تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترینتنقیدعلم و ادب

یونانی فکرمیں سریت کا حلول: نعمان علی خان

by ویب ڈیسک 01/06/2017
written by ویب ڈیسک 01/06/2017
111

 تاریخ اسلام کے عظیم ترین مفکرین میں سے زیادہ ترنے فلسفہ یونان کی شرحیں لکھنے یا اس فلسفے کو رد کرنے کے علاوہ کوئی بہت اہم کام نہیں کیا۔ ان ہر دو طرح کے مسلم مفکرین کو "فلسفی” کہنا کچھ اتنا مناسب اور دیانتدارانہ عمل نہیں۔ ہمارے مفکرین نے یونان سے بہت کچھ سیکھا لیکن جو بات نہیں سیکھی وہ یہ کہ تفلسف پراسرار علوم کو جاننے اور پر اسرارانداز میں ہی سینہ بسینہ منتقل کردینے کا نام نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فلسفہ اور سائنس میں سے بیشتر کو مسلمانوں نے تصوف، طبابت اور الکمی کے پر اسرار علوم میں ڈھال دیا۔ واضع ہو کہ وہ علما جو علم کلام، کیمسٹری اور طبابت کی باقاعدہ پریکٹس کرتے تھے ان میں سے بیشتر کے بارے میں ہمیشہ یہی تصور عام رہا اور آج بھی ہے، کہ جو کچھ وہ عامتہ الناس کے سامنے لائے وہ تواس علم کا عشر عشیر بھی نہیں کہ جو ان کے قلب کے نہاں خانوں میں قدرت کے رازوں کی طرح پوشیدہ تھا۔ لہٰذہ جو کتابیں مسلم علما نے لکھیں ان کو ہی وہ اصل اور مکمل "علم” نہیں سمجھا جاتا کہ جس کے وہ رازدان تھے، بلکہ ان کتابوں کو یا تو عام کنزمپشن کیلئیے بظاہرعالمانہ محسوس ہوتا مواد سمجھا جاتا ہے، یا ان علما کے اصل علم کا پردہ تصور کیا جاتا ہے اور یا پھر ان کتابوں کے بین السطورمیں پوشیدہ وہ اصل علم خیال کیا جاتا ہے کہ جو عام قاری کے پلے ہی نہیں پڑ سکتا اورجہاں تک عارفین رازکا تعلق ہے تو جتنا جس کی سمجھ میں آجائے وہ اپنی "توفیق” کے مطابق اسے اپنی کتابوں میں بیان کردیتا ہے۔ یعنی ابتدائی مسلم شارحین یونان کے بعد ان مسلم شارحین کے آئندہ آنے والے شارحین کا ایک ختم نہ ہونے والا سلسلہ ہے جو آج تک چل رہا ہے۔


کاش ہمارے مفکرین ابن رشد، ابن خلدون، جابر بن حیان اور ابن الہیثم کی طرح، یونانیوں سے عقلیت اور معروضیت میں تفکر سیکھتے، بجائے اس کے کہ یونان کی عقلیت میں بھی مشرق کی باطنیت کا پیوند لگاکر تاریخ کی بھول بھلیوں میں پھنسے رہتے۔


حقیقت یہ ہے کہ یونانی مفکرین نے اپنی تحاریر میں کہیں بھی اس پراسراریت اور علم کی بخیلانہ سریت کا طرز عمل اختیار نہیں کیا تھا۔ لیکن مسلم شارحین نے ان کی شرحیں اس انداز میں اور اغلباً اسی وجہ کے اظہار کیلئیے لکھیں گویا یونانیوں کی تحاریر کا فقط ترجمہ کرنے سے ان یونانیوں کے فلسفہ و فکر کے راز مسلمانوں کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتے۔ اس طرز عمل نے یونانیوں کی عقل و دانش کے بارے میں مسلم دنیا میں عجیب و غریب مافوقیت کے قصے بھی مشہور کردئیے ورنہ حقیقت یہی تھی کہ یونانی فکرمحض معقولیت اور منطقیت کی جویا تھی۔ یونانی مفکرین شاید وہ پہلے اہل نظر لوگ تھَے جنہوں نے مافوق الفطرت نظریات اور متھالوجی میں گھرے ہونے کے باوجود، انسانی وجودیت اور کائنات کے بارے میں اپنے دلائل کوان غیر مرئی تصورات سے علیٰحیدہ رکھا۔ یونایوں کی عقل پرستی کو مد نظر رکھا جائے تو بآسانی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر یونانیوں کو اپنی مزہبیات اور متھالوجی میں ذرا بھی معقولیت نظر آتی تو یقیناً وہ اسے بھی اپنے بنیادی مباحث میں شامل کرتے۔ اسلامی علم کلام پر لاکھ تنقید کی جائے لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلمانوں کی اس فکری روایت میں یونانیوں کی منطق وعقل پسندی کا گہرا اثر ہے۔ یونانی متھالوجی میں اگر ویسی ہی معقولیت ہوتی جیسی کہ مسلمانوں کے قران و حدیث کی تعلیمات میں تھی تو یہ بات یقینی ہے کہ دینیات پر تفکربھی یونانیوں سے ہی مسلمانوں کو منتقل ہوتا۔ اگر ایسا ہوا ہوتا تو یہ بات بھی یقینی ہے کہ اسلامی علم کلام میں جو فکری کمزوریاں موجود ہیں ان میں بھی بدرجہ اتم کمی ہوتی۔

 کیا یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ قران پاک میں "علم” اور "عالم” کا، جگہ جگہ ذکر ہے۔ لیکن مسلم کلامی اور مفکرین آج تک "علم” کی تعریف نہیں کرپائے۔ علم کیا ہے، یہ امر آج بھی مسلم فکر میں ایک سربستہ راز ہے۔ ہمارے ماہرین علم کلام آج تک ہمیں نہیں سمجھا پائے کہ قران کن لوگوں سے مخاطب ہے جنہیں وہ کہتا ہے کہ "وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے”۔ افلاطون کی ریپبلک کے باوجود ہمارے علما یہ نہیں سمجھا پائے کہ "عدل اور ظلم” سے کیا مراد ہے اور آج کی جدید ریاست میں قران کے مطابق "نیک عمل”، "حقوق اللہ اور حقوق العباد” سے کیا مراد ہے؟ فلسفہ اور کلام کیا فقط یہی طے کرنے کیلئیے ہے کہ ایک سوئی کی نوک پر کتنے فرشتے بیٹھ سکتے ہیں؟ ان مسلم فلاسفہ نے آج تک یہ نہیں بتلایا کہ قران کن لوگوں کو "عالم” اور”عقل والے” کہہ کر ان کیلئیے معاشرے میں کیا مناصب تجویز کرتا ہے؟ نہ انہوں نے کھل کر یہ راز فاش کیا کہ یہ "علم الغیب” کیا ہے اور ان میں سے کون کون ہے جس پر اللہ نے جتنا رب نے چاہا غیب کا علم فاش کیا؟ اور اس کا کیا ثبوت ہے کہ جسے یہ خود پر اتراعلم الغیب قرار دے رہے ہیں وہ واقعی علم الغیب ہی ہے؟

کاش ہمارے مفکرین ابن رشد، ابن خلدون، جابر بن حیان اور ابن الہیثم کی طرح، یونانیوں سے عقلیت اور معروضیت میں تفکر سیکھتے، بجائے اس کے کہ یونان کی عقلیت میں بھی مشرق کی باطنیت کا پیوند لگاکر تاریخ کی بھول بھلیوں میں پھنسے رہتے۔

Facebook Comments Box
اسلامفلسفہمذہب اور فلسفہیونانی فلسفہ
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
پاکستان موت کا کنواں یا بھارت خواتین کا جہنم ۔۔۔  فارینہ الماس
next post
شادی شدہ مرد اور فلرٹ: طیبہ زیدی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...

13/08/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.