تازہ ترین
آزاد چائے والا، ڈگری اور فری لانسنگ —-...
Contagion — S. Bano
شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی...
دین اسلام میں میت کے اعضاء عطیہ Donate...
حسرت موہانی: انقلاب کے نعرے سے کرشن کی...
بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...
مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان
موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...
"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...
جوئے خوں: ترجمہ ہما انور —– تبصرہ: تنزیلہ...
مولانا فضل الرحمٰن کا "جھیل میں کنکر” —...
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
تازہ ترین

تیرا، میرا، اِنکا، اُنکا اور اصلی سچ: قصہ ہود بائی کی تقریر کا

by ویب ڈیسک 15/05/2017
written by ویب ڈیسک 15/05/2017
174

میرا سچ جو میں نے دیکھا اور سنا
اِن کا سچ جو انکی ضرورت نے اِن کو دکھایا اور اُن کو سنایا
اُن کا سچ جو انکی ضرورت نے اُن کو دکھایا اور اِن کو سنایا
اصلی سچ جو تیری میری، اِن کی اُن کی سماعت و بصارت کے حاصل جمع اور اسکی حد سے آگے بھی ہے۔

بات کہاں سے شروع ہوئی کہاں جا پہنچی یہ دیکھ کر حیرت و استجاب میں ہوں۔ کچھ دہائیاں ادھر کی بات ہے کہ کہیں مغربی (امریکی) ذرائع سے یہ خبر اچھالی گئی
“Pakistan worse than Afghanistan and Iraq”
 "پاکستان عراق اور افغانستان سے زیادہ بری جگہ ہے” یہ امریکی صدر جارج بش اول کے دور افغانستان و عراق وار کے کچھ عرصہ بعد کی بات ہے۔ تب پاکستان نسبتاََ ایک پرامن ملک تھا اور یہاں دہشت گردی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس وقت ہم سنتے تھے عراق میں دھماکہ میں سو پچاس مارے گئے۔ افغانستان میں طالبان اور غیر ملکی افواج کے تصادم میں ہلاکتیں ہوئیں وغیرہ۔

تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں کشت و خون کا بازار گرم ہونے جا رہا ہے۔ جو ہوا اور ہم سب نے دیکھا بھگتا اسے دہرائے بنا میں سوچ رہا ہوں:-

یہ تو ہماری میراث تھی ان امریکی ولیوں کے پاس مستقبل میں دیکھنے کی صلاحیت کہاں سے آگئی؟
کیا سچ میں انکی نظریں حالات پراور انگلیاں بیمار پاکستانی معاشرہ کی نبض پر تھیں؟
جب مندرجہ بالا یہ بیانیہ داغا گیا اس وقت کیا پاکستان کے حالات تیزی سے خرابی کی طرف رواں تھے یا ایسا طے کر لیا گیا تھا؟

دوسری جنگ عظیم کے بعد برصغیر پر انگریز کی گرفت کمزور ہوئ تو دنیا بھر میں جاری آزادی کی تحاریک کی طرح یہاں بھی تحریک آزادی نے زور پکڑا۔ دونوں بڑی قوموں نے مل کر اور بعد میں اپنے اپنے تئیں اپنے لیۓ آزاد ریاستوں کا مطالبہ و جد و جہد کی۔

ہندو اکثریت کے مقابل اقلیت اور ماضی کی حکمران مسلم اکثریت نے اپنے لئے علیحدہ ملک کا مطالبہ کیا تو ہندوں اور انگریزوں کی مخالفت کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے اندر سے ایک طبقہ کی مخالفت کا سامنا تھا۔ یہ طبقہ کوئ اور نہیں اسلام کی اشاعت و ترویج پر معمور اسلامی جماعتوں پر مشتمل علماء کرام کا تھا۔ انکے پاس اپنے موقف میں بہت بہتر دلائل ہونگے لیکن آج مڑ کر دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں :-

علامہ محمد اقبال کی سوچ درست تھی ؟
محمد علی جناح اور انکے ساتھیوں کی جد وجہد غلط تھی ؟
یا وہ علماء مستقبل بین تھے کہ نئے ملک میں انہیں فساد کی بو آرہی تھی۔ اپنے مدارس کے بچوں کا نیٹو اور پھر اپنی فوج کے ہاتھوں مارا جانا نظر آرہا تھا۔ اپنے پسماندہ بچوں کا اپنے ہم مذہب لوگون پر خودکش بمبار بن کر پھٹنا نظر آرہا تھا ؟

اس دنیا میں آنکھ کھلتے ہیں انسان پر علوم و اسرار کا در وا ہو جاتا ہے۔ پھر جب شعور کی آنکھ کھلنے لگتی ہے تو وہ جستجو کے ہاتھوں مجبور ہو کر جانی انجانی جگہوں پر بھٹکتا پھرتاہے۔ یہ ہر جوان ہوتی فرد کی کہانی ہے کہ وہ اپنے ارد گرد موجود متحرک اور خوشنما ناولٹی کی طرف کھنچتا ہے۔ ایک وقت تھا جب شعلہ بیان مقرر اور انکی باتیں لبھاتی تھیں پر مطمئن نہ کرتی تھیں۔ بہت سنا پر سمجھ نہیں آیا۔

پھر صوفیا کے ڈیرے اپنی اور بلانے لگے۔ سینہ گزٹ کے بل پرمشہور ہونے والے "اللہ والے” اللہ اور اسکی مخلوق کے ساتھ دھرو کرتے بھی دیکھے۔

ایسے میں چند معتدل مزاج پڑھے لکھے علماء بھی حق کا پرچار کرتے آئے۔ اور یہ لوگ کسی نہ کسی فرقہ کی نمائندگی کے باوجود اللہ کو اپنی ترجیح اول مان کر انسانیت کی فلاح کے داعی ملے۔ جنکے ہاں محبت ہی محبت نظر آئی، نفرت یا مایوسی کبھی نہیں۔

آپ سوچ رہے ہونگے عقل کے اندھے کو فلسفی، سانئسدان، سیاستدان، ماہرینِ معاشیات و معاشرت اور انسانی حقوق کے علمبردار کیوں نظر نہیں آئے۔ ارے آئے ناں بہت سارے نظر آئے بلکہ آج کل تو وہی ہر طرف نظر آتے ہیں۔

ابھی ایک دن چھوڑ کے پچھلے دن کی بات ہے۔ ایک جگہ سو سے زیادہ روشن خیال، حاضر جواب، انسان دوست عالم فاضل لوگ جمع تھے۔ جمع ہونے کی وجہ تو معلوم نہیں لیکن مذاکرہ کا موضوع تھا "اکڈیمیا اور مزاحمت” مجھے بھی بھنک پڑ گئی۔ سو میں بھی جا پہنچا۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ کچھ بالکل ایک جیسے اوپر سے مسکراتے اندر سے مغموم چہرے ہیں (بجا طور پر علم انسان کو جہاں مغموم کرتا ہے وہیں اسے غم میں مسکرانا بھی سکھا دیتا ہے)
ایک بے چین سکوت ہے۔ جیسے موت کے بعد یا اسکے آنے سے کچھ دیر پہلے کا سکوت ہوتا ہے۔ ایک انجانا خوف ہے۔ گھٹن ہے۔

ایک اچھی بات البتہ یہ اچھی دیکھنے کو ملی کہ پروگرام تقریباََ وقت پر شروع ہوا۔ منتظم نے مذاکرہ کی تمہید باندھی اور آنے والے مقریرین کی متوقع تقاریر کا تعارف کرایا۔ مجمع میں موجود اذہان کی نمائندگی کرتے ہوئے کچھ بہت اہم سوالات بھی مقررین کے لئے پیشکی رکھ چھوڑے۔

مقریرین بھی سائنسی میدان کے ماہر گورنمنٹ یونیورسٹی کے ریٹائرڈ پروفیسر حضرات محترم پرویز ہود بھائی اور محترم جناب اے ایچ نیئر تھے۔ جنکو منتظم کے سوالات تو یاد نہ تھے البتہ انہوں نے اکڈیمیا کے مزاحمتی کردار کی کمزوری کے اسباب بیان کیئے۔

اس دوران ایک دو بار سٹیج کے عقبی دروازہ کو بے احتیاطی سے کھولنے بند کرنے سے جو آوازیں پیدا ہوئیں اس سے سامنے بیٹھے کچھ لوگوں کے چہروں پر خوف کی پرچھائیاں صاف نظر آئیں۔ شاید موجودہ حالات میں یہ فطری تھا۔ خیرجو کچھ ہوا وہ بہت سوچ سمجھ کر ہوا۔ پروگرام یقیناََ اپنے اہداف پورے کر گیا ہوگا۔


میں کہ ایک عام پاکستانی ہوں۔ میرا المیہ یہ ہے کہ مجھے رائٹ اور لییفٹ والے غیر جانبدار نہیں دیکھ سکتے۔ انہیں میری جسمانی اور روحانی ضروریات سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں میرے مرنے جینے سے بھی کوئ غرض نہیں۔ وہ اسے بھی کیش کراتے ہیں اپنے اپنے انداز میں۔


احقر کو علم نہیں اہداف کیا تھے۔ لیکن وہ اس سوچ کے ساتھ اس پروگرام میں شریک ہوا تھا کہ مختلف الخیال لوگوں کے مابین ایک مکالمہ ہوگا۔ موجود دگرگوں حالات سے نکلنے کی سبیل پر بات ہوگی۔ جمود، ظلم و ناانصافی اور عالمی تناظر میں ہمیں درپیش چلینجز کے حوالہ سے اکڈیمیا کی نااہلی کے اسباب ڈھونڈے جائیں گے اور اس کے موثر کردار پر عملی تجاویز پیش ہونگی۔ باقی شرکاء کا معلوم نہیں لیکن مجھے ذاتی طورپر مایوسی ہوئی۔ اور اس کا اظہار میں نے سوشل میڈیا پر ایک سٹیٹس اپ ڈیٹ کی صورت میں کر دیا۔ پرویز ہود بھائی کی تقریر میں بطور اکیڈمیا کے نمایندہ کے غیر ضروری جذباتیت کی نشاندہی کردی۔ بس پھر کیا تھا لیفٹ رائٹ سے اتنی گولہ باری ہوئی کہ اللہ کی پناہ۔ لیفٹ والے مجھے رائٹ کا جاسوس اور رائٹ والے لیفٹ کا نمائندہ سمجھ کر مار رہے ہیں۔ میں کہ ایک عام پاکستانی ہوں۔ میرا المیہ یہ ہے کہ مجھے رائٹ اور لییفٹ والے غیر جانبدار نہیں دیکھ سکتے۔ انہیں میری جسمانی اور روحانی ضروریات سے کوئی سروکار نہیں۔ انہیں میرے مرنے جینے سے بھی کوئ غرض نہیں۔ وہ اسے بھی کیش کراتے ہیں اپنے اپنے انداز میں۔ انہیں تو اپنے اپنے نظریہ سے لگاو ہے یا اپنے اہداف کے حصول کا جنون۔

میں سوچ رہا ہوں کہ:-

سچ کیا ہے؟
یہ ایک انسان میں اتنے تضادات کیوں ہیں؟
وہ جو کہتا ہے کرتا کیوں نہیں؟ دوسروں کو عدم تشدد اور برداشت کا درس دینے والے خود یہ سبق کیوں بھول جاتے ہیں؟

نہ جانے کیوں کسی نامعلوم شاعر کی یہ چھوٹی سی نظم یاد آرہی ہے

سنو ہمدم
بہت سے ڈگریاں لے کر
ہنر پر دسترس پا کر
نصابِ چاہتِ دل کے
چمکتے لفظ آنکھوں سے
اگر پڑھنے سے قاصر ہو
تو۔۔۔۔ !
ان پڑھ ہو

Facebook Comments Box
ہود بائی
0 comments 0 FacebookTwitterPinterestEmail
ویب ڈیسک

Daanish webdesk.

previous post
چامکا ——— اسٹیج کی دنیا کا خفیہ کردار بے نقاب: قسط 6
next post
دانشور بننا سیکھیں ——— کبیر علی

Related Posts

Contagion — S. Bano

01/11/2026

بلوچستان کی شورش کا دیرپا حل — اسامہ...

11/09/2026

مابعد مابعد جدیدیت — اسامہ مشتاق خان

04/09/2026

موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا...

03/09/2026

"دادی آج چھٹی پر ہیں”از خالدہ حسین —...

03/09/2026

پروفیسر جان ایسپوزیٹو کی میراث — پروفیسرجنید ایس...

17/07/2026

Leave a Comment Cancel Reply

Save my name, email, and website in this browser for the next time I comment.

تلاش کریں

Categories

  • English
  • سیاسی
  • اداریہ
  • دیگر
  • مذہبی
  • کالم
  • آرٹ
  • انٹرویوز
  • کھیل
  • علمی
  • سماجی
  • علم و ادب
  • فکشن
  • دیگر
  • تراجم
  • کتابوں پر تبصرے
  • نایاب کتب
  • سفرنامہ
  • اردو بدیس
  • کلچر، آرٹ
  • جمالیات
  • فلم
  • آرٹ
  • فنون
  • مزید
  • تصویر، کارٹون
  • تصوف
  • میڈیا پہ تبصرے
  • اقلیتیں
  • وڈیوز
  • موسیقی
  • کلچر
  • نوجوان
  • صنف/ جینڈر
  • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
  • بلاگز
  • سائنس
  • معیشت
  • تازہ ترین
  • نئے لکھاری
  • منتخب کالم
  • فلسفہ
  • لسانیات
  • شاعری
  • مزاح
  • تنقید
  • معیشت
  • drafts
  • صحت
  • Editor's Picks

انٹرویوز

  • ڈاکٹر ولیم سی چیٹک سے انٹرویو : کیتھرین شمل — مترجم: ڈاکٹر اعجازالحق اعجاز

  • دینی مدارس: روایت و تجدید —– مولانا زاہدالراشدی سے ڈاکٹر ممتاز احمد کا ایک تاریخی انٹرویو

  • مولانا خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کا ایک تاریخی انٹرویو — ڈاکٹر ممتاز احمد

مزاح

  • کیفے عزمی، طنزومزاح کی ایک نئی توانا آواز — نعیم الرحمٰن

  • بیاہ لوجی ۔۔۔ ہوم ٹیوشن اسٹوڈنٹ ٹیچر کی سنتا ہی نہیں ۔ اظہر عزمی

  •  آتے ہیں "عیب” سے یہ مضامیں خیال میں — اظہر عزمی

موسیقی

  • شکیلہ بانو بھوپالی: قوالی کی روایت میں نسائی اظہار — اقدس ہاشمی

  • موسیقی کی ترویج و اشاعت میں خانقاہوں کا کردار — اقدس ہاشمی

  • برصغیر کے چشتی صوفیاء اور موسیقی — اقدس ہاشمی

  • Facebook
  • Youtube

@2022 - All Right Reserved.

Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
Daanish.pk دانش
  • آغاز
  • کالم
    • سماجی
    • دیگر
    • سائنس
    • سیاسی
    • علمی
    • کھیل
    • مذہبی
    • آرٹ
    • معیشت
  • بلاگز
  • علم و ادب
    • آپ بیتی، خاکہ، تذکرہ
    • تراجم
    • تنقید
    • دیگر
    • سفرنامہ
    • شاعری
    • فکشن
    • فلسفہ
    • کتابوں پر تبصرے
    • لسانیات
    • مزاح
    • نایاب کتب
  • کلچر، آرٹ
    • آرٹ
    • جمالیات
    • فلم
    • فنون
    • کلچر
    • موسیقی
  • صنف/ جینڈر
  • مزید
  • نئے لکھاری
  • وڈیوز
  • فکشن
  • English
@2022 - All Right Reserved.