تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینکالم

صحافیوں کی کردار کشی اور صحافیوں کا کردار – – – محمود فیاض

by محمود فیاض 23/06/2017
written by محمود فیاض 23/06/2017
80

پچھلے کچھ دنوں سے میں نے اپنی وال پر ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس میں میں پاکستان کے نمائندہ اخبارات کے جغادری صحافیوں کے کالموں کا ہلکا پھلکا تجزیہ کرتا ہوں۔ بہت علمی و تحقیقی گہرائی میں جائے بغیر میں اپنے دوستوں کے سامنے صرف یہ بات لے کر آتا ہوں کہ مذکور صحافی نے صحافت کے کس اصول کی دھجیاں اڑائی ہیں۔ بظاہر معمولی اور دانشورانہ سا رنگ لیے ہوئے اکثر کالم اپنے اندر ایک جہان معانی رکھتے ہیں۔ عام قاری کے جذبات کو انتہائی مہارت سے اپنے طے کردہ راستے کی طرف موڑتے ہوئے یہ کالم کسی بھی طرح سے قابل دست اندازئ پولیس تو نہیں ہو سکتے، مگر صحافت اور ابلاغ عامہ کو ایک خاص سطح تک پڑھنے والے، اور اس شعبے میں درک رکھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ یہ "ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ” والا معاملہ ہے۔

آئیے اس پرذرا تفصیل سے بات کرتے ہیں۔
صحافت میں ایک ٹرم استعمال ہوتی ہے کونوٹیشن، اردو میں پوشیدہ مطلب کہہ لیجیے۔ کوئی بھی تحریر، تصویر یا ویڈیو ایک معانی تو وہ دیتی ہے جو ہمیں سامنے نظر آ رہا ہوتا ہے۔ مگر اسی تحریر، تصویر یا ویڈیو کا ایک معانی ہوتا ہے جو چھپا ہوا ہوتا ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر معاملے میں ایسا ہو، مگر صحافت اور مارکیٹنگ میں یہ ٹیکنیک بہت استعمال ہوتی ہے۔ صحافت میں یہ تب استعمال کی جاتی ہے جب آزادئ اظہار کا ماحول نہ ہو اور آپ کو اپنی بات زرا ڈھکے چھپے انداز میں کہنا پڑے۔ ہمارے ہاں مارشل لا کے ادوار میں خصوصاً ادیب اور صحافی حضرات نے اس ٹیکنیک کا سہارا لیا۔

آج کل جبر کا دور تو نہیں بلکہ میڈیا کو جتنی آزادی اس وقت حاصل ہے پہلے کبھی نہیں رہی، البتہ کچھ صحافیوں کو اپنی بات کہنے میں پھر بھی مشکل پیش آ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ جو بات کہنا چاہتے ہیں وہ ببانگ دہل کہیں گے تو انکی ساکھ متاثر ہوگی۔ تو وہ بات کو اس طرح لپیٹ کر بیان کرتے ہیں کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ حق سچ کی بات کر رہے ہیں، اور کسی آسمانی آدرش کی تشریح کر رہے ہیں جبکہ حقیقت میں انکا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔ اور وہی پوشیدہ مقصد انکا ایجنڈا ہوتا ہے۔

آئیے اس کی مثال بھی لے لیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس وقت ایک تاریخی مقدمہ چل رہا ہے۔ اس میں ایک ایسے خاندان کی کرپشن زیر غور ہے جو تین دہائیوں سے ملکی وسائل پر نگران رہا۔ اس مقدمے کی اہمیت اس لحاظ سے اور بڑھ جاتی ہے کہ اس وقت کی حکومت بھی اس خاندان کی ہے۔ ایسے میں کئی ایسے صحافی ہیں جو بوجوہ ملزم خاندان کی حمائت کرنے کے درپے ہیں اور وہ اسی کو آزادی صحافت کے برابر قرار دیتے ہیں۔ مگر مشکل تب پڑتی ہے جب وہ کھل کر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اگر وزیر اعظم کے خاندان نے کرپشن کی بھی ہے تو کوئی بات نہیں انکو محفوظ راستہ دیا جانا چاہیے۔ اسکی بجائے وہ کونوٹیشن والی ٹیکنیک اپناتے ہیں۔ کوئی وزیر اعظم کو سقراط کے ساتھ ملاتا ہے کہ جس نے سچ بولنے کی سزا پائی تھی۔ اور کوئی انکو بھٹو کے ساتھ ملاتا ہے کہ بھٹو صاحب نے ایک غلط عدالتی فیصلے سے سزا پائی تھی۔ اس طرح کرنے سے پڑھنے والے کے دل میں بالواسطہ وزیر اعظم کے لیے ہمدردی کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور عدلیہ کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے کہ ہمارا ایک اور منتخب وزیر اعظم غلط مقدمے میں پھنسا دیا گیا ہے۔ اور لکھنے والا صحافی بھی توہین عدالت سے بچتے ہوئے اپنا ایجنڈا پورا کر لیتا ہے۔ وہ اس خدمت کے عوض کیا حاصل کرتا ہے یہ ایک علیحدہ موضوع ہے۔

اسی طرح سے ایک اور صاحب وزیر اعظم کے صاحبزادے کو کافکا کے ایک ناول کے مظلوم ہیرو سے ملاتے ہیں۔ جس کا کیا کونوٹیشن بنتا ہے یہ میں آپ کی ذہانت پر چھوڑتا ہوں۔

یہ ایک دو مثالیں عرض کرنے کا مقصد یہ تھا کہ آپ کونوٹیشن اور اسکا استعمال سمجھ سکیں جو ہمارے وہ صحافی حضرات کر رہے ہیں جو دن کو رات ثابت کرنے کی اپنی بھر پور کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ جس وقت پوری دنیا میں کرپٹ سیاسی خاندانوں کی لسٹیں چھپ رہی ہیں اور ہر ایسے سیاسی لیڈر کے خلاف اس کے ملک میں کارروائی ہو رہی ہے یہ نابغے ہمیں سمجھانے کی کوشش میں مصروف ہیں کہ ایسی کسی کرپشن زدہ خاندان کی حفاظت ہی کسی جمہوریت کا اولین فرض ہوتی ہے۔ اور یہ کہ اگر ہم نے ایسے کرپشن کے کیسوں کو مقدس گائے قرار نہ دیا تو ہمارا ملک ایسے خطرات میں گھر جائے گا جس کا ہم تصور بھی نہین کر سکتے۔

اب مسئلہ کیا ہے؟ کیا ماضی میں ایسے صحافی نہیں تھے؟ کیا وہ حکومتی، سیاسی، یا غیر سیاسی مجرموں کی حمائت نہیں کیا کرتے تھے اور اسکے بدلے میں مالی و دنیاوی وسائل سے اپنی دنیا نہیں سنوارتے تھے؟ جی بالکل ایسا ہی ہوتا تھا مگر تب ایک ایکٹو سوشل میڈیا دستیاب نہیں تھا۔ جس کے ذریعے عوام تصویر کا دوسرا رخ نہ دیکھ سکیں۔ تب اتنی بیدار بلکہ بے چین نوجوان نسل بھی نہیں تھی جو آپ کی ہر ہر ادا کو جانچ سکے۔ اب معاملہ مختلف ہے۔ اب آپ کو سچ بولنا پڑے گا یا پھر جھوٹ کا ساتھ دینے پر عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جو صحافی حضرات یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ اپنے پڑھنے والوں کو جیسے چاہے بیوقوف بنا سکتے ہیں اور دن کو رات یا رات کو دن ثابت کر سکتے ہیں، انکو اب اپنی اداؤں پر غور کرنا ہوگا۔ موجودہ حالات اور موجودہ دنیا جہاں سیاستدانوں کی چالبازیوں کے لیے چھوٹی پڑ چکی ہے وہیں وہ کسی دوسرے شعبے کے افراد کے لیے بھی بے ایمانی کے راستے محدود کر چکی ہے۔ سوشل میڈیا، اسمارٹ فون، اور معلومات کے ایک انگلی کی جنبش پر موجودگی نے شعبدہ بازوں کو مزید ہوشیار ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس لیے جو صحافی حضرات 1970 والے حربے لیکر موجودہ نسل کو الو بنانے چلے ہیں وہ خود اسی پرندے کے برخوردار ثابت ہورہے ہیں۔

صحافیوں کی کردار کشی کا ایک سلسلہ ان قوتوں کی طرف سے شروع ہے جن کو انکی ایمانداری سے تکلیف ہے۔ مگر صحافیوں کی کردار کشی کا دوسرا سلسلہ سوشل میڈیا پر عوام سے بھی شروع ہے۔ یہ ان صحافیوں کے خلاف عوام کی نفرت کا اظہار ہے جو عوام کو ایک بے وقوف گائے سمجھے بیٹھے ہیں اور کرپشن کو سعادت ثابت کرنے کے چکر میں ہیں۔ عوام ظاہر ہے خود تو ایسا کرنے سے بوجوہ معذور ہیں مگر انکا طریقہ ذرا مختلف ہے۔ وہ ایسے ہر صحافی کی کردار کشی پر یا تو خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا خود بھی بڑھ چڑھ کر اسکی تائید کرتے ہیں کہ ایسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔

ایسے صحافیوں کو جو عوامی نفرت کے تحت کردار کشی کا سامنا کر رہے ہیں، میرا مشورہ یہ ہوگا کہ اگر آپ کو اس کردار کشی پر اعتراض ہے تو براہ کرم اپنے کردار کو بہتر کیجیے۔

Facebook Comments Box
پانامہصحافیکرپشنکردار
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
محمود فیاض

محمودفیاض بلاگر اور ناول نگار ہیں۔ انکے موضوعات محبت ، زندگی اور نوجوانوں کے مسائل کا احاطہ کرتے ہیں۔ آجکل ایک ناول اور نوجوانوں کے لیے ایک کتاب پر کام کر رہے ہیں۔ اپنی تحریروں میں میں محبت، اعتدال، اور تفکر کی تبلیغ کرتے ہیں۔

previous post
درزی سے آ ج میری جنگ ہو گئی: زارا مظہر
next post
قاری صاحب ایداں نئی کری دا : انجینئر افتخار چودھری

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.