ’ربا‘ ہو جائے گا کیونکہ یہ اضافہ بہر حال ’بغیر کسی مالی معاوضہ کے حاصل ہو رہا ہے۔ (۲) مضاربت میں لگائی جانے والی رقم کا معاوضہ بھی ’ربا‘ ہوگا اس لیے کہ وہ اضافہ بھی بغیر کسی ’مالی معاوضہ‘ کے حاصل ہو رہا ہے۔

(۴) پروفیسر خورشید احمد: پروفیسرصاحب نے ربا کی ان الفاظ میں تعریف کی ہے: “What is forbidden is that fixed and predetermined return for one factor.” (M. Kabir Hassan and Meryn: Islamic Finance; p.88)یعنی جس چیز کی ممانعت ہے وہ یہ ہے کہ کسی ایک عامل کے پہلے سے مقرر و متعین معاوضہ ملے۔ پروفیسر صاحب نے اس تعریف کے علاوہ بھی تعریف کی ہے لیکن اس جگہ جو تعریف کی گئی اس کا لازمی نتیجہ تو یہی نکلتا ہے کہ زمین کا معاوضہ ’کرایہ‘  اور محنت کا معاوضہ ’اجرت‘ بھی ’ربا‘ ہو جائے گا کیونکہ یہ دونوں ہی پہلے سے مقرر اور متعین ہوتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں چاروں عوامل پیداوار میں سے صرف تنظیم (Organization) ہی وہ واحد عامل بچتا ہے جس کا معاوضہ جائز ہو گا۔ باقی تینوں عوامل پہلے سے مقرر و متعین معاوضے ہی لیتے ہیں جو ممنوع اور حرام متصور ہوں گے۔

ان تعریفوں کے تجزئے سے جو چیز سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ سب تعریفیں نہ صرف آپس میں متضاد ہیں، بلکہ ایک ہی مفکر کی بعض تعریفیں بھی آپس میں ٹکراتی ہیں۔ (مثلاً) سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کی تحقیق کے مطابق ضعیف سند والی روایت کو بالاتفاق فقہا نے تسلیم کیا ہے جب کہ ڈاکٹر محمد یوسف القرضاوی نے اس کی تردید کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ ’فقہا نے اس حدیث کو اپنے لیے سند بالکل نہیں بنایا‘۔ ربا کی تعریف رہی ایک طرف ، اب اس مسئلے کو کون حل کرے کہ فقہا نے کس چیز کو بنیاد بنایا یا نہیں بنایا۔

لُغوی اور اصطلاحی بحث: راس المال پر اضافے کے متعلق بالعموم یہ سمجھا جاتا ہے کہ ’ربا‘ کے لُغوی مفہوم اور اصطلاحی مفہوم میں فرق ہے۔ حرام صرف اصطلاحی مفہوم میں ہے نہ کہ لُغوی مفہوم میں۔ مولانا محمد عبیداللہ اسعدی لکھتے ہیں: ’’الربوٰ بمعنی زیادتی عربی لفظ ہے جس کا اطلاق ہر زیادتی پر ہو سکتا ہے، اور معاملاتِ خریدو فروخت میں زیادتی کو ہی نفع کہتے ہیں لیکن الربوٰ سے ہر زیادتی نہیں مراد ہوتی بلکہ خاص زیادتی مراد ہوتی ہے۔‘‘ ( الربا؛ ص۔۳۱)

سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے بھی لکھا کہ:’’۔۔۔۔ ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ اصل رقم پر جو زیادتی بھی ہو گی وہ ’ربوٰ‘ کہلائے گی۔ لیکن قرآن مجید نے مطلق ہر زیادتی کو حرام نہیں کیا ہے۔ زیادتی تو تجارت میں بھی ہوتی ہے۔ قرآن جس زیادتی کو حرام قرار دیتا ہے وہ ایک خاص قسم کی زیادتی ہے، اسی لیے وہ اس کو  ’الربوٰ‘  کے نام سے یاد کرتا ہے۔‘‘ (سود؛ ص۔۱۴۹)

ان ارشادات سے واضح ہوتا ہے کہ علمائے کرام بالعموم ’ربا‘ کے لُغوی اور اصطلاحی مفہوم میں فرق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق لُغت کا اگر اعتبار کیا جائے تو تجارت میں جو زیادتی ، بڑھوتری یا فائدہ ہو تا ہے اس پر بھی ’ربا‘ کا اطلاق ہوتا ہے۔ اور قرآن نے ’ربا‘ پر معرفہ کا الف لام ’ال‘ لگا کر اسے تجارت کے فائدے سے الگ کر کے قرض پر زیادتی کے لیے خاص کر دیا۔ اس کا دوسرا مطلب یہی ہے کہ دورِ جاہلیت کے عرب قرض پر حاصل ہونے والی بڑھوتری کے لیے ’ربا‘ نہیں بلکہ ’الربوٰ‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ عربی لغت میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس کے برعکس ہمیں تو یہ نظر آتا ہے کہ تجارت میں ہونے والے فائدے کے لیے اہلِ عرب ’ربح‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ امام راغبؒ مفردات القرآن میں ’ربح‘ کے مادّے کے تحت لکھتے ہیں کہ ربح وہ فائدہ ہے جو تجارت میں چیزوں کے تبادلے سے حاصل ہو۔ چنانچہ قرآن میں ہے کہ ’فما ربحت تجارتھم‘ (البقرہ: ۱۶)۔ پس ان کی تجارت نے ان کو کوئی فائدہ نہ دیا۔ ’ربح و رباح‘ تجارت میں اضافہ و ترقی کو کہتے ہیں۔ (تاج العروس)

چونکہ تجارت میں فائدے کے لیے عربی میں ’ربا‘ (مادّہ رب و) کا لفظ موجود ہی نہیں اس لیے اس پر الف لام (ال) لگاکر قرض پر حاصل ہونے والی زیادتی کا خاص مفہوم پیدا کرنے کا تصوّر ہی بے معنی ہے۔ ’ربا‘ کے لفظ میں ہی قرض پر بڑھوتری و زیادتی تصوّر موجود تھا اور اہلِ عرب اس لفظ کو اسی معنوں میں استعمال کرتے تھے۔ الف لام لگا کر البتہ قرآن نے اس قرض کو خاص کر دیا جس پر اضافہ کو حرام قرار دینا مقصود تھا۔ حضرت مفتی محمد شفیعؒ بہت حوالوں کے بعد لکھتے ہیں: ’’مذکورہ الصدر حوالوں سے یہ واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ لفظ ’ربا‘ ایک مخصوص معاملہ کے لیے عربی زبان میں نزولِ قرآن سے پہلے سے متعارف چلا آتا تھا، اور پورے عرب میں اس معاملہ کا رواج تھا وہ یہ کہ قرض دے کر اس پر کوئی نفع لیا جائے اور عرب صرف اسی کو ربا کہتے اور سمجھتے تھے۔‘‘ (مسئلہِ سود؛ ص۔۲۳)۔

اگر عرب لفظ ’ربا‘ کو ایک مخصوص معاملہ یعنی قرض پر بڑھوتری کے لیے استعمال کرتے تھے تو یہ کہنا کس طور درست ہو سکتا ہے کہ معاملات خریدوفروخت اور تجارت پر ہونے والے فائدے کے لیے ’ربا‘ کا اطلاق ہو سکتا ہے؟

با اور سود میں فرق (پہلی قسط) ۔۔۔ محمد انور عباسی
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دوسرا اور آخری حصہ اس لنک پہ ملاحظہ فرمائیے

Leave a Reply

Leave A Reply

%d bloggers like this: