تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
سیاسیکالم

مسئلہ کشمیر کا حل ــــ کیا اور کیسے؟ اسد خان

by Daanish Editor 25/07/2017
written by Daanish Editor 25/07/2017
121

مسئلہ کشمیر دنیا کے دیرینہ تنازعات میں سے ایک ہے جس کی وجہ سے برصغیر کے ڈیڑھ ارب لوگ اذیت میں مبتلا ہیں. پاکستان اور بھارت کے درمیان دشمنی کی وجہ سے ہتھیاروں کے حصول کی دوڑ لگی ہے ، تجارتی تعلقات نہ ہونے کے برابر ہیں، ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈیکس پر دونوں ملک بہت نیچے ہیں، قومی شاونزم کی بنیاد پر دشمنی کے جذبات بھڑکا کر عوام کا استحصال کیا جاتا ہے. مسئلے کے بنیادی فریق ریاستی عوام بنیادی حقوق سے محروم ،منقسم اور ریاستی جبر کا شکار ہیں.
اس پورے خطے میں امن کی بحالی اور ترقی کے لیے اس تنازعہ کا حل ناگزیر ہے. برصغیر کے با شعور لوگوں کا یہ فرض ہے کہ نہ صرف ریاستی عوام کے لیے بلکہ اپنی تعلیم، صحت ، روزگار ، معاشی میدان میں ترقی اور جمہوری حقوق کے لیے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیں. دہشت گردی اور مقروض معیشت کے پیچھے بنیادی وجہ ہندوستان اور پاکستان کے خراب تعلقات ہیں جن کی جڑ مسئلہ کشمیر ہے. ستر سال سے اس بنیادی مسئلے کے حل میں پیشرفت نہ ہونے کی وجہ یہ ہے ہندوستان ریاست جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے ۔اقوام متحدہ کی قرار دادیں بھی محض کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوئی ہیں کیونکہ وہاں عالمی طاقتیں حاوی ہیں اور وہ اپنے مفادات کے مطابق ہی اقوام متحدہ کو استعمال کرتی ہیں. اس مسئلہ کو بھارت کی نظر سے دیکھنے سے یہ کبھی بھی حل نہیں ہو گا. مسئلہ کشمیر تب ہی حل ہو سکتا ہے جب ریاستی عوام کو بنیادی فریق تسلیم کر کے ان کی امنگوں کے مطابق اس کا حل تلاش کیا جائے.

پاکستان اور بھارت اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ جنگ لڑ کر پوری ریاست پر قبضہ کر سکیں اور اگر یہ ناممکن کام ہو بھی جائے تو اس طرح صورتحال مزید مخدوش ہو جائے گی. بھارتی مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام نے لاکھوں جانیں قربان کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کسی صورت بھارت کے ساتھ رہنے کے لیے تیار نہیں اسی طرح آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کبھی بھی بھارت میں شامل نہیں ہونگے، البتہ جموں اور لداخ کے لوگوں کی اکثریت کا انتخاب مختلف ہو سکتا ہے۔دوسری طرف ایسی کوئی طاقت موجود نہیں جو بھارت کو ریاست پر سے اپنا قبضہ ختم کرنے پر مجبور کرے ۔جس طرح 1947ء میں بنگال اور پنجاب تقسیم ہو کر ہی پاکستان کا حصہ بن سکے تھے وہی عمل ریاست جموں و کشمیر کے ساتھ دہرایا جانا ہو گا.

لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ آج ہم 2017 میں کھڑے ہیں، زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں اور 1947ءکی عینک سے آج کا معروضی سچ نہیں دیکھا جا سکتا. بنگال کی مثال سے صورتحال کی وضاحت کی جا سکتی ہے. مسلم لیگ 1947ء میں خودمختار متحدہ بنگال کے حق میں تھی اور کانگریس کی ضد پر اسے تقسیم کیا گیا تھا اور یوں مشرقی بنگال مشرقی پاکستان بنا تھا. اکثریت کے جبر کے خوف سے نجات کے بعد مگر قومی تضادات سامنے آ گئے. پنجابی جاگیرداروں اور فوج نے پاکستان پر قبضہ کر لیا، ون یونٹ قائم کی اور صوبائی خودمختاری ختم کر دی. استحصال نے مزاحمت کو جنم دیا اور جنرل شیر علی کا ایجاد کردہ نظریہ پاکستان متحدہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا. بنگلہ دیش بن گیا . سیاسی قیادت کی بدعنوانیوں کی داستانیں زبان زد عام ہیں. تعلیم، صحت اور کاروبار کی بہترین سہولتیں اشرافیہ کو حاصل ہیں اور عوام بدترین استحصال کا شکار ہیں. پاکستان کے عوام کو اپنی اشرافیہ کے جبر سے آزادی حاصل کرنے کے لیے عین اسی طرح کوشش کرنی چاہیے جیسے کشمیری کر رہے ہیں. عالمی اقوام کو بھی الحاق کی بنیاد پر موجود ستر سالہ تنازعہ سے کوئی دلچسپی نہیں ہو سکتی.

کشمیری عوام، پاکستان اور بھارت سب کے لیے اس مسئلے کا حل ہو جانا ضروری ہے اور اس کا واحد ممکنہ اور منصفانہ حل کشمیریوں کا حق خود ارادیت ہے ۔، تقسیم سے بچاو کا واحد راستہ یہی ہے. کشمیریوں کی بیرون ملک مقیم ایک بہت بڑی تعداد آزادی کشمیر کے لیے کوشش کر رہی ہے. حق خودارادیت کو اقوام متحدہ بنیادی حق تسلیم کر چکی ہے اور موجودہ وقتوں میں کئی چھوٹے چھوٹے ملکوں نے اس حق کو اپنی خودمختاری کے لیے کامیابی سے استعمال کیا ہے.

کشمیر کی آزادی کے لیے چلائی جانے والی تحریک کو فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم کرنا ممکن نہیں ہو گا نہ اسے پراکسی وار بنا کر پیش کرنے میں ہندوستان کو کامیابی ہو سکے گی. ریاست جموں و کشمیر جنوبی ایشاءکا مرکز بن سکتی ہے . پاکستان کے چھوٹے صوبوں میں سرگرم سیاسی کارکن اور دانشور کشمیریوں کے حق خودمختاری کے حامی ہیں البتہ حکمران طبقات اصولی موقف کے نام پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کا راگ الاپنے میں کمفرٹیبل محسوس کرتے ہیں کیوں کہ حالات کا جوں کا توں رہنا ان کی حکمرانی کو استحکام بخشتا ہے. بھارت میں بھی انسانی حقوق کے علمبردار دانشور اس حل کو تقویت بخشیں گے.

تقسیم برصغیر کے وقت مسلم لیگ نے ریاستوں کے آزاد رہنے کے حق کی بھرپور وکالت کی تھی جبکہ کانگریس کا موقف یہ تھا کہ ریاستوں کو بہر صورت بھارت یا پاکستان کا حصہ بننا چاہیئے. مہاراجہ ریاست، وزیر اعظم کااور مسلم کانفرنس ریاست کی خودمختاری کے حامی تھے. کانگریس کی پرزور مخالفت اور برطانیہ کی اس کی حمایت کی وجہ سے اس وقت کوئی بھی ریاست خودمختار نہیں رہ سکی. قبائلیوں کے حملے کے بعد مہاراجہ نے الحاق ہندوستان کے حق میں فیصلہ کر دیا، الحاق کے حامی شیخ عبداللہ نے طویل جیل کاٹی.

. الحاق نواز سیاستدانوں نے گزشتہ ستر سالوں میں چھوٹی چھوٹی مراعتوں کے عوض تمام اختیارات سے دستبرداری قبول کر لی اور مفادات کی سیاست میں الجھے رہے جبکہ کشمیر کی حامی جماعتوں نے مقبول بٹ شہید کو آزادی کی علامت بنا کر کشمیری عوام کے ایک بڑے حصے کو متحرک کردیا ہے.
. نا اہل سیاستدانوں کی وجہ سے کشمیر مسائلستان بن چکا ہے اور ان عوامی مسائل کی بنیاد پر عوام میں وسیع تر جڑت بنائی جا سکتی ہے. ہندوستان اور پاکستان کے کروڑوں محنت کشوں سے براہ راست جڑت پیدا کر کے ہی انھے کشمیر کے حق میں قائل کیا جا سکتا ہے. یہ بات ہندوستان کے عوام تک پہنچانے کی ضرورت ہے کہ کشمیری عوام ان کے دشمن ہیں نہ ان کے مخالف بلکہ وہ خود غاصبانہ قبضے کا شکار ہیں اور مظلوم عوام کے استحصال کے خلاف ان کی جدوجہد کے ساتھ یکجہتی رکھتے ہیں. ہندوستان کے کروڑوں غریبوں کی دشمن ان کے ملک کی استحصالی اشرافیہ ہے اور مسئلہ کشمیر کو محض اس استحصال کو طوالت دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے.

ہندوستان کے عوام کی نجات میں ہی دراصل ہماری آزادی کی کنجی پنہاں ہے۔
بین الاقوامی رائے عامہ پر بھی بنیادی انسانی حقوق کی بازیابی کے لیے تحریک مثبت اثر ڈال سکتی ہے ۔ فرقہ واریت ، دہشت گردی اور پراکسی وار کے پروپیگنڈے کا توڑ بھی یہی ہے ۔

ریاست جموں کشمیر کی تمام اکائیاں مساوی حثیت میں اس ریاست کا حصہ ہوں، صوبے خودمختار ہوں اور وفاق کے پاس چند ضروری شعبے ہوں۔ ایک مخصوص وقت کے بعد صوبوں کو حق علیحدگی بھی حاصل ہونا چاہئیے۔

اگر ریاست جموں و کشمیر کو آزاد ہونا ہے تو اس کا واحد ممکنہ اور منصفانہ حل یہی ہے ورنہ لاکھوں جانوں کی قربانی ضائع جائے گی، ریاستی شہریوں کے استحصال کا سلسلہ چلتا رہے گا۔

Facebook Comments Box
آزاد کشمیرجموںکشمیر
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
 فیس بک لائیکس میں ڈوبتی خوداعتمادی: مدیحی عدن
next post
لارنس آف عربیہ کی حقیقی داستان ۔۔۔ آخری حصّہ

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.