میں جب بھی کسی شاعرہ کا کوئی شعری مجموعہ دیکھتی ہوں میرے سامنے سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ شاعرہ نے عورت اور اس کے متعلقات کو اپنی شاعری میں کس طرح پیش کیا ہے ؟ اس تناظر میں حمیرا رحمان کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو ان کے ہاں خواتین کا ایک باوقار اور میچور اظہار ملتا ہے، جس میں ایک طرف تو گھر، ماحول اور سماج سے سمجھوتا دکھائی دیتا ہے اس بات کے ثبوت کے لیے نظم "میں اک ماں ہوں” دیکھی جا سکتی ہے یا پھر یہ اشعار دیکھیے:
تمام عمر بسر کی کسی کہانی میں
کہیں پہ بول پڑے اور کہیں اشارہ کیا
کبھی اداس ہوئے حرفِ نا ملائم سے
تو گفتگو میں بہت دیکھ بھال کرتے رہے
جب لوگوں کو مل کر رہنا آئے نہیں
بیچ سے آنگن اور گھر کاٹنے پڑتے ہیں
تب مجھے چھاؤں کے بغیر رہنے کی عادتیں پڑیں
کوئی بڑا نہیں رہا جب میرے خاندان میں
لمحے بھر کو اپنی طرف بھی دیکھ سکیں
وقت ہمیں کب ملتا ہے گھر داری میں؟
جب کہ دوسری طرف ہمیں ایک ایسی عورت نظر آتی ہے جو اپنے وجود سے مطمئن اور سرشار ہے۔ اور چاہتی ہے کہ دوسرے بھی انھیں ایسے ہی تسلیم کر کے ان کی توقیر کریں یعنی حمیرا رحمٰن عورت کے تشخص اور اس کی انفرادیت پر ایمان رکھتی ہیں۔ اسے زندگی کے دھارے میں شامل دیکھتی ہیں۔ وہ اپنی صنف کی قدر دان ہیں اور خود پر ا اعتماد کو توڑنے والے عناصر کے خلاف احتجاج کرتی ہیں:
اپنے اندر ایک دریچہ کھلنے پر احساس ہوا
میں نے خود پر روک لیا تھا رستہ کھلی ہواؤں کا
جہاں منفی رویوں میں گھری ہوں
وہیں پیراہنِ اثبات میں ہوں
نڈر نہیں ہے مگر یہ کمال کرتے رہے
محبتوں میں بہت سے سوال کرتے رہے
ہوا سے لڑتی ہوئی روشنی میں اپنے لیے
مدافعت کا توازن بحال کرتے رہے
قصیدہ پرھتے رہے عارضی مراسم کا
ہم ایک قوس کو سورج خیال کرتے رہے
یوں وہ اپنی شاعری میں پورے شعور و ادراک کے ساتھ خواتین کے ان مسائل کو موضوع بناتی ہیں اور ان کے خلاف سماجی رویوں پر احتجاج کرتی ہیں۔
پھر ہم دیکھتے ہیں کہ زمین کے ساتھ محبت بھی ان کی تخلیقی شخصیت کا ایک لازمی جزو ہے۔ وہ اپنی دھرتی، اپنی زمین سے گہری وابستگی رکھتی ہیں اور انھیں احساس ہے کہ وطن اور اپنی تہذیب سے دوری کسی بھی طرح کی ترقی اور خوش حالی کے لیے ایک بڑی قیمت ہے۔ یہی سبب ہے کہ دھرتی کی محبت کے ساتھ مسافرت کا تجربہ ایک مستقل موضوع ہے:
ہماری نسل نے ہجرت معاش پر کی ہے
ہمارے عہد کی مجبوریاں بہت سی ہیں
اسی طرح ’’نوسٹلجیا‘‘ میں کہتی ہیں:
تو پھر کیا فرق پڑتا ہے
کہ میں ملتان میں
لاہور میں ہوں
یا کراچی میں
یہ میرے شہر ہیں
اور ان میں رہنے والے میرے ہیں
میں جو بھی ہوں
جہاں بھی ہوں
اسی رونق بھرے منظر کا حصہ ہوں
اسی طرح ان اشعار میں دیکھیے:
رنگوں کے امکان کی اجرک اوڑھی پوری وادی نے
موسم آنکھیں موند رہا ہے پیلے سبزہ زاروں کا
رستوں کی تقسیم سے پہلے ہم کو فیصلہ کرنا تھا
منزل پر بنیاد ہوا تھا موڑ کئی دوراہوں کا
ہماری ہجرتیں پہچان ہیں اس سلسلے کی
ہمیں جس نسبتِ سادات میں رکھا گیا ہے
حمیرا رحمٰن کی شاعری کی ایک اور خاصیت ان کا عصری شعور ہے۔ انھوں نے ذاتی اور اجتماعی آشوب کے امتزاج سے اس مجموعے کا خمیر تیار کیا ہے۔ ملکی و عالمی سطح پر پر رونما ہونے والے واقعات جس طرح انسان کی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں اس کا بڑا واضح تصور ان کے ہاں موجود ہے۔ ان کے ہاں بنی نوع انسان پر اترنے والی اس اداسی اور تنہائی کا کرب نمایاں ہے، جس نے سرمایہ داری کے نرغے میں پھنس کر انسان کو چیزوں سے محبت کرنا اور انسانوں سے دور ہوکر دنیا کی خوب صورتی کو پامال کرنا سکھایا ہے۔ انسانی اقدار کی پامالی، آدمی کے لہو کی ارزانی اور ظلم و ستم کی عمل داری انھیں مضطرب رکھتی ہے اور وہ اس دنیا کو ایسی دنیا قرار دیتی ہیں جس میں ہم اپنے اپنے تذبذب کے ساتھ زندہ ہیں اور نئی دواؤں کے ساتھ زہر بانٹ رہے ہیں۔ سیاسی اور معاشرتی حالات پر ایک عورت کی تفہیم اور بصیرت ملاحظہ کیجیے:
شہر حمیرا دیکھ رہا ہے خود کش حملو ں میں
کھیل تماشا جانوں کی ارزانی کا کچھ اور
گزرتے رہتے ہیں ہر روز رائیگانی سے
ہم ایسے شعبدہ گاہ زیاں کا حصہ ہیں
سمجھ رہے ہیں کہ ہم ہیں، مگر کہیں بھی نہیں
یقیں کے شور میں وہم و گماں کا حصہ ہیں
یہ عمر ایسے تضا دات میں گزاری ہے
کہ منکرین میں ہیں اور ہاں کا حصہ ہیں
طویل جنگ نئے فیصلے سناتی رہی
کہ اس کو بیر تھا ماؤں کی التجاؤں کے ساتھ
دنیا ایک تجارت ہے جس میں ہم لوگ
جیت گئے ہیں جانوں کی بیو پاری میں
ہم اس سے لاعلم کہاں رہ سکتے ہیں
جنگ ہمارے گرد ہے چار دیواری میں
امن و امان کے لیے ہم نے اداریے لکھے
جنگ کے فیصلے ہوئے اور کسی زبان میں
جو بیٹے جنگ پر ہوں گے روانہ
میں ان کی ماؤں کے خدشات میں ہوں
ہماری سانس میں بارود سے لپٹا ہوا جھونکا
بہت سی ایٹمی جنگوں کے اعلانات لکھتا ہے
جسے پالا ہے کشمیر و فلسطیں کی فضاؤں نے
وہ بچہ مسکرا دینے کی ترجیحات رکھتا ہے
زمینِ ہند و پاکستان کے دکھ ایک ہیں تو پھر
تضادِ گفتگو کیسا یہ جڑواں بھائیوں میں ہے
سرحدیں بانٹنے کا سرنامہ
کس کشادہ دلی سے لکھا گیا
یہ صورتِ حال ان کی نظموں میں بھی ہے، مثلاً "تحیر غیر فطری ہے” کے عنوان سے لکھتی ہیں:
اسے کس نے کہا تھا
نیند سے بھرپور وادی میں
کسی بیدار کرنے والے لمحے کا پتا پوچھے
وہ رستے جن میں
بے ترتیبیاں حیران پھرتی ہوں
وہاں ترتیب ڈھونڈے
جہاں پر زندگی ارزانیاں لکھتی ہو
ان گلیوں کی دیواروں پہ
اپنے ہاتھ سے تحریر کردے
خط تحفظ کا
اسے مععلوم ہونا چاہیے تھا
نیند سے بھرپور وادی میں
کسی بیدار لمحے کا تصور
غیر فطری ہے
تحیر غیر فطری ہے
یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی شاعری کے ذریعے قاری کی تربیت بھی کرتی جاتی ہیں اور انھیں بتاتی ہیں کہ پسِ شدت پسندی کون سے کردار ہیں؟ شہر کے کونے کونے میں کس نے خوف انڈیلا ہے؟ کیسے ہمیں متروک رجحانات، محفوظ امکانات اور وہم موجودات میں رکھا گیا ہے۔ ہمیں انقالاب کی خبر دے گئی ہے لیکن محدود محدود تفصیلات میں رکھا گیا ہے اور مزید کہتی ہیں :
حمیرا معتبر ہونے لگے ہیں
غلط اخبار اور فرضی ادارے
فروغِ دین میں تاثیر گھول سکتا ہے
وہ علم جس نے تضادات سے کنارہ کیا
کوئی کسی کی حفاطت کا کیسے ضامن ہو
غنیمِ شہر کا نام و نشان بولتا ہے
پس منظر کوئی ہے یہ مصور جانتا ہے
ہمیں تصویر میں کچھ اور دکھلایا گیا ہے
خبر نامے کی سب خبریں مکمل ہو گئی ہیں
مگر ان کو ادھورا نشر کروایا گیا ہے
مرے لوگوں میں وہ ابہام پھیلایا گیا ہے
کہ ہر کردار کو بے نام لکھوایا گیا ہے
لیکن یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ دنیا میں پھیلتی تباہی اور مخدوش مستقبل کی پرچھائیوں منفی رویوں کی اس جدید دنیا کی باسی ہونے کے باوجود مثبت تصورات کا علم تھامے دکھائی دیتی ہیں اور مردہ دلی کے ارد گرد اُمنگ بوتے ہوئے کہتی ہیں :
ہزار بار بجھی آنکھ پھر ہوئی روشن
کچھ آئینے بھی تھے بے چہرگی کے چاروں طرف
ہوا بدلنے کی آنے لگی ہے خوش خبری
بہت دھواں تھا گزرتی گھڑی کے چاروں طرف
ہم آنے والے زمانوں سے دور کیوں نہ رکھیں
جو الجھنیں ہیں ہماری صدی کے چاروں طرف
ان اشعار میں دو خوبیاں واضح ہیں۔ ایک تو بدامنی، جنگ اور اسلحے سے نفرت کا اظہار، جس میں نفرت کے باوجود شاعرانہ نزاکت قائم ہے اور دوسرے تراکیب و استعارات میں وہ لفظیات ہیں کہ یہاں حمیرا رحمٰن ہمیں زنانہ اور مردانہ لفظیات سے ماورا دکھائی دیتی ہیں۔ بقول ان کے مشاہدات کی لغت بناتے ہوئے وہ لفظ کے معنی بدلتی ہیں اور احتجاج کے اسلوب میں جو بات کرتی ہیں اسے بھاری یا ثقیل الفاظ، تشبہیات اور استعارات سے مزین کر کے اس کی تلخی کو کم نہیں کرتیں دوٹوک لہجے میں بیان کرتے ہوئے قاری کے ذہن میں وہ تلخی اتار دیتی ہیں۔ وہ علامتوں کا استعمال بھی کرتی ہیں اور یہ علامتیں مکمل ابلاغ رکھتی ہیں اور زندگی کے قریب ہیں۔ اندھیرا، چراغ، روشنی، سناٹا، آئینہ، لو، ہوا، بادل، پودے، شجر، سفر، دھوپ، برتن کانچ وغیرہ ایسی ہی علامات ہیں۔ پھر دکھ اٹھتے ہیں، ہو رہا ہے، بہت سی ہیں، بولتا ہے، کر سکتے تھے ہم، زندگی لگی ہم کو، کاٹنے پڑتے ہیں جیسی ردیفیں بھی ہیں جو اشعار کی معنویت میں اضافہ کرنے کے ساتھ ان کے تحرک پر بھی دال ہیں۔
غرض ’’بہت سے کام کرنے ہیں‘‘ پڑھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ حمیرا رحمٰن ایک خود آگاہ بلکہ جہاں آگاہ شاعرہ ہیں۔ میں نہیں جانتی کہ انھیں مزید کون سے کام کرنے ہیں جن سے قبل انھیں سوچنا ہے لیکن اپنے تخلیقی وفور کی مدد سے، بغاوت بھرے لمحوں میں فسادِ خلق کی پروا نہ کرتے ہوئے اور مسلسل جنگ کے اعلان رقم کرتے ہوئے انھوں نے جو یہ ضروری کام کیا ہے وہ انھیں اردو شاعری کے منظر نامے میں نمایاں مقام دلانے کو کافی ہے۔
