تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
نگارشاتِ سحر: پروفیسر سحر انصاری کے فکری و...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینسیاسیکالم

عوامی عدالت اور پلان سی: چودھری بابر عباس خان

by Daanish Editor 11/07/2017
written by Daanish Editor 11/07/2017
103

مقاصد اور نتائج کا حصول آپکی زندگیوں کے لئے اہم ہے ،بدیشی یاتریوں کے لئے ہرگز اہم نہیں!!!

کیا حکمران خاندان اور حکمران قبیل کے دوسرے بے شمار کرداروں کو حکمرانی کے لئے نا اہل اور ان پر ثابت شدہ جرم کے بعد عدالت سے قرار واقعی سزا دلوانے  کے لئے ہماری عدالتیں اور ہر  معاملے اور سانحے پر بننے والی تحقیقاتی کمیٹیوں کی تفتیش ہی شرط اور کافی و شافی پیمانہ ہے ؟

اگر ایسا ہی ہے تو اس سلسلے کا ماضی کسی طرح سے بھی ایک روشن مثال نہیں ہے۔ یہ پچھلے ایک سال سے ملک میں چلتے کرپشن کے سب سے بڑے مقدمے پانامہ لیکس کا دور ہے.  جس میں پہلے یہ مرحلہ درپیش رہا کہ آیا یہ مقدمہ قائم کیا جا ئے یا نہ کیا جائے.  پھر وقت کی نیرنگی دیکھئے کہ ملزم ملک کا سٹنگ وزیر اعظم اور مدعا بھی اسی کے ہاتھوں اولین تحقیقاتی کمیٹی کا قیام روبہ عمل میں آیا. پھر خود اسکا احتساب کے لئے پیش کرنے میں لیت و لعل کی گئی.  پھر فریقین کے وکلاء  کے اعصاب شکن بحث و مباحثے ہوتے رہے. جس کے اختتام پر  پانچ ججز پر مشتتمل کمیشن کا دو تین کی نسبت سے فیصلہ سامنے آیا.  مزید تحقیقات کے لئے ، خود سپریم کورٹ کی طرف سے  ایک تحقیقاتی کمیٹی کا قیام اور پھر اسکے قیام اور افعال پر ملزم فریق  کی طرف سے نہ صرف اعتراضات بلکہ اسکو ہر ممکن طریقے سے متنازعہ بنانے اور اسکے کام میں رخنے ڈالنے کی ہر اوچھی اور بھونڈی حرکت سے گریز بھی نہ کیا جانا شامل ہے. اس سارے سلسلے نے جہاں عوام کو امید و بیم کی کیفیت میں مبتلا کئے رکھا ہے وہاں ریاست کے لئے بھی کسی طور پر سود مند نہیں ثابت ہوا.

بالخصوص ایسے وقت میں جب عالمی سیاست بڑے تغیرات کا سامنا کر رہی ہے اور نئے عالمی اتحاد تشکیل پا رہے ہیں ۔  ہمیں سفارتی سطح پر سخت مزاحمت کا سامنا ہے. ہمارے دیرینہ دوست اور اتحادی ممالک سے تعلقات سرد مہری کا شکار ہو رہے ہیں . ایسے میں اول تو نہ صرف ہم ایک کل وقتی دفتر خارجہ سے محروم ہیں اور جسکا قلم بھی خود وزیراعظم اپنے ہاتھ میں رکھتے ہیں،  بلکہ حکومت کی ساری توجہ اور توانائی بجز اپنی گلو خلاصی پر مرتکز ہے۔

  اس مقدمہ پر مقرر جے آی ٹی نے آج دو بند ڈبوں میں، evidence  کے ٹیگ کے ساتھ اپنی تحقیقاتی رپورٹس سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہیں۔ جس میں شائد حکمران خاندان کے لئے کچھ زیادہ حوصلہ افزاءعلامات بھی نہیں ہیں۔ 

اب جب معاملہ سپریم کورٹ کے ہاتھ میں جا چکا ہے وہاں ایک متوازی ذیلی مقدمات اور درخواستوں کا سلسلہ بھی موجود ہے۔ جس میں کبھی معاملہ اس کرپشن کے ایک ملزم حسین نواز کی تصویر کا اٹھا دیا جاتا ہے ،کبھی آئی ایس آئی کو جوڈیشل اکیڈمی کو لاجسٹک سپورٹ مہیا کرنے کی خبر کی طرف اور عدالت کو دی نیوز اور جنگ گروپ کو غلط رپورٹنگ پر  شوکاز نوٹس جاری کرنے پڑ جاتے ہیں . کبھی سیکیورٹی اینڈ ایکسچینچ کمیٹی کے سربراہ پر ریکارڈ ٹمپرنگ کے لیے عدالت کو مقدمہ قائم کرنے کا حکم دینا پڑتا ہے۔


قوم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مقاصد اور نتائج کا حصول آپ کی زندگیوں  لئے ہے اہم ہے، بدیشی یاتریوں کے لئے ہرگزبھی نہیں۔…


ان سب کے علاوہ کورٹ کو لیگی رہنماوں کی تقاریر کے سکرپٹ منگوانے پڑ جاتے ہیں. جنہوں نے جے آئی آئی ٹی یاور عدالتی کاروائی پراپنی تقاریر اور پریس کانفرنس کے زریعے اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے. یہ سب مشق لاحاصل وہ خود کو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ثابت کرنے میں  بلامعاوضہ کوشش کرتے رہے ہیں۔  جسے عدالت ،توہین عدالت کے زمرے میں لاتی ہے۔ جو عدالت کے وقت اور توانائیوں کے ضیاع کا سبب بھی ضرور بن رہے ہیں۔

اب تک کے عدالتی رویئےسے یہ ضرور محسوس ہوتا ہے کہ اگرچہ  عدالت کو اصل مقدمے کے ساتھ ساتھ ان دیگر معاملات میں اپنی توانائیاں اور وسائل صرف کرنا پڑ رہے ہیں. مگر امید ہے یہ معاملات  معمولی اور ثانوی درجہ کی حثیت سے سرعت سےنمٹائے جائیں گے.

اس کے علاوہ ملزم فریق اور انکے حواریوں کی طرف سے بے پایاں مزاحمت کے ساتھ ساتھ ایک مضحکہ خیز رونا کسی خود انکو درپیش نا معلوم سازش کا بھی ہے . جسکا ایک بڑا خوبصورت اور دلچسپ اشارہ حامد میر صاحب نے اپنے دس جولائی کے کالم کے ایک پیرے میں دیا ہے جس میں چار عدد لیگی رہنما ان سے ملتے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ اگر کوئی سازش ہو رہی ہے تو ہمیں اب تک کیوں خبر نہیں ہے ؟

تو عرض یہ ہے کہ جب 5 جولائی 1977 کے ضیاء مارشل لاء کے بعد مارچ میں ہونے والے انتخابات میں دھاندلی پر ایک انکوائری کمیٹی کا تقرر کیا گیا تھا۔ اس کمیٹی کے ایک رکن برگیڈئیر میر عبدالنعیم نے دوران تحقیق انٹیلی جینس بیورو کے سابق ڈائریکٹر راؤ عبدالرشید سے پوچھا ،”کیا تمہارے خیال میں فوج یہ برداشت کر سکے گی کہ مسٹر بھٹو دوبارہ اقتدار میں آ جائیں؟”مسٹر رشید نے خاموشی اختیار کی تو برگیڈئیر نعیم نے خود ہی اپنے سوال کا جواب یوں دیا ،” یقینا فوج ایسا نہیں چاہتی”۔ .مسند اقتدار پر براجمان شرفاء و دربانوں نے جو ہا ہا کار مچا رکھی ہے.  کسی برگیڈئیر نعیم نے کسی آپ کے آئی بی کے ڈائریکٹر سے کوئی ایسا سوال پوچھا ہے تو اسے طشت از بام کیجئے.  نہیں تو اپنے اتحادیوں کو جسکی دعوت خورشید شاہ بھی دے چکے ہیں کہ زرداری صاحب کو بتائیے.  بے شک مولانا صاحب کو ہی بتا دیجئے۔  نہیں صاحب یہاں تو اسکے برعکس  آپکے آئی بی کے ڈائریکٹر کو تو خود کورٹ نے اپنے دائرہء کار میں رہنے کی تنبیہہ کی ہے . جسکا انہوں نے قطعا کوئی اثر نہیں لیا۔ 

مزید برآں جس امپائر کی آپ بات کرتے ہیں امریکی وفد کو انکی منشاء کے بر عکس  تو وہ خود واضح بتا چکا ہے کہ معاملہ کورٹ میں ہے۔  اب کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق قطری شہزادے کے بیان کےتحقیقاتی رپورٹ میں عدم وجود کو بنیاد بنا کر اب لایعنی دھما چوکڑی اور غل غپاڑہ کاہے کو مچائیں. جبکہ ہر جتن کے بعد اگر وہ نہیں راضی ہوا تو چہ معنی وارد—-؟ دو ماہ کم وقت تو نہ تھا جبکہ قطری شہزادہ آپکی طرف سے گواہ تھا نہ کہ ملزم، کہ جے آئی ٹی خود اسے طلب کرتی یا تلاشتی پھرتی۔

جے آئی ٹی کی تحقیق عدالت کو موصول ہو چکی ہے، اب جبکہ موجودہ مقدمے کو پہلے ہی ایک قانونی اور عدالتی مقدمے کے بجائے سیاسی مقدمہ بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے.  تاہم فیصلہ اب عدالت کی  دانست پر ہے۔  جسکے سریع  اور منصفانہ ہونے کی ہی ہماری دعا اور امید ہے۔ فوج نے بھی خود کو بڑے متوازن اور شعوری انداز میں سیاست سے الگ رکھا ہوا ہے اور اس بار نہ کسی مہم کا ارداہ رکھتی ہے نہ کسی کے لئے شہادت کے اسباب پیدا کرنا چاہتی ہے۔

چالاکی اور قوت ارادی میں امریکی قوم اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ لوگ پلان اے ،بی یا سی تک خود کو محدود نہیں رکھتے ہیں. بلکہ انکی مہم کا اختتام مقاصد کے حصول اور مطلوبہ نتائج پر ہوتا ہے . افغانستان سے فوجی انخلاء کے منصوبے کو پس پشت ڈالتے ہوئے آج ہی ایک بار پھر کراچی پورٹ پر چھ سو فوجی گاڑیوں کی شپمنٹ  موصول کی گئی ہے۔ مسلم مخالف ٹرمپ مسلمانوں کے ساتھ ہی سب سے بڑا اقتصادی معاہدہ کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

ہر جائز و ناجائز حربے، پروپیگنڈے اور اپنی مینیجیریل سکلز کو کام میں لانے کے بعد جب موجودہ حکمران جماعت اپنی آخری  بات عوام کی عدالت  کی کرتی ہے تو ایسے  میں اس بار کیا عوام بھی موجودہ حالات میں  صرف کسی عدالتی پلان اے یا فوج کے  کردار والے پلان بی کی طرف دیکھنے کے بجائے وہ جو اس پر ایک دائمی بھلکڑ عوام والا لیبل لگا ہوا ہے یہ یاد رکھ سکے گی کہ یہ ایک سلسلہ ہے ضیاء کے نافرمان ہوتے وزیراعظم جونیجو کے متبادل کی دریافت سے لے کر  پانامہ لیکس تک کا،  اور ایک سینما مالک سے لیکر صدر پاکستان بننے تک کا….  کیا قوم اب اس سلسلے کو روک  سکے گی؟ کیا اپنے اوپر لگنے والے ناکردہ جرم کا داغ دھو سکے گی؟  کیا اس شخصیت پرستی جیسے قومی جرم کا درجہ رکھنے والی روش کو ترک کر کے  اپنی عقل اور شعور کو کام میں لاتے ہوئے اپنے  ووٹ کے حق کےاستعمال والے کسی پلان سی کا استعمال کر سکے گی؟

قوم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ مقاصد اور نتائج کا حصول آپ کی زندگیوں  لئے ہے اہم ہے، بدیشی یاتریوں کے لئے ہرگزبھی نہیں۔…

Facebook Comments Box
پانامی کیسجے آئی ٹیسرحدی کشیدگی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
Daanish Editor

previous post
سندھی اخبارات کے ادارتی خیالات
next post
جے آئی ٹی رپورٹ اور پاکستانی سیاست کا المیہ: مجاھد حسین

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.