فرض کریں کہ آپ کے پاس دس لاکھ بندر ہیں اور آپ ان سے اسٹاک مارکیٹ کے بارے میں پیش گوئی کرواتے ہیں کہ اگلے ہفتے مارکیٹ اوپر جائے گی یا نیچے۔
آپ سب بندروں کے سامنے ایک ایسی ڈیوائس رکھ دیتے ہیں جس پر دو بٹن ہیں اور آپ بندروں کو بتاتے ہیں کہ اگر اگلے ہفتے مارکیٹ نے اوپر جانا ہے تو وہ دایاں بٹن دبائیں اور اگر نیچے جانا ہے تو بایاں۔ تقریبا آدھے بندر دایاں اور آدھے بندر بایاں بٹن دبائیں گے۔
مارکیٹ کے اگلے ہفتے کے نتائج کی بنیاد پر ظاہر ہے آدھے بندروں کی پیش گوئی غلط ثابت ہوگی اور آدھے کی درست۔ جن بندروں کی پیش گوئی غلط ثابت ہو انہیں آپ گھر بھیج دیں جبکہ صحیح پیش گوئی کرنے والوں سے دوبارہ اگلے ہفتے کی پیش گوئی کروائیں۔ اس دفعہ غلط پیش گوئی کرنے والے بندروں کو بھی آپ گھر بھیج دیں۔
اگر آپ یہ عمل دوہراتے رہیں تو تقریبا بیس ہفتوں بعد آپ کے پاس ایک بندر باقی بچے گا۔ یہ وہ بندر ہے جس نے ہر بار درست پیش گوئی کی۔
اس کے بعد اگر آپ کسی میڈیا والے کو بلا کر بتائیں کہ دس لاکھ بندروں میں سے یہ وہ بندر ہے جس نے ہر دفعہ درست پیش گوئی کی۔ وہ فورا اس پر ایک فیچر لکھ مارے گا اور اسے جینیئس قرار دے گا۔ اس کے بعد لوگوں کا تانتا بندھ جائے گا۔ لوگ بندر کی عادات کا مشاہدہ کریں گے کب سوتا ہے، کب جاگتا ہے، کیسے سر کھجاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
ایک سال بعد اگر آپ بک اسٹور پر جائیں تو وہاں ایک پورا شیلف اس بندر کے متعلق کتابوں سے بھرا ہوا ملے گا جن کے نام کچھ اس طرح کے ہوں گے. bhad babie cancer
سیون ہیبٹس آف ہائلی ایفیکٹو منکی
Seven Habits of Highly Effective Monkey
گڈ ٹو گریٹ منکی
Good to Great Monkey
کچھ کتابوں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہوگا کہ اس بندر میں دوسرے بندروں سے مختلف کوئی بات نہیں تھی۔ باقی بندروں میں ہی پیدا ہوا، ان کے ساتھ ہی پلا بڑھا، کھیلا کودا لیکن اس نے باقی بندروں کی نسبت بہت زیادہ محنت کی۔۔۔ ٹین تھاؤزنڈ آورز رول!
جبکہ کچھ کتابوں میں کچھ اس طرح کی باتیں ہوں گی کہ بندر سٹاک مارکیٹ کے بارے میں بہت "پیشونیٹ” تھا، یا یہ ہمیشہ "پوزیٹو” سوچتا تھا۔۔۔ لاء آف اٹریکشن، یو سی!
آپ ان سب چیزوں کو پڑھ کر خوب ہنسیں گے کیونکہ آپ اصل کہانی جانتے ہیں۔ آپ کچھ لوگوں کو یہ کتابیں خریدنے سے روکیں گے لیکن وہ آپ کو منفی سوچوں کا حامل اور یاسیت پسند وغیرہ قرار دے کر نظر انداز کردیں گے اور وہ بڑے جذب کے ساتھ یہ کتابیں پڑھتے اور انکو بنیاد بنا کر کیے جانے والے موٹیویشنل سیشنز اٹینڈ کرتے رہیں گے۔
(رالف ڈوبیلی کی ایک تقریر سے اخذ کردہ۔ کچھ اضافوں کے ساتھ)
