تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینکلچر، آرٹموسیقی

’’نینا مورے‘‘ اور کچھ یادیں: ایک تاثر —- خرم سہیل

by خرم سہیل 02/09/2017
written by خرم سہیل 02/09/2017
216

برصغیر پاک و ہند میں اُستاد بڑے غلام علی خان کا طوطی بولتا تھا۔ کلاسیکی موسیقی میں انہیں وہ شہرت نصیب ہوئی، جو ہر ایک کے حصے میں نہیں آتی۔ وہ قصور پٹیالہ گھرانے کے ایسے فن کار تھے، جن کے مداحوں میں عام سامعین سے لے کر حکمرانوں تک سب ہی شامل ہوا کرتے تھے، معروف بھارتی سیاستدان اور سابق بھارتی وزیراعظم جواہر لعل نہرو سے کون واقف نہیں، وہ بھی ان کے احترام میں پیچھے چلتے تھے۔ ایسی قدردانی کم فنکاروں کو نصیب ہوئی۔ کلاسیکی موسیقی کے راستے پر، وہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعد میں آنے والوں کے لیے مشعل راہ بھی، جس کی چاندنی میں سُر چمکتے دمکتے، نکھرتے اور بکھرتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد ایسی ہی شہرت پاکستان میں کسی کو نصیب ہوئی، تو وہ استاد نصرت فتح علی خان ہیں، جنہوں نے ایک دنیا کو اپنی گائیکی سے فتح کیا۔

ان دونوں شخصیات کی یاد ایک ساتھ اس لیے آئی کہ حال ہی میں کوک اسٹوڈیو سیزن 10 کی چوتھی قسط میں ایک پیشکش ’’نیناں مورے‘‘ کے نام سے تخلیق کی گئی ہے، اس میں دونوں عظیم شخصیات کے کام کو یکجا کیا گیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ خوش قسمتی سے اس تخلیقی کاوش میں، پیش کاروں نے حق بھی ادا کر دیا، ورنہ کوک اسٹوڈیو میں کچھ عرصہ سے، جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

اس تخلیقی پیشکش میں جاوید بشیر اور ان کے بھائی اکبر علی نے انتہائی خوبصورتی سے اس امتزاج کو نبھایا ہے۔ اکبر علی نے استاد بڑے غلام علی خان کی ٹھمری ’’نیناں مورے‘‘ کو جدید موسیقی کے آہنگ میں گایا ہے، جبکہ جاوید بشیر نے اپنے روحانی استاد نصرت فتح علی خان کی ایک دُھن’’من اٹکیابے پرواہ دے نال‘‘ کی حقیقی عکاسی کی ہے۔ ہمیشہ کی طرح وہ اس کوشش میں کامیاب دکھائی دیے ہیں۔ راحت فتح علی خان کو اس بات سے ضرور سبق حاصل کرنا چاہیے، کیسے ایک گلوکار، جس نے کبھی استاد نصرت فتح علی خان سے تربیت نہیں لی، مگر وہ ان کی گائیکی سے اتنا قریب ہے، جبکہ دوسری طرف راحت فتح علی خان، دن بدن اس تربیت کے اثرات سے باہر نکلتے جا رہے ہیں، اسی سیزن میں ان کا گایا ہوا گانا’’سیونی‘‘ ایک مثال ہے۔ جاوید بشیر کی وجہ شہرت استاد نصرت فتح علی خان کی گائیکی سے نسبت اور میکال حسن بینڈ کے ذریعے صوفی شاعر شاہ حسین کے کلام کو اپنی گائیکی میں سمونے کی ہے، اس تخلیقی کاوش میںد ونوں چیزیں پھر سے یکجا ہوگئیں۔

معروف گٹارسٹ عامر ذکی کا کوک اسٹوڈیو میں، یہ آخری فنی معرکہ تھا، وہ اس میں بھی پوری طرح چھائے ہوئے ہیں۔ گل محمد نوجوان نسل سے تعلق رکھنے والے سارنگی نواز ہیں، انہوں نے بھی اپنے فن کی پروز کو اور بلند کیا ہے۔ بغیر کسی شک وشبے کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس سیزن کا یہ سب سے بہتر میوزک اسکور ہے، جس کو سن کر یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ کرنا ہے، وہ گلوکاروں اورموسیقاروں کو خود ہی کرنا ہوگا، پروڈیوسرز اور میوزک ڈائریکٹرز کچھ نہیں کریں گے، کیونکہ اس ٹھمری اور قوالی کے امتزاج کا تجربہ اچھا ہوا ہے، تو اس کی وجہ یہ فنکار ہیں، جن کا یہ اپناذاتی رنگ ہے، جو اس میں بھی نمایاں ہے۔ کوک اسٹوڈیو کی انوویشن اور تخلیقی اُپج دھیرے دھیرے کم ہو رہی ہے، روحیل حیات والی تخلیقی بلندی کا تناسب گر رہا ہے، یہ بات موجودہ میوزک پروڈیوسرز بلال مقصود اور فیصل کپاڈیہ کو سوچنا ہوگی، کیونکہ کوک اسٹوڈیو کی تاحال مقبولیت، ایک مہلت کی طرح ہے اور مہلت کب ختم ہو جائے، کون جانے۔

اس تخلیقی کاوش کو سن کر کچھ یادیں عود آئیں، جن کو آپ سے بیان کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ میرا بحیثیت طالب علم جامعہ کراچی میں داخلہ اور موسیقی کی دنیا میں میکال حسن بینڈ سے شناسائی ساتھ ساتھ ہوئی، یہ 12سال پہلے کی بات ہے۔ میکال حسن سے تو بہت عرصے بعد جاکر ذاتی تعلق بنا، مگر جاوید بھائی سے تو دوستی بہت جلدی ہوگئی تھی، شاید ان کی اور میرے مزاج کی مٹی ایک جیسی تھی۔ عملی صحافت سے وابستگی کے بعد، جب میں نے پہلی مرتبہ ان سے انٹرویو کیا تو وہ اس قدر گفتگو میں مگن ہوئے، اندازہ ہی نہیں ہو رہا تھا کہ میں ان سے پہلی بار مخاطب ہوں، اپنے والد کو یاد کرکے متعدد بار، ان کی آنکھیں آنسوئوں سے بھیگ گئیں۔ کوک اسٹودیو کے سیزن 2 میں جب انہوں نے استاد نصرت فتح علی خان کا گایا ہوا ایک گیت’’ہجے لتھا نہیں اوں اکھیاں دا چا‘‘ گایا تو میں نے ان کو فون کرکے کہا، یہ گیت آپ کو ایک ہزار سال تک زندہ رکھے گا۔ اسی طرح جب میری کتاب ’’سُرمایا‘‘ شایع ہوئی تو انہوں نے مجھے، موسیقی سے میری پیشہ ورانہ وابستگی، ریاضت اور لگن کی وجہ سے آدھے گائیک کا خطاب دیا۔ ان کے بھائی اکبر علی سے بھی انہی کے ذریعے سے واقفیت ہوئی۔ آج 8 سال بعد جاوید بھائی نے ایک بار پھر اسی توانائی کے ساتھ، اپنے روحانی استاد اور پسندیدہ صوفی شاعر کی نمائندگی کی ہے، تو اس بار میں نے ان کو فون کرنے کی بجائے یہ تحریر لکھ دی ہے۔

عامر ذکی کی رحلت کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا، ان کی یادیں میں بیان کرتا رہتا ہوں۔ اس سیزن میں، ان کی زندگی کا، وہ آخری منظر ہے، جس میں انہوں نے اپنے فن کا شاندار مظاہرہ کر رہے ہیں۔ روایتی موسیقی کے ساتھ، جدید ساز و آہنگ کس طرح ہونا چاہیے، وہ انہوں نے کر کے دکھایا ہے۔ اسے سن کرمجھے وہ اداس شامیں اور بے نور صبحیں یاد آرہی ہیں، جن میں عامربھائی اور میں محو گفتگو ہوا کرتے تھے۔ گل محمد سے شناسائی کو زیادہ وقت نہیں ہوا، کم گو اور کم عمرہونے کے باوجود، جب وہ سارنگی پر اپنی انگلیوں کا جادو جگاتا ہے تو احساسات کی زبان بولنے لگتا ہے، اس کی سارنگی میں سب سے زوردار تاثر وہ سوز ہے، جس میں ان کہی باتوں کا بیان ہے۔ اس گیت نے شاہ حسین کی یادکے ساتھ ساتھ، استاد بڑے غلام علی خان اور استادنصرت فتح علی خان کالہجہ بھی یاد دلوا دیا۔

عامر ذکی اور جاوید بشیر کے ساتھ گزارے دنوں کی یادیں، سنہری روشنی بن کر میرے ماضی میں دمکتی ہیں اور میں خود کو خوش نصیب سمجھتا ہوں، ان ہنرمندوں کے ساتھ، مجھ ناچیز نے کچھ وقت گزارا ہے، جب جب بھی اس طرح کی کوئی تخلیقی کاوش سماعت کرتا ہوں، تو وقت میری انگلی پکڑ کر مجھے وہیں لے جاتا ہے، جہاں ہم بیٹھے ایک دوسرے سے مکالمہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جاوید بھائی اپنے والد کی یادوں میں، بہت دور نکل جاتے ہیں، حتیٰ کہ بہت سارے آنسو بھی ان کا راستہ نہیں روک پاتے اور دوسری طرف عامر ذکی، جنہوں نے اپنا ایک سیلف پورٹریٹ مجھے دے دیا، جوکسی مداح لڑکی نے بنا کر انہیں دیا تھا، مجھے شاید اس لیے دے دیا ہوگا تاکہ ایک حسین یاد اور پرچھائی کو میں محفوظ رکھ سکوں، جس طرح اس گیت میں انہوں نے دل کے کسی نہاں خانے سے اٹھنے والی ہوک کو محفوظ کر دیا، ہمیشہ کے لیے۔۔۔۔۔

Facebook Comments Box
Amir ZakiCoke StudiofeaturedNusrat Fateh Aliاستاد بڑے غلام علیاستاد چھوٹے غلام علیپاپ میوزکپاکستانی موسیقیخرم سہیلعامر ذکیکوک اسٹوڈیونصرت فتح علی خان
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
خرم سہیل

پیشے کے اعتبار سے صحافی، براڈ کاسٹر اور محقق جو فنون لطیفہ سے متعلقہ موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ اب تک ان کی آٹھ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ آپ پاکستان جاپان لٹریچر فورم کے بانی بھی ہیں اور اس سلسلے میں جاپان کے ادب و ثقافت کے حوالے سے کوشاں رہتے ہیں۔ بطور میزبان ایک ٹیلی وژن اور ایف ایم چینل سے لائیو پروگرام بھی کرتے ہیں۔ بطور فلمی تنقید نگار الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں متحرک ہیں۔ برائے رابطہ khurram.sohail99@gmail.com

previous post
یہ دھوکا بھی کھا کے دیکھو: طاہر عمیر
next post
پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کی عالمی سازش؟

Related Posts

شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...

23/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.