تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینعلم و ادبمزاح

لو آج کی شب بھی سو چکے ہم —- ذوالقرنین سرور

by دانش ڈیسک 19/07/2017
written by دانش ڈیسک 19/07/2017
146

شہر اقتدار سے دانہ پانی اٹھنے کے بعد ہم نے زندہ دلوں کے شہر کا رخ کیا۔ جس دوست کو بھی یہ خبر سنائی، اس نے قہقہہ لگا کر ایک ہی بات کی۔ "جتھے دی کھوتی اوتھے آن کھلوتی”۔ ان دنوں دو باتوں پر ہماری زبان سے ہر وقت شکر ادا ہوتا تھا۔ ایک کہ یہ محاورہ مذکر نہیں۔ دوسرا اہلِ زبان اس میں مذکر کے لیے کچھ مناسب ترامیم کا ارادہ نہیں رکھتے۔ نئی ملازمت میں آتے ہی پتا چلا کہ شام کو آنا ہے۔ اور صبح سویرے منہ اندھیرے جانا ہے۔ چند دن گزارے تھے کہ منہ تو یوں بھی اندھیرے کا ہی حصہ بن گیا۔ لیکن بات اس منہ اندھیرے کی نہیں بلکہ بات ہے ہماری دکھتی رگ کی۔ یعنی کہ لیپ ٹاپ۔. wrestler BrandiMae

یہاں پر ہمیں ایک بالکل نیا لیپ ٹاپ دیا گیا تھا۔لیکن بستہ پرانا تھا۔ یہ بڑی دلچسپ بات تھی۔ ہم دل پر لے گئے۔ کہا کہ بستہ بھی نیا دو۔ متعلقہ شعبے کا فرد متعلقہ شعبوں کے افراد کی طرح ہی ہنسنے لگا۔ ہم اس ہنسی سے خوب آشنا تھے۔ خیر یہ تو خود بہلا رہے تھے وگرنہ اصل بات یہ ہے کہ طبیعت بڑی مکدر ہوئی۔ ایک تو ہمیں اس عزت افزائی کی عادت نہ تھی۔ دوسرا اس کے کلیدی تختہ کی اکائیاں بہت نرم تھیں۔ اور ہماری سخت جاں انگلیاں ان کی نرمی کو کسی حسینہ کے لمس جیسا محسوس کرتی تھیں۔ اس کے دوبنیادی نقصانات تھے۔ ایک تو دوران کام ہمارا دھیان حسیناؤں میں الجھا رہتا۔ دوسرا ہم بلاوجہ اکائیاں دباتے رہتے۔ تاہم ہمارا لیپ ٹاپ مکمل طور پر مردانہ تھا۔ گلا پھاڑ کر چیخنا ہو تو حاضر۔ مگر جو سرگوشی کا کہو تو آنسو بہاتا تھا۔ متعلقہ شعبہ سے رابطہ پر معلوم ہوا کہ اس ماڈل میں نقص ہے۔ اور ہیڈ فون استعمال نہیں کرسکتے۔طمانیت کی ایک لہر پورے وجود میں دوڑ گئی۔ زندگی میں اگر ہم کو ایسا لیپ ٹاپ دے دیا جائے جس میں کوئی نقص نہ ہو تو شاید ہم کام ہی نہ کرپائیں۔ لیکن یہ بات سب کو بتانے کی تھوڑی تھی۔ سو ہم نے کلہاڑے پر پاؤں مارتے ہوئے کہا کہ میاں! کچھ اندازہ بھی ہے ہیڈ فون ہمارے کام کے لیے کتنا ضروری ہے۔ فون کس سے سنیں گے۔ کیا محلے والوں کو بتلائیں گاہک ہم سے جس زباں میں بات کرتا ہے۔ اس کے لیے تو شاعر مدتوں قبل شرح آرزو سے منع فرما گیا ہے۔ اب کیا کریں۔ پرانی کمپنی بہت یاد آئی۔ جہاں ہم چیزوں کے چلنے پر شکرادا کیا کرتے تھے۔ کہاں یہ کہ ہم چیزوں کے نہ چلنے پر نالاں ہیں۔ فلک کو بھی ہم سے کیا کیا دشمنیاں نکالنی تھیں۔
چند دن گزرے تھے کہ ایک نوجوان معصوم شکل ہمارے پاس آیا اور کہا کہ آپ کا لیپ ٹاپ بدلنا چاہتا ہوں۔ سو ڈیٹا کے بارے میں حکم کیجیے کہ کس طرح نئے والے میں منتقل فرماویں گے۔ اب اللہ جانتا ہے کہ معصوم شکل اس کی قدرتی تھی یا اس نے یہ ریاضت سے حاصل کی تھی۔ بہرحال ہم نے اس کی باتوں میں آکر لیپ ٹاپ اس کے حوالے کر دیا۔ جس کو وہ ایک اور نئے لیکن نسبتاً پرانے لیپ ٹاپ سے بدل لایا۔ اس لیپ ٹاپ کے ماتھے پر ابھرا گومڑ دیکھ کر دل کو یک گونہ تسلی ہوئی۔ سب سے پہلے ہیڈ فون لگایا۔ سرگوشیاں اچھی کرتا تھا۔ پنک فلائیڈ اورڈسٹی سپرنگ فیلڈ اسے زبانی یاد تھے۔ حق حق۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ میاں! کیا چیز لائے ہو۔ اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا۔
چند دن ہی گزرے تھے کہ اس نئے مگر پرانے لیپ ٹاپ نے اپنے رنگ ڈھنگ دکھانے شروع کیے۔ جب تک ہم اس سے نہ ملے تھے سمجھتے تھے کہ اٹھنے میں ہم سے زیادہ سست کوئی نہیں۔ کبھی پہلو بدلا، کبھی لیٹ رہے، آدھے بیٹھ گئے، دوبارہ لیٹ گئے۔ یوں اٹھنے کے بعد بستر سے نیچے پاؤں اتارتے اتارتے ہم کو بیس سے تیس منٹ لگتے ہیں۔ لیکن موصوف سے ملاقات پر اندازہ ہوا کہ ہم تو برق رفتار ہیں۔ہماری اڑان پر تو آہو بھی آہیں بھرتا ہوگا۔ پاور آف کرنے کا باقاعدہ برا مناتا تھا۔ شاید یہ بتانا چاہتا تھا کہ بھئی! ہم کوئی انسان تھوڑی ہیں جن کو آرام کی ضرورت ہو۔ ہم تو مشین ہیں۔ سو چلاؤ چلاؤ۔۔۔ یا پھر چلّاؤ۔ ہمارے حصے میں آخرالذکر ہی آیا۔
پاور آن کرنے پر تو موصوف کے نخرے کسی حسینہ سے کم نہ تھے۔ سیٹ اپ میں داخل ہونے والی سکرین جو ہم مدتوں سے بھول چکے تھے اسی نامعقول نے یاد کروائی۔ پھر جو بوٹ سکرین پر آتا تو دل کرتا کہ بوٹ اسے ہی دے ماریں۔ اس کے بعد یکدم سکرین غائب ہوجاتی۔سکرین پر تاریکی چھاجاتی۔ ہم بے چین ہو کر بار بار پہلو بدلنے لگتے۔ ہارڈ ڈسک کی جلتی بجھتی بتی ہمیں یقین دلاتی کہ پس پردہ کچھ کہانی چل رہی ہے۔ ایسے موقعوں پر ابھی ہم اتاؤلے ہو کر سوچ ہی رہے ہوتے کہ اب اس کو ایک بار پاور آف کر کے دوبارہ چلا لیں کہ یکدم جھماکے سے ایک نیلی سکرین آجاتی۔ نیلے رنگ سے ہماری محبت شاید اسی وجہ سے ہے۔ اس سکرین کو دیکھ کر ہم خدا کر شکر کرتے اور چائے بنانے کا رخ کرتے۔ چائے بنا کر واپس آتے آتے لاگ ان سکرین آچکی ہوتی تھی۔ اب ہمیں معلوم نہیں کہ یہ کب آیا کرتی تھی۔ کیوں کہ چائے بنانے کا عمل بھی طویل ہی ہوتا ہے۔ بہرحال لاگ ان کر چکنے کے بعد ہم آرام سے چائے نوش فرماتے۔ کبھی کبھار آخری چسکی سے پہلے یا اکثر آخری چسکی کے ساتھ ہی ڈیسک ٹاپ کام کے لئے تیار ہوا کرتا تھا۔
مدتوں ہم اقبال کے اس بیان کو بغیر سمجھے پیش کرتے رہے کہ "ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔” لیکن اس مصرعہ میں غوطہ زن ہونے کا سبب یہ شمارندی آغوشیہ ہی بنا۔ جب موصوف ایک بار کام کرنے کے لئے تیار ہوجاتے تو اس کے بعد اطلاقیے (ایپلیکشنز) چلانے کا مشکل مرحلہ درپیش آتا۔ اس مثال کو سمجھنے کے لیے آپ کا شادی شدہ ہونا بےحد ضروری ہے۔فرض کیجیے کہ کسی دن یوں ہی بےوقت آپ نے اپنی بیگم سے چائے کی فرمائش داغ دی۔ اور اس نے کہا۔ لیجیے۔ ابھی بنائے دیتی ہوں۔ تو بھئی۔ آپ بھی جانتے ہیں کہ جب تک وہ چائے تیار ہو کر آپ کے سامنے آتی ہے۔ حقیقت میں چائے کا وقت ہوچکا ہوتا ہے۔ ہمارے اس شمارندی آغوشیے نے بھی ایسا ہی مزاج پایا تھا۔ ای میل اطلاقیہ اگر آپ نے بعد میں کھولا ہے اور پہلے کوئی اور اطلاقیہ چلانے کی جرأت کی ہے۔ تو بھی یہ مشین اپنے تیار کردہ سکرپٹ کے مطابق پہلے ای میل کا اطلاقیہ ہی چلائے گی۔ آپ کا دوسرا اطلاقیہ انتظار کرے۔ ایسے موقعوں پر ہم یہ کہہ کر دل کو سمجھا لیتے ہیں کہ اصول بھی تو یہی ہے۔قدرت خدا کی دیکھیے کہ ایک بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اطلاقیہ چلاتے جب کام کا ماحول بنتا تو ایک بار پھر ہماری چائے کا وقت ہوجاتا۔
چند دن گزرے تھے کہ ہماری کام چور طبیعت بھی خود سے بیزار نظر آنے لگی۔ کہاں ہم اپنے تئیں خود کو پیر آلکسی سمجھتے کہاں ایک مشین کے سامنے ہماری کاہلی بےبس نظر آنے لگی۔ دنیا کے ساتھ ساتھ اس کی ایجادات سے بھی اعتبار اٹھتا نظر آنے لگا۔ اپنے افسران کے سامنے عرض گزاری۔ حضور! آپ کی مردم شناسی کا جواب نہیں۔ واللہ آج سے قبل کوئی ہمارے مزاج کو اس طرح نہ سمجھ پایا تھا۔ لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ "اور سے اور ہوئے سستی کے عنواں جاناں”۔ ہماری بات کو سمجھیے۔ ہمیں ایک بالائے لب تبسم سے مت ٹرخائیے۔ للہ کچھ کیجیے وگرنہ آنے والے شب و روز ہمارے لیے اس موضوع میں تحقیق کے وہ در وا کر جائیں گے کہ کروٹ لینے کو بھی فرصت نصیب نہ ہوگی۔انہوں نے مسکرا کر ٹالنا چاہا، مگر ہم نہ ٹلے۔آخر انہوں نے متعلقہ شعبہ کے نام رقعہ لکھ دیا۔ اب ہم نئے لیپ ٹاپ کی آس لئے متعلقہ شعبے کے چکر لگاتے رہتے۔ رفتہ رفتہ صورتحال بہ الفاظ پطرس یہ ہوئی جاتی تھی کہ ہم لیپ ٹاپ کا پتا کرنے متعلقہ شعبہ تک جاتے اور وہاں موجود افسران ہمیں ایک شفیق مسکراہٹ کے ساتھ چلے جانے کا اشارہ کرتے۔کبھی ہم دروازے کے باہر سے ہی اشارہ کر کے پوچھتے اور نفی میں جواب پا کر چلے آتے۔صورتحال جب اس نہج پر پہنچی کہ کبھی دروازے کے باہر سے گزرتے نادانستہ نگاہ بھی اندر پڑ جاتی تو ایک سر نفی میں ہلتا نظر آتا، ہم نے پوچھنا چھوڑ دیا۔ آخر چند مہینوں بعد وہی معصوم صورت نوجوان وہی مخصوص مسکراہٹ سجائے ہاتھ میں ایک بڑی بھاری سی پتھر نما چیز اٹھائے ہماری میز پر آن پہنچا۔
ہم نے استفہامیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا۔
لیپ ٹاپ۔ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کچھ نہیں لکھیں گے اب ہم۔ اس موضوع پر دوبارہ قلم کشائی نہیں کریں گے۔ کبھی نہیں کریں گے۔کوئی کہے گا لکھو تو کہہ دیں گے قلم ٹوٹ گیا ہے۔ ہماری انگلیوں میں لکھنے کی قوت ہی نہیں رہی ہے۔ قدرت نے ہم کو لکھنے کی جس صلاحیت سے نوازا تھا وہ واپس لے لی ہے۔ ہاں سنا تم نے۔ کچھ نہیں لکھیں گے۔ کبھی بھی نہیں۔ وہ نہ سمجھنے والے انداز میں حیران نظروں سے ہم کو دیکھتا رہا۔ اور پھر لیپ ٹاپ میز پر رکھ زیرِ لب یہ کہتا ہوا واپس مڑ گیا۔ "ٹیسٹ کر لیجیے گا۔”

 

Facebook Comments Box
طنزمزاح
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
دانش ڈیسک

previous post
جنس مخالف سے دوستی —— لالہ صحرائی
next post
پاکستان میں سرمایہ کاری اور بچتوں کا ایک جائزہ : راو جاوید

Related Posts

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...

19/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.