تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
علمیکالم

کیا جمہوریت کیلئے انتخابات ضروری ہیں؟

by عاطف حسین 21/05/2017
written by عاطف حسین 21/05/2017
154

جمہوریت اور انتخابات عام طور پر لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں (بلکہ بعض اخباری کالم اور مضامین پڑھ کر ہمیں شبہ سا ہونے لگتا ہے کہ بعض احباب انتخابات کو ہی کل جمہوریت سمجھتے ہیں)۔ اور اگر کوئی یہ کہہ بیٹھے کہ جمہوریت انتخابات کے بغیر بھی ممکن ہے تو یقیناً  اکثر لوگ اس کی دماغی صحت کے کے بارے میں شکوک و شبہات کا شکار ہوجائیں گے۔ اور اگر کوئی یہ اصرار کرنا شروع کردے کہ انتخابات سرے سے ایک غیر جمہوری عمل ہے تو شاید بات صرف شکوک شبہات تک محدود نہ رہے بلکہ اسے پاگل، جمہوریت دشمن اور آمریت پسند قرار دینے کے علاوہ ہو سکتا ہے کہ کوئی نہ کوئی اسے پاگل خانے پہنچا ہی آئے۔ تاہم قدیم یونانی جن کے ہاں جمہوریت نے جنم لیا وہ انتخابات کو غیر جمہوری ہی سمجھتے تھے!

نمائندہ جمہوریت اس وقت دنیا میں جمہوریت کی غالب قسم ہے جس میں لوگ اپنے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور وہ نمائندے قانون سازی کرتے اور حکومتی معاملات چلاتے ہیں۔ تاہم کیا انتخابات کے ذریعے منتخب ہونے والے سیاستدان واقعی عوامی نمائندے ہوتے ہیں؟

اپنے ملک میں اگر ہم  اپنے منتخب نمائندوں کو دیکھیں تو ان میں اور عوام میں کوئی قدر مشترک نظر نہیں آتی۔ عوام کی اکثریت غرباء، نچلے متوسط طبقے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھتی ہے لیکن  پارلیمنٹ میں غریب تو دور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا بھی خال خال ہی کوئی نظر آتا ہے۔  خود ان ‘نمائندوں’ اور بعض  اخباری و سوشل میڈیائی دانشوروں کے علاوہ جنہوں نے تازہ تازہ ‘عوام کے حق حکمرانی’ جیسے نعرے لگانے سیکھے ہیں شاید ہی کوئی یہ یقین کرنے  کو تیار ہو کہ  یہ واقعی عوام کے نمائندے ہیں یا عوامی مفاد میں کام کرتے ہیں۔

انتخابات لڑنے اور جیتنے کیلئے پیسے  کی ضرورت ہوتی ہے جو ظاہر ہے امیروں کے پاس ہی ہوتا ہے۔ وہی انتخابات لڑتے اور پیسے، دھونس، دھاندلی اور چالاکی کے زور پر جیتتے ہیں۔ اور بغیر عوام کیلئے کچھ کیے  یا تھوڑا بہت کرکے  بدعنوانیوں کے باوجود باربار انتخابات جیتتے چلے جاتے ہیں۔ گویا  انتخابی سیاست میں کامیابی کیلئے عوام میں سے نہ ہونا ضروری ہے (جن احباب کو اس پر شک ہو وہ اپنے اپنے حلقے میں ایم پی اے، ایم این اے  یا پھر صرف کونسلر کا انتخاب ہی  لڑنے کی کوشش کرکے خود  بھی اسکی تصدیق کرسکتے ہیں)۔ اس صورت حال میں منتخب سیاستدانوں کو ‘عوامی نمائندے’ اور ان کی حکومت کو ‘جمہوریت ‘ قرار دینا خاصا مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔

یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ بار بار انتخابات اورعوامی شعور بڑھنے کے نتیجے میں یہ صورتِ حال بہتر ہوگی  جیسا کہ ترقی یافتہ ملکوں میں ہوئی ہے۔ تاہم ترقی یافتہ ملکوں میں بھی صورت حال بہت خوش کن نہیں ہے۔ بجا کہ وہاں سیدھی سیدھی دھونس دھاندلی ممکن نہیں ہے لیکن کارپوریشنوں، میڈیا اور سیاستدانوں کے گٹھ جوڑ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور وہاں بھی پروپیگنڈے اور چالاکی کے ذریعے لوگوں کو بے وقوف بنانے کا عمل پوری طرح جاری  وساری ہے۔  دراصل نمائندہ جمہوریتوں میں عوام اور مختلف پارٹیوں سے وابستہ پیشہ ورسیاستدانوں  کے درمیان ایک بعد پایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی پارٹیوں اور پیشہ ور سیاستدانوں کیلئے عوام کے مفاد کے خلاف کام کرنا چنداں مشکل نہیں۔

معلوم ہوتا ہے کہ  قدیم معاشروں کو اس کا اچھی طرح  احساس تھا۔  ایتھنز جہاں جمہوریت کا جنم ہوا وہاں انتخابات کو غیر جمہوری اور انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی  حکومت کو اشرافیہ کی  (نہ کہ عوام کی) حکومت سمجھا جاتا تھا۔ وہاں بلاواسطہ جمہوریت قائم تھی اور قانون سازی  کے عمل میں ہر اہل شہری ووٹ کرتا تھا۔ جبکہ انتظامی عہدوں پر لوگ انتخابات کے ذریعے نہیں بلکہ قرعہ اندازی کے ذریعے مقرر کیے جاتے تھے۔

بعد میں کئی شہری ریاستوں میں بھی قرعہ اندازی کے ذریعے انتخا ب کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ خاص طور پر وینس  میں تیرہویں صدی سے اٹھارہویں صدی کے آخر تک  حکمرانوں کے انتخابات کے لیے  کئی مرحلوں پر مشتمل  ایک پیچیدہ طریقہ اختیار کیا جاتا تھا جس میں پہلے مرحلے سمیت کل دس میں پانچ مرحلوں میں قرعہ اندازی ہوتی تھی (اگرچہ قرعہ اندازی اشرافیہ کے ارکان میں سے ہی ہوتی تھی)۔ کچھ سال قبل کچھ طبیعات دانوں، سیاسیات دانوں اور معاشیات دانوں کے نے ایک ریاضیاتی ماڈل بھی تخلیق کیا ہے جس سے  ظاہر ہوتا ہے کہ  اگر پارلیمنٹ میں کچھ لوگ انتخابات کے ذریعے  رینڈملی Randomly چن کر داخل کردیے جائیں تو اس قانون سازی اور عوام دوستی دونوں  پیمانوں پر سے پارلیمنٹ کی کارکردگی بڑھ جائے  گی۔

جیسا کہ کئی اور اسکالرز نے بھی نشاندہی  کی ہے انتخابات کی بجائے اگر نمائندے رینڈملی چنے جائیں تو جہاں  وہ زیادہ حقیقی  نمائندے ہوں گے وہیں بدعنوانی  میں بھی کمی واقع ہوگی۔ کیونکہ اول تو انتخابات کے ذریعے نمائندے چننے کے فیصلے کے ساتھ ہی  یہ طے ہوجاتا ہے کہ ایک خاص طرح کے لوگ ہی منتخب ہوسکیں گے دوم پیشہ ورسیاست دانوں کے عوام سے بعد اور لمبے عرصے تک سیاست میں رہنے  کے باعث ان کے بدعنوان ہونے کے  امکانات زیادہ ہوسکتے ہیں۔

ایک  اعتراض یہ کیا جاسکتا ہے کہ اس طرح سے قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب ہونے والے ان پڑھ کسان اور مزدور پیچیدہ ملکی معاملات کیسے چلائیں گے ۔ اول تو  سیاستدان کون سے پڑھے لکھے ہیں۔ دوم یہ کہ یہ تصور بھی عجیب و غریب ہے کہ لوگ اپنے معاملات نہیں چلاسکتے۔ سوم یہ کہ پیچیدگی کا سیدھا تعلق سائز سے ہے۔ جتنے انتظامی یونٹ بڑے ہوں گے اتنے ہی پیچیدہ اور اتنا ہی پیچیدگی کے نام پر استحصال کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ ڈی سنڑلائزیشن  کے ذریعے  اختیارات جتنے نیچے ممکن ہوں  منتقل کردینے چاہیے  جس سطح پر مسائل واضح اور عام لوگوں کی سمجھ میں آسکتے ہیں۔

غرض یہ کہ انتخابات کی بجائے قرعہ اندازی کے ذریعے سب یا کچھ نمائندوں کا انتخاب  اپنے اندر جمہوریت میں بہتری کا امکان رکھتا  ہے۔ اس پر مزید غور و فکر  کیا جانا چاہیے۔

Facebook Comments Box
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
عاطف حسین

عاطف حسین 'کامیابی کا مغالطہ' کے مصنف ہیں۔ روزی روٹی کمانے کے علاوہ ان کے مشاغل میں وقت ضائع کرنا، لوگوں کو تنگ کرنا، سوچنا اور کبھی کبھار کچھ پڑھ لینا تقریباً اسی ترتیب سے شامل ہیں۔

previous post
گھی اور آئل کا چکر Saturated and Un-saturated Fats
next post
نئی نسل کے صحافیوں اورلکھنے والوں کے لیے: خرم سہیل

Related Posts

حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

کراچی سے حافظ نعیم الرحمٰن کے نام کھلا...

06/07/2025

30/03/2025

30/03/2025

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.